... loading ...

“نائن الیون کے واقعات میں جہازوں کے “اغوا” کرنے والے 15 سعودی ہائی جیکرز دراصل سی آئی اے کے ایجنٹ تھے جو امریکی حکومت کے لیے کام کر رہے تھے، جو اس واقعے کی آڑ میں مشرق وسطیٰ کو تباہ کرکے اسرائیل کے لیے حالات سازگار بنانا اور امریکا کے عسکری بجٹ کو دوگنا کرنا چاہتی تھی۔” یہ تہلکہ خیز انکشاف معروف امریکی دانشور ڈاکٹر کیون بیریٹ نے کیا ہے، جو 2003ء سے نائن الیون کے واقعات پر تحقیق کر رہے ہیں۔
“سائنٹیفک پینل فاد ری انوسٹی گیشن آف نائن الیون” کے بانی رکن ڈاکٹر بیریٹ نے یہ انکشافات ایران کے پریس ٹی وی کے ساتھ ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کیے ہیں، اور یہ باتیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکا میں ان دستاویزات کی رازدارانہ حیثیت ختم کرنے کی جا رہی ہے جو نائن الیون کے حملوں میں سعودی عرب کے کردار پر روشنی ڈالیں گی۔ 28 صفحات کی اس رپورٹ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ نائن الیون حملوں میں شامل دو سعودی باشندون کو ریاض سے ملنے والی مدد کو ثابت کرتی ہے۔ ڈاکٹر بیریٹ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ ‘ریلیز دی 28 پیجز’ کی تحریک کامیاب ہوگئی ہے یا کم از کم کامیابی کے بہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ ابھی سوموار کو اوباما انتظامیہ کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صدر رپورٹ پر نظرثانی مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہے کہ وہ صدارت کے خاتمے سے قبل ان دستاویزات کو ظاہر کردیں گے۔
ڈاکٹر بیریٹ نے کہا کہ یہ رپورٹ امریکا-سعودی عرب تعلقات پر ضرور اثر انداز ہوگی کیونکہ اس میں سعودی عرب کے شاہی حلقوں پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ ہائی جیکرز میں سے چند کی مدد کی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ انکشاف نائن الیون کے معاملے کو کھولے گا یا محدود پیمانے پر ہی ہلچل مچائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کے خلاف عوامی غضب کو بھڑکائیں گے، امریکا-سعودی تعلقات میں فاصلے پیدا کریں گے اور درحقیقت کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بڑا سانحہ ہوگا کیونکہ ہم نائن الیون معاملے کو مکمل طور پر کھولنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت نائن الیون کے واقعات میں سعودی عرب شمولیت ایسی نہیں کہ وہ پوری طرح اس کو کنٹرول کر رہا تھا اور اس سازش کا اصل منصوبہ ساز تھا۔ یہ ایک مضحکہ خیز الزام ہے کیونکہ سعودی عرب امریکا کی ایک کٹھ پتلی ریاست ہے۔
دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ پر ہمیشہ تنقید کرنے والے ڈاکٹر بیریٹ نے مزید کہا ہے کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ 19 میں سے 15 مبینہ ہائی جیکرز سعودی باشندے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی جہازوں پر موجود ہی نہیں تھا، بلکہ 19 میں سے کوئی ایک بھی “اغوا” ہونے والے چار جہازوں پر نہیں تھا اور مسافروں کی فہرست دیکھیں اور تمام تر شہادتیں بھی تو ہمیں کوئی سعودی تو کجا ایک عرب باشندہ بھی ان جہازوں پر نہیں ملے گا۔
“وہ اصل میں 15 قربانی کے سعودی بکرے تھے، جن کے گلے نائن الیون کا الزام ڈالا گیا، جبکہ وہ سی آئی اے ایجنٹ تھے۔ ہمیں یہ معلوم ہے، میں سی آئی اے کے ذرائع سے براہ راست یہ تصدیق کر چکا ہوں کہ یہ 15 سعودی امریکا میں بارہا ملازمت کے ویزے پر داخل ہوئے۔ ملازمت کے ویزوں کی ایک خاص تعداد ایسی ہوتی ہے جو صرف سی آئی اے کو دی جاتی ہے جو ایجنسی اپنی خدمات کے عوض بطور انعام اپنے غیر ملکی اہلکاروں کو دیتی ہے۔ یہ ویزا انہیں امریکا آنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تمام افراد جن کے نام بطور ہائی جیکر پیش کیے گئے اصل میں سعودی عرب میں سی آئی اے کے لیے کام کرتے تھے اور انہیں اسی لیے انعام کے طور پر یہ خاص ویزے دیےگئے تھے۔ ان میں سے چند تو کیلیفورنیا میں ایف بی آئی اہلکاروں کے ساتھ رہتے تھے۔ یعنی یہ 15 سعودی امریکا مخالف نہیں تھے، بلکہ اس کے لیے کام کرتے تھے۔ انہیں اس طرح پھنسایا گیا کہ سعودی عرب کو نائن الیون کے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ اس کی حقیقی منصوبہ بندی اسرائیل اور اس کے امریکی پٹھوؤں نے کی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سعودی عرب امریکا کی گرفت سے نہ نکل سکے اور پاکستان کو بھی بالکل اسی طرح پھنسایا گیا۔ دراصل صیہونی سامراج کبھی نہیں چاہتا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب کبھی آزاد و خود مختار ملک بنیں۔ اس لیے انہوں نے نائن الیون حملوں کو استعمال کیا اور دونوں ممالک پر اپنا شکنجہ مضبوط کیا اور دیگر کئی مقاصد بھی حاصل کیے۔
ڈاکٹر بیریٹ نے مزید کہا کہ نائن الیون کا اہم ترین ہدف پانچ سالوں میں سات ممالک کو تباہ کرنا تھا کہ جن کا ذکر جنرل ویزلی کلارک نے کیا تھا۔ یہ اسرائیل کے دشمن اور اس کے لیے خطرہ بننے والے ممالک تھے۔ کیا 28 صفحات کی اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے یہ حقیقت اور یہ سچ سامنے آئے گا؟ کیا اس کے نتیجے میں نائن الیون کیس کو دوبارہ کھولنا ممکن ہوگا؟ اگر حقیقت سامنے آئی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ یہ دراصل اسرائیل اور اس کے امریکی پٹھوؤں کا “کور آپریشن” تھا کہ جس میں جارج بش، ڈک چینی، ڈونلڈ رمزفیلڈ اور دیگر کا یکساں کردار تھا۔ نائن الیون کو “نیا پرل ہاربر” کے طور پر تیار کیا گیا تھا تاکہ عظیم تر اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ کو تباہ کیا جا سکے، امریکا کے عسکری بجٹ کو دوگنا کیا جائے اور اسے مضبوط تر کرنے کیا جا سکے۔ یہ الگ بات کہ اس نے امریکا کو تباہی کی طرف دھکیل دیا، البتہ اس منصوبے نے اسرائیل کی ضرور مدد کی۔ وہ اپنے تمام پڑوسیوں کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوا لیکن امریکا کا حال برا ہوگیا۔ جب تک ٹوئن ٹاورز کو گرانے والے حقیقی افراد کا پتہ نہیں چلے گا تب تک ہم امریکا عظمت رفتہ بحال کرنے کی پوزیشن میں نہیں آئے گا۔ امریکا کو صیہونی گرفت سے دور لے جانے، اس کے بینکاری، سرمایہ کاری اور ابلاغی شکنجوں سے دور لے جانے اور امریکا کو امریکا کے عوام کے ہاتھوں میں پہنچانے کے لیے یہ ضروری ہے۔
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...
100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...
اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...
جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...
795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...