... loading ...

ٹیکس سے فرار اختیار کرنے والے افراد کو ظاہر کرنا بلاشبہ ایک بہترین کاوش ہے، لیکن پاناما پیپرز کے مقاصد کچھ “مشکوک” سے بھی لگتے ہیں۔ اس سے نقد کے خاتمے اور عام افراد کو ٹیکس دائرے میں لاکر ان کے استحصال کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
“پاناما پیپرز” کے نام سے ہونے والے تباہ کن انکشافات ایک ایسے ادارے کی خفیہ دستاویزات سے سامنے آئے جو جعلی ادارے تشکیل دیتا تھا۔ تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف سمجھی جانے والی ان دستاویزات نے نہ صرف غم و غصے کی ایک بڑی لہر پیدا کی بلکہ کئی شکوک کو بھی جنم دیا۔ جیسا کہ برطانوی بلاگر کریگ مرے نے لکھا کہ پاناما پیپرز کو سامنے لانے والے کی نیت بلاشبہ ٹھیک ہوگی لیکن انہوں نے ساڑھے 11 ملین دستاویزات اس کارپوریٹ میڈیا کے حوالے کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے، جو دراصل خود ایک فریق ہے۔ یہ میڈیا صرف انہی افراد کی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لائے گا جومغرب کے مالی مفادات کے خلاف ہیں۔ ان کے الفاظ میں “مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی قلعی کھولنے والے انکشافات کی توقع ہرگز مت رکھیں۔ مغربی اداروں کے غلیظ کاروباری راز کوئی شائع نہیں کرے گا۔ البتہ روس، ایران اور شام اور “توازن” کے لیے آئس لینڈ جیسے چند چھوٹے موٹے مغربی ممالک کے نام سامنے آتے رہیں گے۔”
چند حلقے اس اسکینڈل کو کیش یعنی نقدی کے خاتمے کی عالمی کوششوں کی سمت میں اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اصل میں ہنگامہ کیا ہے؟ یہ ہے کہ پیسہ کہاں ہے، کس کا ہے، تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اس پر ٹیکس لگانا ہے، پابندی عائد کرنی ہے یا ضبط کرنا ہے۔ ایک ایسے عالمی نظام کا قیام دراصل بااختیار اور طاقتور افراد کو دوسروں کا استحصال کرنے اور خود کھلی بدعنوانی کرنے کی ضمانت دے گا۔
انوسٹمنٹ واچ کے مائیکل سینڈر بھی پاناما پیپرز کے معاملے کو اسی سے منسلک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “میری رائے میں یہ پورا قضیہ سرمائے پر قابو پانے کی جنگ کا حصہ ہے۔”
اب معاملہ یہ ہے کہ 1 فیصد امیر ترین افراد ان 10 فیصد کے پیچھے ہیں، جو بجائے قرض لینے کے کے ایک خود مختار زندگی گزارتے ہیں بلکہ بچت بھی کرتے ہیں۔ باقی عوام کی بڑی تعداد اپنی زندگی میں مالی جدوجہد کرتی ہے۔ یہی افراد بینکوں کے مقروض ھی ہوتے ہیں اور ان کی اتنی آمدنی بھی نہیں ہوتی کہ ان پر ٹیکس لگایا جا سکے۔ اس لیے اب یہ جنگ ہے مالیاتی زنجیر کے سب سے بالائی ایک فیصد، بلکہ 0.0001 فیصد طبقے کی، اپنے فوراً بعد آنے والے مالی طور پر خود مختار طبقے سے۔ نت نئے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں کہ کسی طرح ان کی بچت کو قانونی طور پر ضبط کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق چار ایسی کوششیں ہیں جو کی جائیں گی، ایک بیل-اِن، دوسری نیگیٹو انٹرسٹ، تیسری ڈیجیٹل کرنسی اور چوتھی ان تمام مقامات کا علم کہ جہاں ٹیکس سے فرار اختیار کرنے والوں کی دولت جمع ہے۔ بیل-انز دراصل بینکوں کو اپنے صارفین کے پیسوں پر جوا کھیلنے کی اجازت دیں گے۔ اگر بینک غلط بھی کھیل گیا، دیوالیہ بھی ہوگیا تو وہ قانونی طور پر اپنے صارفین کی امانتیں ضبط کر سکتا ہے۔ نیگیٹو انٹرسٹ دراصل ایک فیس یا نجی ٹیکس ہے جو بینک سرمایہ رکھنے پر لے گا۔ پھر نقدی کے خاتمے کا اہم ترین معاملہ ہے۔ یہ بینک کو مکمل طور پر محفوظ بنا دے گا۔ ایسا پیسہ جو صرف اور صرف ڈیجیٹل صورت میں موجود ہو، نہ ہی نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے گھر کی تجوریوں یا کسی خفیہ مقام پر چھپایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ٹیکس سے فرار کے مقامات کو ظاہر کرنا ان “شکاریوں” کو بتائے گا کہ مال اصل میں ہے کہاں اور اس کا مالک کون ہے؟ یوں ایک ایسی دنیا جو مرکزی بینکوں یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں ہو، کی تکمیل ہوگی۔ ان کڑیوں کو ملاتے جائیں تو آپ اس پورے معاملے کا ایک دوسرا اور خطرناک پہلو پائیں گے۔
ذرائع کہتے ہیں کہ اس کی حتمی منصوبہ بندی ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے گزشتہ اجلاس میں کی گئی، جہاں دنیا بھر کی اشرافیہ جدید دنیا کے اقتصادی مسائل پر سر جوڑ کر بیٹھی تھی۔ فورم میں شریک مورگن اسٹینلی سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے مطابق رواں سال کا اہم ترین موضوع ‘بغیر نقدی کے نظام کا فوری قیام’ تھا۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے اور اس کے مراکز یعنی بینکوں کو مضبوط کرنے کے لیے “نقد کے خلاف اعلان جنگ” ہو چکا ہے۔
کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...
پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...
ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...
مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...
محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...
میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...
اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...
اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...
شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...
جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...