وجود

... loading ...

وجود

جہانگیر صدیقی نے قومی دولت پر اپنے گندے ہاتھ کیسے صاف کیے!تحقیقاتی ادارے جے ایس کی بدعنوانیوں پر خاموش!

پیر 25 اپریل 2016 جہانگیر صدیقی نے قومی دولت پر اپنے گندے ہاتھ کیسے صاف کیے!تحقیقاتی ادارے جے ایس کی بدعنوانیوں پر خاموش!

shahid and jahangeer

(گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نےتحریک انصاف کے جلسے سے قبل ایک عجیب وغریب منطق یہ اختیار کی کہ جن لوگوں پر ای او بی آئی میں خورد بُرد کے الزامات لگے وہ عمران خان کے جلسے کے اخراجات اُٹھاتے ہیں۔وزیراطلاعات یہ فراموش کر گیے کہ پاناما لیکس میں نوازشریف کے بچوں پر جو الزامات لگے ہیں اُس کی وضاحت سرکاری طور پر کیوں کی جارہی ہے؟ اور اس کے لیے عوامی پیسوں سے اشتہارات کیوں دیئے جارہے ہیں؟ وفاقی وزیراطلاعات یہ امر بھی فراموش کر گیے کہ خود اُن کی جماعت بھی اپنے اخراجات خود نہیں اُٹھاتیں ۔وہ جب حکومت میں ہوتی ہے تو اس کا بوجھ مختلف ہتھکنڈوں سے قومی خزانے پر اس طرح ڈالاجاتا ہے کہ جو افراد اس قسم کی سرگرمیوں کے اخراجات اُٹھاتے ہیں ، اُنہیں خاموشی سے مختلف ٹھیکوں سے نواز کر نوازشوں کا بدلہ اُتارا جاتا ہے۔ پرویز رشید یہ بھی بھول گیے کہ خود اُن کی جماعت مسلم لیگ نون بھی انتخابات میں پاکستان کے سرمایہ داروں اور کاروباری گروپوں سے رقوم اینٹھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے دورِ حکومت میں کچھ کاروباری گروپوں کی ننگی بدعنوانیوں کے منظر عام پر آنے کے باوجود اُن پر کہیں سے کوئی ہاتھ نہیں ڈالا جارہا ۔ جہانگیر صدیقی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ جن کے مختلف گندے کاموں کے نگران عمران شیخ نے گزشتہ دنوں ایک حساس ادارے کے زیرحراست یہ سنسنی خیز انکشافات کیے کہ کس طرح موجودہ نواز حکومت جہانگیر صدیقی کی پشتیبان ہے۔اب یہی عمران شیخ دبئی فرار ہو چکے ہیں ۔ جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں پر اُنہیں تحفظ فراہم کرنے والے خود نواشریف کے سیکریٹری فواد حسن فواد وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اسی شرمناک تحفظ کی چھتری تلے وہ نیب میں مختلف معاملات کی تحقیقات سے اپنا دامن بچاتے آرہے ہیں۔ اور سرکاری اداروں کو اپنے مقاصد کے تحت اُن لوگوں کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں جو اُن کی لوٹ مار میں رکاؤٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہانگیر صدیقی نے گزشتہ دنوں جبری چھٹی پر جانے والے ایف آئی اے کے بدنام زمانہ افسر شاہد حیات ، ایس ای سی پی کے طاہر محمود اور وزارت داخلہ و خزانہ کی حمایت سے کراچی کے کاروباری حلقوں کو ہراساں کرنے کے لیے ہر طرح کا اودھم مچانے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر کچھ نجی ہاتھوں میں سرکاری اداروں کے ایسے بہیمانہ اور مجرمانہ استعمال پر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اتنا ہی نہیں ، بلکہ جہانگیر صدیقی کی کھلی بدعنوانیوں پر کوئی ہاتھ تک ڈالنے کو تیار نہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اب فوجی افسران کی بدعنوانیوں پر بھی تحقیقات کرکے اُنہیں سزائیں دی جارہی ہیں، مگر جہانگیر صدیقی کےپاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ اُنہیں ہر طرح کی تحقیقات میں تحفظ مل جاتا ہے۔ وجود ڈاٹ کام جہانگیر صدیقی کے خلاف مختلف دستاویز ی ثبوتوں کی روشنی میں مرتب ایک تحقیقاتی رپورٹ کو قسط وار شائع کر رہا ہے۔ گزشتہ پانچ اقساط میں مختلف بیس نکات سے جہانگیر صدیقی کے مختلف کارباری معاملات میں موجود بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ یہ اس سلسلے کی چھٹی قسط ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ وجود ڈاٹ کام ایک مرتبہ پھر یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہاں شائع ہونے والے تمام مواد سے متعلق تمام دستاویز ی ثبوت ادارے کے پاس محفوظ ہیں ۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام کسی بھی قانونی فورم یا تفتیشی ادارے کو یہ ثبوت پیش کرنے کو تیار ہے۔ ادارہ قومی دولت کو لوٹنے والے ان بدعنوانوں کو بےنقاب کرنا اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ )

21 ۔ جے ایس کی غیر قانونی سرگرمیاں بی او پی، پکک اور پی این ایس سی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سےجے ایس نے جہاں بھی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا، بے جا فائدے اٹھائے اور سرکاری اداروں کو نقصان پہنچایا۔ اس کی کچھ تفصیلات ذیل میں دی جارہی ہے۔

ا) بینک آف پنجاب جعل سازی میں جے ایس کی شمولیت: جہانگیر صدیقی چودھری برادران اور ہمیش خان کے فرنٹ مین تھے اور جب عوام کا پیسہ لوٹا کھسوٹا گیا تو اس وقت یہ بینک آف پنجاب کے ڈائریکٹر تھے۔ جہانگیر صدیقی نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور بینک کے فنڈز کی جے ایس میوچوئل فنڈز اور جے ایس گروپ کے دیگر اداروں کے حصص میں سرمایہ کاری کی۔ بینک آف پنجاب کو جے ایس میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری پر 454 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ جے ایس گروپ کے اداروں کے حصص، ٹی ایف سیز، ترجیحی حصص اور میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری نے ایک بلبلہ تخلیق کرنے میں مدد دی جو بالآخر 2008ء میں پھٹ گیا اور ملک کی اسٹاک مارکیٹوں پر اثر انداز ہوا۔ مزید برآں، بینک آف پنجاب کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جہانگیر صدیقی کو قرض نادہندگان کی حقیقی حالت اور بینک آف پنجاب کے مالیاتی گوشوارے برائے 2007ء پر آڈیٹرز کے شرائط کا حقیقی اندازہ تھا اور سرمایہ کاروں کو حقیقی صورت حال کا علم ہونے سے پہلے انہوں نے اس کا غیر قانونی فائدہ اٹھا لیا۔

ب) آئی سی پی فنڈز حاصل کرنے کے لیے جے ایس کی جانب سے اندرونی معلومات کا استعمال

جے ایس ابامکو لمیٹڈ نے 2002ء میں نجکاری عمل کے ذریعے آئی سی پی لاٹ ‘اے’ کے انتظامی حقوق حاصل کیے، جو 12 کلوزڈ اینڈ فنڈز پر مشتمل تھے۔ اتفاق ہے کہ اس سے قبل انوسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (آغی سی پی) کی جانب سے منظم کردہ 12 کلوزڈ اینڈ فنڈز کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جہاں پہلی لاٹ ابامکو نے حاصل کی جبکہ باقی پکک (PICIC) نے۔ ہم حیران ہی ہو سکتے ہیں کہ اگر جہانگیر صدیقی اس وقت پکک کے بورڈ میں خدمات انجام نہ دے رہے ہوتے، کہ جہاں نیلامی کے عمل پر گفتگو اور حتمی فیصلہ کیا گیا تھا، تو ابامکو لمیٹڈ نجکاری کمیشن کی جانب سے پیش کردہ آئی سی پی لاٹ ‘اے’ حاصل بھی کرپاتا یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہانگیر صدیقی کی جانب سے اندرونی معلومات کا غلط استعمال اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابامکو آئی سی پی لاٹ ‘اے’ کے لیے بڑی بولی لگانے والا ادارہ بنا جبکہ پکک دوسرے نمبر پر آیا۔

ج) پی این ایس سی جعل سازی: جہانگیر صدیقی نے خواجہ خسرو اور کمال افسر جیسے فرنٹ مینوں کے ساتھ 1991ء سے 2009ء تک پی این ایس سی میں اہم عہدہ حاصل کیا۔ جےایس نے 2009ء اور 2010ء میں جے ایس بینک کے پاس 400 ملین روپے کے ٹی ڈی آر رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا حالانکہ اس سے بہترین ریٹرن شرح اور کریڈٹ ریٹنگ رکھنے والے بینک موجود تھے۔ جے ایس اور خواجہ خسرو بحری جہازوں کی خریداری میں اربوں روپے کے گھپلے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر احتساب عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

د) کے ای ایس سی گھپلا: جہانگیر صدیقی اور ان کے فرنٹ مین خواجہ خسرو نے 1990ء سے 1999ء تک کے ای ایس سی میں خدمات انجام دیں اور اس اہم ادارے کے زوال کے ذمہ دار تھے۔

22۔ جے ایس کا نام استعمال کرنے پر رائلٹی کی مد میں بھتہ

جہانگیر صدیقی 2004ء سے اپنا نام استعمال کرنے پر جے ایس سی ایل سے 9.9 ملین روپے سالانہ لے رہے ہیں۔ اس مالی سودے کی قانونی حیثیت کیا ہے اور یہ چھوٹے حصص یافتگان کو لوٹنے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ اب تک 109 ملین روپے اس دن دیہاڑے ڈکیتی کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جہانگیر صدیقی جے ایس انوسٹمنٹس سے بھی 10 ملین روپے سالانہ لیتے ہیں۔ کیونکہ اپنے اداروں میں جہانگیر صدیقی بڑے حصص یافتہ ہیں، اس لیے دیگر حصص یافتگان کو ان کی سرمایہ کاری کے حقیقی ثمرات سے محروم رکھا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ایس ای سی پی کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

ایس ای سی پی کے تب کے چیئرمین ظفر الحق حجازی اعلانیہ کہتے تھے کہ ادارہ اختیار رکھتا ہے کہ کسی بھی منافع بخش ادارے کا اندراج کرے اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر حصص کے فائدے کو ایک خاندان تک محدود نہ ہونے دے۔ لیکن ایس ای سی پی ان گروہوں کو نہیں روک رہا (جو پہلے سے مندرج ہیں) اور چھوٹے حصص یافتگان کی دولت لوٹ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گروپ کی تمام حرکتوں پر پردہ بھی انہی کا ادارہ ڈال رہا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اداروں کے معیارات دوہرے ہیں، ایک آنکھ کا تارا جے ایس گروپ ہے اور باقی کاروباری برادری کے لیے دوسرے معیارات ہیں۔

23۔ گروپ کے نجی اداروں میں سرمایہ کاری کے ذریعے فنڈز کھینچنا

جے ایس گروپ مختلف کھاتوں میں جے ایس سی ایل سے فنڈز کھینچ چکا ہے جس میں ایس ای سی پی کی ناک تلے جہانگیر صدیقی کے مختلف نجی اداروں میں بے احتیاطی سے کی گئی سرمایہ کاریاں شامل ہیں۔ چند واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

ا) جے ایس سی ایل نے جے ایس انٹرنیشنل میں 294 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جو مکمل طور پر بیکار ہے۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی رپورٹ میں نوٹ 10.1 کو دیکھا جا سکتا ہے۔)

ب) جے ایس سی ایل انوسٹمنٹس کی کریڈٹ چیکس (پرائیوٹ) لمیٹڈ میں 189.5 ملین روپے کی سرمایہ کاری مکمل طور پر خراب ہے۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی سالانہ رپورٹ میں نوٹ10.1 اور 16.1 دیکھا جاسکتا ہے)

ج) جے ایس انفوکوم لمیٹڈ میں 708 ملین روپے کی سرمایہ کاری میں سے 216 ملین روپے خراب ہیں۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی رپورٹ میں نوٹ 10.1 کو دیکھا جاسکتا ہے)

24۔ سالانہ رپورٹ میں غلط بیانی

جے ایس سی ایل نے 2008ء میں (آنے والے سالوں میں کیپٹل گین ٹیکس کا بہانہ بناکر)ماتحت اور منسلکہ اداروں کے حصص کی خرید و فروخت سے مصنوعی فائدے حاصل کیے۔ یوں مصنوعی طور پر بڑا ای پی ایس ظاہر کیا حالانکہ مفید ملکیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ غیر ملکیوں کو بھی گمراہ کیا گیا، جنہوں نے رائٹ شیئرز حاصل کیے۔ 30 جون 2008ءکو مکمل ہونے والی مالی سال کے لیے سالانہ کھاتوں کے ساتھ ڈائریکٹرز رپورٹ میں اس کی پوری وضاحت موجود ہے۔

2009ء میں مکمل ہونے والے سال کےلیے سالانہ رپورٹ 16.7 بلین روپے کی خراب سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے جو ثابت کررہی ہے کہ 2008ء میں حاصل کیا گیا فائدہ مصنوعی تھا اور ہیراپھیری، دھوکہ دہی اور فراڈ سے حاصل کیا گیا تھا۔ جے ایس آئی ایل اور جے ایس گلوبل میں مزید سرمایہ کاری مکمل طور پر خراب نہیں تھی (جو خراب ہونے کی صورت میں نقصان کو مزید بڑھاتی)۔

بونس حصص (عبوری) 30 جون 2009ء کو مکمل ہونے والے سال کے دوران 244 فیصد تھے، زیادہ تر پریمیئر سے باہر جاری کیے گئے (رائٹ ایشو کے برخلاف زیادہ تر غیر ملکی سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے)۔ یوں غیر ملکیوں سے حاصل کیے گئے پریمیئم نے اسپانسرز کو فائدہ پہنچایا کیونکہ وہی سب سے بڑے حصص یافتہ تھے۔

2009ء کو مکمل ہونے والے سال میں عبوری بونس قانونی طور پر درست نہیں تھا کیونکہ خراب سرمایہ کاری کو مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا (کیونکہ جے ایس آئی ایل اور جے ایس گلوبل کی مارکیٹ ویلیو کم تھی)۔ یہ آزاد ریزروز کی شرائط پر پورا نہیں اترا۔
سالانہ رپورٹ برائے 2011ء ظاہر کرتی ہے کہ جے ایس آئی ایل خرابی ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ سالوں کے کھاتے درست نہیں تھے۔(جاری ہے)


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر