... loading ...

پاناما پیپرز نے دنیا بھر کی اشرافیہ کی مالیاتی سرگرمیوں کی قلعی کھول دی ہے۔ کون کتنا شریف ہے، سب کے سامنے آ چکا ہے۔ پاکستان میں تو صرف شریف خاندان کے ناموں کا ہی ہنگامہ مچا ہوا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں کئی دیگر پردہ نشینوں کے بھی نام ہیں۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ماورائے ساحل ادارہ (آف شور کمپنی)بنانابڑا جرم ہے؟ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اب تک جو انکشافات ہوئے ہیں اس میں شریف خاندان کے لیے بہت زیادہ پریشان کن بات نہیں ہے۔
شریف خاندان کے علاوہ اب تک کم از کم 200 پاکستانیوں کے نام “پاناما پیپرز” کے ذریعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں بے نظیر بھٹو، رحمان ملک کے عزیزوں کے نام اور دیگر اہم سیاست دان اور معروف کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
قانونی طور پر ماورائے ساحل ادارہ وہ ہوتا ہے جو ٹیکس بچانے کی خاطر کسی دوسرے ملک میں قائم کیا جائے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے اداروں کا قیام اب معمول بن چکا ہے اور کاروباری دنیا کے کئی بڑے نام مختلف خطوں میں محصول پر ملنے والی رعایتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے اداروں کا ان علاقوں میں کرواتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک تو ایک طرف پاکستان جیسے ممالک میں بھی ہر بڑی کاروباری شخصیت محصول ادا نہیں کرنا چاہتی۔ یہ ماورائے ساحل اداروں کے قیام کا صرف ایک پہلو ہے۔ ایک دوسرا پہلو بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ سے حاصل کیا گیا پیسہ ہے۔ اگر احتساب بیورو جیسے ادارے تحقیقات کر بھی لیں تو جو کچھ دنیا کے سامنے ہو، وہی داؤ پر لگے گا جو ماورائے ساحل اداروں میں ہے، اس کا بھلا کس کو علم ہوگا؟ یہ ادارے کالے دھن کو سفید میں تبدیل کرنے کا بھی کام کرتے ہیں جو بلاشبہ ایک بڑا جرم ہے۔
پاناما پیپرز میں اب تک وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے رشہ داروں میں ثمینہ درانی اور الیاس مہراج، سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست جاوید پاشا، چودھری شجاعت حسین کے عزیز وسیم گلزار اور حج اسکینڈل میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملزم زین سکھیرا کے نام سامنے آ چکے ہیں جبکہ ملک کی جو معروف کاروباری شخصیات اس فہرست کے ذریعے منظر عام پر آئی ہیں ان میں صدر الدین ہاشوانی اور ملک ریاض کے علاوہ اینگرو کارپوریشن، لکی ٹیکسٹائل،حبیب بینک لمیٹڈ، برجر پینٹ، پیزا ہٹ، سورتی انٹرپرائزز کے مالکان اور اہم عہدیداران شامل ہیں۔ صرف لکی مروت کا پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والا سیف اللہ خاندان ہی 34 آف شور کمپنیوں کا مالک ہے۔ ذرائع ابلاغ میں جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمن، ایکسپریس گروپ کے ذوالفقار لاکھانی اور چینل 24 کے گوہر اعجاز کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
ویسے اگر بڑے کاروباری مراکز یا ان سے ملحقہ علاقوں کو ‘ٹیکس فری زون’ بنایا جائے تو سمجھ بھی آتا ہے لیکن ورجن جزائر جیسے دور دراز، غیر معروف مقامات پر ایسا کام ظاہر کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ورنہ ان جزائر کی کیا اہمیت کہ وہاں کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرکے ادارے قائم کیےجائیں؟ قانونی ماہرین و کہتے ہیں کہ ماورائے ساحل اداروں کا قیام جرم نہیں، یہ اسی صورت غلط ہوگا جب اس کے مالی لین دین میں جرائم کا پیسہ شامل ہوگا۔ اس قانونی سقم کے باوجود اس معاملے کی پوری تحقیقات کرنا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی کہ آیا ٹیکس سے فرار اختیار کرنا جرم نہیں ہے؟ پھر ان اداروں کا قیام صرف کاغذ پر ہونا اور ان کی بظاہر ملکیت کسی دوسرے کے نام ہونا بھی کافی کچھ بیان کرتا ہے۔ اس کےعلاوہ “پاناما پیپرز” نے شریف خاندان کی ساکھ پر جو دھبہ لگایا ہے، وہ اس وقت تک نہیں ہٹ سکے گا جب تک کہ تحقیقاتی ادارے اس کی مکمل تفتیش کرکے انہیں سبز جھنڈی نہیں دکھاتے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...