وجود

... loading ...

وجود

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرلی! اصل حقائق کیا ہیں؟

منگل 09 اگست 2016 کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرلی! اصل حقائق کیا ہیں؟

Quetta-blast

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جماعت الاحرار گروپ نے کوئٹہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے نام پر ذمہ داری قبول کرنے کا یہ عمل درست بھی ہے یانہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سول اسپتال کی ایمرجنسی میں کیے جانے والے خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار گروپ نے قبول کی ہے۔ خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جماعت الاحرارکے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے اور اس حوالے سے ایک ویڈیو رپورٹ بھی جلد جاری کی جائے گی۔واضح رہے کہ لاہور کے گلشن اقبال پارک کے قریب خود کش دھماکے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔

جماعت الاحرار کی طرف سے سامنے آنے والے اس دعوے کے باوجود بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور مختلف وزراء نے پورے تیقن سے یہ کہا ہے کہ دہشت گردی کی اس بھیانک واردات کی پشت پر بھارت کا ہاتھ ہے ۔ اور اُن کے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ سامنے کی حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان سے براہ راست بھارتی حمایت کے ساتھ چلنے والے دہشت گردی کے بڑے ڈھانچے نہ صرف پکڑے گیے ہیں۔ بلکہ کل بھوشن کی صورت میں خود بھارتی فوج کے حاضر خدمت افسر تک گرفتار ہوئے ہیں ۔ اس سے بڑھ کریہ کہ خود بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کی وہ تقریر بھی منظرعام پر ہے جس میں اُنہوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پاکستان کو یہ خطرہ ہر وقت رہنا چاہئے کہ اگر یہاں ایک بھی ممبئی طرز کا حملہ ہوا تو بلوچستان اُس کے پاس نہیں رہے گا۔ اجیت دووال نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ کس طرح دہشت گردی کے لیے خود پاکستانی دہشت گرد گروپوں کی خدمات کرائے پر حاصل کی جاسکتی ہے۔اس تناظر میں یہ سمجھنےکی ضرورت ہے کہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے دہشت گرد گروپوں کے اندر بھارت نے کتنا اثرونفوذ پیدا کر لیا ہے۔ اور بھارت کس طرح پاکستان کے خلاف خود پاکستانیوں کے ہاتھ استعمال کررہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بھی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہی اصل ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کے اس کھیل کو بھارت کے اندر اس خوبی سے سمجھا جاتا ہے کہ بلوچستان میں اس قسم کی دہشت گردی کے واقعات پر باقاعدہ مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بھارت میں فعال طبقات یہاں تک کہ معروف دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے مختلف ٹوئٹس کے ذریعے دہشت گردی کی اس افسوس ناک واردات پر کھل کر مسر ت کا اظہار کیا جاتا رہا۔

یہ بھی واضح رہے کہ بھارت گزشتہ ماہ سے کشمیر میں جاری مزاحمت کی نئی لہر کے حوالے سے پاکستان کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کر رہا ہے،گزشتہ دنوں بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے پاکستان میں ہونے والی سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اپنی انگلیاں پاکستان پر اُٹھائی ۔ جس پر پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار کی طرف سے بھرپور اور موثر جواب کو بھارت کی جانب سے پسند نہیں کیا گیا۔ بھارتی وزیر داخلہ بعد ازاں ظہرانے میں شرکت کیے بغیر قبل ازوقت اپنے ملک تشریف لے گیے۔ ان حالات میں بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پر ملک بھر میں ساری انگلیاں بھارت کی جانب اُٹھ رہی ہیں۔

جہاں تک مقامی گروپوں کی طرف سے اس نوع کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا تعلق ہے تو ایک سے زائد مرتبہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اکثر واقعات میں ایک سے زیادہ گروپ ایک ہی واقعے کی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں۔ یہی نہیں مختلف واقعات میں دہشت گرد گروپوں کی طرف سے ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود دہشت گردی کے مرتکب عنا صر مختلف نکلے ہیں۔ جس نے اس ذمہ داری لینے کے عمل کومشکوک بنا دیا ہے۔ عام طور پر اس قسم کی ذمہ داری لینے والے گروہ پاکستانی ذرائع ابلاغ سے رابطے کرنے کے بجائے غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے رابطے کرکے ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اس کاکوئی قابل قبول جواب نہیں۔ کوئٹہ کے حالیہ دھماکے میں بھی یہی ہوا ہے۔ جماعت الاحرار نے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری ایک غیر ملکی خبررساں ادارےرائٹر کے سامنے قبول کی ہے۔ یہ طرز عمل بجائے خود اس پورے کھیل کو نہایت مشکوک بنا دیتا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر