... loading ...

تحریک انصاف نے 7 اگست کو زبردست جوش وخروش سے تحریک احتساب کا آغاز کردیا ہے۔ پاناما لیکس کے تناظر میں وزیراعظم نوازشریف کے احتساب کے بنیادی مطالبے سے شروع ہونے والی اس تحریک کو عوام اور فعال طبقات میں دراصل نوازشریف کی رخصتی کی تحریک سمجھا جارہا ہے۔ جس کے مستقبل اور نتیجہ خیزی کو عمران خان کے ماضی کے دھرنے کے انجام سے منسلک کرکے دیکھا جارہا ہے۔ جب عمران خان نے 17 دسمبر 2014 کو 126 روز (تقریباً چار ماہ) کادھرنا آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے باعث پُرنم آنکھوں سے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب آرمی پبلک اسکول سانحے کے باوجود وزیراعظم نوازشریف اپنی طنز آلود مسکراہٹ چھپا نہیں سکے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اس مرتبہ کیا مختلف نتیجہ دینے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ اور غیر معمولی اختیار واقتدار اور زیادہ وسائل وطاقت کے علاوہ منفی سیاست کے تمام ہتھکنڈوں پر چار دہائیوں کی مہارت رکھنے والے شریف خاندان کو وہ سیاسی میدان سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ ابھی اس کا جواب اندازوں اور مفروضوں کی دھند میں لپٹا ہوا ہے۔ مگر ایک سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی جماعت کے اندر موجود ناہمواریوں اور بحرانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں اُترنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
عمران خان نے ماضی کے دھرنے کے برعکس اس مرتبہ لب ولہجے کو سیاسی رکھا ہے۔ اور دھرنے کے وقت بے نقاب ہونے والی حکمت عملی کی خامیوں کو دور بھی کیا ہے۔ مثلاً عمران خان نے جب 2014 میں دھرنا دیا تھا تو اُن کی سیاسی حمایت نہ ہونے کے برابر تھی۔ تحریک انصاف کے خلاف پارلیمنٹ کی تمام حزب اقتدار و اختلاف کی جماعتیں ہم آواز ہو گئی تھی۔ اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دھرنے کے خلاف ایک ڈھال بن گیا تھا۔ مگر اب یوں لگتا ہے کہ عمران خان کی تحریک پر لعنت ملامت کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے مسلم لیگ نون کو سیاسی حمایت نہیں مل سکےگی۔ تحریک انصاف نے پاناما لیکس کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت سے مذاکرات میں شامل ہو کر حزب اختلاف کے پاس اب یہ جواز باقی نہیں رہنے دیا کہ مسلم لیگ نون کے ساتھ مذاکرات یا حکومت کےساتھ بات چیت سے کوئی راستا نکل سکتا تھا۔ نیز یہ حجت بھی اب باقی نہیں رہی کہ اس کا حل پارلیمنٹ کے اندر سے نکل سکتا تھا۔ جیسا کہ ماضی کے دھرنے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے گونجنے والی تقریروں میں یہ نکتہ باربار اجاگر کیا جاتا تھا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت کے رویئے کے باعث اُن کی حامی جماعتیں اب کونے کھدروں میں کہیں نظر آتی ہیں۔ اور حزب اختلاف کی جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ احتجاج میں نہ بھی شامل ہوئی ہوں تو بھی اُن کے خلاف اور حکومت کے حق میں بات کرنے سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تحریک احتساب کے آغاز پر تحریک انصاف اور عمران خان کو “گڈ لک ” کہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اگر مشترکہ حزب اختلاف کی مہم کا حصہ نہ بھی بنی، تب بھی اس قابل کبھی نہیں ہو گی کہ وہ مسلم لیگ نون کی حکومت کا ساتھ دے سکے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نوازشریف کو اپنی سیاست کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرکے دراصل تحریک انصاف میں توڑ پھوڑ کا سہارا لینا پڑے گا۔ جس کی وہ بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ یوں ایک بار پھر یہ واضح ہو گا کہ نوازشریف جس جمہوریت کی دہائی دیتے نہیں تھکتے، عملاًوہ جمہوریت کیا ہے؟
یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ عمران خان اس مرتبہ یہ تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ مگر یہ کہنے میں دیر بھی کتنی لگتی ہے؟ اس کے باوجود عمران خان نے تحریک احتساب کے نام پر جاری موجودہ مہم کو دراصل عوام کی آگہی مہم سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب” انگلی والی سرکار ” پر انحصار کا تاثر نہیں دینا چاہتے۔ مگر کیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ بغیر کسی یقین دہانی کے اپنی سیاست کو داؤ پر لگادینے والی ناکامی کو گلے لگانے کا بھی خطرہ مول لے رہے ہیں۔ سیاست خطرات تو مول لینے کا نام ہے مگر اس میں جوا کھیلنا اکثر ہارنے کے برابر ہو تا ہے۔ دھرنے نے عمران خان کو اور کچھ سکھایا ہو یا نہ ہو، مگر یہ ضرور سکھا دیا ہوگا۔ اور یہی وہ بات ہے جس کے باعث یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دفعہ عمران خان کے پاس پہلے کے برعکس کوئی منصوبہ بھی ضرور ہے۔
سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...
پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...
خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...