وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ترکی میں فوجی بغاوتوں کا مستقبل: کب کیا ہوا؟

هفته 16 جولائی 2016 ترکی میں فوجی بغاوتوں کا مستقبل: کب کیا ہوا؟

turky
ترک آئین میں فوج کو ملکی سلامتی کا محافظ قرار دینے کے باعث ملک میں فوجی بغاوتوں کے محرکات جنم لیتے رہے۔ ترک فوج نے مختلف مواقع پر بغاوت کر کے جمہوریت کو تہس نہس کیا۔ گزشتہ دس برسوں میں ترکی کی اردوان حکومت کی معاشی کامیابیوں کے باعث مسلح افواج کا کردار رفتہ رفتہ پس منظر میں چلا گیا۔ مگر مسلح افواج کو ترکی میں روایتی طور پرایک مضبوط سیاسی قوت اور اتاترک کی جمہوریہ کے محافظ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ اس تناظر میں فوج نے اپنے تئیں خود کانصب العین جمہوریت، سیکولرازم اور اتاترک کی اصلاحات کی حفاظت بنا لیا۔مسلح افواج نے اس چھتری تلے تین مرتبہ حکومتوں کے تختے اُلٹے۔ ترکی تاریخ میں 1960، 1980 اور 1997 میں ہونے والی فوجی بغاوتیں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ فوج نے 1960 میں وزیراعظم عدنان میندریس کی اصلاحات کے خلاف بغاوت کی۔ جنہوں نے اسلام کے خلاف ملک میں موجودبیجا پابندیوں کو ہٹایا اور سیکولرازم کی ایک الگ تشریح کرنے کی کوشش کی۔ فوج نے وزیراعظم عدنان میندریس کا نہ صرف تختہ اُلٹ دیا بلکہ اُنہیں تختہ دار پر بھی لے گئی۔ ترکی میں 1970 کا عشرہ بدترین سیاسی بحرانوں کا باعث بنا رہا،جس میں مخلوط حکومتیں امن وامان قائم رکھنے میں مکمل ناکام رہیں۔ چنانچہ ستمبر 1980 میں فوج نے آگے بڑھ کر ایک مرتبہ پھر اقتدار سنبھال لیا۔ اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ بعدازاں اُن میں سے کئی افراد کو سزائے موت بھی دے دی گئی۔
ترکی نے 1982 میں نیے آئین کا چہرہ دیکھا۔ اور فوجی سربراہ کی جگہ طورغوت اوزال نے 1989 میں صدارت کا منصب سنبھال لیا۔ اُنہوں نے ترک معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیااور عالمی برادری میں ترکی کے لیے ایک نیامقام پیدا کیا۔ مگر زندگی نے اُن سے وفا نہیں کی اوروہ 1993 میں وفات پاگئے۔ تب وزیراعظم سلیمان ڈیمرل مئی 1993 میں صدر منتخب ہوگئے۔ جون 1993 میں سابق وزیرمعیشت تانسو چیلر سلیمان ڈیمرل کی جگہ راہ حق پارٹی کی صدر منتخب ہو گئیں اور ساتھ ہی ترکی کی تاریخ کی پہلی وزیراعظم بن گئیں۔یہاں تک کہ اسلام پسند رفاہ پارٹی 1995 کے انتخابات میں پہلی بار انتخابی قوت بن کر اُبھری اور اسلامی نقطہ نظر رکھنے والے نجم الدین اربکان ترکی کے وزیراعظم بن گئے۔ مگر رفاہ پارٹی کے اسلام پسند نظریات کے خلاف قومی سلامتی کونسل نے مزاحمت شروع کی۔ یہاں تک کہ نجم الدین اربکان کو جون 1997 میں اربکان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اور اُنہیں عمر بھر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا فائدہ بلند ایجوت کی بائیں بازو کی جماعت کو ہوا اور اُنہوں نے پہلے مادر وطن پارٹی اور بعدازاں راہ حق پارٹی کےساتھ اتحادی حکومت بنائی۔
18 اپریل 1999 کو ہونے والے قومی اور بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جمہوری بائیں پارٹی، مادر وطن پارٹی اور دیولت باہ چلی کی قوم پرست ایکشن پارٹی کے اتحاد نے حکومت بنائی جس میں بلند ایجوت بدستور وزیراعظم رہے۔ جبکہ ترکی کی آئینی عدالت (سپریم کورٹ) کے سابق سربراہ احمد نجدت سیزر کو 5 مئی 2000کو ترکی کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ اُنہوں نے 16 مئی کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا۔ بلند ایجوت کی خرابی صحت کے باوجود اُنہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا جس پر مئی 2002 میں وزیراعظم کی اپنی جمہوری بائیں پارٹی کے 60 ارکان اسمبلی، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ سمیت کئی وزراء نے بھی استعفے دے دیے۔ان استعفوں کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی دونوں جماعتوں اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کی طرف سے دباؤ کے نتیجے میں ترک پارلیمان کو مقررہ وقت سے 18 ماہ قبل 3 نومبر 2002ء کو نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
بالاخر رفاہ پارٹی کے بعد اُن سے نکلنے والے ایک دھڑے عدالت وترقی پارٹی نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ اور اس نے 2002 اور 2007 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اب تک یہ جماعت ایک حکمران جماعت کے طور پر زبردست معاشی کامیابیوں کے باعث زبردست عوامی پزیرائی حاصل کر چکی ہے۔
واضح رہے کہ فوجی بغاوتوں میں 1980 کی بغاوت ترکی میں سب سے خطرناک ثابت ہوئی تھی۔ 12 ستمبر1980 کی کے فوجی انقلاب کے بعد ساڑھے چھ لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور تقریباً پچاس افراد کو فوراً پھانسی دے دی گئی تھی۔ مذکورہ بغاوت کے بعدجو آئین تشکیل دیا گیا تھا، اُس میں فوجی بغاوت کے ذمہ داروں کو ہر قسم کی تعزیری کارروائی سے تحفظ دے دیا گیا تھا۔ مگر اسلام پسند اے کے پی جماعت کی تحریک پر ایک ریفرنڈم سے عوامی حمایت لے کر فوجی بغاوت کے ذمہ داروں کو حاصل عدالتی تحفظ ختم کردیا گیا۔ اور فوجی بغاوت کے دو قائدین جنرل چیف آف جنرل اسٹاف کنعان ایورین اور ترک فضائیہ کے سربراہ تحسین شاہین کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ اپریل 2010 میں جب یہ مقدمات چلائے گئے تو اُن کی عمریں اسی برس سے زائد تھیں۔ انہیں سزائیں دے کر اپیلوں میں معافی دے دی گئی تھیں۔
ترکی کے اس تاریخی پس منظر میں اب ایک فوجی ٹولے نے مقبول اور منتخب صدر رجب طیب اردوان کے خلاف ایک ناکام فوجی بغاوت کی ہے۔ اس بغاوت کے بعد ایک مرتبہ پھر ترکی میں فوجی شب خون کے پائے جانے والے جذبات عریاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ اگر چہ رجب طیب اردوان کی مقبولیت نے اس فوجی بغاوت کی ناکامی میں زبردست کردار اداکیا ہے، مگر یہ بات بآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ فوج کے اندر بغاوت کے جذبات کو تحریک دینے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان