کیا بانی ایم کیو ایم کا باب واقعی بند ہوچکا؟

mqm-office-sealed

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے ہفتے کی شام پریس کانفرنس میں لندن سے مکمل لاتعلقی اور پہلی مرتبہ الطاف بھائی کے بجائے الطاف صاحب کہنے کے باوجودا بھی تک سوال اٹھ رہے ہیں۔۔ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا باب واقعی بند ہوچکاہے؟یا حسب سابق وہ دستبرداری کے لاتعداد اعلانات کے بعد ایک مرتبہ پھر عوام کے بے حد اصرار پرشرطیہ نئی کاپی کے ساتھ لوٹ آئیں گے؟ اور شہری سندھ کے عوام ’’بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی‘‘ کے بمصداق انہیں دوبارہ قبول کرلیں گے؟

ان سوالوں کو جس انداز سے بھی کیاجائے جواب ایک ہی ہے کہ الطاف حسین کا باب مکمل بند کرنے میں جن دو عوامل کااہم کردار ہے اُن میں ایک مہاجر عوام ہیں اور دوسرے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ، ان دونوں کی قربت سے ہی الطاف کے باب کوبند کیاجاسکتاہے ان کی باہمی دوری الطاف حسین باب کے نئے اوراق رقم کردے گی۔۔اب سوال یہ ہے کہ مہاجرعوام اور پاکستان کی ہیئت مقتدرہ(اسٹیبلشمنٹ) کے درمیان قربت کیسے بڑھ سکتی ہے؟ اس حوالے سے چھبیس اگست کو شائع تجزیے میں عرض کیاجاچکاہے کہ سب سے پہلے توشہری سندھ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کااعلان کیاجائے۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتاکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں پنجاب سے متعلق افراد کا اثر ورسوخ زیادہ ہے اس لیے پنجاب کے دانشوروں اور قلمکاروں کا فرض ہے کہ وہ مہاجر عوام کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں۔

گزشتہ تین روز سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے پنجاب کے دانشوروں کی جانب سے جوباتیں سامنے آرہی ہیں ان میں الطاف حسین اور ان کی جماعت کے خلاف بغض کچھ اس انداز میں نکالاجارہاہے جیسے انتیس برس مہاجروں کی اکثریت ایم کیوایم کو ووٹ دے کر گناہ عظیم کا ارتکاب کرتی رہی اور اس کا نتیجہ اب وہ بھگت رہے ہیں ۔یہی وہ بیانیہ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے اقدامات کو جواز فراہم کر سکتاہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب کے دانشور مہاجر عوام کو ایم کیوایم سے علیحدہ کرکے دیکھیں اور اسٹیبلشمنٹ کو راضی کریں کہ وہ بھی مظلوم مہاجر عوام سے اظہار ہمدردی کرے ۔کیامسلم لیگ ن نے دو ہزار دو میں مسلم لیگ ق کوووٹ دینے کی پنجاب کے عوام کو کوئی سزا دی ؟کسی اور صوبے کے عوام نے پنجاب کے عوام کااس پر مزاق اڑایا پھر آپ زخموں پر نمک کیوں چھڑکتے ہیں ۔پنجاب کے دانشوروں کی جانب سے کی گئی باتوں کی تفصیل میں جانا طوالت کا باعث بن سکتاہے مگر انہیں اوراسٹیبلشمنٹ کویہ سوچنا چاہئے کہ پاکستان کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ کمیونٹی کیونکر الطاف حسین کے سحر میں گرفتار رہی ؟

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

ایوب خان کے دورمیں مہاجروں پرحملوں اور بھٹو دور کے لسانی فسادات اور کوٹا سسٹم نے مہاجرعوام کے انحراف کی بنیاد ڈال دی تھی ۔کوٹاسسٹم کے عملی نفاذنے چالیس سال پہلے ہی مہاجر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کردیاتھا کیاکوئی یہ سمجھاسکتاہے کہ ملک کے ایک طبقے

کی پسماندگی کا حل یہ ہے کہ ترقی کرنے والوں کی رفتار سست کردی جائے تاکہ وہ پیچھے رہ جائیں یا پھر پسماندہ طبقے کی رفتار اس قدر تیز کردی جائے کہ وہ آگے بڑھنے والوں کو جالے۔۔ چالیس برس نہیں صرف بیس برس کے لیے اب ریورس کوٹاسسٹم نافذ کیاجائے تاکہ مہاجروں کی اشک شوئی ہوسکے اور ایسے اقدامات کیے گئے تومہاجروں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قربت اور اعتماد بڑھے گا جو الطاف کے باب کا مکمل خاتمہ کردے گا۔ بصورت دیگر عجلت میں مسمار کیے گئے دفتراور پھینکی گئی تصویریں الطاف حسین کو دل سے نہیں نکال سکیں گی۔

Electrolux