وجود

... loading ...

وجود

والدین کا لاڈلا برہان، قوم کا لاڈلا کیسے بنا؟

منگل 12 جولائی 2016 والدین کا لاڈلا برہان، قوم کا لاڈلا کیسے بنا؟

burhan-wani

حزب کمانڈر بر ہان مظفر وانی19ستمبر1994ء کوڈاڈہ سرہ ترال مقبوضہ کشمیرمیں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد مظفر وانی ایک ماہر تعلیم ہیں اور سرکاری ہائر سیکنڈری میں پرنسپل کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی والدہ پوسٹ گریجویٹ ہیں اور اور ان کے دادا جی ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ کے عہدے پر فائض رہے ہیں۔ پورے علا قے میں اس خاندان کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ لیکن کیا کریں، “غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی” کی ضرب المثل کے مصداق، بھارتی فورسز کی نظروں میں جو سلوک عام لوگوں کے ساتھ روا رکھا جاتا رہا، اس علمی اور با اثر خاندان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا رہا۔ نعیم اور عادل نامی ان کے دو قریبی رشتہ دار 90ء کی دہائی میں ہی بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید کیے جا چکے تھے۔ خانہ تلاشیوں کی آڑ میں، اس گھر اور اس خاندان کے باسیوں کی عزت نفس اسی طرح مجروح ہوتی رہی جس طرح ڈاڈہ سرہ کی بستی کے اور لوگوں کا ہوتی رہی۔ صبر اور عزیمت کا پہاڑ بن کے یہ خاندان سب کچھ سہتا رہا۔ انہی سنگین اور پر آشوب حالات میں برہان نے جنم لیا، وہ جوں جوں زندگی کی منازل طے کرتا رہا، اسکول جاتا رہا لیکن ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنے خاندان کے ساتھ، بھارتی فورسز اور ریاستی پولیس ٹاسک فورس کا ظالمانہ اور جا برانہ سلوک بھی دیکھتا رہا۔

برہان حزب الجاہدین جموں کشمیر کے نائب امیر سیف اللہ خالد سے بہت متاثر تھے اور دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا راستہ، سیف اللہ کا راستہ ہے۔ واضح رہے کہ حزب نائب امیر سیف اللہ خالد کے اپنے دو بیٹے اور ایک بھائی اس تحریک کی نذر ہوچکے ہیں لیکن ان کے پایۂ استقامت میں کبھی معمولی لرزش بھی نہ آئی

برہان وانی شاید کچھ مزید وقت کے لیے یہ برداشت کرجاتا، لیکن 2010میں اس نے اپنے سامنے اپنے بھائی کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں پٹتا اور اسے خون میں لت پت بیہوش پڑا دیکھا۔ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ بھارت کی غلامی کے خلاف نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا اور اس نے اسی وقت مجاہدین آزادی کی صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ “شیر کی ایک دن کی زندگی” کے تصور نے اسے آزادی کے مدھر اور سریلے گیتوں سے آشنا کیا۔ اس کی عمر اس وقت صرف 15سال کی تھی۔ اس کے قریبی دوستوں اور اسا تذہ کا کہنا ہے کہ وہ حزب الجاہدین جموں کشمیر کے نا ئب امیر سیف اللہ خالد سے بہت متاثر تھے۔ اور دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا راستہ، سیف اللہ کا راستہ ہے۔ واضح رہے کہ حزب نائب امیر سیف اللہ خالد کے اپنے دو بیٹے اور ایک بھائی اس تحریک کی نذر ہوچکے ہیں لیکن ان کے پایۂ استقامت میں کبھی معمولی لرزش بھی نہ آئی۔

