وجود

... loading ...

وجود
وجود

معروف قوال امجد صابری قاتلانہ حملے میں جاں بحق، قانون نافذ کرنے والے ادارے تنقید کی زد میں

جمعرات 23 جون 2016 معروف قوال امجد صابری قاتلانہ حملے میں جاں بحق، قانون نافذ کرنے والے ادارے تنقید کی زد میں

amjad-sabri

کراچی کے مشہور ترین علاقے لیاقت آباد میں فائرنگ کےایک دل دہلادینے والے واقعے میں معروف قوال امجد صابری ہلاک ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امجد صابری اپنے ساتھی کے ہمراہ گاڑی میں جارہے تھے، کہ اسی دوران لیاقت آباد نمبر 10 کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔فائرنگ کے واقعے کے بعد امجد صابری کے پاس موقع پر پولیس کے پہنچنے میں کافی وقت لگا، عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے بعد اگلے دس سے پندرہ منٹ تک امجد صابری کی سانسیں چل رہی تھیں۔ مگر اُنہیں کوئی طبی امداد نہیں دی جاسکی۔ امجد صابری کی موقع پر بنائی گئی ویڈیو سے بھی ظاہر ہے کہ تماش بینوں کو اُنہیں اسپتال پہنچانے سے زیادہ اُن کی ویڈیو بنانے میں دلچسپی تھی۔ فائرنگ کے نتیجے امجد صابری موقع پر دس سے پندرہ منٹوں تک سانس لیتے رہنے کے بعدبآلاخر دم توڑ گئے۔ عباسی شہید ہسپتال کے ہیلتھ سروسز کے سینئر ڈائریکٹر نے امجد صابری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امجد صابری ہسپتال پہنچنے سے قبل ہلاک ہوچکے تھے۔ان کے ساتھ گاڑی میں موجود سلیم صابری کےزخمی ہونے کے متعلق ذرائع ابلاغ میں آخر تک متضاد اطلاعات گردش کرتی رہیں۔

طریقہ واردات

امجد صابری پر حملے میں کچھ پہلو نئے اور طریقہ واردات میں مختلف لگتے ہیں ۔ اس ضمن میں اولین پہلو امجد صابری پر استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے۔ کرا چی میں گزشتہ چند برسوں میں عام طور پر نائن ایم ایم کی پستول استعمال ہوتی رہی ہے ۔ مگر ایک طویل عرصے کے بعد 30 بور کی پستول استعمال ہوئی ہے جسے عرف عام میں ٹی ٹی پستول کہتے ہیں۔ کراچی میں چند برس قبل تو یہ پستول استعما ل کی جاتی تھی مگر اب طویل عرصے سے ٹارگٹ کلنگ میں یہ ہتھیار استعمال نہیں ہورہا تھا۔

امجد صابری کو ہلاک کرنے والے گروہ نے ایک مختلف انداز سے سوچتے ہوئے جائے واردات بھی انتہائی معنی خیز چُنی ہے۔ لیاقت آباد کا یہ علاقہ عام طور پر متحدہ قومی موومنٹ کی متشددانہ حمایت کے اعتبار سے مشہور رہا ہے۔ عام طور پر کسی کو ہدف بنانے کے لیےایسے گنجان علاقے کو چننا انتہائی خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ پھر یہ علاقہ اس اعتبار سے زیادہ خطرناک بن جاتا ہے جب ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کر لیا جائے جو دن کا ہو۔ دوپہر یا سہ پہر کا وقت دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے عام طور پر کم کم منتخب کیا جاتا ہے۔ مگر اس سے قبل منصف اعلی سندھ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغوا اور اب امجد صابری کے اہدافی قتل میں مجرم وقت کے انتخاب میں بھی کچھ زیادہ دیدہ دلیری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ اب تک کے طریقہ واردات میں مجرموں کے ذہن سے مختلف نوعیت کے پہلو ہیں جو منصوبہ بندی میں مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

امجد صابری کی ہلاکت کے بعد اب تک پولیس کی تفتیش میں کوئی خاص چیز نمایاں نہیں ہوسکی۔ تاہم جائے واردات کے حوالے سے پولیس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ جائے وقوعہ سے 30 بور کی 5 گولیوں کے خول ملے ہیں اور ملزمان فائرنگ کے بعد حسن اسکوائر کی جانب فرار ہو ئے تھے۔ گویا فائرنگ کرنے والے لیاقت آباد کے علاقوں میں چھپنے کے لیے گم نہیں ہوئے بلکہ وہ لیاقت آباد کے علاقے سے باہر نکلے ہیں۔ کیا یہ پہلو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ اہدافی قاتل لیاقت آباد کے علاقے سے باہر سے آئے تھے؟

امجد صابری کو ملنے والی دھمکیاں

سندھ سنسر بورڈ کے چیئرمین فخرعالم نے انکشاف کیا کہ امجد صابری کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے سیکیورٹی کے لیے درخواست بھی دی تھی مگر صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی اقدام نہیں لیا گیا۔اس ضمن میں ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی انتہائی سنسنی خیز موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امجد صابری ایم کیوایم کے کارکنوں کی طرح تھے اور اُنہوں نے خود ڈاکٹر فاروق ستار کو یہ بتایا تھا کہ اُنہیں دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اس ضمن کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ منکشف کیا گیا کہ ایم کیوایم کے اندر سے نئی وجود میں آنے والی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی طرف سے امجد صابری کو متعدد بار اُن کی جماعت کے پروگراموں میں پرفارمنس کے لیے درخواست کی جاتی رہی مگر وہ اس سے اجتناب کرتے رہے۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں نے اس سے یہ تاثر اُبھارنے کی کوشش کی کہ امجد صابری کو اس کے بعد دھمکیاں ملنے کا آغاز ہوا۔ الزامات کی حد تک پاکستان میں سیاسی جماعتیں کسی بھی حد سے آگے نکل جاتی ہیں۔ مگر یہ پہلو کراچی میں قیام امن کی سنجیدہ کوشش کرنے والے اداروں کے لیے انتہائی خطرناک حالات کی افزائش کی خبر دیتا ہے۔

اس ضمن میں ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح کسی بھی واردات کے بعد ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ محسود نے امجد صابری پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔


متعلقہ خبریں


شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی، ذرائع وجود - منگل 25 جنوری 2022

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ سامنے آگئی جس کے مطابق شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ روزقبل وزیراعظم نے شہزاد اکبر سے عدالتوں میں مقدمات کی تفصیلات مانگیں، شہزاد اکبر نے جو تفصیلات وزیراعظم کو دیں وہ نامکمل تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ اور دستاویزات میں واضح فرق تھا، وزیراعظم کو بتائی گئی مقدمات کی ٹائم لائنز میں بھی فرق تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدم...

شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی، ذرائع

نیب،ایف آئی اے کی نیشنل انشورنس کمپنی کے افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز وجود - منگل 25 جنوری 2022

نیب، ایف آئی اے، وزارت خزانہ، وزارت کامرس، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ایکشن میں آتے ہی نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) افسران میں کھلبلی مچ گئی۔ اپنی مبینہ غیر قانونی تقرریوں، بھرتیوں، ترقیوں، بد عنوانیوں، خلاف ضابطہ اقدامات جیسے ایشوز پر پردہ ڈالنے اور تحقیقات سے بچاؤ کے لیے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ این آئی سی ایل کے اندرونی ذرائع کے مطابق نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین نے ادارے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں، غیر قانونی اعلیٰ سطحی بھرتیوں، خلاف ضابطہ من پس...

نیب،ایف آئی اے کی نیشنل انشورنس کمپنی کے افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود - منگل 25 جنوری 2022

سعودی عرب میں طلاق کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ سامنے آیا ہے، سعودی عرب میں ہر گھنٹے طلاق کے سات واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے بتایا کہ 2022 میں، طلاق کے کیسز میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ملک میں ہر گھنٹے 7 طلاقیں ہو رہی ہیں۔ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2020 کے آخری چند مہینوں میں 57 ہزار 500 سے زیادہ طلاق کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جو 2019 کے مقابلے میں 12 اعشاریہ 7 فیصد زیادہ ہیں۔ جنرل اتھارٹی برائے شماریات ...

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

برطانوی وزیراعظم کا سابق مسلمان وزیر کی جانب سے مذہبی تعصب کی شکایت پر تحقیقات کا حکم وجود - منگل 25 جنوری 2022

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے مسلمان جونئیر وزیر نصرت غنی کی جانب سے اسلام سے تعصب کی بنا پر نوکری سے فارغ کئے جانے کے الزامات کی تحقیقات کاحکم دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ برطانوی صدر نے کابینہ کو نصرت غنی کے الزامات پر تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ برطانوی وزیر اعظم نے جولائی 2020 میں نصرت غنی سے ملاقات میں ان الزامات کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ڈائوننگ سٹریٹ ...

برطانوی وزیراعظم کا سابق مسلمان وزیر کی جانب سے مذہبی تعصب کی شکایت پر تحقیقات کا حکم

حکومت کا نوازشریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ وجود - پیر 24 جنوری 2022

اٹارنی جنرل آفس نے نواز شریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خط میں لاہور ہائیکورٹ میں دی گئی گارنٹی کا حوالہ دیا جائے گا اور شہبازشریف کو لاہور ہائیکورٹ میں دیئے گئے بیان حلفی پر عمل درآمد کی تلقین کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق شہبازشریف کو بیان حلفی پر عملدرآمد کے لیے مخصوص وقت بھی دیا جائے گا اور عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کا انتباہ کیا جائے گا۔

حکومت کا نوازشریف کی واپسی کا بیان حلفی دینے پر شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیدیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا۔ پیر کو ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیے جانے کی تصدیق کی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو بھیج دیا ہے اور امید ہے عمران خان کی زیر قیادت احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر نے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے البتہ ان کے مشیر برائے داخلہ کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں۔ ذرائع کے مطابق 18 جنوری کو کابی...

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیدیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا گیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 24جنوری کوتعلیم کے عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے،اقوام متحدہ کے مطابق صوبہ سندھ میں 52 فیصد بچے جن میں سے 58 فیصد لڑکیاں ہیں، تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں جبکہ پاکستان میں اسکول جانے سے محروم بچوں کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 3 دسمبر 2018 کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت ہر سال 24 جنوری کا دن تعلیم سے منسوب کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق کی شق نمبر 26 کے تحت علم حاصل کرنے کو ہر انس...

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا گیا

حیسکول پیٹرولیم کمپنی کی 54 ارب روپے سے زائدمنی لانڈرنگ کا انکشاف وجود - پیر 24 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حیسکول پیٹرولیم کمپنی کی 54 ارب روپے سے زیادہ منی لانڈرنگ کا انکشاف کیا ہے۔ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق حیسکول میں منی لانڈرنگ اور مالیاتی فراڈ پر 30 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، یہ مقدمہ، بینک ڈیفالٹ،مالیاتی فراڈ،منی لانڈرنگ کی انکوائری میں شواہد سامنے آنے پر درج کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے میں قومی بینک کے دو سابق صدور اور حاضر افسران کو شامل کیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے تاہم دیگر کی گرفتاری کیلئے چ...

حیسکول پیٹرولیم کمپنی کی 54 ارب روپے سے زائدمنی لانڈرنگ کا انکشاف

ہنڈااورکِیا کمپنی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

وفاقی حکومت کی جانب سے گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی) 2.5 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد تک کیے جانے کے بعد کِیا لکی موٹرز اور ہنڈا نے اپنی متعدد گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ہنڈا کے ایک ڈیلر نے بتایاکہ ہنڈا گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 21 جنوری سے ہوچکا ہے۔ نئی قیمتوں کا طلاق 21 جنوری سے پہلے کیے گئے تمام جزوی اور مکمل ادائیگی کے آرڈرز پر بھی لاگو ہوگا جبکہ کِیا کمپنی نے نئی قیمتوں کا اطلاق 16 جنوری سے کردیا ہے۔ ہنڈا اور کِیا کمپنی نے قیمتوں میں کم ازکم 77 ہزار روپ...

ہنڈااورکِیا کمپنی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

کراچی میں یخ بستہ ہوائیں ، درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں آگیا وجود - پیر 24 جنوری 2022

شہر قائد میں یخ بستہ ہواؤں سے سردی کی شدت میں اضافے ہوگیا اور درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں آگیا، پیرکی صبح کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں رات گئے یخ بستہ ہوائوں سے موسم مزید سرد ہوگیا اور درجہ حرارت9 ڈگری تک گر گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سرد اور خشک ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں ، ہوا میں نمی کا تناسب 57 فیصد ہے جبکہ آٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران مطلع صاف اور رات میں موس...

کراچی میں یخ بستہ ہوائیں ، درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں آگیا

پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف وجود - پیر 24 جنوری 2022

پنجاب کی جیلوں میں قید ملزمان کا ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی نے ذروائع کے حوالے سے بتایاکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا قیدیوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 42 جیلوں میں ایڈز جیسے خطرناک مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 272 ہے۔ پنجاب کی تمام جیلوں میں ہیپاٹائٹس بی کے مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 137 جبکہ ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 517 ہے۔ اسی طرح شوگر اور دیگر امراض میں م...

پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف

پاکستان کی چین کو برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی وجود - پیر 24 جنوری 2022

2021 کے دوران پاکستان کی چین کو برآمدات کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز آف چائنہ (جی اے سی سی) کے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 27 ارب 82 کروڑ ڈالر رہا۔پاکستان نے 2021 کے دوران چین کو 3 ارب 58 کروڑ ڈالرز سے زائد کی اشیا برآمد کی ہیں جوکہ 2020 کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہے۔2020 کے دوران چین نے پاکستان سے 2 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد کی اشیا درآمد کی تھیں۔اعداد و شمار کے ...

پاکستان کی چین کو برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)