... loading ...

لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس حسب پروگرام 22 سے 24 جولائی دوشہروں میں منعقد ہوئی۔ اور حسب عادت اس کانفرنس کے حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں خاصا مخالفانہ شور بھی اُٹھا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں میں پائے جانے والی شکررنجی اور مسابقت کا جذبہ اب سیاسی تعصبات سے آگے بڑھتے بڑھتے عداوت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں کسی بھی پروگرام سے خالص اختلاف رائے کا اظہار ایک ناممکن عمل بن چکا ہے بلکہ اب اختلاف رائے دراصل اختلاف شخصیات کا روپ دھا رکر کسی بھی پروگرام کو بدترین الزامات کی بدبودار مہم میں ڈھال کر دیکھا جانے لگا ہے۔ اس میڈیا کانفرنس کے ساتھ بھی پچھلے سال کی طرح رواں سال بھی پاکستانی اور برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں یہی رویہ سامنے آیا۔
انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے خلاف اس سال بنیادی تنازع اُس کے میڈیا پارٹنر یا ابلاغی شراکت دار کے سوال پر اُٹھا۔ کانفرنس کے منتظمین اورمعاونین (جن میں ان لمیٹڈ اور پی ایم ڈی ایف شامل ہیں ) کی ابتدا میں یہ رائے تھی کہ اس میڈیا کانفرنس میں کسی پاکستانی میڈیا گروپ کو شراکت دار بنایا جائے، جنگ گروپ نے اس کانفرنس کے میڈیا پارٹنر بننے میں دلچسپی بھی ظاہر کی۔ اور اس ضمن میں پہلا اشتہار جنگ لندن کے صفحہ اول پر شائع بھی ہوا۔ مگر پاکستان کے دیگر ابلاغی اداروں سے تعلق رکھنے والوں نے واضح طور پر کانفرنس کے منتظمین کو یہ پیغام پہنچایا کہ اگر کانفرنس کا میڈیا پارٹنر کوئی بھی دوسرا گروپ ہوا تو وہ اس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ اس ضمن میں واضح طور پر وجود ڈاٹ کام کو لندن کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا ٹی وی اور اے آر وائی نے مذکورہ کانفرنس میں کسی بھی مخالف ابلاغی شراکت دار کی موجودگی میں کسی بھی نوع کی شرکت یا تعاون سے انکار کردیا تھا۔ چنانچہ منتظمین نے یہ کانفرنس بآلاخر کسی بھی ابلاغی شراکت دارکے بغیر منعقدکرانا مناسب سمجھا۔ کانفرنس کے ایک اہم منتظم نے وجود ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت میں دیگر ابلاغی اداروں کی شکایت رفع ہوجانی چاہئے تھی۔ کیونکہ اس سے تمام ذرائع ابلاغ کے لندن میں موجود نمائندوں کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

ان حالات میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا انعقادایونٹس ان لمیٹڈ اور پی ایم ڈی ایف کے تعاون سے کیا گیا۔ جس میں پاکستان سے مہمانوں کی آمد اور رابطے کی ذمہ داری پی ایم ڈی ایف کی تھی جبکہ برطانیہ میں مہمانوں کی آمدورفت اور ہال کے انتظامات ایونٹس ان لمیٹڈ کے کاندھوں پر تھے۔
اس ضمن میں برطانیہ اور پاکستان کے کچھ حلقوں نے کانفرنس میں مدعو کچھ اینکرز کی عدم شرکت اور اُن کے متعلق منتظمین کی طرف سے شرکت کے دعوے پر سوالات اُٹھائے ہیں۔ شکوک کا سبب بننے والا وہ اشتہار قراردیا جارہا ہے جو روزنامہ جنگ لندن اور پاکستان کے اخبار ات میں شائع ہوا۔ کانفرنس کے منتظمین کے مطابق جن اینکرز اور مہمانوں کی تصاویر اور نام شائع ہوئے، اُن سب سے براہ راست اجازت اور کانفرنس میں شریک ہونے کی تصدیق لے لی گئی تھی۔ جس کے بعد ہی اُن کے نام مذکورہ اشتہار میں دیئے گئے تھے۔ تاہم کچھ اینکرز اس میں شریک نہ ہوسکے۔ اور کانفرنس کے منتظمین کے موقف کے مطابق اس کی وجوہات خالصتاً اُن کی ذاتی تھیں۔ مثلاً ڈاکٹر شاہد مسعود نے منتظمین کو متعین طور پر کانفرنس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی تھی، مگر بعدا زاں کہا کہ وہ 15 جولائی کے بعد یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ کانفرنس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ کانفرنس میں مدعو ایک دوسرے اینکر وسیم بادامی صاحب کو یکدم امریکا جانا پڑ گیا۔ جبکہ وہ برطانیہ کا ویزہ نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ میڈیا کانفرنس کے منتظمین نے اُنہیں جو دعوت نامہ بھجوایا، وہ اس پر ویزے کے لیے کارروائی ہی نہیں کرسکے۔ اقرار الحسن جولائی کے آخر میں جرمنی ایک تقریب میں شرکت کرنے والے تھے، اس لیے وہ پروگرام میں شریک نہ ہوسکے۔ کانفرنس کے منتظمین میں سے ایک اہم ذریعے نہ وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ طلعت حسین نے ابتدا میں پروگرام میں شرکت کے لیے تصدیق کردی۔ اور اُن کی ہی وجہ سے اُن کے دوست کاشف عباسی نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ کیا مگر طلعت حسین ناگزیر وجوہات کی بناء پر شریک نہ ہو سکے مگر کاشف عباسی نے حسب وعدہ پروگرام میں شرکت کی۔

اطلاعات کے مطابق سلمان اقبال بھی کانفرنس کے منتظمین سے آخری وقت تک رابطے میں تھے۔ اور وہ خاص طور پر لندن بھی تشریف لائے مگر اچانک طبیعت ناساز ہونے پر وہ اسپتال میں داخل ہو گئے۔ پی ٹی وی کے چیئرمین اور ممتاز کالم نگار عطاءالحق قاسمی کے ساتھ بھی یہی ماجرا ہوا۔ وہ لندن روانہ ہونے کے لیے ائیرپورٹ پہنچ گئے تھے کہ اُن کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔
بدقسمتی سے کانفرنس کے منتظمین کے خلاف برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں بہت سے الزمات گردش کرتے رہے۔ جس میں ہیومن ٹریفیکنگ کے حساس الزام سے لے کر اسپانسرشپ اور کانفرنس کی ٹیبلزاور ٹکٹس فروخت کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ اگرچہ کانفرنس کے پروگرامات میں کچھ ردوبدل ہوتے رہےاور مقامات میں کچھ تبدیلیاں ضرور دیکھی گئیں مگر اس کے باوجود دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا انعقاد ممکن بنانے میں اس کے منتظمین کامیاب رہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو مغربی ممالک میں اپنے اثرورسوخ کو گہرا کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستانیوں کو اپنی مختلف سرگرمیوں سے دنیا کے دیگر ممالک میں ایک ناگزیر حصے کے طور پر خود کومنوانے کی ضرورت ہے۔ تو اس ضرورت سے بے نیاز ہو کر پاکستانی حلقے اس نوع کی کوششوں کو مختلف الزامات سے آلودہ کرکے حوصلہ شکنی کے مرتکب بن رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی سرگرمیوں میں موجود کوتاہیوں اور لغزشوں کو ہر سال دور کرنے اور اِسے بہتر بنانے کے لیے مشاورت کے عمل کو وسیع اور قلوب کو کشادہ کیا جائے۔ تاکہ اس قسم کی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستانیوں کی دنیا بھر کے حلقوں میں قربت پیدا کرنے کے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ مگر اس کے برعکس یہاں سب کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر نظر آتے ہیں۔

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...
وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...
اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...
سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...
سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...
متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...