وجود

... loading ...

وجود

ریئل اسٹیٹ کے نئے قوانین رشوت کا بازار گرم کرنے کی کوشش

بدھ 20 جولائی 2016 ریئل اسٹیٹ کے نئے قوانین رشوت کا بازار گرم کرنے کی کوشش

Property-Tax

رواں ماہ کے آغاز سے کراچی میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو یکدم زوال آ گیا ہے جس کی وجہ پراپرٹی کا تخمینہ لگانے کے نئے قواعد ہیں۔ بجٹ میں اعلان کیا گیا تھا کہ غیر منقولہ جائیداد کی فیئر مارکیٹ قیمت بینک دولت پاکستان کے مقرر کردہ تشخیص کنندگان لگائیں گے۔ اب چند سالوں سے مسلسل آگے بڑھتی ہوئی اس مارکیٹ کو یکدم بریک لگ گیا ہے۔ اس حوالے سے ملک کی معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی کہتے ہیں کہ یہ ترمیم دراصل ملک میں رشوت کے بازار کو گرم کرنے کی کوشش ہے۔

ایک انٹرویو میں عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا ہے کہ قانون کے اندر جو بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ دراصل مفاد پرست عناصر کرواتے ہیں۔ اس ترمیم کا تو وفاق کو اختیار ہی نہیں، یہ مکمل طور پر صوبائی معاملہ ہے اور اس کے ذریعے بدعنوان لوگوں کو لوٹنے کا ایک نیا طریقہ تھما دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دس، پندرہ سالوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کلیکٹر ویلیو کو بڑھایا جائے، لیکن یہ دوسرا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ویلیو کو بڑھایا جا رہا ہے وہیں پر ویلیویٹر کو بھی بٹھا رہے ہیں۔ اس سے کرپشن کو ہوا ملے گی۔

اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت 10 لاکھ مکانات بنانے کا اعلان کرتی ہے، کیونکہ وہ سیمنٹ کے کارخانے داروں کا گٹھ جوڑ تشکیل دینا چاہتی ہے۔ غریبوں کے لیے گھر بنانے کی بات کی جاتی ہے تو دراصل سریے کا کاروبار ہوتا ہے۔ حقیقت میں غریب کے لیے کچھ نہیں۔ یہاں تک کہ فرنس آئل کی قیمت گر جاتی ہے لیکن بجلی کی قیمت دوگنی ہوگئی۔ یعنی پہلے مہنگائی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہوئی، اب گرنے سے بھی ہو رہی ہے۔ ایندھن کی قیمت بڑھنے سے بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ تو سمجھ آتا ہے لیکن اس کی قیمت آدھی ہو جائے تب قیمت کا ڈبل ہوجانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں جو ٹیکس کلیکشن ہو رہی ہے، اس پر نمبر بڑھائے جاتے ہیں حالانکہ حقیقت میں کوئی کلیکشن سرے سے ہوئی ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر مصنوعی قیمتوں سے ریونیو حاصل کیا گیا ہے۔ کوئی نیا ٹیکس نہیں، کسی شعبے میں بہتری نہیں، زراعت تک کا شعبہ منفی سمت میںجا رہا ہے، اس صورت میں ایسا ظاہر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

صحت و تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ہمارے ہاں بجٹ میں موٹر وے کے لیے پیسہ مختص کیا جاتا ہے حالانکہ دنیا میں آج تک کون سا ملک ہے جس نے صحت و تعلیم کے بغری ترقی کی ہو۔ غریب سے غریب تر ممالک بھی تعلیم پر پیسہ لگاتے ہیں اور یہاں اس کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر پاکستان سے غربت کو دور کرنا ہے تو اس شعبے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی ورنہ جس طرح فی کس آمدنی وہیں کی وہیں کھڑی ہے، آگے بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ملک نہیں، سونا ہے، یہاں کے عوام ‘جینئس’ ہیں لیکن ان ‘جینئس’ لوگوں کے لیے ‘جینئس’ پالیسی نہیں بنائی جاتی اور نہ ہی ان کے لیے نئے مواقع تخلیق کیےجاتے ہیں۔

پراپرٹی کے معاملات پر عقیل کریم نے کہا کہ پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ کالے دھن کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کی ویلیو کو کم کرنے کے لیے سسٹم ٹھیک کرنا پڑے گا۔ اگر ویلیویٹر سے قیمت کم ہو سکتی تو ای او بی آئی اسکینڈل ہی نہ سامنے آتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ کلیکٹر ویلیو کو کم از کم دوگنا کیا جائے بلکہ اگر ممکن ہو تو اسے چار گنا کردیا جائے۔ اسی سے کالے دھن سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔ جب پراپرٹی مارکیٹ میں کالادھن نہیں ہوگا تو ہی اس کی حقیقی قیمت سامنے آئے گی اور غریب آدمی بھی مکان بنا سکے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں مورگیج فائنانسنگ بھی متعارف کروانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی شخص جو دو، چار لاکھ کماتا ہے وہ دس، پندرہ سال میں اپنا مکان اپنا بنا سکے۔

اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے عقیل کریم نے کہا کہ ایم ایس سی آئی میں شمولیت ایک خوش آئند خبر ہے لیکن مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں اضافہ نہ ہونا تشویشناک ہے۔ انڈیکس 39 ہزار تک پہنچ چکا ہے لیکن مارکیٹ کیپٹلائزیشن آج پرویز مشرف کے دور سے بھی کم ہے۔ یہ صورت حال بہت خطرناک ہے۔ ہمیں اس وقت تک ایم ایس سی آئی کا حقیقی فائدہ نہیں ملے گا جب تک مارکیٹ کیپٹلائزیشن دو سے ڈھائی سو ملین تک پہنچے، ہم تو ابھی 70 ملین پر کھڑے ہیں۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ “ایس ای سی پی میں مفاد پرست لوگ بیٹھے رہیں گے تو اس سے مارکیٹ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کوئی لسٹنگ لے کر جاتا ہے تو جاننے والے کا کام ایک دن میں ہو جاتا ہے لیکن نہ جاننے والے کی ایسی تیسی پھیر دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک مشہور برانڈ کے بارے میں بتایا کہ جب وہ لسٹنگ کروانے گیا تو اس کی اتنی انکوائری کی گئی کہ انہوں نے کان پکڑ لیے۔ ان حالات میں کون لسٹنگ کروائے گا؟ پھر ایف آئی اے سے اداروں پر چھاپے پڑوائے جاتے ہیں اور ایس ای سی پی کے ساتھ مل کر لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ یہ تو ایک گٹھ جوڑ بنا چکے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔

AKD


متعلقہ خبریں


قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

مضامین
بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر