... loading ...

بنگلہ دیشی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات کے بعد اب ملک میں سنجیدہ نوعیت کے خطرات سر اُٹھانے لگے ہیں۔ بدقسمتی سے ریاستی پالیسیوں کے اندر ملکی حالات کی خرابی ڈھونڈنے کا کوئی رجحان جدید ریاستوں کے تجربے نے باقی نہیں رہنے دیا۔ اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات ریاستی پروپیگنڈے کے دباؤ میں تعبیر پاتے رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اب دہشت گردی ایک سنجیدہ خطرے کے روپ میں سامنے آرہی ہے۔ اور اس کے تمام اسباب دراصل بھارت کے زیراثر موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کی اُن پالیسیوں میں ہیں جو وہ تاریخ کا دھارا موڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ریاست کی پوری ہیئت کو بدلنے کے لیے کررہی ہے۔ جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی عظیم اکثریت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھارتی معاونت سے بنگلہ دیشی حکومت کے جبر کے جواب میں ایک جوابی خوف کا ماحول پیدا کرے۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے ریسٹورنٹ پر حملے نے خطرے کی یہی گھنٹی بجائی ہے۔
بنگلہ دیش کے سفارتی علاقے میں موجود ریسٹورنٹ پر حملے میں 20 غیر ملکیوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے ہلاک کیا گیا ہے۔ اب بنگلہ دیشی فوج کے بریگیڈیئر جنرل نعیم اشرف چوہدری نےبھی ذرائع ابلاغ کو تصدیق کر دی ہے کہ اُنہوں نے بیس افراد کی لاشیں برآمد کیں، جنہیں بے دردی سے تیز دھار آلے کی مدد سے قتل کیا گیا۔ اُنہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد غیر ملکی ہیں، تاہم برگیڈئیر نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اُن غیر ملکیوں کی قومیت بتانے سے گریز کیا۔
بنگلہ دیشی فوج کیفے کا محاصرہ توڑنے اور یرغمال افراد کو رہا کرانے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ یرغمال تیرہ افراد کی رہائی خود دہشت گردوں کی وجہ سے ممکن ہوئی یا اُنہیں کسی آپریشن کے نتیجے میں بازیاب کرایاگیا۔ دہشت گردوں کی طرف سے اپنی مرضی سے کیفے کو ایک لمبے وقت تک مقبوضہ بنائے رکھنے اور اپنی ہی مرضی سے بیس غیر ملکیوں کو چن چن کر قتل کرنے سے یہ واضح ہورہا ہے کہ اُنہیں کسی خاص قسم کی شناخت کے حامل افراد کی تلاش تھی اور اُنہوں نے صرف اُنہیں ہی نقصان پہنچایا۔ ہو سکتا ہے کہ بازیاب ہونے والے ایک جاپانی اور دو سری لنکن سمیت دیگر تیرہ افراد دہشت گردوں کی ترجیح نہ رہے ہوں۔ بنگلہ دیش کی سفاک وزیراعظم حسینہ واجد نے ٹیلی ویژن پر اڑتی ہوائیوں کے ساتھ یہ اعلان تو کردیا کہ پولیس آپریشن میں چھ حملہ آور بھی مارے گئے اور ایک گرفتار بھی ہو گیا۔ مگر درحقیقت یہ اپنی نوعیت میں ایک ایسا ہی آپریشن لگتا ہے جس میں حملہ آور اپنی جان کی بازی ہی لگانے آتے ہیں۔ اس لیے اسے کامیابی باور کرانا کوئی درحقیقت کامیابی قرار نہیں دی جاسکتی۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں سب سے پرخطر علاقے میں سب سے پرامن سمجھے جانے والے علاقے میں حملہ آوروں نے ریسٹورنٹ پر کئی گھنٹوں پر محیط دھاوا بولنے اور متعدد افراد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد اپنی مرضی سے آپریشن کے اختتام کا وقت بھی خود ہی منتخب کیا۔ بنگلہ دیش کے حالات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بنگلہ دیش کے لیے آئندہ دنوں میں مزید خطرات کی گھنٹی بجارہا ہے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...