... loading ...

اس ہفتے کی اہم لیکن ایسی خبر جسے نظر انداز کردیا گیا، افغانستان میں موجود امریکی کمان سے بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغان فوج کے لیے فوجی امداد میں اضافہ کرے۔ بھارت نے دسمبر 2015ء میں افغانستان کو چار جنگی ہیلی کاپٹر دیے تھے، اب امریکی اور افغان حکام چاہتے ہیں کہ انہیں مزید بھی دیے جائیں اور ساتھ ہی روسی ساختہ دفاعی سامان کے فاضل پرزہ جات بھی تاکہ انہیں پاکستان کے حامی عناصر کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اس خبر کا ایک، ایک پہلو اس “پراکسی جنگ” کو ظاہر کرتا ہے جو اب بھی افغان سرزمین پر لڑی جا رہی ہے۔
اس وقت افغانستان میں امریکی فوج کی کمان چار اسٹار جرنیل جان نکلسن کے ہاتھ میں ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کی 300 ملین ڈالرز کی عسکری امداد بھی روکی گئی ہے، ایک بھارت نواز جرنیل کی افغانستان میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ حالات کو کس رخ پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نکلسن اب تک بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول، خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر اور سیکریٹری دفاع جی موہن کمار سے ملاقات کر چکے ہیں۔ یعنی اس “پراکسی جنگ” میں بھارت کا راستہ متعین کرنے کے لیے یہ مشترکہ جنگی کمان ہے۔
افغان فضائیہ اب بھی روسی ساختہ ایم آئی 25 اٹیک ہیلی کاپٹرز استعمال کرتی ہے کیونکہ ان کے فضائی و زمینی عملے کی اکثریت 1980ء میں روس کی کٹھ پتلی حکومت کو دیے گئے ہیلی کاپٹروں پر تربیت یافتہ ہے، جن کے پرزہ جات نایاب ہیں۔ نکلسن کہتے ہیں کہ “افغانوں کو فوری طور پر ایسے مزید ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ جب یہ آئیں گے تو وہ فوری طور پر جنگ کے لیے اتر سکیں گے۔” انہوں نے دو مرتبہ “فوری” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جب امریکی فوج کا عسکری کمانڈر، چار اسٹار جرنیل، دو مرتبہ “فوری” کہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو پیغام دے رہا ہے کہ اگر کل تک یہ کام نہیں ہوا تو سب مارے جائیں گے۔ جنرل نکلسن مزید کہتے ہیں کہ “ہم افغان فضائیہ کو ملکی سکیورٹی کا ایک اہم حصہ بنانے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ یہ فضائیہ مختلف ڈھانچوں پر قائم ہے۔ چند پرانے روسی ساختہ ہیں اور کچھ نئے۔ ہمیں مزید جہازوں کی ضرورت ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس ضرورت کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے۔”
جان نکلسن نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے ہزاروں افغان فوجیوں کو دی گئی عسکری تربیت نے ملک کو اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے میں کافی مدد دی ہے جو نیٹو اور امریکا کے معیار کے مطابق ہے۔ پانچ سال قبل امریکا نے نجی ٹھیکیدار ڈائنکور کے ذریعے افغان فوجیوں کی تربیت شروع کی تھی، جس میں مسائل دیکھے گئے تھے۔ نکلسن نے کہا کہ “بھرتی کیے گئے افغانوں کی اکثریت اجڈ اور ناخواندہ ہے۔ اس لیے ان کی تربیت ابتدائی نوعیت کی اور مکمل ہونی چاہیے۔ مجھے غلط مت سمجھیں تربیت لینے والے افغان فوجی بہادر ہیں۔ ان کے اندر لڑنے کا جذبہ بھی بہت ہے، وہ بندوق کو ایسے جانتے ہیں جیسے لوگ اپنی گاڑی کو، اور انہوں نے 1970ء میں سوویت جارحیت کے بعد سے اب تک کئی مرتبہ اپنے عزیزوں کو کھویا ہے۔ لیکن انہیں بہت زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔”
وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر براک اوباما نے کچھ عرصہ قبل ہی اتفاق کیا تھا کہ دونوں ملک دہشت گرد گروپوں کے خلاف کام کریں گے، خاص طور پر وہ جو پاکستانی ہیں۔ سویلین سطح پر ان اعلیٰ ترین عہدیداران کے بعد اب نکلسن کا یہ تازہ اعلان دراصل ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کو اب آزادانہ کارروائی کا امریکی پروانہ مل چکا ہے۔ اب وہ نہ صرف حقانی نیٹ ورک بلکہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف بھی کارروائی چاہتا ہے۔
ایک ایسے موقع پر جب قندوز مرکزی حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور اہم صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ پر بھی طالبان کا قبضہ ہونے والا ہے، جنگ جاری ہے اور بہت اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...
لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...
مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...
صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...