... loading ...

ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک ہر رات عوام سڑکوں پر بیٹھ کر جمہوریت کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اب 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے طاقت کے ایک عظیم الشان مظاہرے کے ساتھ اپنا فرض مکمل کردیا ہے۔ 15 جولائی کی شب ہونے والی بغاوت کے دوران 270 لوگ مارے گئے تھے لیکن عوام کی بھرپور مداخلت کی وجہ سے حکومت بغاوت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
شہدائے جمہوریت کی یاد میں حکومت نے طاقت کا ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ بحیرۂ مرمرہ کے کنارے پر ینی قاپی کے علاقے میں دنیا نے عوام کا “سرخ سمندر” دیکھا۔ “جمہوریت و شہدا ریلی” کے انعقاد کا مقصد ناکام بغاوت کے خلاف ترک عوام کے اتحاد کو ظاہر کرنا تھا۔ اس شاندار اجتماع میں صرف حکمران عدالت و انصاف پارٹی نے ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ اسٹیج پر رجب طیب اردوغان کے برابر میں حزب اختلاف کی دو اہم ترین جماعتوں کے سربراہان بھی بیٹھے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار تو اب تک جاری نہیں کیے گئے لیکن واضح طور پر یہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد تھے۔
طیب اردوغان اپنی اہلیہ امینہ کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اجتماع گاہ پہنچے۔ جس کے بعد تقریب کا آغاز شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے ہوا، جس کے بعد ترکی کا قومی ترانہ بجایا گیا اور شہدا کے لیے دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ایک ریاست اور ایک قوم کے طور پر ہمیں 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف اس غداری میں شامل افراد ہی کی نہیں بلکہ اس کی پس پردہ قوتوں اور یہ قدم اٹھانے کی وجوہات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ “ملک کے استحکام کے سفر میں ہماری یکجہتی یونہی جاری رہے گی۔ ہم عہدوں اور خطابات کے لیے ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے، بلکہ ہماری محبت اللہ کے لیے ہے۔”
طیب اردوغان نے کہا کہ “15 جولائی نے ہمارے دوستوں پر ظاہر کیا کہ یہ ملک صرف سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حملوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ فوجی سبوتاژ کے خلاف بھی مضبوط ہے۔ اس نے دکھایا کہ یہ نہ گرے گا اور نہ ہی اسے پٹری سے نیچے اتارا جا سکتا ہے۔ وہ جو اس رات کو ترکی کے زوال کو دیکھنے کے لیے ہاتھ مسلتے دکھائی رہے تھے اگلی صبح انہیں معلوم ہوگیا کہ یہ کام ان کی توقعات سے زیادہ مشکل ہے۔”
ترک صدر نے مزید کہا کہ گولن کے پیروکار اس ملک کو درپیش حقیقی خطرے کا محض ایسا ہتھیار ہیں جو ہمیں نظر آ رہا ہے لیکن ہم اس کھیل کو اچھی طرح جانتے ہیں، یہ درحقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع کھیل ہے۔ بلاشبہ ہمیں اس تنظیم کے تمام اراکین کو ظاہر کرنا ہوگا اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ان کا خاتمہ کرنا ہوگا، لیکن اگر ہم صرف اسی پر اکتفا کرتے رہے تو پھر ایک ریاست اور ایک قوم کی حیثیت سے ہم ایسے ناسوروں کے خلاف اپنی کمزوری کو نمایاں کریں گے۔
طیب اردوغان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ سزائے موت کی بحالی کی منظوری دیتی ہے تو وہ بل کی منظوری کے لیے دستخط کردیں گے۔ ترکی میں سزائے موت پر پابندی 2004ء میں لگی تھی، وہ بھی آخری سزائے موت کے 20 سال بعد۔ یورپی یونین پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر ترکی نے ایسا کیا تو اتحاد میں اس کی شمولیت کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔
حزب اختلاف کی مرکزی جماعت جمہوریت خلق پارٹی کے رہنما کمال کلج دار اوغلو نے کہا کہ “15 جولائی نے مفاہمت کے دروازے کھولے ہیں۔ 15 جولائی کے بعد اب ایک نیا ترکی جنم لے چکا ہے۔ اگر ہم اس قوت کو مزید بڑھا سکے اور باہمی مصالحت میں اضافہ کر سکے تو ہم آنے والی نسل کے لیے ایک عظیم ترکی بنانے کے قابل بن جائیں گے۔”
جلسے کے لیے 60 میٹر یعنی 200 فٹ بلند ایک اسٹیج تیار کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی جلسہ ملک کے تمام 81 صوبوں میں براہ راست نشر کیا گیا جہاں ہر جگہ ہزاروں افراد نے اسے دیکھا۔
اس موقع پر 15 ہزار سے زیادہ سیکوٹری اہلکار موجود تھے اور ہیلی کاپٹرز بھی فضا میں گردش کر رہے تھے۔ شرکا کو اجتماع گاہ میں لانے کے لیے ہزاروں بسوں اور 200 سے زیادہ کشتیوں کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ داخلے کے لیے 165 مقامات پر میٹل ڈٹیکٹرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ بغاوت کے دوران زخمی ہونے والوں اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے خاص پاس جاری کیے گئے تھے اور انہیں مخصوص حصے میں بٹھایا گیا تھا۔
صدر طیب اردوغان نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لانے کے بجائے قومی پرچم لے کر اجتماع گاہ میں آئیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کے شہر پنسلوینیا میں بھی یہ اجتماع براہ راست دکھانے کے لیے ایک دیوہیکل اسکرین نصب کی گئی تھی۔ یہ وہی شہر ہے کہ جس کے قریب فتح اللہ گولن مقیم ہیں کہ جن کو اس بغاوت کا مرکزی کردار کہا جا رہا ہے۔
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...
بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...
دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...
31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...