وجود

... loading ...

وجود

سندھ کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین حضرات کی میرٹ پر تقرری، سیاسی اثر و رسوخ رکاوٹ بن گیا

جمعه 16 ستمبر 2016 سندھ کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین حضرات کی میرٹ پر تقرری، سیاسی اثر و رسوخ رکاوٹ بن گیا

government-of-sindh

سندھ کے مختلف تعلیمی بورڈز کے چیئرمین حضرات کے میرٹ پر انتخاب کے باوجود صوبائی حکومت ان کی تعیناتی میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے، جس کی وجہ ان عہدوں پر پہلے سے فائز افراد کا سیاسی اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی نے ایک ترمیمی بل منظور کرکے گورنر کے بجائے وزیراعلیٰ کو صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز اور سرکاری جامعات کے حوالے سے کنٹرولنگ اتھارٹی کے تمام اختیارات تفویض کردیئے تھے، جن میں تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اور جامعات کے وائس چانسلرز کی تقرری بھی شامل ہے۔

سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ان تقرریوں کے لیے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کے بجائے ستمبر 2015ء میں پہلی مرتبہ مرکزی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے صوبے کے پانچ تعلیمی بورڈز کے چیئرمین کے مناصب کے لیے درخواستیں طلب کرلیں۔ ان پانچ بورڈز میں لاڑکانہ، میرپور خاص اور سکھر کے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور کراچی کا بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن شامل تھے۔ مذکورہ بورڈز کے چیئرمین کے عہدے کے خواہشمند امیدواروں نے اپنی درخواستیں بھیج دیں اور 25؍اکتوبر 2015ء کو مرکزی طریقہ کار کے تحت ان کے انٹرویوز ہوئے۔ اس مقصد کے لیے حکومت سندھ نے ایک سرچ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا پیچوہو (آصف زرداری کی ہمشیرہ اور صوبائی سیکرٹری تعلیم فضل اﷲ پیچوہو کی اہلیہ)، سندھ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور معروف ماہر تعلیم مظہرالحق صدیقی، سابق چیف سیکرٹری سندھ فضل الرحمٰن اور پروفیسر ڈاکٹر محبوب علی شیخ شامل تھے جبکہ اس وقت کے سیکرٹری یونی ورسٹیز اینڈ بورڈز اقبال درانی کو اس سرچ کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔

سرچ کمیٹی تشکیل دینے کا مقصد ان موقر تعلیمی مناصب پر کنٹرولنگ اتھارٹی یعنی وزیراعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات کے تحت تقرریوں کے بجائے اس عمل کو زیادہ شفاف اور ’’مبنی بر اہلیت‘‘ بنانا تھا۔ تعلیمی بورڈز کے چیئرمین کے منصب کے لیے اہلیت کا جو مطلوبہ معیار مقرر کیا گیا تھا، اس کے مطابق امیدوار کی تعلیمی قابلیت کم سے کم ماسٹرز ڈگری یا اس کے مساوی ہونی چاہیے جبکہ سوشل سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری قابل ترجیح بتائی گئی تھی۔ علاوہ ازیں امیدوار کے لیے بی پی ایس۔17 یا اس سے زائد میں کسی سرکاری محکمے میں تدریس یا انتظامی نوعیت کا 17 سال یا زائد کا تجربہ بھی لازمی قرار دیا گیا تھا جبکہ عمر کی بالائی حد 62 برس مقرر کی گئی۔ ضابطے کی تمام کارروائی مکمل کرنے کے بعد اس وقت کے ڈائریکٹر اور معروف ماہر تعلیم پروفیسر انعام احمد کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کراچی جبکہ ریجنل ڈائریکٹر ایجوکیشن، میرپور خاص ڈاکٹر سعید کو بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اسی طرح سکھر بورڈ کیلیے ڈاکٹر غلام قاسم بگھیو اور میرپور خاص بورڈ کے لیے برکات حیدری کا انتخاب کیا گیا۔ تاہم ان میں سے صرف برکات حیدری کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور خاص کا چیئرمین مقرر کیا گیا جبکہ باقی تینوں حضرات کی تقرری نہیں کی گئی۔

صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق موجودہ چیئرمین حضرات کی سیاسی پشت پناہی کے باعث ایک سال گزر جانے کے باوجود تاحال سندھ حکومت باقی ماندہ تینوں حضرات کی بطور چیئرمین تعلیمی بورڈ تقرری کرنے سے کترا رہی ہے۔

یاد رہے کہ گورنر ہاؤس کے سیکرٹری اختر غوری کے پاس گزشتہ دو برس سے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے چیئرمین کا اضافی چارج ہے، انہیں انٹرویو اور ضابطے کی کارروائی کے بغیر ہی اس منصب پر فائز کردیا گیا تھا۔ چیئرمین، بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کے عہدے پر محکہ تعلیم سندھ کے ایک ریٹائرڈ افسر انوار احمد زئی متمکن ہیں، انہیں گزشتہ دنوں ایک مقدمے کے سلسلے میں ’’نیب‘‘ نے حراست میں لے لیا تھا جبکہ سکھر بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کا چارج گزشتہ کئی برس سے سید مجتبیٰ شاہ کے پاس ہے، جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے بھائی ہیں۔

جب نمائندہ “وجود” نے اس بارے میں حکومت کا موقف جاننے کیلیے وزیراعلیٰ ہاؤس سے رابطہ کیا تو موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے میڈیا کنسلٹنٹ نے ایک ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے اس مختصر سے جواب پر اکتفا کیا ’’سندھ کے تعلیمی بورڈز کا معاملہ (بقر) عید کے فوری بعد طے کرلیا جائے گا۔‘‘ عیدالاضحیٰ گزر چکی، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت سندھ اس سلسلے میں کیا اقدام کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

مضامین
غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ! وجود جمعه 06 مارچ 2026
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں !

مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا؟ وجود جمعه 06 مارچ 2026
مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا؟

پریشان مت ہوں،ڈالر نہیں مر رہا! وجود جمعه 06 مارچ 2026
پریشان مت ہوں،ڈالر نہیں مر رہا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر