وجود

... loading ...

وجود

مکا چوک کے نام کی تبدیلی نمائشی قدم

جمعه 26 اگست 2016 مکا چوک کے نام کی تبدیلی نمائشی قدم

mukka-chowk

چودھری نثار سو فیصد درست کہتے ہیں۔ اردو بولنے والے مہاجروں کا ماضی بھی پاکستان تھا اور مستقبل بھی پاکستان ہے، جو بات انہوں نے کہی وہ بھی سولہ آنے درست ہے کہ اردو بولنے والے ہی پاکستان کا مستقبل ہیں یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ اور یہ بات بھی ذرہ برابر غلط نہیں کہ مہاجروں کا جو حال ہے وہی پاکستان کا حال ہے، ملک کا حال بھی بہتر بنایا جارہا ہے تو مہاجروں کا حال بھی بہتر ہوگا۔

چوہدری نثار ایم کیو ایم کو دو حصوں میں تقسیم کریں یا تین میں، مگر سوال کسی سیاسی گروپ یا پریشر گروپ کا نہیں بلکہ لاکھوں ووٹرز کا ہے جن کیلئے خود چودھری صاحب نے فرمایا ہے کہ انہوں نے 25 برس بعد آزادی کا اظہار کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ شہر اب کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں۔

چودھری نثار کہتے ہیں وہ وزیراعظم کی ہدایت پر اہل کراچی کو مبارکباد دینے اور اظہار تشکر کرنے حاضر ہوئے، مگر چودھری صاحب خالی خولی تشکر اور مبارکباد۔

لاہور پر میٹرو بس کے بعد 200 ارب روپے کی اورنج ٹرین کی نوازش اور کراچی کیلئے 16 ارب روپے کی گرین لائن اور سولہ ارب بھی دو سال میں۔حکومت اعتراف کرتی ہے کہ کراچی بند ہونے سے پانچ ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔گویا مہینے میں ڈیڑھ کھرب اورسالانہ اٹھارہ کھرب اور دوسال میں چھتیس کھرب جس شہر سے اتنا ریونیو ملے اسے دوسال میں سولہ ارب ملیں تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ وفاقی حکومت اگر یہ کریڈٹ لیتی ہے کہ اس کے اقدامات سے متاثر ہوکر کراچی کے شہریوں نے پیش قدمی کی ہے تو اس کا جواب بھی ایک مکمل پیکیج ہے، جو اٹھارہ کھرب روپے سالانہ دینے والے شہر کے شایان شان ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ کوئی کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہ سمجھے ہم اس کے وارث ہیں، یہ بات کہنا جس قدر آسان ہے نبھانا اتنا ہی مشکل ،ان کے دعوے کی حقیقت پر شبہات کا اظہار اس لیے کیاجاتاہے کہ فی الحال ان کی کوئی عوامی حیثیت نہیں، ان کے ساتھ منتخب نمائندے ضرور آئے ہیں، مگر اپنی نشستیں چھوڑ کر کیونکہ یہ نمائندگی انہیں الطاف حسین کے کھاتے سے ملی تھی، ان کی خالی کی گئی نشستوں پر بھی الطاف حسین کے نامزد لوگ جیتے ہیں، مصطفی کمال 23 مارچ کے بعد بھی کسی ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر تیار نہیں ان کاکہناہے کہ دوہزار اٹھارہ کا انتخاب ان کاہدف ہے اس کا ایک پہلو تو وہی ہے جو مصطفی کمال دکھاتے ہیں یعنی بغیر تیاری الیکشن لڑنا دانشمندی نہیں، مگردوسرا رخ وہی ہے جو لوگ سمجھتے ہیں، وہ الیکشن سے خوفزدہ ہیں کہ کامیابی نہ ملی توبھداڑے گی اقبال نے کہاتھا ،گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔

اس لیے مصطفی کمال کا یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ مہاجروں یا اہل کراچی کے ولی وارث ہیں ان کی سرپرستی وفاقی او رسندھ حکومت کوہی کرنا ہوگی، بہ صورت دیگر ا ن کی مبارکبا دغیر موثر ہوجائے گی ۔پرنالہ وہیں گرے گا اورفی الحال تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں موجود ایم کیوایم کو ہی اہل کراچی کے مینڈیٹ کی حامل جماعت سمجھنا ہوگا۔کیونکہ منتخب نمائندوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اورانہی کے نام سے یہ جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔

پاک سرزمین پارٹی تو یہ موقف اختیار کرسکتی ہے کہ فاروق ستار ڈراما کررہے ہیں، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا،مگرمقتدر قوتوں کو بہت باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ مصطفی کمال یہ موقف اختیار کرنے میں حق بہ جانب ہیں ان کی تو جماعت کی بنیاد ہی الطاف حسین کی مخالفت پرہے ۔ اس لئے جب ڈاکٹر فاروق ستار بھی الطاف حسین کی مذمت کریں اور ان سے عارضی ہی سہی لاتعلقی اختیار کرلیں تو پھر مصطفی کمال کے پاس کہنے کیلئے کیا رہ جائے گا ؟

ڈاکٹر فاروق ستار تو دو روز سے اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کے لیے زور لگاہی رہے ہیں اس لیے اس پر تو کچھ نہیں کہاجاسکتا،مگر جو بات وہ نہیں کہہ رہے ہیں اس پرتوجہ کی ضرورت ہے۔

اور وہ بات یہ ہے کہ فاروق ستار نے تو جوکیا وہ ڈراما سہی فسانہ سہی۔

حقیقت نہ مانو‘ ڈرامہ ہی مانو
مائنس تو ہوچکا، فسانہ ہی جانو

یہ سب کچھ ایم کیوایم کی تاریخ میں علی الاعلان پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔پہلی مرتبہ ساری دنیا کے سامنے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ جس شخصیت کو وہ اپنا قائد کہتے ہیں وہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہے، اس لیے پہلے اس کا علاج کرایاجائے۔

ایم کیوایم کی تاریخ تو یہ ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی چاکنگ اور پوسٹر نظر آتے تھے

الطاف نہ سمٹا ہے نہ سمٹے گا لمحوں میں
وہ تو اک احساس ہے جو رہتاہے دلوں میں

فاروق ستار کے مبینہ ڈرامے میں چھپی حقیقت کو ذرا لندن کی رابطہ کمیٹی اور ان کے قائد کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان کے لیے یہ تصور ہی سو ہان روح ہے کہ کراچی میں کوئی ان کی بات کو نہ کہہ دے۔

باخبر ذرائع یہ بتاتے ہیں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ الطاف حسین رینجرز ہیڈ کوارٹرز کا گھیراؤ کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں۔ گزشتہ بقر عید پر کھالیں قبضے میں جانے کے بعد تو وہ بہت مشتعل ہوگئے تھے ،مگر یہ پاکستان میں سیاست کرنے والے پارلیمنٹرین تھے جنہوں نے سمجھایا کہ لندن میں بیٹھ کر ایسا سوچا جاسکتاہے، مگر حقائق اور عمل کی دنیا میں یہ ممکن نہیں اس کے باوجود کبھی یہ رویہ نہیں اپنا یا گیا جو اعلان لاتعلقی کے وقت تھا۔

اس انداز کو برداشت کرنا الطاف حسین توکیا واسع جلیل جیسے لندن رابطہ کمیٹی کے رکن اور دوسری تیسری صف کے رہنما واسع جلیل کے لئے بھی ممکن نہیں۔ وہ کس قدر خفا ہیں اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ وہ بات جو فاروق ستار نے نہیں کہی وہ اُن کے لیے کتنی ناقابل برداشت ہے

وہ بات جس کا فسانے میں کوئی ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ فعال سیاسی جماعتیں اور مقتدر ادارے مصطفی کمال کی لائن کو جو انہوں نے اپنی جماعت یا موقف کو نقصان سے بچانے کیلئے اختیار کی ہے،پر چلنے کے بجائے فاروق ستار کی جماعت کے ذریعے کراچی کے عوام کو پیکیج دیں، البتہ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں یہ جماعت ناکام ہوجائے تو پھر جو جیتے وہ سکندر ہوگا، اس سے بات کی جائے۔حکومت نمائشی اقدامات سے بچے مکاچوک کا نام کی تبدیلی بھی ایسا ہی عمل ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر