وجود

... loading ...

وجود

بول کی بندش: ذرائع ابلاغ کی سازشوں کے تانے بانے بہت گہرے ہیں!

منگل 12 اپریل 2016 بول کی بندش: ذرائع ابلاغ کی سازشوں کے تانے بانے بہت گہرے ہیں!

axact bol

بول اور ایگزیکٹ کے خلاف رچائے گیے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے “سیٹھوں ” کا کھیل انتہائی پرپیچ ہے۔ یہ نامعلوم رستوں سے شروع ہو کر معلوم منطقوں میں جب داخل ہوتا ہے تو یہ اندازہ لگانا دشوار ہوتا ہے کہ اس میں کون کون کیا کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟اگرچہ بول کی اب محدود انتظامیہ اپنا سارے مقدمات عدالتوں میں لڑ رہے ہیں۔ مگر یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ بول کے خلاف کون کہاں لڑ رہا ہے۔ مثلاً یہ واقعہ ایک دلچسپ مشاہدے اور نمونے (پیٹرن) کے طور پر رونما ہوتا ہے کہ جب بھی بول اور ایگزیکٹ کے حوالے سے مقدمات کی تاریخ عدالتوں میں پڑتی ہے تو اُسی روز میر شکیل الرحمان کے اخبارات اور ٹیلی ویژن بول کے حوالے سے مختلف من گھڑت خبریں پھیلاتے ہیں۔ افسوس ناک طور پر ابھی تک کسی نے عدالت کو یہ باور نہیں کرایا کہ منظم منصوبہ بندی سے ایک پروپیگنڈے کے ذریعے ایگزیکٹ کو تالے لگوانے اور بول کو بولنے سے روکنے کی مہم چلانے والے یہ ادارے ایک متعصبانہ اور جانبدارنہ نقطہ نظر رکھتے ہیں اور عین عدالتی تاریخوں پر خبروں کی اشاعت سے دراصل عدالتوں پر منفی انداز سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر بول اور ایگزیکٹ کے خلاف خبروں کی اشاعت ممکن بنائی گئی جب اس حوالے سے مختلف عدالتوں میں تین مقدمات زیر سماعت تھے۔

کسی نے عدالت کو یہ باور نہیں کرایا کہ منظم منصوبہ بندی سے ایک پروپیگنڈے کے ذریعے ایگزیکٹ کو تالے لگوانے اور بول کو بولنے سے روکنے کی مہم چلانے والے یہ ادارے ایک متعصبانہ اور جانبدارنہ نقطہ نظر رکھتے ہیں اور عین عدالتی تاریخوں پر خبروں کی اشاعت سے دراصل عدالتوں پر منفی انداز سے اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایگزیکٹ کے حوالے سے11 اپریل کو عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ایک مقدمے کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ایگزیکٹ کمپنی کے منجمد اثاثے بحال کرنے کے خلاف عدالت عالیہ سندھ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں ایگزیکٹ کمپنی کے وکیل عابد زبیری نے اپنے دلائل دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ مقدمے کا چالان انتہائی تاخیر سے پیش ہونے کے باوجود تاحال ابھی تک کوئی مزید کارروائی نہیں ہورہی۔ ایگزیکٹ کمپنی کے باہر تاحال ایف آئی اے کے اہلکار بیٹھے ہیں اور عدالتی احکامات کے باوجود ملازمین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ عابد زبیری نے بتایا کہ کمپنی کے کھاتے منجمد کرنے کا حکم دے کر عدالت عالیہ سندھ نے حدود سے تجاوز کیا ہے۔ جبکہ ایف آئی اے کے اہلکار دفاتر سے کمپنی کے تمام سرورز بھی لے گیے ہیں۔ مگر حسب معمول عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کرکے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے۔

دوسری طرف عدالت عالیہ سندھ میں 11 اپریل کو ہی جسٹس محمد اقبال کلہوڑ پر مشتمل بینچ نے ایگزیکٹ کے ملازمین کی جانب ست دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔ سماعت کےد وران میں عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ مقدمے میں ایف آئی اے کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹرز شہاب اوستو، حق نواز تالپوراور صلاح الدین گنڈاپور نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ جن کے استعفے عدالت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ اس پر عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ وکلاء کی علیحدگی کا معاملہ ایف آئی اے کا اندرونی معاملہ ہے۔ ایف آئی اے اس معاملے کو اپنے طور پر دیکھے۔ چونکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوتے ہیں اس لئے عدالت دلائل سن کر میرٹ پر اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ عدالت نے سماعت 15 اپریل کے لیے ملتوی کردی ہے۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مذکورہ مقدمے میں ایف آئی اے اپنی تفتیش اور تحقیقات سے کوئی چیز بھی ملزمان کے خلاف پیش نہیں کر سکی اور اس ضمن میں ایف آئی اے کی جانب سے جتنے بھی پراسیکیوٹرز مقرر کیے گیے وہ کچھ عرصے کے بعد استعفے دے کر چلے گیے۔ اُنہوں نے اپنے استعفے کی وجوہات کو بھی ریکارڈ پر لانا ضروری نہیں سمجھا۔ تاہم ان تمام پراسیکیوٹرز کے استعفوں کا فائدہ ایف آئی اے کو اس طرح پہنچا کہ اُنہیں مقدمے کو الجھانے اور تاخیر سے دوچار کرنے کا موقع ملتا رہا۔ اس طرح مذکورہ مقدمے کا دلچسپ مشاہدہ یہ ہے کہ اس میں ملزمان کو کسی تفتیش کی وجہ سے ضمانتوں سے محروم نہیں رکھا گیا اور نہ نئے نئے انکشافات کے بعد اس کی قانونی ضرورت کا کوئی دفاع عدالت کو دیا گیا بلکہ مختلف چالبازیوں کے ذریعے ایف آئی اے نے اس مسئلے کو الجھائے رکھا ہے۔ جس میں پراسیکیوٹرز کی طرف سے دیئے جانے والے باربار کے استعفے بھی شامل ہیں۔

اس سامنے کی حقیقت کو جنگ اور دی نیوز نے اپنی متعصبانہ وقائع نگاری کے ذریعے نیا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ جنگ نے اپنی 12 اپریل کی اشاعت میں ایف آئی اے کے افسران کی طرف سے اپنے تین اسپیشل پراسیکیوٹرز کی جانب سے پیروی کے انکار کو دراصل کسی دباؤ کا نتیجہ قرارد یا ہے۔ حیرت انگیز طور پر استعفے دینے والے اب تک کے تمام پراسیکیوٹرز عدالت میں مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے عبرت کی تصویر دکھائی دیئے کیونکہ اُن کے پاس صرف تاریخ لینے اور مقدمے کو التوا میں ڈالنے کے علاوہ اپنے مقدمے کے حق میں عدالت میں پیش کرنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ کیا یہ دباؤ کسی وکیل پر کم ہو سکتا ہے۔ اس ماحول میں پراسیکیوٹرز کے استعفے ایف آئی اے کی جانب سے مقدمے میں تفتیش کی ناکامی اور غلط دعوؤں کے حق میں ثبوتوں کے حصول میں نامرادی کے علاوہ کو ن سا دباؤ ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات جنہیں ذرائع ابلاغ پر رہنے کا شوق حد سے زیادہ ہے اور جو بات بات پر پریس کانفرنس کرنے کے عادی ہیں، وہ جنگ اور دی نیوز کے رابطے پر بھی اُنہیں گزشتہ روز دستیاب نہیں ہوسکے۔ کیا یہ بات بجائے خود حیرت انگیز نہیں کہ شاہد حیات جن کے بارے میں جہانگیر صدیقی کے فرنٹ مین عمران شیخ نے گزشتہ دنوں دوران ِ حراست انتہائی حساس معلومات دی ہیں ، جن میں ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ سازی کے علاوہ اس کی پشت پر جہانگیر صدیقی کے سمدھی میر شکیل الرحمان کی دلچسپیوں اور “تحائف” کی گردش کا بھی خاصا عمل دخل تھا، وہی شاہد حیات جنگ اور دی نیو زکو دستیاب ہی نہ ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر