... loading ...

عطاء الحق قاسمی کے فرزند ارجمند یاسر پیر زادہ نے مدیر اعلیٰ وجود کو اپنے دھمکی آمیز فون میں یہ بھی پوچھا تھا کہ اُن کے پاس اس رپورٹ کا ثبوت کیا ہے؟ عام طور پر اس قسم کا سوال ایک بدعنوان طبیعت کے حامل شخص کی زبان سے جب نکلتا ہے ، تو مراد ثبوت کو سمجھنا یا جاننا نہیں بلکہ دوسرے کو دباؤ میں لینے کی متکبرانہ نفسیات ہوتی ہے۔ وگرنہ اس نوع کے سوال کے بعد تو ایک سنجیدہ گفتگو کا آغاز ہونا چاہیئے۔ مگر یاسر پیرزادہ نے “ذرا ہٹ کے ” رویہ اختیار کیا۔ اُنہوں نے کج بحثی کے ساتھ دھمکیاں دینا شروع کردی۔ وجود ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے اب اس پورے خاندان کی تاریخی بددیانتیوں کی سلسلہ وار داستان کو ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ یہ خاندان تاریخی طور پر کتنے بڑے جرائم کا حصہ دار رہا ہے۔
اہل قلم کانفرنس کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی کی جانب سے محکمہ خزانہ پنجاب سے نکلوائی گئی رقم کوئی افسانہ نہیں ایک حقیقت ہے مگر یہ رقم اہل قلم میں کتنی تقسیم ہوئی اس پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات ہیں۔ یہی سوالات محکمہ خزانہ پنجاب کے افسران نے بھی اپنے سرکاری کاغذوں میں بجا طور پر اُٹھائے ہیں۔ مگر وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی دستاویز ات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قاسمی خاندان نے محکمہ خزانہ پنجاب کے افسروں کو بھی اپنے بھاری بھرکم صحافتی حجم سے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی۔ جنہیں مذکورہ افسران نے سرکاری کاغذوں کا حصہ بنا کر اس خاندان کے کردار کی پوری وضاحت کردی ہے۔ ان کاغذات سے ثابت ہوتا ہے کہ یاسر پیرزادہ نے جو رویہ مدیر اعلیٰ وجود کے ساتھ اختیار کیا ، دراصل یہ رویہ وہ اس معاملے میں دوسروں کے ساتھ اختیار کرکے بھی اُنہیں ڈرا دھمکا چکے ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی کا مذہبی زاویہ بُن کر یاسر پیرزادہ نے ہزاروں صفحات کالے کیے ہیں۔ مگر یہ رویہ خود اُن کے اندر غیر مذہبی اقدار کی آب وتاب میں کیسے پروان چڑھا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اُن کے خاندان کی تین گزشتہ نسلوں کی نفسیات کو ٹٹول کر ہی ڈھونڈا جاسکے گا۔ یہاں تو صرف اتنا عرض ہے کہ
عطاء الحق قاسمی کی طرح پھکڑ پن نہیں بلکہ حقیقی ہجو اور طنز کے اُس عظیم رومن شاعر جوئینل کے الفاظ ان کے کردار کی حقیقت کو بے نقاب کردیتے ہیں کہ
“گناہ ، نیکی کے لباس میں بھی دھوکا دے سکتا ہے۔”
یاسر پیرزادہ کے والد محترم کا عرصہ دراز سے یہی شعار رہا ہے۔ اور اُس کے ثبوت کے طور پر لاہور میں بہت سے لوگوں کے حالات زندگی پر منفی طور پر اثرانداز ہونے والے عطاء الحق قاسمی کی بہت سے کہانیاں پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر آج صرف اہل قلم کانفرنس کے نام پر نکالی جانے والی رقم کا وہ مرثیہ پیش کیا جارہا ہے جو اس سے متعلقہ ایک سرکاری افسر نے اپنے ایک مراسلے میں تفصیل سے تحریر کیا ہے۔
محکمہ خزانہ حکو مت پنجاب کے ایڈیشنل سیکریٹری علی حسین ملک نے ایک مراسلہ 24 فروری 2014 ء کو تحریر کیا تھا۔ جس کا عنوان ہی “ہدایت برائے فراہمی رسید وصولی اعزازیہ ” تھا۔ یہ مراسلہ 23تا 25 نومبر 2013 میں منعقد ہونے والی چوتھی الحمرا عالمی ادبی وثقافتی کانفرنس کے حوالے سے رقوم کی تقسیم میں رسیدوں کی فراہمی کی ناکامی کے متعلق تھا۔ مراسلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عطاء الحق قاسمی حکومت پنجاب کے عطا کردہ دس کروڑ روپوں میں سے مبلغ چار کروڑ انتیس لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو کاحساب دینے میں مکمل ناکام ہو گئے تھے۔جس پر محکمے نے اُنہیں حساب فہمی کے لیے ایک خط لکھا ۔ مراسلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس پر عطاء الحق قاسمی نے بجائے حساب دینے کے ایک کالم لکھ کر احتجاج کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے اپنے ہمنواؤں سے بھی کالم لکھوائے۔ مذکورہ مراسلہ عطاء الحق قاسمی کے طریقہ واردات کی پوری وضاحت کرتا ہےکہ عطاء الحق قاسمی نے محکمے کی طرف سے حساب طلبی پر اُنہیں دباؤ میں لینے کے لیے وزیراعظم کو منت سماجت کرکے اپنے پرائیوٹ دفتر میں بلواکر اُس کی خبریں چھپوائیں۔ یہاں تک کہ متعلقہ افسر کو دھمکی دی گئی۔ اس دھمکی کے الفاظ مراسلے کے مطابق یہ تھے کہ “اگر تو میرے خلاف حرکتوں سے تائب نہ ہواتو عنقریب تیرا اکلوتا بیٹا تیرے نام کے ساتھ مرحوم لکھا کرے گا۔اور تیری خاطرسی ایس ایس کی افسری قربان کرنے والی تیری بیگم کو لوگ بیوہ کہنا شروع کردیں گے۔”
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محکمہ خزانہ کے جو افسر عطاء الحق قاسمی سے حساب مانگ رہے تھے، تو اس کا سیدھا سادہ طریقہ یہ تھا کہ وہ حساب دیتے۔ مگر اُنہوں نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ عطاء الحق قاسمی کے اس رویئے کی وضاحت خو دیاسر پیرزادہ کے ہی 28 فروری 2016 کو لکھے گئے ایک کالم کے مندرجہ ذیل ابتدائی چند فقروں سے ہوتی ہے جو اُنہوں نے “پاکستانیوں کی بحث کے فارمولے” کے عنوان سے لکھا تھا:
“ایک کسان کھیتوں میں ہل چلارہا تھا، قریب سے ایک شخص گزرا، اس نے نوٹ کیا کہ کسان کے ہل چلانے کی سمت سیدھی نہیں، سو اُس نے کسان کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ کھیت میں قطار سیدھی بنے، جواب میں کسان نے کہا “تم اپنا منہ بند رکھو، مجھے پتہ ہے پچھلے برس تمہاری ۔۔۔ کس کے ساتھ بھاگ گئی تھی!”
افسوس ناک طور پر عطاء الحق قاسمی سے پیسوں کا ہل سیدھا نہ چلانے پر جب اُنہیں حساب سیدھا رکھنے یا کرنے کا کہا گیا تو اُنہوں نے بدلے میں کسان والا ہی رویہ اختیار کرلیا۔ باپ تو باپ مگر بیٹے نے بھی باپ رے باپ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ۔ پوری قوم کے طریقہ بحث پر بحث کرنے والے یاسر پیرزادہ نے اپنے اور اپنے باپ کے انداز بحث کو ملاحظہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ یہاں یہ نکتہ زیر بحث نہیں کہ جو مثال یاسر پیرزادہ نے اپنے کالم میں پیش کی ہے ، اس کی وضاحت کے لیے اردو کے فصیح وبلیغ محاورے ، تاریخی حکایتیں اور زبردست قصے موجود ہیں۔ مگر آدمی اُن ہی مثالوں پر توجہ دیتا ہے جیسی اُس کی صحبت اور تربیت ہوتی ہے!!!!!!!

پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...
یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...
سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...
جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...
37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...