وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر

پیر 08 اگست 2016 جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر

turkey-coup-rally

ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک ہر رات عوام سڑکوں پر بیٹھ کر جمہوریت کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اب 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے طاقت کے ایک عظیم الشان مظاہرے کے ساتھ اپنا فرض مکمل کردیا ہے۔ 15 جولائی کی شب ہونے والی بغاوت کے دوران 270 لوگ مارے گئے تھے لیکن عوام کی بھرپور مداخلت کی وجہ سے حکومت بغاوت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

شہدائے جمہوریت کی یاد میں حکومت نے طاقت کا ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ بحیرۂ مرمرہ کے کنارے پر ینی قاپی کے علاقے میں دنیا نے عوام کا “سرخ سمندر” دیکھا۔ “جمہوریت و شہدا ریلی” کے انعقاد کا مقصد ناکام بغاوت کے خلاف ترک عوام کے اتحاد کو ظاہر کرنا تھا۔ اس شاندار اجتماع میں صرف حکمران عدالت و انصاف پارٹی نے ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ اسٹیج پر رجب طیب اردوغان کے برابر میں حزب اختلاف کی دو اہم ترین جماعتوں کے سربراہان بھی بیٹھے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار تو اب تک جاری نہیں کیے گئے لیکن واضح طور پر یہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد تھے۔

طیب اردوغان اپنی اہلیہ امینہ کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اجتماع گاہ پہنچے۔ جس کے بعد تقریب کا آغاز شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے ہوا، جس کے بعد ترکی کا قومی ترانہ بجایا گیا اور شہدا کے لیے دعائیں کی گئیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ایک ریاست اور ایک قوم کے طور پر ہمیں 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف اس غداری میں شامل افراد ہی کی نہیں بلکہ اس کی پس پردہ قوتوں اور یہ قدم اٹھانے کی وجوہات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ “ملک کے استحکام کے سفر میں ہماری یکجہتی یونہی جاری رہے گی۔ ہم عہدوں اور خطابات کے لیے ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے، بلکہ ہماری محبت اللہ کے لیے ہے۔”

طیب اردوغان نے کہا کہ “15 جولائی نے ہمارے دوستوں پر ظاہر کیا کہ یہ ملک صرف سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حملوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ فوجی سبوتاژ کے خلاف بھی مضبوط ہے۔ اس نے دکھایا کہ یہ نہ گرے گا اور نہ ہی اسے پٹری سے نیچے اتارا جا سکتا ہے۔ وہ جو اس رات کو ترکی کے زوال کو دیکھنے کے لیے ہاتھ مسلتے دکھائی رہے تھے اگلی صبح انہیں معلوم ہوگیا کہ یہ کام ان کی توقعات سے زیادہ مشکل ہے۔”

ترک صدر نے مزید کہا کہ گولن کے پیروکار اس ملک کو درپیش حقیقی خطرے کا محض ایسا ہتھیار ہیں جو ہمیں نظر آ رہا ہے لیکن ہم اس کھیل کو اچھی طرح جانتے ہیں، یہ درحقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع کھیل ہے۔ بلاشبہ ہمیں اس تنظیم کے تمام اراکین کو ظاہر کرنا ہوگا اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ان کا خاتمہ کرنا ہوگا، لیکن اگر ہم صرف اسی پر اکتفا کرتے رہے تو پھر ایک ریاست اور ایک قوم کی حیثیت سے ہم ایسے ناسوروں کے خلاف اپنی کمزوری کو نمایاں کریں گے۔

طیب اردوغان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ سزائے موت کی بحالی کی منظوری دیتی ہے تو وہ بل کی منظوری کے لیے دستخط کردیں گے۔ ترکی میں سزائے موت پر پابندی 2004ء میں لگی تھی، وہ بھی آخری سزائے موت کے 20 سال بعد۔ یورپی یونین پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر ترکی نے ایسا کیا تو اتحاد میں اس کی شمولیت کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

حزب اختلاف کی مرکزی جماعت جمہوریت خلق پارٹی کے رہنما کمال کلج دار اوغلو نے کہا کہ “15 جولائی نے مفاہمت کے دروازے کھولے ہیں۔ 15 جولائی کے بعد اب ایک نیا ترکی جنم لے چکا ہے۔ اگر ہم اس قوت کو مزید بڑھا سکے اور باہمی مصالحت میں اضافہ کر سکے تو ہم آنے والی نسل کے لیے ایک عظیم ترکی بنانے کے قابل بن جائیں گے۔”

جلسے کے لیے 60 میٹر یعنی 200 فٹ بلند ایک اسٹیج تیار کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی جلسہ ملک کے تمام 81 صوبوں میں براہ راست نشر کیا گیا جہاں ہر جگہ ہزاروں افراد نے اسے دیکھا۔

اس موقع پر 15 ہزار سے زیادہ سیکوٹری اہلکار موجود تھے اور ہیلی کاپٹرز بھی فضا میں گردش کر رہے تھے۔ شرکا کو اجتماع گاہ میں لانے کے لیے ہزاروں بسوں اور 200 سے زیادہ کشتیوں کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ داخلے کے لیے 165 مقامات پر میٹل ڈٹیکٹرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ بغاوت کے دوران زخمی ہونے والوں اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے خاص پاس جاری کیے گئے تھے اور انہیں مخصوص حصے میں بٹھایا گیا تھا۔

صدر طیب اردوغان نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لانے کے بجائے قومی پرچم لے کر اجتماع گاہ میں آئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کے شہر پنسلوینیا میں بھی یہ اجتماع براہ راست دکھانے کے لیے ایک دیوہیکل اسکرین نصب کی گئی تھی۔ یہ وہی شہر ہے کہ جس کے قریب فتح اللہ گولن مقیم ہیں کہ جن کو اس بغاوت کا مرکزی کردار کہا جا رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر