وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواز خاندان کے بیرون ملک خفیہ اثاثے منظرعام پر، پاناما پیپرز میں انکشاف

پیر 04 اپریل 2016 نواز خاندان کے بیرون ملک خفیہ اثاثے منظرعام پر، پاناما پیپرز میں انکشاف

nawaz-sharif
ہو سکتا ہے آپ نے کبھی ‘موساک فون سیکا’ کا نام نہ سنا ہو۔ یہ پاناما میں قانونی ماہرین کا ایک ادارہ ہے جو عالمی مالیاتی اداروں اور سیاسی اشرافیہ میں کافی مقبول ہے کیونکہ سیاسی شخصیات کو اپنی دولت کو خفیہ رکھنے اور بڑے مالیاتی اداروں کو اپنے ملکوں میں ٹیکس سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ تفتیشی صحافت کرنے والے صحافیوں کی ایک بین الاقوامی انجمن ‘تاریخ کا سب سے بڑا راز’ کھول کر اس ادارے کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لائی ہے جس نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ توقعات کے عین مطابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے خاندان کے بیرون ملک خفیہ اثاثوں کا بھی انکشاف ہوا ہے جس میں حسن اور حسین نواز اور مریم صفدر تینوں شامل ہیں۔

نواز خاندان کا رخ کرنے سے پہلے ان خفیہ دستاویزات کے بارے میں کچھ جان لیتے ہیں جنہیں ‘پاناما پیپرز’ کا نام دیا گیا ہے۔ موساک فون سیکا کا اہم ترین کام یہ ہے کہ وہ غیر ملکی افراد کو پاناما میں ایسے جعلی ادارے (شیل کمپنیاں) بنانے میں مدد دیتا ہے جہاں نہ صرف وہ اپنے مالیاتی اثاثے چھپا سکتے ہیں بلکہ ان کی اصل شناخت بھی محفوظ رکھی جاتی ہے۔ 1977ء میں قائم ہونے کے بعد سے اب تک یہ ادارہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر چکا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اس کے 40 دفاتر موجود ہیں اور صرف پاناما ہی نہیں بلکہ بہاماس، برٹش ورجن جزائر اور ٹیکس سے فرار کے لیے معروف دیگر مقامات پر بھی یہ ادارہ اپنی خدمات دیتا ہے۔

اب تک جو دستاویزات منظرعام پر آئی ہیں جن کا حجم 2.4 ٹیرابائٹس ہے اور یہ دنیا بھر کی اشرافیہ کا کچا چھٹا کھول رہی ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر دنیا، بلکہ ترقی یافتہ دنیا کے بھی، سیاست دان اور بڑے ادارے اپنے ملک میں ٹیکس کی زد سے بچنے کے لیے یہ حرکتیں کر رہے ہیں اور جعلی اداروں اور ان پناہ گاہوں کا رخ کرتے دکھائی دیے ہیں۔ اپنی دولت کو اس طرح خفیہ انداز میں ٹھکانے لگا کر نہ صرف یہ افراد ٹیکس سے بچ جاتے ہیں، بلکہ ہمارے سیاست دانوں کی طرح سرکاری کاغذات میں خود کو “غریب” بھی ظاہر کرتے ہیں۔اس کےعلاوہ اگر ادارہ دیوالیہ ہوتا ہے، یاکسی سیاست دان کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات ہوتی ہیں، تب بھی اس خفیہ دولت کا پتہ نہیں چلتا جو جعلی اداروں کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ ادارے اسٹاکس، بانڈز اور دیگر تمام مالیاتی اثاثے رکھتے ہيں اور ان بدعنوان افراد کی جانب سے چلائے جاتے ہیں۔ دولت چھپانے کا اس سے بہترین طریقہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اس لیے بدعنوانی، منشیات فروشی اور ایسے ہی قبیح دھندوں سے مال اکٹھا کرنے والے اپنی دولت کو انتظامیہ اور میڈیا کی نگاہوں سے دور رکھنے کے لیے ٹھکانے لگاتے ہیں اور یہ جعلی ادارے اس کام کے لیے بہترین ہیں۔

اب تک جو انکشافات ہوئے ہیں ان میں اہم ترین وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے اہل خانہ کی کئی ملین ڈالرز کی بیرون ملک جائیداد شامل ہے۔ حسین نواز اور حسن نواز کے علاوہ مریم صفدر بھی برٹش ورجن جزائر میں کم از کم چار ایسے ادارے رکھتے ہیں، جن کی لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں کم از کم 6 جائیدادیں ہیں۔ ان میں سے چار 7 ملین برطانوی پاؤنڈز کے قرضے پر ڈوئچے بینک کے پاس گروی ہیں جبکہ دو اپارٹمنٹس کی خریداری میں بینک آف اسکاٹ لینڈ کی جزوی سرمایہ کاری شامل ہے۔

مریم صفدر کے اداروں نیس کول لمیٹڈ اور نیلسن ہولڈز 1993ء اور 1994ء میں ورجن جزائر میں قائم کیے گئے تھے۔ مریم فروری 2006ء میں ایک قرارداد پر دستخط کے بعد ان اداروں کی واحد حصص یافتہ بنی تھیں۔

ان کے علاوہ حسن نواز بھی ورجن جزائم میں کم از کم ایک ادارے کے مالک ہیں۔ ہینگون پراپرٹیز ہولڈنگ لمیٹڈ فروری 2007ء میں بنایا گیا تھا جس کا ابتدائی سرمایہ 50 ہزار ڈالرز تھا۔

روس کے صدر ولادیمر پیوتن کے بھی 2 ارب ڈالرز کے اثاثہ جات کا علم ہوا ہے جبکہ سعودی عرب کے بادشاہ، ارجنٹائن کے صدر، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، یوکرین کے صدر اور متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے امیر کے نام بھی اس فہرست میں موجود ہیں۔ جارجیا، عراق، اردن، قطر اور یوکرین کے سابق وزرائے اعظم اور سابق صدر سوڈان کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں، قریبی عزیزوں اور کئی ممالک کی اہم ترین شخصیات بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ دوسرے ممالک میں اثاثے رکھنا قانوناً غلط نہیں ہے لیکن اس کے لیے یہ راستہ اختیار کرنا، جو ٹیکس ادائیگی سے بچائے، اور آپ کی معلومات کو خفیہ رکھے، مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

panama-papers


متعلقہ خبریں


مریم صفدر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ‘سینئر رہنما قبول کرنے کوتیار نہیں ایچ اے نقوی - جمعه 27 اکتوبر 2017

مریم صفدر جنھیں کچھ عرصہ پیشتر تک اس ملک کے سیاہ وسفید کامالک تصورکیاجاتاتھااور جن کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کونواز شریف کے منہ سے نکلی ہوئی بات تصورکرکے حرف آخر تصور کیاجاتا تھا جو ملک کے ہر چھوٹے بڑے فیصلوں میں شریک ہوتی تھیں اور اپنے والد کی تشہیر اور حکومت کے کارناموں کو اجاگر کرنے اورخامیوں اور خرابیوں کی پردہ پوشی کرنے کے لیے منظم انداز میں میڈیا سیل چلاتی تھیں ،اپنے والد پر ان کا اتنا اثر ورسوخ تھا کہ نواز شریف بعض اوقات ان کی بات اور مشوروں کو دوسروں یہاں تک کہ چوہ...

مریم صفدر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ‘سینئر رہنما قبول کرنے کوتیار نہیں

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی وجود - هفته 29 جولائی 2017

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت کے بعد اب اُن کا نام تمام قومی اور سرکاری جگہوں سے بتدریج ہٹایا جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے رکن اسمبلی کے طور پر اُن کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی ائیرپورٹ پر قائداعظم اور صدرِ مملکت ممنون حسین کے ساتھ اُن کی موجود تصویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوازشریف کو 28 جولائی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد فوری طور پر لندن میں بھی زیر بحث آگئی اور نوازشریف کی نااہلیت کے عدالتی فیصل...

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں وجود - هفته 29 جولائی 2017

٭3 اپریل 2016۔پاناما پیپرز (گیارہ اعشاریہ پانچ ملین دستاویزات پر مبنی ) کے انکشافات میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نوازشریف اور اْن کا خاندان منظر عام پر آیا۔ ٭5 اپریل 2016۔وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خاندان کے حوالے سے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عندیہ دیاتاکہ وہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے قیام کے حوالے سے اپنی تحقیقات کرے۔ ٭22 اپریل 2016- وزیراعظم کا دوسرا خطاب نشر کیا گیا جس میں اْنہوں نے یقین دلایا کہ اگر پاناما کیس کی تحقیقات میں ذمہ دار ثابت ہوئے...

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ انوار حسین حقی - هفته 29 جولائی 2017

عدالت ِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کی جانب سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے نے پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی اُس جدو جہد کو ثمر بار کیا ہے جو 2013 ء کے عام انتخابات کے فوری بعد سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو اُن کے مخالفین نے ر وایتی قرار دے کر حصول انصاف کی جدو جہد کو لا حاصل اور لکیر پیٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن...

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے  مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ

نوازشریف کی نااہلی عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ رانا خالد محمود - هفته 29 جولائی 2017

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے ...

