وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم نوازشریف تاحال دارالحکومت اسلام آباد جانے سے گریزاں، افواہیں گردش میں

منگل 19 جولائی 2016 وزیراعظم نوازشریف تاحال دارالحکومت اسلام آباد جانے سے گریزاں، افواہیں گردش میں

پاکستان کے تمام سیاسی، اقتصادی اور صحافتی حلقوں میں ان دنوں واحد موضوع سیاسی حکومت اور عسکری حلقوں کے درمیان تال میل سے متعلق ہے۔ جس پر مختلف حلقوں کے اندر مختلف اندازے قائم کیے جارہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے جتنی افواہیں گردش کررہی ہیں، اُس تنا سب سے اطلاعات کی کمی بھی ہیں۔ البتہ افواہوں کو تقویت دینے کا ماحول خود وزیراعظم نوازشریف کی عدم فعالیت اور بیماری کے پراسرار ماحول میں خود کو چھپانے سے بن رہا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اب بھی خود کو دارالحکومت سے دور رکھنے اور رائیونڈ میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے خود سرکاری حلقوں سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ وزیراعظم نوازشریف اگلے ہفتے منگل کو دارالحکومت اسلام آباد کوچ کر جائیں گے اور وزیراعظم ہاؤس میں معمول کی سرگرمیا ں شروع کردیں گے۔ وزیراعظم کی طرف سے یہ اقدام بہت سی قیاس آرائیوں کا دروازہ خود ہی بند کردیتا۔ مگر وزیراعظم نوازشریف کی طبیعت بگڑنے کا جواز بنا کر ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کیا گیا ہے وزیر اعظم ابھی بھی اپنی رہائش گاہ جاتی امرا میں ہی قیام پزیر رہیں گے۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے کل اسلام آباد کے لئے روانہ ہونا تھا تاہم ٹانگ کے زخم میں انفیکشن کے باعث اُنہیں بخار ہو گیا ہےاور ڈاکٹرز نے انہیں سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف ٹھیک ہوتے ہی اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔

اگلے کچھ دنوں میں وزیراعظم نوازشریف اسلام آباد کے بجائے اپنی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر ڈاکٹروں کے مشورے پر ایک مرتبہ پھر لندن کا رخ کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے کسی بھی وجہ سے اسلام آباد سے دور رہنے کا یہ فیصلہ سیاسی حلقوںمیں قیاس آرائیوں کا مستقل موضوع بنا ہوا ہے۔ وہ لندن میں اپنے علان کے اڑتالیس دنوں بعد رواں ماہ 9 جولائی کو وطن واپس پہنچے تھے۔ اور دس روز گزرنے کے باوجود وہ تاحال دارالحکومت کارخ نہیں کررہے۔ اگرچہ سرکاری ذرائع یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف تمام حکومتی امور لاہور میں بیٹھ احسن طریقے سےچلارہے ہیں مگر جب بھی اُن کی اسلام آباد آمد سے متعلق سوال اُٹھایا جاتا ہے تو فوراً ہی اُن کی صحت سے متعلق جواز جوائیاں کی جانے لگتی ہیں۔ اسی ماحول میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت بھی گورنر ہاؤس میں کی تھی۔

انتہائی باخبر حلقوں میں یہ باتیں گردش کررہی ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف خود کو تب تک وزیراعظم ہاؤس سے دوررکھنا چاہتے ہیں جب تک اُن کے عسکری حلقوں سے متنازع معاملات طے نہیں ہوجاتے۔ وجود ڈاٹ کام کو ایک اہم ذریعے نے یہ بھی بتایا ہے کہ نوازشریف کو گزشتہ ہفتے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کا رخ فوراً سے پیشتر کریں تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو سکے۔ مگر وزیراعظم نوازشریف نے اس مشورے کا قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیراعظم حزب اختلاف کے اگلے سیاسی اقدامات کو ناپ تول کر یہ اندازا لگانا چاہتے ہیں کہ یہ کتنے نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں؟ اور اُنہیں کن حلقوں کی طرف سے کتنی معاونت حاصل ہو گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں وزیراعظم نوازشریف نے ایک اہم سویلین ادارے کے سربراہ سے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اور وہ اس معاملے میں سنگین نوعیت کے خدشات میں مبتلا ہیں۔ شریف خاندان کے اندرونی حلقوں تک رسائی رکھنے والے کچھ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اپنے چند اہم رفقاء سے اس امر پر بھی مشورہ کیا تھا کہ اگر وہ پاناما لیکس کے معاملے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے تمام مطالبات کو جوں کا توں تسلیم کرلیں تو عدالت سے یہ معاملہ کتنا موافق بنایا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم نوازشریف تاحال پیپلزپارٹی کے حلقوں سے اتنے خائف نہیں جتنے وہ تحریک انصاف کی اگلی مہم سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اب اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے کسی دھرنے کافیصلہ ماضی کے دھرنے کے برعکس “انگلی والی سرکار” کی طرف سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تقویت پائے گا۔ اور وہ اُن کے قابو سے باہر بھی ہو سکتاہے۔

اس پورے تناظر میں ایک اہم ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں وزیراعظم نوازشریف اسلام آباد کے بجائے اپنی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر ڈاکٹروں کے مشورے پر ایک مرتبہ پھر لندن کا رخ کرسکتے ہیں۔ اگر وزیراعظم کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا تو یہ ممکنہ طور پر بعض حلقوں کے لیے ناقابل قبول بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وزیراعظم اگر اب لند ن کسی بھی وجہ سے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ لازمی طورپر ماہ اگست کے ابتدائی دو ہفتے وہیں گزارنا چاہیں گے جو پاکستان کے اندر عسکری امور کے حوالے سے بعض فیصلوں کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس طرح وہ خود کو پاکستان کے اندر رہتے ہوئے جس ممکنہ دباؤ کا سامنا کرسکتے ہیں، اُس سے دورکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وزیراعظم کی طرف سے اب اس فیصلے کو نہایت اہمیت حاصل ہو گی کہ وہ آئندہ دنوںمیں کب اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ یاپھر وہ دارالحکومت سے گریز کرتے ہوئے لندن میں کب جاتے ہیں؟ اگر وزیراعظم لندن جانے کے بجائے اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بہت سی قیاس آرائیوں کے خاتمے کا سببب بنے گا۔ مگر اس پہلو پر بعض حلقے تب بھی غور کرتے ہوئے ملیں گے کہ وزیراعظم نوازشریف نے یہ فیصلہ پس پردہ کسی یقین دہانی کے بعد کیا ہے یا پھر وہ تنازعات کا سامنا کرنے کےفیصلے بعد یہ ہمت دکھا رہے ہیں؟


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر