... loading ...

برطانیہ کے عوام نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں رائے دی ہے، اس عمل کو ‘بریگزٹ’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے یورپ اور دنیا پر بہت گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟ سب سے پہلے تو یہ واضح کرلیں کہ برطانیہ فوری طور پر یورپی یونین نہیں چھوڑ سکا بلکہ یہ ایک طویل عمل کا آغاز ہے جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ کم از کم مزید دو سال تک برطانیہ یورپی یونین کا رکن رہے گا لیکن چند فیصلے بہت جلد ہونے والے ہیں، جیسا کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے عہد کا خاتمہ۔
10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ حکومت عوامی رائے کا احترام کرے گی۔ گو کہ برطانیہ کو درست سمت میں گامزن رکھنے کے لیے عہدے پر برقرار رہنا ان کی ذمہ داری ہے لیکن وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ عہدہ چھوڑ دیں گے اور ستمبر کے اختتام تک نئے وزیر اعظم کا انتخاب متوقع ہے۔
فوری طور پر تو اثر یہ پڑا کہ لندن میں بازار حصص ایف ٹی ایس ای 100 انڈيکس میں 8 فیصد کمی آئی۔ بینکوں کے حصص کی قیمتیں 30 فیصد کم پوئیں۔ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت گرتے گرتے 31 سال کی کم ترین شرح پر پہنچ گئی۔
28 رکنی یورپی اتحاد کے تمام سربراہان مملکت نے برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اتحاد نہ توڑے لیکن نتیجہ ان کے حق میں نہیں آیا۔ اب یورپی یونین نے اگلے ہفتے برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس کی پیشن گوئی کرنا کچھ مشکل ہے۔ ایک برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان طویل اور مشکل مذاکرات ہوں گے، جن کے بارے میں ابھی کچھ نہیں معلوم کہ ان کا عمل کیا ہوگا۔ اس اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے میں ہی سالوں لگ سکتے ہیں۔
یورپی یونین کے لیے سب سے بڑا خطرہ برطانیہ کے بعد دیگر ممالک میں بھی ایسی ہی تحریکوں کو ہوا ملنا ہے۔ برطانیہ میں اکثریت حاصل کرکے اپنے حق میں رائے لینے کے بعد اب فرانس اور نیدرلینڈز جیسے ممالک میں مقبول تحاریک جنم لے سکتی ہیں جو یورپی یونین سے اخراج کے لیے ریفرنڈم کروا سکتی ہیں۔
یورپی رہنماؤں چند معاملات میں برطانیہ سے یقین دہانی چاہیں گے، جن میں سب سے اہم یورپی یونین کے ان 29 لاکھ شہریوں کا ہے جو برطانیہ میں مقیم ہیں۔ یورپی یونین چاہے گا کہ ان شہریوں کو بے دخل نہ کیا جائے۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ 2009ء کے لزبن معاہدے کی شق 50 کے تحت یورپی یونین سے اخراج کا باقاعدہ قانونی عمل شروع کرنے کا کام نئے وزیر اعظم کریں گے۔ شق 50 لاگو ہنے کے بعد کوئی بھی ملک اس وقت تک یورپی یونین میں واپس نہیں آ سکتا جب تک کہ تمام رکن ریاستیں اس کے حق میں رائے نہ دیں۔
لیکن یورپی یونین چھوڑنا ایک خودکار عمل نہیں ہے، اس کے لیے باقی اراکین سے مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ جب دو سال کے اندر مذاکرات مکمل ہو جائیں گے تب بھی یورپی پارلیمان کے پاس ویٹو کا اختیار ہوگا کہ وہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کے حوالے سے نئے معاہدے کو مسترد کردے۔
برطانیہ میں یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ شق 50 کو فوری طور پر لاگو کرنے کی ضرورت نہیں، پہلے یورپی یونین کی دیگر ریاستوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ اہم معاملات پر گفتگو ہو سکے اور نظام الاوقات تیار کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ “دوستانہ” تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں۔
اب انحصار اس بات پر ہے کہ وزیر اعظم شق 50 کا اطلاق کب کرتے ہیں، جس کے بعد برسلز میں اخراج کی شرائط اور برطانیہ اوریورپی یونین کے تعلقات کی سطح پر کام شروع ہوگا۔
برطانیہ کی پارلیمان کے 650 اراکین کی اکثریت یورپی یونین میں برقرار رہنے کے حق میں تھی لیکن اب انہیں عوامی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ برطانیہ کے لیے مذاکرات کون کرے گا؟ ڈیوڈ کیمرون، چانسلر جارج اوسبرن، وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ اور وزیر داخلہ تھریسا مے سمیت حکومت کے اہم سینئر ترین عہدیداران یورپی یونین میں برقرار رہنے کے حق میں تھے۔ ان میں سے چند تو وزیر اعظم کے ساتھ ہی گھر جائیں گے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اگلے وزیر اعظم اس عمل کی سربراہی کریں گے۔ یہ بورس جانسن بھی ہو سکتے ہیں اور مائیکل گوو بھی۔ انہیں دو سال کی ڈیڈلائن گزرنے کے بعد برطانیہ کے اخراج بی شرائط اور یورپی یونین کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ بھی طے کرنا ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...