وجود

... loading ...

وجود

امریکا نے حملے سے پہلے اطلاع نہیں دی،ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے: چودھری نثار

بدھ 25 مئی 2016 امریکا نے حملے سے پہلے اطلاع نہیں دی،ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے: چودھری نثار

nisaaar

طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی مبینہ ہلاکت پر دو روز بعد پاکستان کی طرف سے پہلا ردِ عمل وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کی پریس کانفرنس کی صورت میں آیا ہے۔ جسے تجزیہ کاروں نے پاکستان کے سرکاری ردِ عمل سے زیادہ پاکستانی رائے عامہ کی تسلی کی نیم دلانہ کاوش قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے اپنی پریس بریفنگ میں ملا اختر منصور کی مبینہ ہلا کت کے حوالے سے فضا میں موجود کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ پہلے سے موجود سوالات میں اضافہ کردیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی دو روز گزرنے کے باوجود تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مکمل تفتیش کے بغیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ چودھری نثار نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کا یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کہ پاکستان کو حملے کی اطلاع پہلے دے دی گئی تھی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے دور افتادہ علاقے میں گاڑی میں سوار جن دو افراد کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے ایک کی شناخت ہوگئی جس کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ہے جب کہ حملے میں دوسرے شخص کی لاش مکمل طور پر جل چکی تھی جس کا چہرہ بھی ناقابل شناخت تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب واقعہ پیش آیا تو ایف سی سمیت دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار متاثرہ علاقے میں پہنچے لیکن وہاں سوائے مکمل طور پر جلی ہوئی لاشوں، تباہ شدہ گاڑی اور کچھ گز دور ایک پاسپورٹ کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملی۔ اس امر کی تفتیش جاری ہے کہ پاسپورٹ گاڑی سے نکلا یا پھر وہاں پھینکا گیا۔واضح رہے کہ یہ سوال پاکستان بھر کے ذرائع ابلاغ میں اُٹھایا جارہا ہے کہ ڈرون میں گاڑی کے مکمل جلنے اور لاشیں جھلسنے کے باوجود یہ کیسے ممکن ہوا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رہے۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ واقعہ کے سات گھنٹے بعد امریکا کی طرف سے پاکستان کو سرکاری طور پر اطلاع دی گئی کہ ملا منصور کو پاکستان میں نشانہ بنایا گیا اور وہ اس میں ہلاک ہوگئےہیں۔ امریکا کی اطلاع کے بعد ہماری ایجنسیوں نے تانے بانے ملانے کی کوشش کی، ایک شخص کی لاش کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا لیکن دوسرے شخص کی لاش کے بارے میں اس لیے تصدیق نہیں ہوسکی کیونکہ اس سے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ ملا منصور ہے اور وہ پاکستانی نہیں ہے، اس لیے کسی قسم کی سائنٹیفک تصدیق یا ڈی این اے کے بغیر پاکستانی حکومت اور اداروں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ ہم سرکاری طور پر اس خبر کی تصدیق کرسکتے اور یہ صورت اس وقت تک جاری ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی تصدیق کا ذریعہ آج پیدا ہوا ہے جب اس کے قریبی عزیز نے اس کی لاش افغانستان لے جانے کے لیے درخواست کی جس پر حکومت نے اس سے ڈی این اے ٹیسٹ کا کہا اور ٹیسٹ لے لیے گئے، لہٰذا جیسے ہی اس شخص کی تصدیق ہوتی ہے اس کے بارے میں واضح اعلان کردیا جائے گا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس ڈرون حملے کی سختی سے مذمت کرتی ہے، امریکا نے جو حملے کا جواز دنیا کے سامنے رکھا وہ غیر قانونی، بلاجواز، ناقابل قبول، پاکستان کی آزادی، خودمختاری کے منافی، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی مکمل نفی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام مسئلے میں پاکستان کا مؤقف واضح طور پر سامنے آئے گا، جب وزیراعظم پاکستان آئیں گے تو نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ رکھی جائے گی، جہاں اس سارے مسئلے پر مشاورت کے بعد ایک واضح نقطہ نظر قوم کے سامنے اور دنیا کے سامنے آئے گا، اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز، سیکیورٹی ایجنسیز، فوج اور عوام کا رد عمل ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس وقت تک تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ جو پاسپورٹ ملا ہے وہ شخص اس کو استعمال کررہا تھا، یہ معاملہ بھی زیر تفتیش ہے جس میں وقت لگے گا، اس قسم کے واقعات پر لوگ بھول جاتے ہیں کہ پچھلے ادوار میں کیا ہوا، یہ جو پاسپورٹ ملا ولی محمد کا تھا، اس شخص کا شناختی کارڈ 2005 کے بجائے 2001 میں بنا جو مینوئل تھا، 2002 میں نائن الیون کے بعد مشرف دور میں ولی محمد کا شناختی کارڈ کمپیوٹرائز ہوا، 2005 میں اس نے پہلی مرتبہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دی اور اسے پاسپورٹ مل گیا، 2012 میں پچھلے دور حکومت میں اس کا پاسپورٹ تازہ ہوا۔چوہدری نثار نے بتایا کہ واقعہ کے بعد فوری بعد 2001 کا ریکارڈ نکالنے کا کہا کہ کس نے اس شخص کے شناختی کارڈ کی تصدیق کی جس سے پتا چلا کہ لیویز کے رسالدار میجر اور اس کے دوسرے ساتھی نے اس کی تصدیق کی جنہیں کل پکڑا جاچکا ہے تاہم انہوں نے اس کی تصدیق سے انکار کردیا ہے، 2005 کے ریکارڈ میں تحصیل دار قلعہ عبداللہ نے اس کی تصدیق کی اور اوپر کی تصدیق ڈسٹرکٹ ایڈمن آفیسر قلعہ عبداللہ نے کی جس پر سیکریٹری داخلہ سے کہا کہ چیف سیکریٹری سے کہیں کہ انہیں بلا کر پوچھیں کہ تصدیق کیسے کی لیکن چیف نے سیکریٹری داخلہ سے کہا کہ اس پر کارروائی کا آغاز آپ کریں جس کے بعد ایف آئی اے کو فوری گرفتاری کی ہدایت دیں اور دوسرے ڈی سی کو بھی بلا کر تفتیش کا کہا ہے، اس شخص کا قلعہ عبداللہ میں کوئی ریکارڈ نہیں تو کیسے تصدیق کی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز کے ذرائع سے پچھلے سال اس شناختی کارڈ اور کچھ اور کارڈز کے بارے میں اطلاع دی گئی کہ یہ لوگ افغانی ہیں جس پر فوری طور پر ان لوگوں کا شناختی کارڈ پچھلے سال منسوخ کیے گیے، اس کے ساتھ ساتھ 24 ہزار دیگر شناختی کارڈ کو بھی منسوخ کیا گیا اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا گیا، جب تحقیق کی تو ان کا شناختی کارڈ تو منسوخ ہوگیا لیکن ان کے نام موجود پاسپورٹ منسوخ کرنے کے لیے نادرا نے نہیں بھیجا جب کہ ولی محمد کے پاسپورٹ کی مدت اکتوبر 2016 میں ختم ہورہی تھی۔ چودھری نثار نے نادرا میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس میں جعلی کام اور کرپشن ہوتی ہے، کچھ بہتری آئی ہے لیکن مانتا ہوں کہ معاملات خراب ہیں، ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہو اہے، ملک میں صحیح کام کرنا مشکل اور غلط کرنا آسان ہے۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کا یہ کہنا بہت سنجیدہ ہےکہ جو کوئی امریکا کے لیے خطرہ ہے وہ جہاں بھی ہوگا اسےنشانہ بنائیں گے، یہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، اگر ہر ملک یہی قانون اپنا لے تو دنیا میں جنگل کا قانون ہو جائے گا، اگر امریکا کی بات مانی جائے تو یہ شخصیت بہت سارے ممالک میں گئی لیکن اسے صرف پاکستان میں کیوں نشانہ بنایا گیا، اگر یہ امریکا کے لیے خطرہ تھا تو ہر ملک میں خطر ہونا چاہیے تھا، امریکا کی یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ اسے صرف پاکستان میں ہی کیوں نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس شخص کے پاسپورٹ پر بحر ہند، ایران اور دبئی کے بھی ویزے لگے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بہت سارے لوگ جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں وہ مغرب میں رہتے ہیں ان کی وجہ سے بلوچستان میں دھماکے ہوتے ہیں، ہماری ایجنسیز اور عام شہری قربانی دے رہے ہیں، ان کے تانے بانے ادھر ملتے ہیں لیکن وہ مغرب میں نشانہ نہیں بن رہے اور وہاں آزاد ہیں، وہ بارڈر کے پار ہیں لیکن پاکستان حملے نہیں کرتا، ہم افغانستان کی آزادی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ لوگ وہاں آرام سے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان کو ہماری ایجنسیز کی سپورٹ حاصل ہے، ضرب عضب سے پہلے میران شاہ میں نیٹ ورکس تھے مگر جب سے ضرب عضب ہوا ہے اور جہاں تک ہماری فورسز کی پہنچ ہے وہ علاقہ صاف ہوا ہے، اس سے بڑی اور مثال کیا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان کا سربراہ ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور کے ساتھ سفر کررہا تھا، اگر اسے پاکستانی ایجنسیز کی حمایت اور سپورٹ مہیا ہوتی تو کیا وہ اس طرح سفر کرتے اور ایک عام چیک پوسٹ سے پاکستان میں داخل ہوتے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کو صرف پاکستان اور اس کی سیکیورٹی ایجنسیز کو ٹارگٹ کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے اس کا جواب ہمیں چاہیے، یہ سیکیورٹی کونسل میں سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا یہ بھی فیصلہ کرلے کہ اس خطے میں کون سی پالیسی کارگر ہے اور اپنائی جارہی ہے، کہا جاتا ہےکہ ملا منصور کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے، آج سے ایک سال پہلے ہی خطے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ افغان طالبان اور حکومت نے آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کیے تب طالبان کو ملا منصور لیڈ کررہا تھا، مری مذاکرات پہلی مرتبہ ہوئے جس میں امریکا نے پاکستان کے کردار کو سراہا، اگر ملا منصور رکاوٹ ہوتا ہے تو مری مذاکرات کس طرح ہوتے؟

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن کے لیے ایک ہی راستہ مذاکرات ہے، اگر ملٹری آپشن ہوتا تو نائن الیون سے لے کر اب تک کامیابی ہوچکی ہوتی، امن کے لیے پاکستان اور افغانستان سے بڑے اسٹیک ہولڈر کوئی نہیں، ملا عمر کی وفات کی خبر لیک کرکے مذاکرات سبوتاژ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کسی کے زیر اثر نہیں اپنی مرضی کے مالک ہیں، وہ پاکستان کے بھی زیر اثر نہیں، مشکل ترین حالات میں پاکستان اپنے اثرورسوخ کے تحت انہیں مذاکرات کی میز پر لایا، اب ہم یہ توقع نہیں کرسکتے کہ آپ ان کے رہنما کو ٹارگٹ کریں اور کہیں آپ مذاکرات کی ٹیبل پر آئیں، یہ پاکستان کے لیے بہت مشکل صورتحال پیدا کی گئی ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے ہماری آزادی اور خودمختاری کے لیےبہت سنجیدہ مسئلہ ہے، پاکستان کی سرزمین کے کسی حصے پر اس قسم کی کارروائی کے پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر سنجیدہ اثرات پڑسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے ذرائع سے دیکھا ہے کہ ڈرون نے کہاں سے پاکستان کے اس علاقے میں فائر کیا، جو کچھ ہمیں اس سلسلے میں اطلاعات ملیں اس کے مطابق ڈرون باقاعدہ طور پر پاکستان کی حدود میں داخل نہیں ہوئے بلکہ کسی اور ملک سے بارڈر کے نزدیک گاڑی کو نشانہ بنایا تاہم کسی ملک کا نام نہیں لے سکتے کیونکہ اس کا علم نہیں لہٰذا کسی ڈورن نے ہماری فضائی اور زمینی حدود کو کراس نہیں کیا اور اس بارے میں تفتیش بھی جاری ہے۔

وفاق وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکا کا یہ دعویٰ سر اسر غلط ہے کہ پاکستان کو ڈرون حملے سے پہلے اطلاع دی گئی کیونکہ اس قسم کی کوئی بھی اطلاع ہمیں نہیں دی گئی، امریکا نے کسی وقت بھی ہم سے ڈورن اٹیک کا شیئر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اورفوج یکجا ہیں کہ ڈرون حملے پاکستان کی آزادی و خودمختاری کو پامال کرتے ہیں۔

اگر چہ چودھری نثار نے کچھ امور پر ٹھوس موقف اختیار کیا مگر اس کے باوجود اُن کی پریس بریفنگ میں مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح روڈ میپ نہیں ملتا۔ وفاقی وزیرداخلہ کی پریس بریفنگ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پاکستان اس ضمن میں امریکا کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنے والا ہے؟ اس طرح یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ اگر بلوچستان میں ڈرون متعین جگہوں سے نہیں آئے تو پھر یہ کہاں سے آیا؟وزیرداخلہ نے اس حوالے سے نام لینے سے گریز کیا ، مگر اشارہ بالکل واضح تھا کہ پاکستان اس امر پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ کہیں بلوچستان میں ملا اختر منصور یا ولی محمد کو ایران کی سرزمین سے تو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس نے نہایت نازک سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ جو خطے میں پاکستان کے مکمل گھیراؤ کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے اس خطرناک صورتِ حال پر جو سوالات موجود ہیں، اُن میں سےکسی کا جواب بھی چودھری نثار کی پریس بریفنگ سے نہیں مل سکا۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر