وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاک چین دوستی زندہ باد!!!

اتوار 18 ستمبر 2016 پاک چین دوستی زندہ باد!!!

pak-china-students

پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند ہوتی ہوئی دوستی کی جڑیں نہ صرف تاریخ میں موجود اورتجربات میں پیوست ہیں بلکہ مستقبل کے امکانا ت میں بھی پنہاں ہیں،کئی ایک ملکوں کے سینوں پر مونگ دلتی چلی آرہی ہے ۔وہ جن کا خیال ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں اور روایتی دوستوں کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تعلقات اس خطے کے لئے بین الاقوامی ا سکیم کی راہ میں رکاوٹ اور ان کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں سدِراہ ہیں ۔وہ خاکہ یہ ہے کہ اس خطے کی سب سے بڑی طاقت بھارت بنے اور خطے کے تمام ملک اس کے سامنے دست بستہ کھڑے اور بھیگی بلی بن کر رہیں۔بھارت کے سیاسی اور دفاعی عزائم اور معاشی ترقی کی راہ میں یہ ملک کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں ۔بھارت جس بات کو درست سمجھے یہ ملک تابع مہمل بن کر سر دھنتے رہیں اور بھارت جسے غلط قرار دے یہ اس سے پرہیز کرنے لگیں۔گویا کہ خطے میں انسانوں کا واحد ملک بھارت رہے اور باقی سب کٹھ پتلیوں کی بستیاں ہیں ۔جن کے اپنے کوئی مفادات ہوں نہ جذبات ۔اس اسکیم پر من وعن عمل ہونا ممکن بھی ہوتا اگر بھارت خطے کے مسائل کو بڑے پن کے ساتھ حل کرکے چھوٹے ملکوں کا خوف دور کرتا۔ انہیں عزت دینا ان کی چھوٹی چھوٹی اناؤں کا احترام کرتا۔بھارت نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی لانے کی بجائے مزید سختی پیدا کرنا شرو ع کر رکھی ہے۔ان رویوں کے ساتھ جو ہمسایوں کے بھارت کی جانب دوستی اور مصافحہ کے لئے بڑھے ہوئے ہاتھ خود بخود رک گئے۔

بھارت کو جنوبی ایشیا کے گاؤں کا ’’چوہدری‘‘بنانے کا خواہش مند امریکا ان ملکوں میں سرفہرست ہے جسے پاک چین تعلقات کی روز افزوں گہرائی ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔حال ہی میں امریکا میں پینٹاگون کے ایک عہدیدار ابراہام ایم ڈنمارک کی یہ بے چینی اس بیان سے واضح ہوجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ بات امریکا کے لیے باعث تشویش ہے کہ چین پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک میں اپنا رسوخ بڑھا رہا ہے۔اس کا ایک ثبوت پاکستان کے کچھ علاقوں میں چینی فوج کی موجودگی ہے ۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم بھارتی سرحد کے قریب چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں اور اضافی فوج کی تعیناتی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ چین کی جانب سے اس تعیناتی کے کتنے مقاصد اندرونی اور کتنے بیرونی ہیں۔حالا نکہ چینی فوج دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو دفاعی نقطہ نظر کے مطابق ہے ۔چین فوجی اصلاحات کررہا ہے اورامریکا نے ہمیشہ اسے شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے بھارت کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی کے سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں سرگرمیوں پر چین کو اپنی تشویش سے آگا ہ کردیا ہے ۔بھارت نے کہا کہ نام نہاد اقتصادی راہداری منصوبہ مشکوک ہے، اس پر کام بند کیا جائے۔

امریکا اور بھارت کا یہ انداز فکر بتاتا ہے کہ پاک چین تعلقات کے بارے میں دونوں ملکوں کی سوچ کے زاویے مل چکے ہیں ۔بھارت اور امریکا جا نتے ہیں اور اس حقیقت سے بخو بی آگا ہ ہیں کہ چین اور پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی علا قائی اور جیو پالیٹکس تناظر میں ایک غیر معمو لی اہمیت ہے اور آنے والے وقتوں میں علاقائی اور عالمی سطح پر جیوپالیٹکس تناظر میں اس کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ اس منصوبے کی وسا طت سے مشرق وسطیٰ ، خلیج اور افریقا اور جنوبی اور وسط ایشیا کے مابین آسان، کم لاگت اور تیز رفتاردوطرفہ رابطے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔انہیں معلوم ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لئے گیم چینجر ہے اور اس کی تکمیل کے بعدخطے پر دور رس اثرات پڑیں گے ۔ان اثرات سے بچنے کیلئے بھارت اور امریکا کی طرف سے پاک چین ا قتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کی ہر ممکنہ کوشش جاری ہے ۔بلو چستان میں اعلا نیہ مداخلت گلگت بلتستان میں شورش بپا کرنے کی سازشیں،ایم کیو ایم کے سربراہ الطا ف حسین کی پاکستان کے خلاف نعرے بازی، کراچی میں بد امنی پھیلا نے کی کوشش ،اافغا نستان کے اشرف غنی کی پیٹھ پر مودی کی تھپکی اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر بے تحا شا مظالم اس فرسٹریشن کا برملا اظہار ہیں ۔تاہم یہ بات بھی نظر آرہی ہے کہ چو نکہ چین اور پاکستان دونوں بھارت کے ڈسے ہوئے ہیں ۔بھارت چین کے ساتھ ایک جنگ لڑ کر دیکھ چکا ہے۔اس جنگ میں بھارت کو ہزیمت اُٹھانا پڑی تھی۔پاکستان کے ساتھ تو بھارت تین بھرپور جنگیں لڑچکا ہے۔سرداور درپردہ جنگوں کا سلسلہ تو آج بھی جاری ہے ۔اس لئے ہمسایوں کے طور پر پاکستان اور چین ،بھارت اور اس کے اتحادیوں کو زیادہ بہتر انداز سے جانتے ہیں۔اس لئے دونوں ممالک نے ہر سازش کا

مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور راہداری منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے ،اور ان شا ء اللہ تکیل تک پوری قوت و سرعت سے کام جاری رہے گا ۔


متعلقہ خبریں


طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا شیخ امین - جمعه 30 ستمبر 2016

اڑی حملے کے بعد نریندر مودی سرکار اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پاکستان کیخلاف ایک ایسی جارحا نہ روش اختیار کی، جس سے بھارتی عوام میں جنگی جنوں کی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں یوں لگا کہ دم بھر میں پاکستان پر حملہ ہوگا اور چند دنوں میں اکھنڈ بھارت کا آر ایس ایس کا پرانا خواب پورا ہوگا۔ ڈاول ڈاکٹرائن کے عین مطا بق نریندر مودی سرکار ان دھمکیوں سے دو طرح کے فائدے حاصل کرنا چا ہتی تھی۔ ایک یہ کہ جنگ کے خوف سے وزیر اعظم نواز شریف، سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کی طرح خو فزدہ ہوکر جنرل ا...

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف ...

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!! شیخ امین - منگل 06 ستمبر 2016

تاریخ گواہ ہے کہ 2002 ء میں گجرات میں سنگھ پریوار کے سادھو نریندر مودی (جو اس وقت وہاں وزیر اعلیٰ تھے) کی ہدایات کے عین مطابق کئی ہزار مسلمان مرد عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ عورتوں کی عزت کو داغدار کرنے کے علاوہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دیے گئے تھے۔ ہزاروں رہائشی مکانات نذر آتش کیے گیے۔ پولیس نہ صرف تماشائی بلکہ کئی مقامات پر مسلمانوں کے قتل عام میں بلوائیوں کی صفوں میں شامل ہوئی اور ایسی سیاہ تاریخ رقم کی کہ خود بھارتی معتدل ہندو طبقہ بھی شرمسار ہوا۔ 26مئی 2014س...

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!!

جواب دو!!! شیخ امین - جمعه 02 ستمبر 2016

سقوط ڈھاکا ہوا۔ کشمیری درد و غم میں ڈوب گئے۔ ذولفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھایا گیا تو کشمیری ضیاء الحق اورپاکستانی عدالتوں کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے۔ پاکستان نے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تو کشمیر یوں نے کئی روز تک جشن منایا۔ جنرل ضیاء الحق ہوائی حادثے میں شہید ہوئے تو کشمیر یوں نے اس کا بھی ماتم منایا۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو کشمیریوں نے کئی روز تک جانوں کی پرواہ کیے بغیرگلیوں اور کوچوں میں رقص کیا، مٹھائیاں بانٹیں۔ اسکے برعکس بھارت کے ساتھ نفرت کا اظہار بار بار کیا۔ ...

جواب دو!!!

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!! شیخ امین - منگل 30 اگست 2016

میرا خیال ہے کہ سال 1990ء ابھی تک لوگ بھولے نہیں ہوں گے جب پوری کشمیری قوم سڑکوں پر نکل آئی تھی، بھارت کے خلاف کھلم کھلا نفرت کا اظہار ہر طرف ہورہا تھااوربھارت کا سارا انٹلیجنس کا نظام تتر بتر ہوچکا تھا۔ بھارتی پالیسی ساز اس صورتحال کو دیکھ کر دم بخود تھے۔ انہیں اس بات پر حیرانی تھی کہ اچانک اس حد تک یہ عوامی غم و غصے کا لاوا کس طرح پھٹ پڑا؟ان کی انٹلیجنس ایجنسیاں کہاں تھیں۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس عوامی مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا۔ انہوں نے اسے کشمیریوں کی بھارت ک...

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!!

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!! شیخ امین - پیر 27 جون 2016

۲مئی۲۰۱۶کو میری تحریر)وہ ورق تھا دل کی کتاب کا!!!(کے عنوان سے پاکستان کی معروف ویب سائٹ (http://wujood.com/) میں شائع ہوئی۔اس کا ابتدائی پیراگراف ان جملوں پر مشتمل تھا۔ ’’تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما اور مقبول بٹ شہید کے دست راست امان اﷲ خان طویل علالت کے بعد ۲۶اپریل کو ہم سے جدا ہوئے۔یہ جدائی اگرچہ خلاف فطرت نہیں ،لیکن میرے لئے اس حد تک تکلیف دہ تھی کہ دل نا تواں پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگیا۔آنکھوں سے خود بخود عقیدت و محبت کے آنسو ٹپکنے لگے۔یوں لگا جیسے میں ماں کی...

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!!

پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بن گیا وجود - هفته 25 جون 2016

پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے حوالے سے ’ذمہ داریوں کی یادداشت‘ (میمورینڈم آف آبلیگیشنز) پر دستخط کرکے تنظیم کی مستقل رکنیت حاصل کر لی۔تفصیلات کے مطابق تاشقند میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں چھ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ، تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور پاکستانی مشیر خارجہ نے مشترکہ طور پر یادداشت پر دستخط کیے۔ تنظیم میں پاکستان کی شمولیت سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے، جو دنیا کی کُل آبادی کے 45 فیصد حصے کی نمائندگی کر...

پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بن گیا

پاک چین تعلقات اور اقتصادی راہداری: درپیش چیلنجز اورحفاظتی اقدامات خالد رحمان - هفته 21 مئی 2016

۲۱ مئی پاکستان اور چین کے درمیان باہم تعلقات کی شاندار مثال کے ۶۵ سال مکمل ہونے کا دن ہے۔ باہم شراکت داری کے اس بے مثال سفر کی بنیاد باہمی احترام ، ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت اور تعاون پرہے۔ بلاشبہ ساڑھے چھ عشروں پر محیط یہ تعلقات نہ صرف وقت کے ساتھ آنے والی بہت سی تبدیلیوں کے باوجود مستحکم رہے ہیں بلکہ اس تعلق میں زیادہ سے زیادہ مضبوطی آتی جارہی ہے۔ گو IPS کے تحقیقی پروگرام میں پاک چین تعلقات شروع ہی سے اہمیت کا عنوان رہے ہیں لیکن ۲۱ویں صدی کے آغاز میں جب چین...

پاک چین تعلقات اور اقتصادی راہداری: درپیش چیلنجز اورحفاظتی اقدامات

دنیا بھر میں چین کا حقیقی اتحادی صرف ایک ہے، پاکستان: چینی خارجہ پالیسی ماہر وجود - بدھ 10 فروری 2016

چین میں خارجہ پالیسی کی اہم ترین آوازوں میں سے ایک کا کہنا ہےکہ چین کے اتحادی بہت کم ہیں اور حقیقت میں صرف ایک ملک ہے جو چین کا حقیقی اتحادی ہے، وہ ہے پاکستان۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بیجنگ کی سنگ ہوا یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے ڈائریکٹر یان سوئی تونگ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا چین کا اتحادی نہیں ہے گوکہ چین دعویٰ کرتا ہے دونوں ممالک کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما سالوں سے آپس میں نہیں ملے۔ اس ک...

دنیا بھر میں چین کا حقیقی اتحادی صرف ایک ہے، پاکستان: چینی خارجہ پالیسی ماہر

میرا کشمیر چھوڑ دو!!! شیخ امین - جمعرات 04 فروری 2016

باور یہ کیا جا رہا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ کشمیری عوام حالات سے مایوس ہو کر تھک جائیں گے ،انہیں پُلوں ،ہسپتالوں ،ریلوے ٹریک ،سڑکوں کے نام پر ایک نئی اقتصادی ترقی کا سراب دکھا کر نظریات سے برگشتہ کر دیا جائے گا۔کشمیر کی نئی نسل اپنے بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ عملیت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔ بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے نکل جانا ،اقتصادی اعتبار سے مضبوط تر ہوجانا کشمیر کی نئی نسل کی آنکھوں کو خیرہ کر دے گا ۔لیکن یہ قیاس آرائیاں اور اندازے وقت نے غلط ثابت کئے۔ بھارتی ...

میرا کشمیر چھوڑ دو!!!

وفا کے بدلے جفا کیوں!!! شیخ امین - منگل 02 فروری 2016

فروری کا مہینہ پاکستان میں کشمیریوں سے یک جہتی کا پیغام لے کر آتا ہے ۔پانچ فروری کو پاکستان میں کراچی سے خیبر تک اہل پاکستان کشمیری عوام اور تحریک آزادیٔ کشمیر سے یک جہتی کا اظہار جلسے جلوس کے ذریعے کرتے ہیں۔یہ سلسلہ 1990ء سے جاری ہے اور اس کی ابتداء قاضی حسین احمد مرحوم کی کال سے ہوئی تھی ۔اس کے بعد پاکستان میں اس دن کو سرکاری سطح پر منایا جانے لگا۔اس دن ریاست پاکستان،سیاسی جماعتیں اور عوام ،کشمیریوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ...

وفا کے بدلے جفا کیوں!!!