وجود

... loading ...

وجود

امریکا کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے

هفته 30 اپریل 2016 امریکا کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے

unhappy-america

کیا امریکا کے خاتمے کا آغاز ہو چکا ہے؟ تمام بڑی طاقتیں بالآخر ختم ہو جاتی ہیں اور امریکا کو کوئی استثنا حاصل نہیں۔ اس عظیم طاقت کے زوال کے بارے میں لکھنے والے زیادہ تر افراد نے بیرونی خطروں کا ذکر کیا ہے اور بلاشبہ امریکا کو درپیش کئی خطرات میں سے ایک ہے۔ لیکن سب سے برا شگون وہ معاشرتی رویہ ہے جو امریکا کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔

چند حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ 67 فیصد امریکیوں کا سمجھنا ہے کہ ملک غلط راستے پر جا رہا ہے اور صرف 26 فیصد ایسے ہیں جو اسے درست سمت میں سمھجتے ہیں یعنی ایک بہت بڑی اکثریت سمجھتی ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔

معاشی مسائل ایک طرف کہ جہاں زمین کی تاریخ پر قرضوں کا سب سے بڑا پہاڑ امریکا پر ہے گزشتہ سال ملکی تاریخ میں پہلی بار مڈل کلاس اقلیت میں چلی گئی اور 47 فیصد امریکی کسی سے ادھار کرکے یا کوئی چیز بیچے بغیر 400 ڈالرز کا اچانک ہنگامی کمرہ بل تک نہیں دے سکے۔

لیکن یہاں موضوع معاشی و سیاسی یہاں تک کہ جسمانی بھی نہیں کہ امریکی دنیا کے سب سے زیادہ موٹے افراد ہیں۔ عنوان ہے امریکیوں کے اذہان و قلوب کے اندر کیا ہے۔ ذہنی، جسمانی و روحانی مسائل۔ معروف کتاب ‘دی ایکسٹنشن پروٹوکول’ کے لکھاری ایلون کونوے کئی سالوں سے عالمی سانحات کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک انٹرنیٹ سرچ گروپ کے مطابق موبائل سے انٹرنیٹ پر کی گئی ہر پانچویں تلاش ‘پورنوگرافی’ کے بارے میں ہے۔ غیر قانونی منشیات امریکا میں بنتی ہے، باہر سے آتی ہے اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ صرف امریکا میں ہی 15 ملین سے زیادہ افراد ادویات کا بطور نشہ استعمال کرتے ہیں، یہ تعداد کوکین، ہیروئن اور دیگر منشیات استعمال کرنے والوں سے بھی زیادہ ہے۔ اگر منشیات کے خلاف جنگ نہیں جیتی گئی تو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟ انہوں نے مزید لکھا کہ پیو فورم کے مطابق امریکا میں خود کو مذہبی کہلانے والے افراد کی تعداد بھی گھٹتی جا رہی ہے اور ملک لادین ہوتا جا رہا ہے۔ ریسرچ سینٹر نے پایا کہ بالغان (18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد) میں جو خود کو عیسائی سمجھتے ہیں، مذہبی ہونے کی شرح سات سالوں میں تقریباً 8 فیصد گری ہے۔ 2007ء میں یہ 78.4 فیصد تھی جو 2014ء میں 70.6 فیص رہ گئی ہے۔ اسی دوران کسی مذہب سے خود کو نہ جوڑنے والے امریکیوں کی تعداد جیسا کہ ملحدین، متشککین وغیرہ میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے جو 16.1 فیصد سے بڑھ کر 22.8 فیصد ہوگئے ہیں۔ کونوے آخر میں لکھتے ہيں کہ امریکا کا حال بالکل اس قدیم رومی سلطنت کے زوال سے قبل والا حال لگ رہا ہے۔

کوئی بھی ملک اپنے عوام سے مضبوط ہوتا ہے اور اس وقت امریکا بدترین حالت میں ہے۔ صحت شماریات کے حوالے سے قومی مرکز کے مطابق امریکا میں خودکشی کی شرح 30 سالوں کی بلندی ترین سطح پر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خاص طور پر 21 ویں صدی میں امریکا خودکشی کے رحجان میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ گزشتہ دہائی میں کساد بازاری، نشتے کی لت، بڑھاپے میں طلاق، سماجی تنہائی میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے یہاں تک کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بھی خودکشی کے رحجان میں اضافہ کرتا دکھائی دیا ہے۔ 1999ء سے 2014ء کے درمیان امریکا میں خودکشی کے رحجان میں 24 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کیا یہ ایک صحت مند قوم کی علامات ہیں؟

حالت تو یہ ہے کہ ملک میں 70 فیصد پادری تک ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ امریک یدنیا جہاں کی سہولیات ہونے کے باوجود انتہائی ناخوش اور ناشکری قوم ہیں جو اس کے علاج کے لیے ادویات کا رخ کرتی ہے۔ 59 فیصد بالغ امریکی کم از کم ایک ایسی نشہ آور دوا استعمال کرتے ہیں جبکہ کم از کم پانچ ایسی دوائیں استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی 15 فیصد ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک نشئی قوم بن چکی ہے۔

1987ء میں 61.1 فیصد امریکیوں نے کہا تھا کہ وہ کام کی جگہ پر خوش ہوتے ہیں، آج یہ 52.3 فیصد کہتے ہیں کہ وہ خوش نہیں ہیں۔ ایک اور سروے کے مطابق 70 فیصد امریکی کہتے ہیں کہ وہ کام کے دوران ذوق و شوق نہیں رکھتے اور نہ ہی اپنے کام سے متاثر ہیں۔ ذہنی تناؤ کے شکار امریکیوں کی تعداد سالانہ 20 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق 30 ملین امریکی ذہنی تناؤ کے خاتمے کے لیے ادویات استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر مڈل کلاس کی خواتین میں یہ ادویات استعمال کرنے کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔ 40 اور 50 کے پیٹے کی ہر چار میں سے ایک عورت یہ ادویات استعمال کرتی ہے۔ امریکا میں 60 ملین افراد ایسے ہیں جو حد سے زیادہ شراب پیتے ہیں اور 22 ملین ایسے ہیں جو غیر قانونی منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ امریکا میں غیر قانونی منشیات کے استعمال کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور ساتھ ہی طلاق کی شرح بھی۔ امریکا میں دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ ایسے گھرانے موجود ہیں جو صرف ایک فرد پر مشتمل ہیں۔ 100 سال قبل اوسط امریکی گھرانہ 4.52 افراد پر مشتمل تھا، آج یہ گھٹ کر صرف 2.59 تک آ چکا ہے۔

امریکی دنیا کی تنہا ترین قوم ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جس طرح رومیوں کو اندازہ نہیں تھا اسی طرح امریکیوں کو بھی نہیں ہے کہ وہ زوال کے کنارے پر کھڑے ہیں۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر