وجود

... loading ...

وجود

لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس: آخر جھگڑا کیا ہے؟

جمعه 29 جولائی 2016 لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس: آخر جھگڑا کیا ہے؟

international-media-conference-london1

لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس حسب پروگرام 22 سے 24 جولائی دوشہروں میں منعقد ہوئی۔ اور حسب عادت اس کانفرنس کے حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں خاصا مخالفانہ شور بھی اُٹھا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں میں پائے جانے والی شکررنجی اور مسابقت کا جذبہ اب سیاسی تعصبات سے آگے بڑھتے بڑھتے عداوت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں کسی بھی پروگرام سے خالص اختلاف رائے کا اظہار ایک ناممکن عمل بن چکا ہے بلکہ اب اختلاف رائے دراصل اختلاف شخصیات کا روپ دھا رکر کسی بھی پروگرام کو بدترین الزامات کی بدبودار مہم میں ڈھال کر دیکھا جانے لگا ہے۔ اس میڈیا کانفرنس کے ساتھ بھی پچھلے سال کی طرح رواں سال بھی پاکستانی اور برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں یہی رویہ سامنے آیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے خلاف اس سال بنیادی تنازع اُس کے میڈیا پارٹنر یا ابلاغی شراکت دار کے سوال پر اُٹھا۔ کانفرنس کے منتظمین اورمعاونین (جن میں ان لمیٹڈ اور پی ایم ڈی ایف شامل ہیں ) کی ابتدا میں یہ رائے تھی کہ اس میڈیا کانفرنس میں کسی پاکستانی میڈیا گروپ کو شراکت دار بنایا جائے، جنگ گروپ نے اس کانفرنس کے میڈیا پارٹنر بننے میں دلچسپی بھی ظاہر کی۔ اور اس ضمن میں پہلا اشتہار جنگ لندن کے صفحہ اول پر شائع بھی ہوا۔ مگر پاکستان کے دیگر ابلاغی اداروں سے تعلق رکھنے والوں نے واضح طور پر کانفرنس کے منتظمین کو یہ پیغام پہنچایا کہ اگر کانفرنس کا میڈیا پارٹنر کوئی بھی دوسرا گروپ ہوا تو وہ اس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ اس ضمن میں واضح طور پر وجود ڈاٹ کام کو لندن کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا ٹی وی اور اے آر وائی نے مذکورہ کانفرنس میں کسی بھی مخالف ابلاغی شراکت دار کی موجودگی میں کسی بھی نوع کی شرکت یا تعاون سے انکار کردیا تھا۔ چنانچہ منتظمین نے یہ کانفرنس بآلاخر کسی بھی ابلاغی شراکت دارکے بغیر منعقدکرانا مناسب سمجھا۔ کانفرنس کے ایک اہم منتظم نے وجود ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت میں دیگر ابلاغی اداروں کی شکایت رفع ہوجانی چاہئے تھی۔ کیونکہ اس سے تمام ذرائع ابلاغ کے لندن میں موجود نمائندوں کو آگاہ کردیا گیا تھا۔
international-media-conference-london3

ان حالات میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا انعقادایونٹس ان لمیٹڈ اور پی ایم ڈی ایف کے تعاون سے کیا گیا۔ جس میں پاکستان سے مہمانوں کی آمد اور رابطے کی ذمہ داری پی ایم ڈی ایف کی تھی جبکہ برطانیہ میں مہمانوں کی آمدورفت اور ہال کے انتظامات ایونٹس ان لمیٹڈ کے کاندھوں پر تھے۔

