... loading ...

امریکا کے صدر براک اوباما نے گزشہ روز اپنی تقریر میں ان ناقص قوانین کو تنقید کا نشانہ بنایا جو دنیا بھر میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ تقریر ایک ایسے موقع پر کی گئی جب پوری دنیا میں “پاناما پیپرز” کے انکشافات کا ہنگامہ ہے۔ اوباما نے اسی لیے کہا کہ “ٹیکس سے فرار ایک بہت بڑا اور عالمی مسئلہ ہے، اس کا سنگین پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر معاملات قانونی تقاضوں پر پورے اترتے ہیں۔”
اس بیان کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ اور بھی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں ٹیکس فراریوں کے لیے سب سے بڑی جنت اس ملک کے علاوہ کوئی نہیں جہاں خود براک اوباما صدر بنے بیٹھے ہیں، جی ہاں! ریاست ہائے متحدہ امریکا!
رواں سال کے اوائل میں معروف ابلاغی ادارے بلومبرگ نے ریاست نیواڈا کو ٹیکس فراریوں کے لیے محفوظ ترین مقام دیا تھا، اب کہتا ہے کہ امریکا اور پاناما میں ایک قدر مشترک ہے۔ دونوں ٹیکس سے فرار اخیار کرنے والے اور رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے اپنے قوانین کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق سخت نہیں بنایا۔
“گزشتہ چند سالوں میں صحافیوں،ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والوں کی کڑی نظر کے باوجود ٹیکس فرار کا عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا ہے۔ ٹیکس سے فرار اختیار کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے 2014ء سے لگ بھگ 100 ممالک متفرق ہوئے ہیں کہ وہ بینک کھاتوں، ٹرسٹ اور بین الاقوامی صارفین کی دیگر سرمایہ کاری کو ظاہر کرنے کے لیے نئی شرائط لاگو کریں – وہ معیارات جو حکومت کے سرمائے سے چلنے والے بین الاقوامی پالیسی گروپ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظيم نے مرتب کیے ہیں۔”
مختصر یہ کہ جب اوباما کارپوریٹ ٹیکس فرار کی شکایت کر رہے تھے اور پاناما کو گھسیٹ رہے تھے تو دراصل وہ امریکا میں اس کی حوصلہ افزائی کررہے تھے۔
سوئٹزرلینڈ اور برمودا جیسے مقامات کم از کم بنیادی طور پر تر دیگر ممالک کے ٹیکس حکام کے ساتھ بینک کھاتے رکھنے والوں کی معلومات شیئر کرنے پر راضی ہیں۔ صرف چند ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے جن میں سب سے نمایاں امریکا ہے۔ دوسرا، ظاہر ہے، پاناما ہے۔
انسداد بدعنوانی کے امریکی گروپ گلوبل وٹنیس کی قائم مقام سربراہ اسٹیفنی اوسٹفیلڈ نے کہا کہ تازہ ترین رپورٹنگ پاناما میں رازدارانہ کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن جو بات اس سے بھی کم معلوم ہے کہ امریکا بھی اتنا ہی خفیہ مقام ہے جیسا کہ چند کیریبیئن ممالک اور پاناما ہیں۔ ہمیں دنیا بھر کے کالے دھن کے لیے محفوظ مقام نہیں بننا چاہیے، جو ہم بدقسمتی سے اس وقت ہیں۔
البتہ اوباما کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک اچھی تقریر کو حقائق گھسیڑ کر خراب نہ کریں اور یوں دنیا بھر کی “اشرافیہ” کے کالے دھن کا امریکا میں خیرمقدم کریں کہ چاہے وہ مجرمانہ سرگرمیاں رکھتے ہو یا نہیں اپنے پیسے کو پاناما سے نیواڈا، ویمنگ اور امریکا کے دیگر ایسے مقامات پر منتقل کریں کہ جو ٹیکس سے فرار اختیار کرنے والوں کے لیے جنت ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرون ملک امریکی اثاثوں پر تو خوب نظر رکھی جاتی ہے لیکن امریکا میں غیر ملکی اثاثوں کو چھپایا جاتا ہے۔
اب دنیا تو پاناما، برمودا، بہاماس، برٹش ورجن جزائر، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک کے نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگا رہی ہے لیکن امریکا دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں ‘بد اچھا، بدنام برا’۔
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...