نوازشریف کی نااہلی  عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

سیاسی قائدین کا اجلاس‘ عمران خان اور اسفند یار کی عدم شرکت سے کیا پیغام گیا؟ عارف عزیز پنہور - منگل 04 اکتوبر 2016

پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کے اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو شریک ہوئے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صد...

سیاسی قائدین کا اجلاس‘ عمران خان اور اسفند یار کی عدم شرکت سے کیا پیغام گیا؟

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں الطاف ندوی کشمیری - بدھ 28 ستمبر 2016

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کو جو پذیرائی کشمیر میں حاصل ہوئی ہے ماضی میں شاید ہی کسی پاکستانی حاکم یا لیڈر کی تقریر کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہو۔ کشمیر کے لیڈر، دانشور، صحافی، تجزیہ نگار، علماء، طلباء اور عوام کو اس تقریر کا بڑی بے صبری سے انتظار تھااگرچہ یہاں آج کل پاکستان کے تمام نیوزچینلزمکمل طور پر بند ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بھی گذشتہ ڈھائی مہینے سے بند ہیں، البتہ بھارتی نیوز چینلز کے ذریعے سے’ اس ...

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

چیلنج قبول کریں میاں صاحب! عبید شاہ - منگل 27 ستمبر 2016

اسپین میں ایک کہاوت ہے ‘ کسی کو دو مشورے کبھی نہیں دینے چاہئیں ایک شادی کرنے کا اور دوسرا جنگ پر جانے کا۔ یہ محاورہ غالباً دوسری جنگ عظیم کے بعد ایجاد ہوااس کا پس ِ منظر یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں یورپ میں مردوں کی تعداد نہایت کم ہو گئی تھی اور عورتیں آبادی کا بڑا حصہ بن گئی تھیں‘ ان حالاات میں حکومتوں نے شادی کے حوالے سے بہت سے معیارات پر نظرثانی کی اور آج یورپ میں شادی کے ادارے کی تحقیر اسی کا نقطۂ عروج ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اب تک کل چار جنگیں لڑی ہیں لیکن جنگ درحقی...

چیلنج قبول کریں میاں صاحب!

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

نواز شریف کی تقریر: کھسیانی بلی کا کھمبا رضوان رضی - اتوار 25 ستمبر 2016

میاں محمد نواز شریف کا سخت سے سخت ناقد بھی اس بات کا معترف ہورہا ہے کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بھرپور اور پاکستان جیسے اہم اسلامی ملک کے شایانِ شان تقریر کی۔ پاک بھارت شملہ معاہدے کے بعد کشمیر پر یہ پہلی سفارتی ’’جارحیت‘‘ ہے جس کا اعزاز بھی ایک منتخب جمہوری حکومت کو حاصل ہوا، ورنہ وردی والی جمہوریت کے دور میں تومعاملہ کبھی ملک میں موجود ’’نان ا سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کے خلاف عالمی مدد کی بھیک مانگنے کی جدوجہد سے آگے نہیں بڑھ پایا جو دراصل دہشت گردی میں ملوث ہونے ...

نواز شریف کی تقریر: کھسیانی بلی کا کھمبا

پاناما کے بعد’’بہاماس لیکس‘‘، انکشافات کی لہر کہاں جاکر تھمے گی؟ عارف عزیز پنہور - هفته 24 ستمبر 2016

ابھی پاناما لیکس کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا بھی نہ تھا کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ (آئی سی آئی جے) نے اس اسکینڈل کی اگلی قسط چھاپ دی، جس میں دنیا بھر کی ایسی شخصیات کے ناموں کے انکشاف کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے ملک میں عائد ٹیکسوں سے بچنے کے لیے جزائر بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ ان شخصیات میں 150 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جبکہ 70 سے زائد پاکستانی آف شور کمپنیوں کے وہاں رجسٹرڈ ہونے کا پتہ چلا ہے۔ بہاماس، ریاست ہائے متح...

پاناما کے بعد’’بہاماس لیکس‘‘، انکشافات کی لہر کہاں جاکر تھمے گی؟

وزیراعظم کا خطاب، بھارت میں ماتم، مقبوضہ کشمیر میں شادیانے شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطا ب کرتے ہوئے بھارت کوبڑی مدت بعد آئینہ دکھایا، جس کا چند ماہ پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہیدبرہان وانی کو تحریک آزادی کی علا مت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا تفصیلی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ حزب کے جواں سال رہنما برہان وانی 8جولائی کو شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد پوری کشمیری قوم نے بھارتی قبضے کے خلاف پر امن مظا ہروں کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی فورسز بے...

وزیراعظم کا خطاب،  بھارت میں ماتم، مقبوضہ کشمیر میں شادیانے