... loading ...

(گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نےتحریک انصاف کے جلسے سے قبل ایک عجیب وغریب منطق یہ اختیار کی کہ جن لوگوں پر ای او بی آئی میں خورد بُرد کے الزامات لگے وہ عمران خان کے جلسے کے اخراجات اُٹھاتے ہیں۔وزیراطلاعات یہ فراموش کر گیے کہ پاناما لیکس میں نوازشریف کے بچوں پر جو الزامات لگے ہیں اُس کی وضاحت سرکاری طور پر کیوں کی جارہی ہے؟ اور اس کے لیے عوامی پیسوں سے اشتہارات کیوں دیئے جارہے ہیں؟ وفاقی وزیراطلاعات یہ امر بھی فراموش کر گیے کہ خود اُن کی جماعت بھی اپنے اخراجات خود نہیں اُٹھاتیں ۔وہ جب حکومت میں ہوتی ہے تو اس کا بوجھ مختلف ہتھکنڈوں سے قومی خزانے پر اس طرح ڈالاجاتا ہے کہ جو افراد اس قسم کی سرگرمیوں کے اخراجات اُٹھاتے ہیں ، اُنہیں خاموشی سے مختلف ٹھیکوں سے نواز کر نوازشوں کا بدلہ اُتارا جاتا ہے۔ پرویز رشید یہ بھی بھول گیے کہ خود اُن کی جماعت مسلم لیگ نون بھی انتخابات میں پاکستان کے سرمایہ داروں اور کاروباری گروپوں سے رقوم اینٹھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے دورِ حکومت میں کچھ کاروباری گروپوں کی ننگی بدعنوانیوں کے منظر عام پر آنے کے باوجود اُن پر کہیں سے کوئی ہاتھ نہیں ڈالا جارہا ۔ جہانگیر صدیقی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ جن کے مختلف گندے کاموں کے نگران عمران شیخ نے گزشتہ دنوں ایک حساس ادارے کے زیرحراست یہ سنسنی خیز انکشافات کیے کہ کس طرح موجودہ نواز حکومت جہانگیر صدیقی کی پشتیبان ہے۔اب یہی عمران شیخ دبئی فرار ہو چکے ہیں ۔ جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں پر اُنہیں تحفظ فراہم کرنے والے خود نواشریف کے سیکریٹری فواد حسن فواد وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اسی شرمناک تحفظ کی چھتری تلے وہ نیب میں مختلف معاملات کی تحقیقات سے اپنا دامن بچاتے آرہے ہیں۔ اور سرکاری اداروں کو اپنے مقاصد کے تحت اُن لوگوں کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں جو اُن کی لوٹ مار میں رکاؤٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہانگیر صدیقی نے گزشتہ دنوں جبری چھٹی پر جانے والے ایف آئی اے کے بدنام زمانہ افسر شاہد حیات ، ایس ای سی پی کے طاہر محمود اور وزارت داخلہ و خزانہ کی حمایت سے کراچی کے کاروباری حلقوں کو ہراساں کرنے کے لیے ہر طرح کا اودھم مچانے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر کچھ نجی ہاتھوں میں سرکاری اداروں کے ایسے بہیمانہ اور مجرمانہ استعمال پر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اتنا ہی نہیں ، بلکہ جہانگیر صدیقی کی کھلی بدعنوانیوں پر کوئی ہاتھ تک ڈالنے کو تیار نہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اب فوجی افسران کی بدعنوانیوں پر بھی تحقیقات کرکے اُنہیں سزائیں دی جارہی ہیں، مگر جہانگیر صدیقی کےپاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ اُنہیں ہر طرح کی تحقیقات میں تحفظ مل جاتا ہے۔ وجود ڈاٹ کام جہانگیر صدیقی کے خلاف مختلف دستاویز ی ثبوتوں کی روشنی میں مرتب ایک تحقیقاتی رپورٹ کو قسط وار شائع کر رہا ہے۔ گزشتہ پانچ اقساط میں مختلف بیس نکات سے جہانگیر صدیقی کے مختلف کارباری معاملات میں موجود بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ یہ اس سلسلے کی چھٹی قسط ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ وجود ڈاٹ کام ایک مرتبہ پھر یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہاں شائع ہونے والے تمام مواد سے متعلق تمام دستاویز ی ثبوت ادارے کے پاس محفوظ ہیں ۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام کسی بھی قانونی فورم یا تفتیشی ادارے کو یہ ثبوت پیش کرنے کو تیار ہے۔ ادارہ قومی دولت کو لوٹنے والے ان بدعنوانوں کو بےنقاب کرنا اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ )
ا) بینک آف پنجاب جعل سازی میں جے ایس کی شمولیت: جہانگیر صدیقی چودھری برادران اور ہمیش خان کے فرنٹ مین تھے اور جب عوام کا پیسہ لوٹا کھسوٹا گیا تو اس وقت یہ بینک آف پنجاب کے ڈائریکٹر تھے۔ جہانگیر صدیقی نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور بینک کے فنڈز کی جے ایس میوچوئل فنڈز اور جے ایس گروپ کے دیگر اداروں کے حصص میں سرمایہ کاری کی۔ بینک آف پنجاب کو جے ایس میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری پر 454 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ جے ایس گروپ کے اداروں کے حصص، ٹی ایف سیز، ترجیحی حصص اور میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری نے ایک بلبلہ تخلیق کرنے میں مدد دی جو بالآخر 2008ء میں پھٹ گیا اور ملک کی اسٹاک مارکیٹوں پر اثر انداز ہوا۔ مزید برآں، بینک آف پنجاب کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جہانگیر صدیقی کو قرض نادہندگان کی حقیقی حالت اور بینک آف پنجاب کے مالیاتی گوشوارے برائے 2007ء پر آڈیٹرز کے شرائط کا حقیقی اندازہ تھا اور سرمایہ کاروں کو حقیقی صورت حال کا علم ہونے سے پہلے انہوں نے اس کا غیر قانونی فائدہ اٹھا لیا۔
ب) آئی سی پی فنڈز حاصل کرنے کے لیے جے ایس کی جانب سے اندرونی معلومات کا استعمال
جے ایس ابامکو لمیٹڈ نے 2002ء میں نجکاری عمل کے ذریعے آئی سی پی لاٹ ‘اے’ کے انتظامی حقوق حاصل کیے، جو 12 کلوزڈ اینڈ فنڈز پر مشتمل تھے۔ اتفاق ہے کہ اس سے قبل انوسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (آغی سی پی) کی جانب سے منظم کردہ 12 کلوزڈ اینڈ فنڈز کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جہاں پہلی لاٹ ابامکو نے حاصل کی جبکہ باقی پکک (PICIC) نے۔ ہم حیران ہی ہو سکتے ہیں کہ اگر جہانگیر صدیقی اس وقت پکک کے بورڈ میں خدمات انجام نہ دے رہے ہوتے، کہ جہاں نیلامی کے عمل پر گفتگو اور حتمی فیصلہ کیا گیا تھا، تو ابامکو لمیٹڈ نجکاری کمیشن کی جانب سے پیش کردہ آئی سی پی لاٹ ‘اے’ حاصل بھی کرپاتا یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہانگیر صدیقی کی جانب سے اندرونی معلومات کا غلط استعمال اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابامکو آئی سی پی لاٹ ‘اے’ کے لیے بڑی بولی لگانے والا ادارہ بنا جبکہ پکک دوسرے نمبر پر آیا۔
ج) پی این ایس سی جعل سازی: جہانگیر صدیقی نے خواجہ خسرو اور کمال افسر جیسے فرنٹ مینوں کے ساتھ 1991ء سے 2009ء تک پی این ایس سی میں اہم عہدہ حاصل کیا۔ جےایس نے 2009ء اور 2010ء میں جے ایس بینک کے پاس 400 ملین روپے کے ٹی ڈی آر رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا حالانکہ اس سے بہترین ریٹرن شرح اور کریڈٹ ریٹنگ رکھنے والے بینک موجود تھے۔ جے ایس اور خواجہ خسرو بحری جہازوں کی خریداری میں اربوں روپے کے گھپلے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر احتساب عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔
د) کے ای ایس سی گھپلا: جہانگیر صدیقی اور ان کے فرنٹ مین خواجہ خسرو نے 1990ء سے 1999ء تک کے ای ایس سی میں خدمات انجام دیں اور اس اہم ادارے کے زوال کے ذمہ دار تھے۔
جہانگیر صدیقی 2004ء سے اپنا نام استعمال کرنے پر جے ایس سی ایل سے 9.9 ملین روپے سالانہ لے رہے ہیں۔ اس مالی سودے کی قانونی حیثیت کیا ہے اور یہ چھوٹے حصص یافتگان کو لوٹنے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ اب تک 109 ملین روپے اس دن دیہاڑے ڈکیتی کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جہانگیر صدیقی جے ایس انوسٹمنٹس سے بھی 10 ملین روپے سالانہ لیتے ہیں۔ کیونکہ اپنے اداروں میں جہانگیر صدیقی بڑے حصص یافتہ ہیں، اس لیے دیگر حصص یافتگان کو ان کی سرمایہ کاری کے حقیقی ثمرات سے محروم رکھا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ایس ای سی پی کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔
ایس ای سی پی کے تب کے چیئرمین ظفر الحق حجازی اعلانیہ کہتے تھے کہ ادارہ اختیار رکھتا ہے کہ کسی بھی منافع بخش ادارے کا اندراج کرے اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر حصص کے فائدے کو ایک خاندان تک محدود نہ ہونے دے۔ لیکن ایس ای سی پی ان گروہوں کو نہیں روک رہا (جو پہلے سے مندرج ہیں) اور چھوٹے حصص یافتگان کی دولت لوٹ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گروپ کی تمام حرکتوں پر پردہ بھی انہی کا ادارہ ڈال رہا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اداروں کے معیارات دوہرے ہیں، ایک آنکھ کا تارا جے ایس گروپ ہے اور باقی کاروباری برادری کے لیے دوسرے معیارات ہیں۔
جے ایس گروپ مختلف کھاتوں میں جے ایس سی ایل سے فنڈز کھینچ چکا ہے جس میں ایس ای سی پی کی ناک تلے جہانگیر صدیقی کے مختلف نجی اداروں میں بے احتیاطی سے کی گئی سرمایہ کاریاں شامل ہیں۔ چند واقعات مندرجہ ذیل ہیں:
ا) جے ایس سی ایل نے جے ایس انٹرنیشنل میں 294 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جو مکمل طور پر بیکار ہے۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی رپورٹ میں نوٹ 10.1 کو دیکھا جا سکتا ہے۔)
ب) جے ایس سی ایل انوسٹمنٹس کی کریڈٹ چیکس (پرائیوٹ) لمیٹڈ میں 189.5 ملین روپے کی سرمایہ کاری مکمل طور پر خراب ہے۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی سالانہ رپورٹ میں نوٹ10.1 اور 16.1 دیکھا جاسکتا ہے)
ج) جے ایس انفوکوم لمیٹڈ میں 708 ملین روپے کی سرمایہ کاری میں سے 216 ملین روپے خراب ہیں۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی رپورٹ میں نوٹ 10.1 کو دیکھا جاسکتا ہے)
جے ایس سی ایل نے 2008ء میں (آنے والے سالوں میں کیپٹل گین ٹیکس کا بہانہ بناکر)ماتحت اور منسلکہ اداروں کے حصص کی خرید و فروخت سے مصنوعی فائدے حاصل کیے۔ یوں مصنوعی طور پر بڑا ای پی ایس ظاہر کیا حالانکہ مفید ملکیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ غیر ملکیوں کو بھی گمراہ کیا گیا، جنہوں نے رائٹ شیئرز حاصل کیے۔ 30 جون 2008ءکو مکمل ہونے والی مالی سال کے لیے سالانہ کھاتوں کے ساتھ ڈائریکٹرز رپورٹ میں اس کی پوری وضاحت موجود ہے۔
2009ء میں مکمل ہونے والے سال کےلیے سالانہ رپورٹ 16.7 بلین روپے کی خراب سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے جو ثابت کررہی ہے کہ 2008ء میں حاصل کیا گیا فائدہ مصنوعی تھا اور ہیراپھیری، دھوکہ دہی اور فراڈ سے حاصل کیا گیا تھا۔ جے ایس آئی ایل اور جے ایس گلوبل میں مزید سرمایہ کاری مکمل طور پر خراب نہیں تھی (جو خراب ہونے کی صورت میں نقصان کو مزید بڑھاتی)۔
بونس حصص (عبوری) 30 جون 2009ء کو مکمل ہونے والے سال کے دوران 244 فیصد تھے، زیادہ تر پریمیئر سے باہر جاری کیے گئے (رائٹ ایشو کے برخلاف زیادہ تر غیر ملکی سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے)۔ یوں غیر ملکیوں سے حاصل کیے گئے پریمیئم نے اسپانسرز کو فائدہ پہنچایا کیونکہ وہی سب سے بڑے حصص یافتہ تھے۔
2009ء کو مکمل ہونے والے سال میں عبوری بونس قانونی طور پر درست نہیں تھا کیونکہ خراب سرمایہ کاری کو مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا (کیونکہ جے ایس آئی ایل اور جے ایس گلوبل کی مارکیٹ ویلیو کم تھی)۔ یہ آزاد ریزروز کی شرائط پر پورا نہیں اترا۔
سالانہ رپورٹ برائے 2011ء ظاہر کرتی ہے کہ جے ایس آئی ایل خرابی ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ سالوں کے کھاتے درست نہیں تھے۔(جاری ہے)
محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...
داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...
ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...
کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...
خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...
جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...
عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...
قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...
9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...
معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...