تاریخ گواہ ہے کہ نوگیارہ کی آڑ میں پرویز مشرف نے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے یو ٹرن لیا اور اس کے نتیجے میں بھارتی حوصلوں کو ایک جلا ملی اور مجاہدین کشمیرعملاً کمزور ہوئے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی عسکری ماہرین نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ریاست میں عسکریت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور کشمیری قوم نے بھارت کے ساتھ جینے پر اب سمجھوتہ کیا ہے۔ لیکن برہان مظفر وانی کے ریاست کی مقامی تنظیم حزب المجاہدین میں داخلے کے بعد یہ تصور آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ اس شیر دل بچے میں قائدانہ صلاحتیں بد رجہ اتم موجود تھیں۔ اس نے پہلے ہی مرحلے پر اپنے لئے کوئی فرضی نام یا کوڈ نام رکھنا، منا سب نہ سمجھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پولیس ٹاسک فورس کے اہلکاروں سے ہتھیار چھین کر، اسی ہتھیار کو بھارتی فورسز کے خلاف استعمال کرنے کا ہنر سیکھا۔ سوشل میڈیا کے لیے ایک منظم ٹیم تشکیل دی اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی خدا داد صلاحیتوں کے نتیجے میں، بالائی نظم کے حکم پر، قیادت کی ذمہ داری سنبھالی۔

سوشل میڈیا پر اس نے پوری کشمیری قوم کو اپنی تنظیم کی طرف متوجہ کیا اور یہ احساس دلایا کہ کسی کے سہارے جینے کے بجائے، اللہ پر توکل کرکے، اس تحریک کو آگے بڑھایا جانا ممکن ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں سینکڑوں جوان حزب کی صفوں میں داخل ہوئے۔ کل تک جو عسکریت کے صفایا ہونے کی بات کررہے تھے، ان کو برہان نے جھوٹا ثابت کیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ برہان نہ صرف مجاہدین کشمیر کا لاڈلا قائد بنا بلکہ کشمیری عوام میں بھی کا فی مقبول ہوا، اتنی مقبولیت شاید 47ء سے آج کی تاریخ تک کسی کے حصے میں نہیں آئی۔

برہان نے حزب المجاہدین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور حزب نائب سربراہ سیف اللہ خالد کے بقول شہادت سے صرف 20 دن پہلے اس نے اپنے قائدین سید صلاح الدین اور ان تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ کشمیری قوم نہ جھکے گی اور نہ بکے گی ان شاء اللہ یہ ضرور آزاد ہوگی۔ تاہم اپنے حوالے سے اس نے یہ با ت بھی کہی تھی، کہ جتنی صلاحیتیں اللہ نے اسے دی ہیں، نبھانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ دونوں بزرگ استقامت کی اور سعادت کی زندگی کے ساتھ شہادت کی موت کی دعا فر مائیں۔

پھر 9جولائی 2016ء جمعہ کو انہیں شہادت کا مقام ملا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پوری کشمیری قوم اپنے اس جواں سال ہیرو کے لیے گھروں سے باہر نکل آئی ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی،اور ریاست کے چپے چپے پر ہزاروں مرتبہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ لاکھوں لوگ جن میں بچے،خواتین، بزرگ اور جوان بھارتی فورسز اور بھارتی قبضے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ 32 لوگ اب تک شہید ہوچکے ہیں، زخمیوں کی تعداد 500 کا ہند سہ عبور کرچکی ہے۔ پورا بھارت ہل چکا ہے، کٹھ پتلی محبوبہ مودی حکومت مفلوج ہوچکی ہے۔ ایک برہان کی شہادت ہزاروں برہانوں کو جنم دے چکی ہے اور بھارتی پالیسی سازوں کو اب شاید نو شتہ دیوار پڑھنا چا ئیے کیونکہ جہاں ان کی فورسز ایک برہان کا مقابلہ نہیں کرسکیں وہاں ہزاروں برہانوں کا مقابلہ وہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ تاہم معروف بھارتی انسانی حقوق کے کارکن گوتم نو لکھا کے مطابق بھارتی حکومت خون کی پیاسی ہے۔ انہیں کشمیری نہیں، کشمیری زمین چا ہیے۔ اگر واقعی اسی فلا سفی پر عمل ہوتا رہا تو یقینا آنے والے دن مزید خوفناک ہونگے، لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ظلم ظلم ہے، بڑھ جاتا تو مٹ جا تا ہے۔ برہان کی شہادت اس ظلم کے خاتمے کی پہلی کڑی ہے۔

muzaffar-wani-father-burhan-wani


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر