... loading ...

پاناما لیکس کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر جنگ گروپ او ر جیو نے اپنی متعصبانہ صحافت کی قے کی۔ ایک طرف جنگ نوازشریف خاندان پر پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے پید اہونے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے نام بار بار شائع کررہا تھا۔ تو دوسری طرف وہ کچھ نام پر اخفا کا پردہ بھی ڈال رہا تھا ۔ جن میں میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کے صاحبزادے علی صدیقی کا نام بھی شامل ہے۔
پاناما لیکس کی حالیہ جاری ہونے والی فہرست میں جو نیے نام سامنے آئے تھے، اُن میں توقع کے عین مطابق علی صدیقی کا نام بھی شامل تھا۔ مگر یہ پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا ۔ لہذا اس کی اہمیت خبری حوالے سے ترجیحی تھی، بہ نسبت اُن ناموں کے جن کے نام پہلی فہرست میں بھی آچکے تھے اور نئی فہرست میں کمپنیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے ساتھ دوبارہ آرہے تھے۔ جن میں علیم خان کا نام شامل تھا۔ تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے کسی بھی دوسرے شخص سے ممتاز ہوکر اپنی جائیدادیں آگے بڑھ کر نہ صرف تسلیم کر لی تھیں۔ بلکہ یہ پیشکش بھی کردی تھی کہ وہ اپنی جائیدادیں فروخت کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ایسی صورت میں وہ ایک اور طرح کی خبر بن گیے تھےجو ولولہ انگیز طور پر ملک کے اُن افراد کے لیے ترغیب کا باعث بن سکتے تھے جو اپنی جائیدادیں ملک سے باہر رکھتے ہیں۔ اس صورت میں چاہیے تویہ تھا کہ جنگ اور دی نیوز اس پیشکش کو نواز شریف کے خاندان کے لیے ایک سوال بنا کر پیش کرتا کہ وہ شریف خاندان کے ساتھ جائیدادیں فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں اور یہ پیسہ ملک میں لاناچاہتے ہیں۔ نوازشریف تو ایک مہم کے طور پر اپنی تقاریر میں یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستانی اپنا پیسہ ملک میں لائیں تو اُنہیں آگے بڑھ کر اس پیشکش کو فوراً قبول کرنا چاہیئے تھا ۔ اور جنگ گروپ کو اپنی صحافت کے ہنر اس مید ان میں آزمانے چاہئے تھے۔ مگر جنگ گروپ اور جیو نے اسے شریف خاندان پر دباؤ کم کرنے کے لیے استعمال کیا اور بار بار علیم خان کا نام دہرایا۔ جبکہ علی صدیقی کا نام ایک بار بھی نہیں لیا۔ اور خود میر شکیل الرحمان کانام نئی فہرست میں ہونے کے باوجود اس کا ذکر نہیں کیا۔
یہ درست ہے کہ پاناما لیکس کی رپورٹ میں ایسے 12 لاکھ 14 ہزار سے زائد اداروں کی معلومات شامل ہیں، جن کا دوسو ممالک میں 14 ہزار سے زائد کلائنٹس سے تعلق ہے۔ابتدا میں ان ناموں پر آئی سی آئی جے سے وابستہ صحافیوں کی رسائی مکمل طور پر تھیں۔ پاکستان میں عمر چیمہ نامی صحافی دراصل اس ادارے سے وابستہ ہونے کے باعث اس مکمل ڈیٹا تک رسائی رکھتے تھے۔ یہ اُن کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان کو دو دوہاتھوں سے لوٹنے والے جہانگیر صدیقی کے خاندان کے نام کو نظر انداز نہ کرتے۔ مگر وہ چونکہ جنگ گروپ سے وابستہ ہیں۔ اور جہانگیر صدیقی میر شکیل الرحمان کے سمدھی ہیں ۔اس لیے وہ تقریباً پورے ہی ادارے کے رشتے دار بن گیے ہیں۔ چنانچہ علی صدیقی کے نام کو جانب دارنہ صحافت کی ایک بدترین مثال بنا کر نظر انداز کردیا گیا۔ کوئی بھی شخص اس لنک پر علی صدیقی کے نام کو بآسانی دیکھ سکتا تھا۔
مذکورہ بالا گراف میں علی صدیقی کے نام سے قائم آف شور کمپنی کا پتہ چلتا ہے۔ مگر ایک وسیع تر معلوماتی جنگل ہونے کے باعث اس نام سے متعلق دیگر معلومات تک زیادہ آسانی سے رسائی صرف عمر چیمہ کے لیے ممکن تھی۔ مگر اُنہوں نے خودکو اس زحمت سے بچائے رکھا۔ اُن کا یہ طرز عمل اس لئے بھی جانب دارانہ ہے کہ وہ جنگ اور دی نیوز کے اُس شعبے سے وابستہ ہے جو جہانگیر صدیقی کے حق میں اُن کے مخالفین کے خلاف بدترین مہم چلانے کا ذمہ دار رہا ہے۔
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...