وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نظریۂ پاکستان اور مزاحمتی موقف

بدھ 21 ستمبر 2016 نظریۂ پاکستان اور مزاحمتی موقف

pakistan-flags

چند ہفتے قبل ایک سیاسی پارٹی کے رہنما نے اپنی تقریر میں پاکستان کو ”ناسور“ اور عالمی دہشت گردی کا ”مرکز“ قرار دیا جس پر بجا طور پر سخت ردعمل سامنے آیا، اور قومی سطح پر شدید سیاسی سرگرمی بھی وقتی طور پر دیکھنے میں آئی۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ ہمارے ہاں انفرادی، سماجی اور قومی سطح پر پاکستان کے حوالے سے اس طرح کے مشاہدات دیکھنے سننے میں آتے رہتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر باعث حیرت یہ امر ہے کہ یہ بیان ایک ایسی پارٹی کے سربراہ کی طرف سے تھا جس میں شامل اکثریت کے پرکھوں کا بنا کردہ معاشرہ ہند مسلم تہذیب کا نہ صرف گلِ سرسبد اور اس کا اعلیٰ ترین مظہر تھا، بلکہ اس تہذیب کا قلب اور ذہن بھی یہی معاشرہ تھا۔ تخلیق پاکستان کے لیے پنجاب اور بنگال کی تقسیم واقع ہوئی، اور آبادی کی نقل مکانی میں لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ جبکہ تخلیق پاکستان کے لیے یوپی کے مسلم معاشرے کا سودا مکمل ہوا اور وہ تقریباً بالکل فنا ہو گیا۔ تخلیق پاکستان میں ہند مسلم تہذیب کا قلب و ذہن پورے کا پورا کام آیا۔ لیکن تیسری ہی نسل تک آتے آتے ”خوابوں کے لیے اجڑنا“ دیکھتے ہی دیکھتے ”اجاڑنے کا خواب“ بن گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر اتنی بڑی تبدیلی کیونکر واقع ہوئی ہے؟

جیسا کہ ایک سابقہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا سیاسی ادراک ۱۸۵۷ء کے بعد سے نہایت سنگین نوعیت کے اختلال کا شکار ہے، اور اس کا باعث ہماری تہذیبی فکر کا انہدام ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ہماری تہذیبی فکر کی نئی تشکیلات سامنے نہ آ سکیں، اور عملی طور پر عادلانہ معاشرے کے قیام کی طرف بھی کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ اس کا نتیجہ متبادل اور مزاحمتی بیانیوں اور پاکستانی ریاست کے خلاف عملی جدوجہد میں سامنے آتا رہا ہے۔ برصغیر میں ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک کا زمانہ مسلم سیاسی بیانیوں کے مکمل انتشار اور سیاسی جدوجہد کی مکمل بے معنویت کا دور ہے۔ اس میں واحد امید نظریۂ پاکستان ہے جو بامعنی اور نتیجہ خیز سیاسی عمل کی بنیاد بنا۔ نئے مزاحمتی بیانیے اور سیاسی عمل نظریۂ پاکستان کی توسیعی فکری تشکیلات سامنے نہ آنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اور ان میں آئندہ شدت آنے کا امکان ہے۔ اگرچہ برصغیر کی معتدبہ مسلم آبادی پاکستان کا حصہ نہ بن سکی، اور بعد میں نظریۂ پاکستان کے خلاف مشرقی پاکستان کا سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا، لیکن دو قومی نظریہ یا نظریۂ پاکستان آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کا واحد بامعنی اور نتیجہ خیز سیاسی ادراک ہے۔

یہاں اس امر کا اعادہ ضروری ہے کہ برصغیر کے مسلم معاشرے کے کل مذہبی اور غیرمذہبی تہذیبی وسائل سابقہ یوپی سے فراہم ہوئے ہیں جسے صدیوں مرکزۂ تہذیب کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان کی موجودہ مذہبی روایت اپنی تمام تر جہتوں میں سابقہ یوپی سے فراہم ہوئی ہے، اور تقریباً تمام تر جدید تعلیمی، ثقافتی، علمی اور تہذیبی وسائل کے منابع بھی سابقہ یوپی ہی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ برصغیر میں ہند مسلم تہذیب کے بقا کی آخری جنگ، اس میں شکست اور اس کے نتیجے میں تہذیبی سرنڈر کا میدان بھی یوپی ہی ہے۔ ۱۸۵۷ء کی شکست کے بعد ہند مسلم تہذیب جب صورت و معنی میں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہے، تو برصغیر میں مسلم بقا کے جدید وسائل بھی آقائے سرسید نے سرزمین یوپی ہی سے پیدا کیے تھے، جو آگے چل کر پاکستان کی تخلیق پر منتج ہوئے۔ اور اس میں ایک نکتہ ہے۔

برصغیر کی تاریخ مسلم سیاسی اور تہذیبی غلبے کی تاریخ ہے، اور پھر استعماری غلبے کی۔ تاریخ کا ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ استعماری حکومت کا خاتمہ فطری طور پر اور یقینی طور پر ہندو غلبے میں تبدیل ہونے والا تھا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی دینی روایت میں غیرفرقہ وارانہ تہذیبی وسائل کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس صورت حال میں آقائے سرسید کے فراہم کردہ جدید عصری وسائل نے بیسویں صدی میں مسلمانوں کے نئے سیاسی ادراک کی راہ ہموار کی۔ نظریۂ پاکستان ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک معتد بہ طبقے کے خیال میں محض ایک مذاق تھا۔ کانگریس کی ہندو اور مسلم قیادت کا خیال تھا کہ اگر پاکستان بن بھی جائے تو باقی نہیں رہ سکتا۔ لیکن تخلیق پاکستان ۱۹۷۱ء کے سانحے کے باوجود بہت جلد برصغیر میں ایک ایسی سیاسی صورت حال پر منتج ہوئی جس سے برصغیر پر ہندو غلبے کا خواب نہ صرف یہ پورا نہیں ہو سکا بلکہ برصغیر کی سیاسی صورت حال ہندو مسلم stalemate کی صورت اختیار کر گئی۔ ہندو سیاسی ادراک میں تلخی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ حقیقت بھی ہے کہ ان کے سیاسی عمل کی کوئی بھی صورت اب اس غلبے کا امکان نہیں رکھتی۔ برصغیر میں تاریخی ہندو مسلم مسئلہ اپنی حیثیت میں جوں کا توں برقرار ہے، اور اس پر وسیع تر سیاسی مفاہمت کے بغیر برصغیر عالمی سطح پر کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتا۔

یہاں ایک اعادۂ مزید کی ضرورت ہے کہ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی دینی روایت منتشر اور کسی بھی غیرفرقہ وارانہ معنویت سے خالی تھی۔ ہمارے عظیم علما یہ تو بتانے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ دو قومی نظریہ اسلامی ہے یا غیراسلامی، جیسے وہ یہ بھی بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ لاؤڈ اسپیکر اسلامی ہے یا غیر اسلامی، لیکن اس خاص تاریخی صورت حال میں مسلمانوں کو جو سیاسی اور تہذیبی مسائل درپیش تھے اس میں رہنمائی کے لیے کوئی مذہبی فکر موجود نہ تھی، کیونکہ سیاسی اور تہذیبی مسائل اخلاقی تعلیمات اور پند و نصائح سے حل نہیں ہوتے۔ دو قومی نظریے نے مسلمانوں کی فوری سیاسی ضرورت کو نہ صرف پورا کیا بلکہ اس نے منتشر دینی روایت کو بھی معتبر کر دیا، لیکن افسوس کہ ایک معتدبہ مذہبی طبقہ آج بھی اس کا ادراک نہیں رکھتا۔ دو قومی نظریے نے ایک ملک کی صورت میں نہ صرف ہماری قومی بقا کو یقینی بنایا بلکہ ہم اپنی منتشر دینی روایت کو بھی جوں کا توں اٹھا لائے کیونکہ یہ ہمیں عزیز تھی، اور اسے چھانٹنے کا وقت نہیں تھا۔ پاکستان بننے سے ہمیں جو موقع میسر آیا، اس میں بھی ہم نے اپنے تہذیبی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہ دی جس کا نتیجہ ہمیں اس وقت بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ہمارے سیاسی ادراک کے مسائل اور دینی روایت کا انتشار باہم جڑے ہوئے ہیں۔ دینی روایت میں توحید اور رسالت یک اصل ہیں، لیکن انیسویں صدی کے اوائل سے مذہبی مناقشوں اور جدید تعبیرات کی وجہ سے ان کے مابین ایک جدلیاتی تناؤ کی صورت حال پیدا ہو گئی، جو آج تک موجود اور ہمارے ہاں فرقہ واریت کی اساس ہے۔ نظریۂ پاکستان میں سامنے آنے والے سیاسی ادراک میں بقا اور منصفانہ ترقی یک اصل ہیں، لیکن بہت جلد یہ نظریہ محض بقا اور سلامتی کا بیانیہ بن کر رہ گیا، اور منصفانہ ترقی سے عدل اجتماعی کا حصول اس کی اولین ترجیحات سے اوجھل ہو گیا۔ اگر کوئی سیاسی نظریہ بقا و سلامتی اور ترقی و عدل میں توازن نہ رکھ سکے تو قومی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس وقت نظریۂ پاکستان جس بحران کا شکار ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ برصغیر میں مسلم بقا اور سلامتی کے لیے یہ نظریہ نہایت کارگر ثابت ہوا، لیکن معاشرے میں عدل اجتماعی کے قیام کے لیے اس کی فکری تشکیلات سامنے نہ لائی جا سکیں۔ سادہ لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا مذہبی ادراک اختلال پذیر ہے، اور بعینہٖ ہمارا سیاسی ادراک بھی منقسم و منتشر ہے۔ ہمارے ہاں اب تہذیبی مسائل کو دیکھنے کا کوئی تناظر باقی نہیں رہا، اور جب تک ہم کسی وحدانی تہذیبی ادراک تک رسائی نہیں پا لیتے، اس طرح کے مسائل سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ تہذیبی ادراک کی بحالی اور صحت ہی ایک عادلانہ معاشی نظام کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے اور جدید دنیا میں قومی بقا کی ضامن ہو سکتی ہے۔

اگر معاشی مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم عدل اجتماعی کی بنیادی مراد نہیں ہے تو پھر یہ محض ایک ڈھونگ ہی ہے۔ عدل اجتماعی اپنی حتمی معنویت میں معاشی ہے اور قومی بقا کا پائے محکم ہے۔ نظریۂ پاکستان نے برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو سیاسی شناخت بنا کر جو کارنامہ سرانجام دیا تھا وہ مانعاتی نہیں تھا، جامعاتی تھا۔ اس سے بالعموم علاقائی مسلمان معاشروں کی نسلی اور لسانی شناخت کا انکار یا ان کو محو کرنا مقصود نہیں تھا۔ ہم اس ضمن میں غلطی کا انجام دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت کرپشن داخلی جارحیت بن کر ملک کی بنیادیں کھدیڑ رہی ہے اور معاشرے میں معاشی مواقع کی فراہمی اور وسائل کی تقسیم حد درجہ غیرمنصفانہ بلکہ ظالمانہ ہے۔ نظریۂ پاکستان نے اعلی اسلامی اصولوں پر جس معاشرے کی تشکیل کا آدرش دیا تھا، اس میں عدل اجتماعی کو ہر لحاظ سے اولیت حاصل تھی۔ نظریۂ پاکستان سے بیک وقت سلامتی کا بیانیہ اور عدل اجتماعی کا قیام مراد ہے۔ اس وقت پاکستانی ریاست میں مطلوبہ اصلاحات کے ذریعے اسے نظریۂ پاکستان سے ہم آہنگ کرنا فوری قومی ضرورت ہے، ورنہ عدل اجتماعی کا قیام ممکن نہیں ہو گا۔ آج کے کانٹے دار لمحے میں کرپشن کی داخلی جارحیت، سیاسی عمل کے انتشار اور عدل اجتماعی کی ضروریات کو نظرانداز کرنا، ملکی سلامتی پر سودا کرنے کے مترادف ہے۔ معاشی عدل اجتماعی کی طرف پیشرفت کیے بغیر ”ناسوری“ بیانات اور ان سے جڑے ہوئے بھیانک عمل کا سد باب کرنا بتدریج مشکل ہوتا چلا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


جدید تعلیم، حافظہ اور اقدار محمد دین جوہر - بدھ 05 اکتوبر 2016

جدید عہد میں زمانے اور تاریخ کو دیکھنے کا انداز نیا ہے۔ جدید آدمی کا زمانے اور تاریخ کو دیکھنے کا انداز مذہبی انداز سے بالکل مختلف اور متضاد ہے۔ آج کا انسان زمانے کا خطی تصور رکھتا ہے، جبکہ مذہبی معاشرے میں زمانے کا تصور محوری تھا۔ سوال یہ ہے کہ زمانے کا تصور خطی ہو یا محوری، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہم تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس جدید تصور میں ایک قدری فیصلہ شامل ہے۔ جدید موقف کے مطابق حال اور مستقبل کا زمانہ نہ صرف بہتر ہے، ب...

جدید تعلیم، حافظہ اور اقدار

جدید تعلیم اور معاش محمد دین جوہر - منگل 27 ستمبر 2016

تعلیم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ جدید تعلیم کا پورا نظام اسی سوال کے جواب میں کھڑا کیا گیا ہے۔ جدید فلسفۂ تعلیم اور اصولِ تعلیم کے وسیع علوم اس سوال کا تفصیلی جواب سامنے لاتے ہیں۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ فرد کو ایک جمہوری اور لبرل معاشرے کا کارآمد شہری بنانا اور اسے زندگی گزارنے کے قابل بنانا جدید تعلیم کا بنیادی مقصد اور ذمہ داری ہے۔ انسانی معاشرے میں پایا جانے والا عام فرد خام مال کی حیثیت رکھتا ہے، جسے جدید تعلیم کے نظام سے گزار کر ایک مفید شہری بنایا جا سکتا ہے۔ ”شہری“ بن ...

جدید تعلیم اور معاش

پاک بھارت کشیدگی محمد دین جوہر - اتوار 25 ستمبر 2016

برصغیر پاک و ہند ایک جغرافیائی وحدت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن تاریخی سفر میں اس جغرافیائی وحدت نے ایک غیر معمولی لسانی، ثقافتی اور مذہبی کثرت کو جنم دیا ہے۔ اس خطے میں جغرافیائی وحدت اور ثقافتی کثرت ایک دوسرے کے معاون پہلو ہیں۔ برصغیر اپنی تمام تر رنگارنگی کے باوجود امن کی سرزمین صرف اس وقت بنتا ہے جب یہاں کوئی سیاسی وحدت بھی قائم ہو جائے۔ برصغیر میں امن سے مراد اس کا سیاسی اکائی بن جانا ہے۔ اگر برصغیر ایک سیاسی وحدت یا اکائی نہ رہے، تو اس میں امن کا قیام بھی ممکن نہیں رہتا۔ دوس...

پاک بھارت کشیدگی

جدید تعلیم اور تربیت محمد دین جوہر - پیر 19 ستمبر 2016

جدید تعلیم کے بارے میں ہماری ”دانش“ نے آج تک صرف دو چیزیں بہم پہنچائی ہیں، اور وہ بھی اب آخری اور نہایت درجے تک گھس پٹ کر بے معنی ہو گئی ہیں۔ تعلیم پر ہر گفتگو میں یہ دونوں چیزیں ایک یکسانیت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں اور بالکل کہاوت کی طرح کہی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نصاب تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ سارا مسئلہ نصاب کا ہے۔ یہ جدید تعلیم کے اصلاحی منصوبے کا لوگو ہے۔ دوسرے یہ کہ ہمارے ہاں تعلیم تو ہے لیکن تربیت نہیں ہے اور یہ جدید تعلیم پر ہمارے کل تنقیدی شعور کا اظہار ہے۔ بس یہ دو باتیں...

جدید تعلیم اور تربیت

جدید تعلیم اور نصاب محمد دین جوہر - هفته 17 ستمبر 2016

مجھے افسوس ہے کہ عدیم الفرصتی اور اجنبی موضوع کی وجہ سے گزشتہ مضمون کچھ مشکل ہو گیا اور اختصار کی وجہ سے ابلاغ میں بھی کچھ دشواری پیدا ہو گئی۔ اس میں ہم نے عرض کرنے کی کوشش کی تھی کہ تعلیم میں بنیادی اہمیت تنظیمی عمل کی ہے اور باقی چیزیں ضمنی ہیں اور اس نظام کے کل پرزوں کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیم پر گفتگو میں یہ پہلو سرے سے موجود نہیں ہے۔ قومی تعلیم پر داد سخن ایک مستقل سرگرمی ہے لیکن عموماً یہ نصاب سے شروع ہوتی ہے اور نصاب پر ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ہماری قومی بدنص...

جدید تعلیم اور نصاب

جدید تعلیم اور تنظیمی عمل محمد دین جوہر - جمعه 16 ستمبر 2016

زوال، دینی روایت کے انتشار، عقلی علوم کے خاتمے اور خاص طور پر توحید کے جدید تصورات کی وجہ سے ہماری نظر بھی ”خوگرِ پیکر محسوس“ ہو گئی ہے۔ عام زندگی میں کسی موضوع پر کوئی گفتگو ہو، تو نیم خواندہ عام آدمی بھی فوراً ”نص“ کا مطالبہ کرتا ہے گویا کہ معلوم نصوص سے اس کا بہرہ مکمل ہو گیا ہے۔ معلوم ”نصوص“ کے ساتھ ہمارا روزمرہ عملی رویہ، ان کی تشریحاتی غارت گری، اور ان کا آلاتی استعمال ہمارے انہدام شعور، نفسی گراوٹ اور نظری علوم کے خاتمے ہی پر دلالت کرتا ہے۔ ”نص“ ہمارے لیے اب ”پیکر محسو...

جدید تعلیم اور تنظیمی عمل

جدید تعلیم اور امتحانات محمد دین جوہر - اتوار 11 ستمبر 2016

جیسا کہ ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ جدید تعلیم ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ اور سیاسی فیصلہ اگر قانون بن کر ”نافذ“ نہ ہو سکے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ریاست جبر و اختیار کا منبع ہے، لیکن جدید تعلیم اس کا اہم ترین ”پیداواری“ اظہار ہے۔ جدید تعلیم کا ریاستی فیصلہ استناد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جدید تعلیمی عمل کا قیام اور استناد ایک قانونی عمل ہے، اور جدید ریاست کی عملداری میں ہے، اور جسے امتحانات کے نفاذ اور ان کے نتائج سے عملی صورت دی جاتی ہے۔ امتحانی استناد جدید تع...

جدید تعلیم اور امتحانات

جدید تعلیم کیا ہے؟ محمد دین جوہر - جمعرات 08 ستمبر 2016

اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید تعلیم ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور طاقتور معاشرہ بنانے کی شرط اول ہے۔ ہمارے ہاں یہ سوال کا ایک حصہ ہے اور غیر اختلافی ہے۔ سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کیا اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے جدید تعلیم معاون ہے یا نہیں؟ یہ حصہ اختلافی ہے۔ اسی وجہ سے جدید تعلیم ہمارے ہاں ایک عظیم الشان خلط مبحث بن گئی ہے۔ اس خلط مبحث کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ ہم جدید تعلیمی نظام کا معروضی تجزیہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جدید ”تعلیمی نظام“ دراصل تین چیزوں کا مجموعہ ہے...

جدید تعلیم کیا ہے؟

نظریۂ پاکستان اور ہمارا سیاسی ادراک محمد دین جوہر - منگل 06 ستمبر 2016

سیاسی ادراک اجتماعی عمل کا نہ صرف رہنما ہے بلکہ اس کی معنویت کا سرچشمہ بھی ہے۔ کسی قوم کی سیاسی قوت اور اجتماعی عمل کا تشکیل کنندہ بھی سیاسی ادراک ہی ہے۔ سیاسی قوت اور اجتماعی عمل کے مسائل بھی اول اول سیاسی ادراک ہی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ سیاسی ادراک کا اضمحلال بہت جلد سیاسی طاقت کی کمزوری، انتشار اور شکست میں ظاہر ہوتا ہے۔ جس طرح انسان کا حسی ادراک عموماً التباس (الوژن) اور وہم (ڈیلوژن) کا شکار ہو جاتا ہے، اسی طرح معاشروں کا سیاسی ادراک بھی مختل ہو جاتا ہے، اور انسانی معاشرے شکس...

نظریۂ پاکستان اور ہمارا سیاسی ادراک

سیکولرزم اور لبرلزم میں کیا فرق ہے؟ محمد دین جوہر - جمعرات 01 ستمبر 2016

سیکولرزم اور لبرلزم میں فرق کو مختلف اسالیب میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ یہ دونوں تحریک ِتنویر کی جڑواں اولاد ہیں اور جدیدیت کی پیدا کردہ مغربی تہذیب میں ایک ساتھ پروان چڑھے ہیں۔ اب سیکولرزم سٹھیا گیا ہے اور لبرلزم پوپلا گیا ہے۔ تنویری اور جدید عقل نئے انسان اور نئی دنیا کا ایک مفصل نقشہ بناتی اور بتاتی رہی ہے، اس میں جب وہ یہ بتائے کہ ”کیا نہیں ہونا چاہیے“ تو یہ سیکولرزم ہے اور جب یہ بتائے کہ ”کیا ہونا چاہیے“ تو یہ لبرلزم ہے۔ جب جدید عقل یہ بتا رہی ہو کہ ”ک...

سیکولرزم اور لبرلزم میں کیا فرق ہے؟

نظریۂ پاکستان اور ہم عصر مسلم دنیا محمد دین جوہر - منگل 09 اگست 2016

اس وقت مسلم دنیا جن حالات میں ہے، وہ معلوم ہیں اور روزمرہ مشاہدے اور تجربے میں ہیں۔ واقعاتی سطح پر حالات کے بارے میں ایک عمومی اور غیررسمی اتفاق پایا جاتا ہے کہ بہت خراب ہیں، اور یہ امکان بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ مزید خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ لیکن اس بارے میں آرا بہت زیادہ مختلف ہیں، اور شدت سے مختلف ہیں، کہ یہ حالات کیوں پیدا ہوئے، ان کے اسباب کیا تھے، اور ان سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ ہمارا زوال اور انتشار ایسا موضوع ہے جس نے ہماری دینی روایت اور علوم کو بہت گہرے طریقے سے متا...

نظریۂ پاکستان اور ہم عصر مسلم دنیا

معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق محمد طاہر - اتوار 06 ستمبر 2015

وجود کا تصورِ صحافت قارئین کے لئے اجنبی نہیں۔ ہمارے لئے صحافت ایک راستے کے طور پر جانا پہچانا پیشہ ہے۔ خود صحافت کے لئے بھی ہم کوئی انجان راہی نہیں۔ وجود تاریخ اور صحافت کے درمیان فرق کر تا ہے۔ اور ایسے جادۂ صحافت کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے جو عرصۂ موجود کی گواہی ، لمحۂ موجود میں نہیں دیتا۔ صحافت آج کی گواہی آج ہی دینے کا نام ہے۔ وہ گواہی جو خطرات ٹلنے اور وقت گزرنے کے بعد دی جائے، اُس کے لئے صحافت نہیں کوئی اور پیشہ مناسب ہے۔ یہ جذبات کا نہیں جذبے کا معاملہ ہے۔جس کی بنیاد ...

معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق