... loading ...

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جماعت الاحرار گروپ نے کوئٹہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے نام پر ذمہ داری قبول کرنے کا یہ عمل درست بھی ہے یانہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سول اسپتال کی ایمرجنسی میں کیے جانے والے خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار گروپ نے قبول کی ہے۔ خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جماعت الاحرارکے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے اور اس حوالے سے ایک ویڈیو رپورٹ بھی جلد جاری کی جائے گی۔واضح رہے کہ لاہور کے گلشن اقبال پارک کے قریب خود کش دھماکے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔
جماعت الاحرار کی طرف سے سامنے آنے والے اس دعوے کے باوجود بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور مختلف وزراء نے پورے تیقن سے یہ کہا ہے کہ دہشت گردی کی اس بھیانک واردات کی پشت پر بھارت کا ہاتھ ہے ۔ اور اُن کے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ سامنے کی حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان سے براہ راست بھارتی حمایت کے ساتھ چلنے والے دہشت گردی کے بڑے ڈھانچے نہ صرف پکڑے گیے ہیں۔ بلکہ کل بھوشن کی صورت میں خود بھارتی فوج کے حاضر خدمت افسر تک گرفتار ہوئے ہیں ۔ اس سے بڑھ کریہ کہ خود بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کی وہ تقریر بھی منظرعام پر ہے جس میں اُنہوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پاکستان کو یہ خطرہ ہر وقت رہنا چاہئے کہ اگر یہاں ایک بھی ممبئی طرز کا حملہ ہوا تو بلوچستان اُس کے پاس نہیں رہے گا۔ اجیت دووال نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ کس طرح دہشت گردی کے لیے خود پاکستانی دہشت گرد گروپوں کی خدمات کرائے پر حاصل کی جاسکتی ہے۔اس تناظر میں یہ سمجھنےکی ضرورت ہے کہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے دہشت گرد گروپوں کے اندر بھارت نے کتنا اثرونفوذ پیدا کر لیا ہے۔ اور بھارت کس طرح پاکستان کے خلاف خود پاکستانیوں کے ہاتھ استعمال کررہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بھی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہی اصل ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کے اس کھیل کو بھارت کے اندر اس خوبی سے سمجھا جاتا ہے کہ بلوچستان میں اس قسم کی دہشت گردی کے واقعات پر باقاعدہ مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بھارت میں فعال طبقات یہاں تک کہ معروف دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے مختلف ٹوئٹس کے ذریعے دہشت گردی کی اس افسوس ناک واردات پر کھل کر مسر ت کا اظہار کیا جاتا رہا۔
یہ بھی واضح رہے کہ بھارت گزشتہ ماہ سے کشمیر میں جاری مزاحمت کی نئی لہر کے حوالے سے پاکستان کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کر رہا ہے،گزشتہ دنوں بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے پاکستان میں ہونے والی سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اپنی انگلیاں پاکستان پر اُٹھائی ۔ جس پر پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار کی طرف سے بھرپور اور موثر جواب کو بھارت کی جانب سے پسند نہیں کیا گیا۔ بھارتی وزیر داخلہ بعد ازاں ظہرانے میں شرکت کیے بغیر قبل ازوقت اپنے ملک تشریف لے گیے۔ ان حالات میں بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پر ملک بھر میں ساری انگلیاں بھارت کی جانب اُٹھ رہی ہیں۔
جہاں تک مقامی گروپوں کی طرف سے اس نوع کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا تعلق ہے تو ایک سے زائد مرتبہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اکثر واقعات میں ایک سے زیادہ گروپ ایک ہی واقعے کی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں۔ یہی نہیں مختلف واقعات میں دہشت گرد گروپوں کی طرف سے ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود دہشت گردی کے مرتکب عنا صر مختلف نکلے ہیں۔ جس نے اس ذمہ داری لینے کے عمل کومشکوک بنا دیا ہے۔ عام طور پر اس قسم کی ذمہ داری لینے والے گروہ پاکستانی ذرائع ابلاغ سے رابطے کرنے کے بجائے غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے رابطے کرکے ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اس کاکوئی قابل قبول جواب نہیں۔ کوئٹہ کے حالیہ دھماکے میں بھی یہی ہوا ہے۔ جماعت الاحرار نے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری ایک غیر ملکی خبررساں ادارےرائٹر کے سامنے قبول کی ہے۔ یہ طرز عمل بجائے خود اس پورے کھیل کو نہایت مشکوک بنا دیتا ہے۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...