وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیش، سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے کو 7 سال قید کی سزا

جمعرات 21 جولائی 2016 بنگلہ دیش، سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے کو 7 سال قید کی سزا

طارق رحمٰن (درمیان میں) 2007ء میں ایک پیشی کے دوران

طارق رحمٰن (درمیان میں) 2007ء میں ایک پیشی کے دوران


بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت انتقام کی آگ میں اندھی ہو چکی ہے اور اسلام پسند جماعتوں کے کئی رہنماؤں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اب حزب اختلاف کی اہم رہنما خالدہ ضیاء کا رخ کردیا ہے جن کے جلاوطن صاحبزادے کو عدالت نے سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم پر کالے دھن کو سفید کرنے کا الزام لگایا گیا ہے لیکن صاف ظاہر ہے کہ اس کے مقاصد مکمل طور پر سیاسی ہیں جیسا کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ کچھ عرصے سے حزب اختلاف کا صفایا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

عدالت نے 2013ء میں ایک ذیلی عدالت کی جانب سے بری کیے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے 51 سالہ طارق رحمٰن کو یہ سزا سنائی ہے جو اس وقت لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو 200 ملین ٹکا (26 کروڑ 74 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ اور سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کی سزائیں بھی دی گئی ہیں۔

طارق اس وقت قائد حزب اختلاف اور دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہنے والی خالدہ ضیاء کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل منیر الزماں کبیر کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ طارق رحمٰن نے اپنی سیاسی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قریبی دوست غیاث الدین مامون کی مدد سے 200 ملین ٹکا کے کالے دھن کو سفید کیا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں حالات انتہائی نازک ہیں۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے مخالف جماعتوں کے خلاف زبردست مہم جاری ہے وہیں دہشت گردی کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی رواں ماہ ہی ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں ایک کیفے پر حملے میں 20 افراد مارے گئے جن میں سے 18 غیر ملکی تھے۔

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی 1970ء کی دہائی میں طارق کے والد اور مشہور فوجی سربراہ ضیاء الرحمٰن نے بنائی تھی۔ ان کی والدہ خالدہ ضیاء دو مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہی ہیں لیکن حالیہ چند سالوں میں حکمران عوامی لیگ نے بدترین کارروائیاں کرکے اس اہم مخالف جماعت، اور دیگر اسلامی تنظیموں کو بھی، سخت نقصان پہنچایا ہے۔ 2014ء میں نیشنل پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کی وجہ سے شیخ حسینہ واجد بغیر کسی مقابلے کے وزیر اعظم بن گئیں اور اب گن گن کر نجانے کون سے بدلے لے رہی ہیں۔ گزشتہ سال نیشنل پارٹی سمیت کئی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور مظاہروں میں 150 سے زیادہ افراد کو قتل کیا گیا۔


متعلقہ خبریں


خالدہ ضیا علاج کے لیے بیرون ملک نہ گئیں تو ان کی جان کو خطرہ ہے،بنگلہ دیشی ڈاکٹرز وجود - پیر 29 نومبر 2021

بیمار اپوزیشن رہنما اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کا علاج کرنے والے بنگلہ دیشی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اگر انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی گئی تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سخت مخالف 76 سالہ خالدہ ضیا کو جگر کی بیماری کی تشخیص ہ...

خالدہ ضیا علاج کے لیے بیرون ملک نہ گئیں تو ان کی جان کو خطرہ ہے،بنگلہ دیشی ڈاکٹرز

بھارت کی حاشیہ بردار بنگلہ دیشی حکومت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی کی نشریات بند کردی! وجود - پیر 11 جولائی 2016

مشہور اسکالر ، تقابل ادیان اور مناظروں کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارت کے بعد اب اُس کی کٹھ پٹلی حسینہ واجد کی حکومت بھی انتہا پسندانہ اقدامات پر تُل گئی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے اپنے ملک میں اسلامی تعلیمات کے فروغ میں کوشاں "پیس ٹی وی" کی نشریات...

بھارت کی حاشیہ بردار بنگلہ دیشی حکومت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی کی نشریات بند کردی!

بنگلہ دیشی کی جیلیں سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی ہیں، عالمی رپورٹ وجود - منگل 12 اپریل 2016

بنگلہ دیش میں عدالت میں سیاست اس بری طرح داخل ہو چکی ہے کہ انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے اپنی رپورٹ میں یہ تک کہا ہے کہ عدالتیں بجائے قانون کی حکمرانی کو سہارا دینے کے، اس کی بیخ کنی کر رہی ہیں۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں قائم عالمی انجمن نے "سیاسی تنازع، شدت پسندی اور مجرمان...

بنگلہ دیشی کی جیلیں سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی ہیں، عالمی رپورٹ

بنگلہ دیش، امیر جماعت اسلامی کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ وجود - بدھ 06 جنوری 2016

بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت نے ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کے رہنما کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ 1971ء کی جنگ میں مختلف جرائم میں ملوث رہے تھے۔ اب آئندہ چند ماہ میں بھی کسی بھی وقت سزائے موت پر عملدرآمد ہو سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جماع...

بنگلہ دیش، امیر جماعت اسلامی کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار