وجود

... loading ...

وجود

والدین کا لاڈلا برہان، قوم کا لاڈلا کیسے بنا؟

منگل 12 جولائی 2016 والدین کا لاڈلا برہان، قوم کا لاڈلا کیسے بنا؟

burhan-wani

حزب کمانڈر بر ہان مظفر وانی19ستمبر1994ء کوڈاڈہ سرہ ترال مقبوضہ کشمیرمیں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد مظفر وانی ایک ماہر تعلیم ہیں اور سرکاری ہائر سیکنڈری میں پرنسپل کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی والدہ پوسٹ گریجویٹ ہیں اور اور ان کے دادا جی ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ کے عہدے پر فائض رہے ہیں۔ پورے علا قے میں اس خاندان کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ لیکن کیا کریں، “غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی” کی ضرب المثل کے مصداق، بھارتی فورسز کی نظروں میں جو سلوک عام لوگوں کے ساتھ روا رکھا جاتا رہا، اس علمی اور با اثر خاندان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا رہا۔ نعیم اور عادل نامی ان کے دو قریبی رشتہ دار 90ء کی دہائی میں ہی بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید کیے جا چکے تھے۔ خانہ تلاشیوں کی آڑ میں، اس گھر اور اس خاندان کے باسیوں کی عزت نفس اسی طرح مجروح ہوتی رہی جس طرح ڈاڈہ سرہ کی بستی کے اور لوگوں کا ہوتی رہی۔ صبر اور عزیمت کا پہاڑ بن کے یہ خاندان سب کچھ سہتا رہا۔ انہی سنگین اور پر آشوب حالات میں برہان نے جنم لیا، وہ جوں جوں زندگی کی منازل طے کرتا رہا، اسکول جاتا رہا لیکن ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنے خاندان کے ساتھ، بھارتی فورسز اور ریاستی پولیس ٹاسک فورس کا ظالمانہ اور جا برانہ سلوک بھی دیکھتا رہا۔

برہان حزب الجاہدین جموں کشمیر کے نائب امیر سیف اللہ خالد سے بہت متاثر تھے اور دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا راستہ، سیف اللہ کا راستہ ہے۔ واضح رہے کہ حزب نائب امیر سیف اللہ خالد کے اپنے دو بیٹے اور ایک بھائی اس تحریک کی نذر ہوچکے ہیں لیکن ان کے پایۂ استقامت میں کبھی معمولی لرزش بھی نہ آئی

برہان وانی شاید کچھ مزید وقت کے لیے یہ برداشت کرجاتا، لیکن 2010میں اس نے اپنے سامنے اپنے بھائی کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں پٹتا اور اسے خون میں لت پت بیہوش پڑا دیکھا۔ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ بھارت کی غلامی کے خلاف نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا اور اس نے اسی وقت مجاہدین آزادی کی صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ “شیر کی ایک دن کی زندگی” کے تصور نے اسے آزادی کے مدھر اور سریلے گیتوں سے آشنا کیا۔ اس کی عمر اس وقت صرف 15سال کی تھی۔ اس کے قریبی دوستوں اور اسا تذہ کا کہنا ہے کہ وہ حزب الجاہدین جموں کشمیر کے نا ئب امیر سیف اللہ خالد سے بہت متاثر تھے۔ اور دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا راستہ، سیف اللہ کا راستہ ہے۔ واضح رہے کہ حزب نائب امیر سیف اللہ خالد کے اپنے دو بیٹے اور ایک بھائی اس تحریک کی نذر ہوچکے ہیں لیکن ان کے پایۂ استقامت میں کبھی معمولی لرزش بھی نہ آئی۔

تاریخ گواہ ہے کہ نوگیارہ کی آڑ میں پرویز مشرف نے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے یو ٹرن لیا اور اس کے نتیجے میں بھارتی حوصلوں کو ایک جلا ملی اور مجاہدین کشمیرعملاً کمزور ہوئے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی عسکری ماہرین نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ریاست میں عسکریت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور کشمیری قوم نے بھارت کے ساتھ جینے پر اب سمجھوتہ کیا ہے۔ لیکن برہان مظفر وانی کے ریاست کی مقامی تنظیم حزب المجاہدین میں داخلے کے بعد یہ تصور آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ اس شیر دل بچے میں قائدانہ صلاحتیں بد رجہ اتم موجود تھیں۔ اس نے پہلے ہی مرحلے پر اپنے لئے کوئی فرضی نام یا کوڈ نام رکھنا، منا سب نہ سمجھا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پولیس ٹاسک فورس کے اہلکاروں سے ہتھیار چھین کر، اسی ہتھیار کو بھارتی فورسز کے خلاف استعمال کرنے کا ہنر سیکھا۔ سوشل میڈیا کے لیے ایک منظم ٹیم تشکیل دی اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی خدا داد صلاحیتوں کے نتیجے میں، بالائی نظم کے حکم پر، قیادت کی ذمہ داری سنبھالی۔

سوشل میڈیا پر اس نے پوری کشمیری قوم کو اپنی تنظیم کی طرف متوجہ کیا اور یہ احساس دلایا کہ کسی کے سہارے جینے کے بجائے، اللہ پر توکل کرکے، اس تحریک کو آگے بڑھایا جانا ممکن ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں سینکڑوں جوان حزب کی صفوں میں داخل ہوئے۔ کل تک جو عسکریت کے صفایا ہونے کی بات کررہے تھے، ان کو برہان نے جھوٹا ثابت کیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ برہان نہ صرف مجاہدین کشمیر کا لاڈلا قائد بنا بلکہ کشمیری عوام میں بھی کا فی مقبول ہوا، اتنی مقبولیت شاید 47ء سے آج کی تاریخ تک کسی کے حصے میں نہیں آئی۔

برہان نے حزب المجاہدین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور حزب نائب سربراہ سیف اللہ خالد کے بقول شہادت سے صرف 20 دن پہلے اس نے اپنے قائدین سید صلاح الدین اور ان تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ کشمیری قوم نہ جھکے گی اور نہ بکے گی ان شاء اللہ یہ ضرور آزاد ہوگی۔ تاہم اپنے حوالے سے اس نے یہ با ت بھی کہی تھی، کہ جتنی صلاحیتیں اللہ نے اسے دی ہیں، نبھانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ دونوں بزرگ استقامت کی اور سعادت کی زندگی کے ساتھ شہادت کی موت کی دعا فر مائیں۔

پھر 9جولائی 2016ء جمعہ کو انہیں شہادت کا مقام ملا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پوری کشمیری قوم اپنے اس جواں سال ہیرو کے لیے گھروں سے باہر نکل آئی ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی،اور ریاست کے چپے چپے پر ہزاروں مرتبہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ لاکھوں لوگ جن میں بچے،خواتین، بزرگ اور جوان بھارتی فورسز اور بھارتی قبضے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ 32 لوگ اب تک شہید ہوچکے ہیں، زخمیوں کی تعداد 500 کا ہند سہ عبور کرچکی ہے۔ پورا بھارت ہل چکا ہے، کٹھ پتلی محبوبہ مودی حکومت مفلوج ہوچکی ہے۔ ایک برہان کی شہادت ہزاروں برہانوں کو جنم دے چکی ہے اور بھارتی پالیسی سازوں کو اب شاید نو شتہ دیوار پڑھنا چا ئیے کیونکہ جہاں ان کی فورسز ایک برہان کا مقابلہ نہیں کرسکیں وہاں ہزاروں برہانوں کا مقابلہ وہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ تاہم معروف بھارتی انسانی حقوق کے کارکن گوتم نو لکھا کے مطابق بھارتی حکومت خون کی پیاسی ہے۔ انہیں کشمیری نہیں، کشمیری زمین چا ہیے۔ اگر واقعی اسی فلا سفی پر عمل ہوتا رہا تو یقینا آنے والے دن مزید خوفناک ہونگے، لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ظلم ظلم ہے، بڑھ جاتا تو مٹ جا تا ہے۔ برہان کی شہادت اس ظلم کے خاتمے کی پہلی کڑی ہے۔

muzaffar-wani-father-burhan-wani


متعلقہ خبریں


ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

مضامین
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر