... loading ...

“منشیات کے خلاف جنگ” اور “دہشت گردی کے خلاف جنگ” باہم کافی زیادہ منسلک ہیں، اتنی زیادہ کہ ذرائع ابلاغ اور سیاست دان نہیں چاہتے کہ ہمیں معلوم ہو۔ امریکا کی افغانستان میں جاری عالمی صلیبی جنگ کا تو پورا محاذ ہی موت، نشہ اور حکومت کی بدعنوانی پر مشتمل ہے۔ صرف افغانستان میں ہی نہیں، بلکہ خود امریکا میں بھی کہ جہاں جنگ افغانستان ملک میں ہیروئن کی لت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
صرف 2014ء میں امریکا میں 10 ہزار سے زیادہ افراد خطرناک حد سے زیادہ ہیروئن استعمال کرنے کی وجہ سے مارے گئے۔ ہیروئن کے استعمال میں اضافے کی بڑی وجہ دنیا کے اس سب سے خطرناک اور مہلک نشے کی کم قیمت پر اور باآسانی دستیابی ہے۔
بلیک مارکیٹ کے خاتمے کے وعدوں کے باوجود امریکا ہی ہے جو اس غیر قانونی نشے کی تجارت کو مکمن بناتا ہے۔ صحافی ایبی مارٹن لکھتے ہیں کہ امریکی حکومت منشیات کی عالمی تجارت کو سہولیات دینے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں اس نے جنوب مشرقی ایشیا کی ‘سنہری تکون’ سے افیون کی منتقلی، تیاری اور فراہمی کی اجازت دی جب وہ کمیونسٹ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے تائیوان کے دستوں کو تربیت دے رہا تھا۔ 80ء کی دہائی میں سی آئی اے نے نکاراگوا میں کمیونسٹ مخالف کونٹرا باغیوں کو مالی و دیگر امداد دی جو بدنام زمانہ منشیات کے اسمگلر تھے۔
2012ء میں میکسیکو کی حکومت کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ بجائے منشیات کے اسمگلروں سے مقابلہ کرنے کے سی آئی اے اور دیگر بین الاقوامی سیکورٹی ایجنسیاں “منشیات کی تجارت کے انتظام” کی کوشش کر رہی ہیں۔ چیہواہوا کے ترجمان گلرمو تیرازاس ولانیوا نے کہا کہ یہ بالکل کیڑے مار کمپنیوں جیسا کہ جو مارتی نہیں ہیں، صرف کنٹرول کرتی ہیں۔ اگر کیڑے خبر کردیے تو کام ہی ختم ہو جائے گا۔ اگر انہوں نے منشیات کا دھندا ختم کردیا تو گویا اپنی نوکریاں ہی ختم کر ڈالیں۔
گو کہ اب تک ایسا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے کہ سی آئی اے افغانستان میں واقع افیون کا دھندا کر رہی ہے، لیکن مارٹن لکھتے ہیں کہ “ایسا ماننا مشکل ہے کہ امریکا کے مکمل فوجی قبضے میں موجود علاقے میں کہ جہاں چوکیاں ہیں، نگرانی کرنے والے ڈرون تورا بورا کے پہاڑوں تک پر نظریں رکھے ہوئے ہیں، وہاں پر افیون کی اسمگلنگ کے راستوں کا علم نہ ہو سکے جو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتی ہے، وہ بھی پوست کے ان کھیتوں سے جو امریکا کی آنکھوں سے اوجھل ہیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ امریکا ہی ان کی حفاظت کررہا ہے۔”
معنی خیز بات یہ ہے کہ یہ امریکا ہی کا قدم تھا کہ جس نے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں طالبان حکومت کا خاتمہ کیا اور افغانستان کو ایک مرتبہ پھر “منشیات کا گڑھ” بنا دیا۔
اس جنگ سے پہلے افغانستان میں طالبان نے پوست کے بجائے اجناس کی کاشت کے لیے سخت اقدامات کیے تھے۔ 2000ء کے موسم گرما میں طالبان رہنما ملا محمد عمر نے اعلان کیا تھا کہ پوست کی کاشت پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہی وہ پودا ہے کہ جس سے ہیروئن بنتی ہے۔ جو بھی پوست کاشت کرتا اس کا منہ کالا کرکے گلیوں میں گھمایا جاتا اور سخت سزا دی جاتی۔
اس زمانے میں افغانستان میں ہونے والی پوست کی واحد کاشت وہ تھی جو شمال مشرقی علاقے میں ہوتی تھی، جو طالبان مخالف شمالی اتحاد کا علاقہ تھا۔ طالبان کی پابندی سے ایک ہی سال میں افغانستان میں ان کے ماتحت علاقوں میں تو کاشت صفر ہوگئی اور ملک میں 2000ء میں 3276 ٹن پوست کی جگہ 2001ء میں صرف 185 ٹن پوست پیدا ہوئی۔
پھر نائن الیون ہوا اور بش انتظامیہ نے افغانستان کا رخ کیا، “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے پرچم تلے۔ ڈاکٹر اسٹینو کیسلز کہتے ہیں کہ جب طالبان پہاڑوں میں چھپ گئے تو کاشت کاروں کو وہ مالی مدد ملنا بند ہوگئی جس کی وجہ سے وہ پوست چھوڑ کر اجناس کاشت کیا کرتے تھے، اس لیے وہ دوبارہ پوست کی جانب آئے اور افغانستان ایک بار پھر دنیا بھر میں ہیروئن کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔
امریکا کے پہنچتے ہی چھ ماہ میں افیون کی تجارت واپس عروج پر پہنچ گئی اور 2002ء کے موسم بہار میں 3400 ٹن کی چھپر پھاڑ کاشت ہوئی۔ جی ہاں! افغانستان میں جنگ نے ملک کی مردہ افیون کی صنعت کو ڈرامائی طور پر دوبارہ زندہ کردیا۔ 2014ء میں افغانستان نے گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے مقابلے میں اپنی پوست کی کاشت کو دوگنا کرلیا ہے اور 2015ء تک افغانستان دنیا بھر میں پوست کی کل کاشت کا 90 فیصد پیدا کرنے لگا۔
سوچنے کی بات ہے کہ اتنی بڑی صنعت امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ناک کے نیچے کیسے چل سکتی ہے؟ جواب سادہ سا ہے کیونکہ امریکا نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ میتھیو ایکنز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی، ایف بی آئی، محکمہ انصاف اور محکمہ خزانہ سب جانتے ہیں کہ ملک میں ان کے اتحادی کتنے بدعنوان ہیں۔ منشیات کا کاروبار افغان حکومت اور معیشت کی اعلیٰ ترین سطح تک موجود ہے، اس طرح کہ ایسکوبار کے زمانے کا کولمبیا بھی اس کے سامنے کچھ نہیں۔
یہ تمام منشیات افغانستان کے پڑوسی پانچ ممالک سے ہوتی ہوئی دنیا بھر میں پہنچتی ہے۔ جب یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں میں منشیات کی یہ اضافی رسد پہنچی تو یورپ کو تو جنوبی امریکا و میکسیکو کی ضرورت ہی نہ رہی اور امریکی مارکیٹ میں بھی حد سے زیادہ ہیروئن موجود تھی۔ ہر جگہ قیمتیں گرنے لگیں اور ہیروئن خطرناک حد تک سستی اور بہت آسانی سے دستیاب ہونے لگی۔
اب آج ہیروئن، دنیا کا خطرناک اور مہلک ترین نشہ، امریکا کے کئی شہروں میں 4 ڈالرز فی تھیلی کی معمولی قیمت پر بھی دستیاب ہے۔
2002ء سے 2013ء کے دوران ہیروئن سے ہونے والی اموات میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ 2014ء میں امریکا بھر میں 10 ہزار سے زيادہ افراد ہیروئن کی زیادہ مقدار لینے کی وجہ سے مارے گئے۔ کیا اس میں امریکا و اتحادی فوج کے 3504 اہلکاروں اور ان 26 ہزار عام افغان شہریوں کو بھی شامل کرلیا جائے جو اس دھندے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...