... loading ...

پاکستان میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس میں سرمایہ لوٹنے والا سرمائے کا محافظ بن جاتا ہوں۔ جہانگیر صدیقی پاکستان میں بدعنوانیوں کی ایک بدترین مثال ہے مگر وہ 23 اور 24 مئی کولندن میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس کے میزبان بن گیے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کانفرنس میں اُن کے شریک میزبانوں میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نام بھی شامل ہے ۔ جس کے سرمایہ کاروں کے سرمائے کو منظم طور پر ڈبونے اور ہڑپنے کے لیے جہانگیر صدیقی نے 2006 سے 2008 تک ایک ایسا جال بچھایا تھا کہ جس میں اچھے خاصےسرمایہ کار پھنس کا اپنی جمع پونجیاں گنوا بیٹھے تھےاور آج تک سنبھل نہیں سکے۔ ان سرمایہ کاروں نے جہانگیر صدیقی کے خلاف مختلف مقدمات قائم کررکھے ہیں مگر کراچی اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ اپنے چھوٹے سرمایہ کاروں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے جہانگیر صدیقی کے ساتھ سرمایہ کاری کانفرنس میں شریک میزبان بن گیا ہے۔اس طرح کراچی اسٹاک ایکسچینج نے بھی دودھ پر بلّے کی رکھوالی قبول کر لی ہے۔
واضح رہے کہ جہانگیر صدیقی ان دونوں پاکستان آنے کی زحمت گوارا نہیں کررہے۔اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک اہم وجہ اوائل اپریل میں جہانگیر صدیقی کے فرنٹ مین عمران شیخ کی پراسرار حراست بھی شامل ہے۔ جہانگیر صدیقی کے تمام گندے کاموں کے نگران عمران شیخ پانچ دنوں تک زیرحراست رہا، اُس نے اپنے سنسنی خیز انکشافات میں جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں کے پورے طریقہ واردات کو کھل کر بیان کیا تھا۔ جس میں انسائید ٹریڈنگ ، ٹیکس فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مختلف اسکینڈلز کے سنسنی خیز حقائق کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان حقائق پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جہانگیر صدیقی کے قریبی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں آسکتے ہیں ۔ ان ہی خدشات کے باعث عمران شیخ کی رہائی کے فوراً بعد وہ تو ملک سے باہر چلا ہی گیا مگر خود جہانگیر صدیقی نے بھی ملک کے اندر آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
جہانگیر صدیقی کےحوالے سے یہ بھی واضح رہے کہ نیب نے منی لانڈرنگ کے جو الزامات ڈاکٹر عاصم حسین پر عائد کیے ہیں ، اُن میں جہانگیر صدیقی کا نام بھی ایک شریک ملزم کے طور پر سامنے آیا تھا۔ مگر نیب نے پراسرار وجوہات کی بنا ء پر ابھی اس ضمن میں کوئی کارروائی شروع نہیں کی۔اس ضمن میں چیئرمین نیب کے جہانگیر صدیقی کے قریبی رشتے دار سے قریبی تعلقات کو بھی ایک وجہ قراردیا جارہا ہے۔ مگر اس ضمن کے بنیادی حقائق نیب کی تفتیش کے بعد کاغذات کا حصہ بن چکے ہیں۔ جس سے جان چھڑانا خود چیئرمین نیب کے لیے بھی ممکن نہیں ہوگا۔
اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ جہانگیر صدیقی پاکستان میں سرمایہ لوٹنے والوں میں شامل ایک بدعنوان کے طور پر مختلف مقدمات کا سامنا کررہے ہیں اور کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ذمہ داران جہانگیر صدیقی کی طرف سے منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس کا ہی حصہ بن کر اپنے اوپر شکوک میں اضافہ کررہے ہیں۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ذمہ داران اچھی طرح جانتے ہیں کہ جہانگیر صدیقی کے جے ایس گروپ نے ایک خطرناک منصوبے کے ذریعے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا چونا لگایا تھا۔اس منصوبے کے مختلف حصوں میں سے ایک کے تحت 2006ء سے 2008ء کے دوران گروپ کے اداروں کی حصص کی قیمتیں اچانک بڑھادی گئی تھیں تاکہ جے ایس سی ایل کی خالص اثاثہ جات کی ویلیو کے بارے میں ایک مصنوعی تاثر قائم ہو اور پھر حصص کو گرا کر جعلی قیمتوں سے بڑے پیمانے پر دونوں ہاتھوں سے منافع لوٹا گیا تھا۔اسی طرح مختلف ماتحت اداروں اور ایسوسی ایٹس کے حصص کی قیمتیں بھی اسی طرح کی سازشوں کے ذریعے بڑھائی گئیں تاکہ مصنوعی تاثر دیا جا سکے۔ اس کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حقوق کے ساتھ ساتھ حصص بھی جاری کیے اور ان سرمایہ کاروں کو بڑا نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ایس ای سی پی نے ڈاکٹر عاصم حسین اورسابق وزیر خزانہ نوید قمر کے اثر و رسوخ تلے دب کے تب اُنہیں غیر قانونی استثنا دیئے تھے۔ ایس ای سی پی نے جے ایس گروپ کے ان اقدامات کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ بھی دائر کیا تھا، جس میں منی لانڈرنگ اور کالعدم گروہوں کی مبینہ سرمایہ کاری کے آثار بھی پائے گیے تھے۔ رپورٹ نے خانانی اینڈ کالیا منی ایکسچینج کے ساتھ متعدد ملزمان کے روابط کا بھی انکشاف موجود تھا۔ ان روابط کی چھان بین ایسے حالات میں اور زیادہ ضروری ہو جاتی ہے جبکہ امریکا نے خود خانانی اینڈ کالیا پر پابندی عائد کردی ہے۔ اور دوسری طرف ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف نیب کے دائر کردہ ریفرنس میں منی لانڈرنگ کے اُن ہی ادوار کو لیا جارہا ہے جب ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ جہانگیر صدیقی بھی گردن گردن منی لانڈرنگ میں دھنسے ہوئے تھے۔ ایس ای سی پی کی تب ہونے والی تحقیقات سے اندازہ ہوا تھا کہ تب سرمایہ مارکیٹ کو کریش کرکے کم وبیش 150 ارب روپے کا فراڈ کیا گیا تھا۔ مگر آج تک اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا کہ فراڈ کی یہ رقم کہاں گئی؟ باخبر ذرائع کے مطابق یہ ساری رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھیج دی گئی تھی۔ جس میں ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ جہانگیر صدیقی ایک مرکزی کھلاڑی تھے۔
واضح رہے کہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی رکھنے والوں میں جہانگیر صدیقی کے بیٹے علی صدیقی کا نام بھی آیا ہے۔اور جہانگیر صدیقی کو ملک سے باہر غیر قانونی طور پر سرمایہ لے جانے والوں میں اولین مشکوک شخص کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ مگر وہی شخص لندن میں سرمایہ کاری کانفرنس کا میزبان ہے۔ اور جس کراچی اسٹاک ایکسچینج میں جہانگیر صدیقی نے سرمایہ لوٹنے کا مکروہ کھیل کھیلا تھا ، اُسی کی انتظامیہ لندن کانفرنس میں اُ س کی شریک میزبان بن گئی ہے۔ سرمائے کی آنکھ میں ویسے بھی حیا نہیں ہوتی۔ مگر بے حیاؤں کے ہاں بھی کوئی تو شرم ہوتی ہے،کوئی تو حیا ہوتی ہے!!!!!
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...