اس ضمن میں برطانیہ اور پاکستان کے کچھ حلقوں نے کانفرنس میں مدعو کچھ اینکرز کی عدم شرکت اور اُن کے متعلق منتظمین کی طرف سے شرکت کے دعوے پر سوالات اُٹھائے ہیں۔ شکوک کا سبب بننے والا وہ اشتہار قراردیا جارہا ہے جو روزنامہ جنگ لندن اور پاکستان کے اخبار ات میں شائع ہوا۔ کانفرنس کے منتظمین کے مطابق جن اینکرز اور مہمانوں کی تصاویر اور نام شائع ہوئے، اُن سب سے براہ راست اجازت اور کانفرنس میں شریک ہونے کی تصدیق لے لی گئی تھی۔ جس کے بعد ہی اُن کے نام مذکورہ اشتہار میں دیئے گئے تھے۔ تاہم کچھ اینکرز اس میں شریک نہ ہوسکے۔ اور کانفرنس کے منتظمین کے موقف کے مطابق اس کی وجوہات خالصتاً اُن کی ذاتی تھیں۔ مثلاً ڈاکٹر شاہد مسعود نے منتظمین کو متعین طور پر کانفرنس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی تھی، مگر بعدا زاں کہا کہ وہ 15 جولائی کے بعد یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ کانفرنس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ کانفرنس میں مدعو ایک دوسرے اینکر وسیم بادامی صاحب کو یکدم امریکا جانا پڑ گیا۔ جبکہ وہ برطانیہ کا ویزہ نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ میڈیا کانفرنس کے منتظمین نے اُنہیں جو دعوت نامہ بھجوایا، وہ اس پر ویزے کے لیے کارروائی ہی نہیں کرسکے۔ اقرار الحسن جولائی کے آخر میں جرمنی ایک تقریب میں شرکت کرنے والے تھے، اس لیے وہ پروگرام میں شریک نہ ہوسکے۔ کانفرنس کے منتظمین میں سے ایک اہم ذریعے نہ وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ طلعت حسین نے ابتدا میں پروگرام میں شرکت کے لیے تصدیق کردی۔ اور اُن کی ہی وجہ سے اُن کے دوست کاشف عباسی نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ کیا مگر طلعت حسین ناگزیر وجوہات کی بناء پر شریک نہ ہو سکے مگر کاشف عباسی نے حسب وعدہ پروگرام میں شرکت کی۔

international-media-conference-london4

اطلاعات کے مطابق سلمان اقبال بھی کانفرنس کے منتظمین سے آخری وقت تک رابطے میں تھے۔ اور وہ خاص طور پر لندن بھی تشریف لائے مگر اچانک طبیعت ناساز ہونے پر وہ اسپتال میں داخل ہو گئے۔ پی ٹی وی کے چیئرمین اور ممتاز کالم نگار عطاءالحق قاسمی کے ساتھ بھی یہی ماجرا ہوا۔ وہ لندن روانہ ہونے کے لیے ائیرپورٹ پہنچ گئے تھے کہ اُن کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔

بدقسمتی سے کانفرنس کے منتظمین کے خلاف برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں بہت سے الزمات گردش کرتے رہے۔ جس میں ہیومن ٹریفیکنگ کے حساس الزام سے لے کر اسپانسرشپ اور کانفرنس کی ٹیبلزاور ٹکٹس فروخت کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ اگرچہ کانفرنس کے پروگرامات میں کچھ ردوبدل ہوتے رہےاور مقامات میں کچھ تبدیلیاں ضرور دیکھی گئیں مگر اس کے باوجود دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا انعقاد ممکن بنانے میں اس کے منتظمین کامیاب رہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو مغربی ممالک میں اپنے اثرورسوخ کو گہرا کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستانیوں کو اپنی مختلف سرگرمیوں سے دنیا کے دیگر ممالک میں ایک ناگزیر حصے کے طور پر خود کومنوانے کی ضرورت ہے۔ تو اس ضرورت سے بے نیاز ہو کر پاکستانی حلقے اس نوع کی کوششوں کو مختلف الزامات سے آلودہ کرکے حوصلہ شکنی کے مرتکب بن رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی سرگرمیوں میں موجود کوتاہیوں اور لغزشوں کو ہر سال دور کرنے اور اِسے بہتر بنانے کے لیے مشاورت کے عمل کو وسیع اور قلوب کو کشادہ کیا جائے۔ تاکہ اس قسم کی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستانیوں کی دنیا بھر کے حلقوں میں قربت پیدا کرنے کے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ مگر اس کے برعکس یہاں سب کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر نظر آتے ہیں۔

ہم لوگ نہ الجھے ہیں نہ الجھیں گے کسی سے
ہم کو تو ہمارا ہی گریبان بہت ہے

international-media-conference-london2


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر