وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ہسپتالوں میں ان پانچ غلطیوں سے بچیں

پیر 11 اپریل 2016 ہسپتالوں میں ان پانچ غلطیوں سے بچیں

patient-with-walker

جب آپ کسی ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو توقع ہوتی ہے کہ آپ کی صحت بہتر ہوگی لیکن بسا اوقات ایسا نہیں ہوتا: ایک اندازے کے مطابق ہر سال 4 لاکھ 40 ہزار تک امریکی ہسپتال میں ہونے والی کسی طبی غلطی کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں۔ یہ دل کے امراض اور سرطان کے بعد امریکا میں اموات کی تیسری سب سے بڑی وجہ بنتی ہے۔

سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہر سال 7 لاکھ 22 ہزار افراد کو امریکا میں ہسپتال میں قیام کے دوران کوئی انفیکشن لگتا ہے اور تقریباً 75 ہزار مر بھی جاتے ہیں۔

کسی مریض کی موت غلط دوا دینے ہو یا ڈاکٹر کی جانب سے اپنے ہاتھ صاف نہ کرنے کی وجہ سے مریض میں انفیکشن پیدا ہونے کے بعد ہو، کئی وجوہات ایسی ہوتی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔ ہسپتالوں میں ہونے والی پانچ عام ترین طبی غلطیاں یہ ہیں:

1۔ گر جانا

ہو سکتا ہے کہ گر جانا عام طور پر طبی غلطی نہ سمجھی جائے، لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے کئی اقدامات ہیں جو ہسپتال اٹھا سکتا ہے اور اسے اٹھانے چاہئیں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ درحقیقت ہر سال لگ بھگ 10 لاکھ امریکی ہسپتال میں گرتے ہیں اور وفاقی ایجنسی فار ہیلتھ کیئر ریسرچ اینڈ کوالٹی (اے ایچ آر کیو) کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک تہائی حادثوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح گرنے کے نتیجے میں نہ صرف ہڈی ٹوٹ سکتی ہے یا خون کا اندرونی رساؤ ہو سکتا ہے بلکہ یہ ہسپتال میں قیام میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے جس کی وجہ سے خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے کہ کچھ الٹا سیدھا نہ ہو جائے۔

اس لیے ہسپتال میں داخل ہوتے ہی یقینی بنائیں کہ عملے کے اراکین آپ کے گرنے کے خطرے کا جائزہ لیں۔ عملے کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ گزشتہ چند ماہ میں کتنی بار گر چکے ہیں؟ اور کون سی دوائیں استعمال کرتے ہیں؟ کیونکہ کئی ادویات ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپ کے گرنے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگر آپ کے گرنے کا خطرہ زیادہ ہو تو عملے کو حفاظتی اقدامات اٹھانے چاہئیں جیسا کہ آپ کے بستر اور غسل خانے کے درمیان میں تمام رکاوٹیں دور کرنا یا پھر چھڑی یا واکر فراہم کرنا۔ اگر آپ کو بستر سے اٹھنے اور چلنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہو تو ہمیشہ مدد طلب کریں۔

2۔ اینٹی بایوٹکس کا غلط استعمال

ہسپتال میں نصف سے زیادہ مریضوں کو اینٹی بایوٹکس دی جاتی ہیں، اور سی ڈی سی کے مطابق ان میں سے آدھے سے زیادہ افراد کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی یا انہیں غلط اینٹی بایوٹک دے دی جاتی ہے۔ ایسی ادویات کا ضرورت سے زیادہ استعمال ایسے جراثیم پیدا کر دیتا ہے جن کے اندر تمام قسم کی اینٹی بایوٹکس کی مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور یوں انفیکشنز کا علاج کرنا مشکل تر ہو جاتا ہے۔ اینٹی بایوٹکس اچھے بیکٹیریا کو بھی ختم کر دیتی ہیں جو ہماری آنتوں میں رہتے ہیں، اس صورت میں مدافعت رکھنے والے ضرر رساں جراثیموں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ اس وقت ہسپتالوں میں کلوسٹریڈیئم ڈیفیسائل، یا سی ڈف، نامی انفیکشن بہت پھیلا ہوا ہے۔ ہر سال کم از کم ڈھائی لاکھ افراد میں سی ڈف انفیکشن پنپتا ہے اور ان میں سے 14 ہزار مر جاتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کا ڈاکٹر آپ کو اینٹی بایوٹک دینا چاہتا ہو تو اس سے پوچھیں کیوں؟

3۔ ادویات کا غلط استعمال

ادویات کی غلطیاں ہسپتالوں میں ءونے والی سنگین ترین طبی غلطیاں ہیں جو نصف سے زیادہ سرجریز کے دوران ہوتی ہیں۔ ہارورڈ کی ایک چھوٹی تحقیق کے مطابق یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب مریض غلط خوراک لے لے۔ مجموعی طور پر ہسپتالوں میں اندازاً ایک ہزار ایسی طبی غلطیاں روزانہ ہوتی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔

ادویات کی غلطی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پہلے ڈاکٹر تجویز کرتا ہے، پھر فارمیسی کے عملے کا کوئی رکن دیتا ہے اور پھر نرس اسے استعمال کرواتی ہے اس لیے اس پوری زنجیر میں کہیں بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یقینی بنائیں کہ ہسپتال کے عملے کو آپ کی جانب سے استعمال کی جانے والی تمام ادویات کا اچھی طرح معلوم ہو، جس میں میڈیکل اسٹور سے ملنے والی ادویات اور خوراک کے سپلیمنٹس بھی شامل ہیں۔ کوشش کریں کہ جب ڈاکٹر آپ کو ادویات دے رہا ہو تو آپ خود یا آپ کے ساتھ جو بھی ہے خود بھی انہیں اپنے پاس لکھ لے اور یہ بھی یہ دوا کس کام آئے گی، آپ کو کتنی خوراک کی اور کب کب ضرورت ہوگی۔ جب نرس دوا دے رہے ہو تو آپ خود بھی دوا اور اس کی خوراک کی تصدیق کریں۔

4۔ بہت زیادہ آرام

ہسپتال میں بستر پر پڑے رہنا عام ہے خاص طور پر اگر آپ زیادہ بیمار ہوں تو۔ لیکن جیسے ہی آپ کے جسم میں چلنے پھرنے کی طاقت آئے، آپ کا بستر سے اٹھنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ چہل قدمی مریضوں کو تیزی سے بحال ہونے اور جلد از جلد ہسپتال کو خیرباد کہنے میں مدد دیتی ہے۔ ہسپتال میں قیام کے دوران صرف بستر پر ہی پڑے رہنا آپ کو کمزور بھی کرتا ہے، اور آپ چند ماہ بعد پھر بیمار پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بسا اوقات مریضوں کو دن میں کم از کم دو سے تین مرتبہ بستر سے نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نرسوں کے لیے بڑا وقت طلب اور مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ہر وقت دستیاب ہوں۔ اس لیے چاہے آپ کو ڈاکٹر نے بستر سے نہ اٹھنے کا کہا ہو اور چلنے پھرنے سے منع کیا ہو، پھر بھی آپ لیٹی ہوئی حالت میں ہی ہلنے جلنے کی کوشش کیا کریں۔ اپنے پیر ہلائیں، ہاتھ بھینچیں اور چھوڑ دیں۔ اگر آپ چلنے پھرنے کے لیے بہت زیادہ کمزور ہیں تو فزیکل تھراپی طلب کریں اور اس میں ہرگز جھجک نہ دکھائیں۔

5۔ قبل از وقت اخراج

ہسپتالوں میں جن امراض کا سب سے زیادہ علاج کیا جاتا ہے، ان میں سے ہر پانچ میں سے ایک کا مریض صحت یابی کے بعد خارج ہو کر 30 دن کے اندر اندر دوبارہ داخل ہوتا ہے۔ گو کہ کبھی کبھار ایسا ناگزیر ہوتا ہے یا پھر کسی انفیکشن کی وجہ سے بھی جو مریض کو گھر پر ہوگیا ہو لیکن ایک وجہ یہ ہے بھی ہے کہ مریض کی مکمل صحت یابی سے پہلے ہی اسے ہسپتال سے گھر منقل کردیا جائے جبکہ اسے مزید علاج کی ضرورت ہو۔

ہسپتال کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے مریض اور اس کے اہل خانہ کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد ہسپتال سے گھر پہنچ جائیں اور ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مزید داخل رکھنے کی کوششوں کو بل بڑھانے کی حرکت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ہرگز ایسی غلطی نہ کریں۔ دو دن مزید ٹھیرنا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ دو ہفتوں بعد آ کر پھر ایک ہفتہ ہسپتال میں پڑے رہے۔


متعلقہ خبریں


کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا...

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

بچوں میں کووڈ 19 کا خطرہ بالغ افراد جتنا ہی ہوتا ہے، تحقیق وجود - پیر 11 اکتوبر 2021

بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ لگ بھگ بالغ افراد جتنا ہی ہوتا ہے مگر علامات ظاہر ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ امریکی ریاست یوٹاہ اور نیویارک شہر میں بالغ افراد اور بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ملتا جلتا ہوتا ہے مگر بچوں میں اکثر بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔تحقیق کے مطابق ہر عمر کے بچوں میں کورونا وائرس سے بیمار ہونے کا خطرہ لگ ب...

بچوں میں کووڈ 19 کا خطرہ بالغ افراد جتنا ہی ہوتا ہے، تحقیق

فائزر کی کووڈ 19 ویکسین کی افادیت گھٹنے کی مزید تحقیقی رپورٹس میں تصدیق وجود - هفته 09 اکتوبر 2021

فائزر/ بائیو این ٹیک کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین سے بیماری کے خلاف ملنے والے تحفظ کی شرح ویکسینیشن مکمل ہونے کے 2 ماہ بعد گھٹنا شروع ہوجاتی ہے، تاہم بیماری کی سنگین شدت، ہسپتال میں داخلے اور اموات کے خلاف ٹھوس تحفظ ملتا ہے۔میڈیا پورٹس کے مطابق یہ بات حقیقی دنیا میں ہونے والی 2 مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔ اسرائیل اور قطر میں ہونے والے تحقیقی کام سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ مکمل ویکسینیشن کے بعد بھی لوگوں کو بیماری سے بچا ئوکے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔...

فائزر کی کووڈ 19 ویکسین کی افادیت گھٹنے کی مزید تحقیقی رپورٹس میں تصدیق

کووڈ کو شکست دینے کے ایک سال بعد بھی مریضوں کے دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف وجود - جمعه 08 اکتوبر 2021

کووڈ 19 کے مریضوں کے دل کو پہنچنے والا نقصان بیماری کے ابتدائی مراحل تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی ہارٹ فیلیئر اور جان لیوا بلڈ کلاٹس (خون جمنے یا لوتھڑے بننے)کا خطرہ ہوتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ویٹرنز افیئرز سینٹ لوئس ہیلتھ کیئر سسٹم کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد(ایسے مریض جن کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی)میں بھی یہ خطرہ...

کووڈ کو شکست دینے کے ایک سال بعد بھی مریضوں کے دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف

وزیراعظم عمران خان سے بل گیٹس کا ٹیلیفونک رابطہ وجود - بدھ 06 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان سے مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ،دونوں نے افغانستان میں صحت کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان سے بل گیٹس نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ۔ وزیراعظم اوربل گیٹس نے افغانستان میں صحت کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے بل گیٹس سے افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔افغانستان پاکستان کے ساتھ دنیا کا دوسرا ملک ہے جو پولیو کا شکار ہے۔ وزیراعظم اور بل گیٹس نے افغانستان میں انسداد پولیو مہم دوبارہ ش...

وزیراعظم عمران خان سے بل گیٹس کا ٹیلیفونک رابطہ

بوتل بند پانی کے 22برانڈزمیں متعدد بیماریوں کے جراثیم نکلے، پی ایس کیو سی ناکام وجود - اتوار 03 اکتوبر 2021

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے بوتل بند پانی کے نمونوں کی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل تا جون 2021میں پاکستان بھر سے حاصل کردہ بوتل بند پانی کے 180برانڈز میں سے 22برانڈز انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ نکلے ہیں۔ 16برانڈز کے نمونے کیمیائی لحاظ سے جبکہ 6مائیکرو بایولوجی کے لحاظ سے غیر محفوظ نکلے۔رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ پائے جانے والے نصف برانڈز کراچی میں فروخت ہورہے ہیں۔غیرمحفوظ برانڈز میں ٹی ڈی ایس، آرسینک اور پوٹاشیم کی حد سے زائد مقدار پائی گئی ہے...

بوتل بند پانی کے 22برانڈزمیں متعدد  بیماریوں کے جراثیم نکلے، پی ایس کیو سی   ناکام

منشیات کے عادی افراد کی تعداد 6.7 ملین سے بڑھ کر 9 ملین ہوگئی وجود - هفته 02 اکتوبر 2021

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول کا اجلاس سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 6.7 ملین سے بڑھ کر 9 ملین کے قریب ہے۔ منشیات کی لت میں پچھلے کچھ سالوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ 2023 میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے پاکستان میں سروے متوقع ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 2013 کے بعد نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پنجاب ، بلوچستان اور خیبر پختو...

منشیات کے عادی افراد کی تعداد 6.7 ملین  سے بڑھ کر 9 ملین ہوگئی

کورونا کے 37 فیصد مریض کسی ایک علامت کا طویل عرصے شکار رہتے ہیں، تحقیق وجود - جمعه 01 اکتوبر 2021

کورونا کے 37 فیصد مریض کسی ایک علامت کا طویل عرصے شکار رہتے ہیں۔ عالمی میڈیا آکسفورڈ یونیورسٹی کی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا کے37 فیصد مریض کسی ایک علامت کا طویل مدت تک شکار رہتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق،ان علامات میں مریضوں کے سانس لینے میں تکلیف، تھکن، درد اور اضطرابی کیفیات شامل ہیں۔تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ کورونا مریضوں میں ان میں سے کوئی ایک علامت 3 یا 6 ماہ تک رہتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ علامات زیادہ تر اسپتال میں زیرعلاج رہنے والے کورونا مریضوں اور خوات...

کورونا کے 37 فیصد مریض کسی ایک علامت کا طویل عرصے شکار رہتے ہیں، تحقیق

تمباکو نوشی کووڈ کی شدت بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق وجود - جمعرات 30 ستمبر 2021

کووڈ 19 کا شکار ہونا تمباکو نوشی کے عادی افراد کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔آکسفورڈ یونیورسٹی، برسٹل یونیورسٹی اور ناٹنگھم یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 4 لاکھ سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو کورونا وائرس کے شکار ہوئے تھے۔یہ افراد جنوری سے اگست 2020 کے دوران یو کے بائیو بینک اسٹڈی کا حصہ بنے تھے اور محققین نے ان میں تمباکو نوشی اور کووڈ کی شدت کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی۔تحقیق میں دریافت کی...

تمباکو نوشی کووڈ کی شدت بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

یوٹیوب پر ہر قسم کے ویکسین مخالف مواد پر پابندی عائد وجود - جمعرات 30 ستمبر 2021

یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم میں ہر طرح کی ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔کمپنی کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں یہ اعلان کیا گیا۔کمپنی کے مطابق کووڈ 19 سے ہٹ کر بھی عالمی ادارہ صحت یا ممالک میں منظوری حاصل کرنے والی ہر قسم کی ویکسینز کے اثرات کے خلاف گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کی جائے گی۔کمپنی کے مطابق صارفین کو کسی بھی ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن دعویٰ کرنے سے گریز کرنا چاہیے جیسے کسی ویکسین کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے استعمال سے دائمی مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہ...

یوٹیوب پر ہر قسم کے ویکسین مخالف مواد پر پابندی عائد

کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کو بوسٹر ڈوز کی ضرورت ہوتی ہے،ماہرین وجود - بدھ 08 ستمبر 2021

ماہرین نے کہاہے کہ کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کو بوسٹر ڈوز کی ضرورت ہوتی ہے۔ملک بھر میں عوام کے درمیان بوسٹر ڈوز کی افادیت سے متعلق سوالات ذہن میں ہیں۔ کورونا وائرس نے بدلتی شکل کے ساتھ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی جان لے چکی ہے۔اس عالمی وبا نے نہ صرف دنیا کو صحت کے حوالے سے پریشان کیا، بلکہ یہ وائرس معاشرتی و معاشی تباہی بھی کررہا ہے، کئی افراد اپنی نوکریوں یا کاروبار متاثر ہونے کے باعث مشکل مالی حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ویکسین کے سامنے آنے سے دنیا نے سکون کا سانس لیا ...

کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کو بوسٹر ڈوز کی ضرورت ہوتی ہے،ماہرین

مضامین
یہ رات کب لپٹے گی؟ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
یہ رات کب لپٹے گی؟

تماشا اور تماشائی وجود پیر 18 اکتوبر 2021
تماشا اور تماشائی

’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ

محنت رائیگاں نہیں جاتی وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
محنت رائیگاں نہیں جاتی

بیس کی چائے وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
بیس کی چائے

امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت

روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی