وجود

... loading ...

وجود

سرکاری اداروں کے ذریعے ایگزیکٹ اور بول کو شکار کرنے کا بھیانک کھیل جاری!

هفته 05 مارچ 2016 سرکاری اداروں کے ذریعے ایگزیکٹ اور بول کو شکار کرنے کا بھیانک کھیل جاری!

axact bol

پاکستان میں سرکاری اداروں کو بارسوخ افراد کے ہاتھوں استعمال کرنے کا بھیانک رجحان نوازشریف کے دور حکومت میں آخری حدوں کو چھونے لگا ہے۔ نواز حکومت میں ایگزیکٹ اور بول کوجس طرح شکار کیا گیا ہے، اور اُس میں ایف آئی اے سے لے کر قانونی نظام کی جکڑ بندیوں اور ریاستی طاقت کے جن ذرائع کو باربار استعمال کیا گیا ہے ، اُس نے صرف حکومت کو ہی بدنام نہیں کیا بلکہ قومی اداروں کو بھی بے وقار اور ناقابلِ اعتبار سطح پر کھڑا کردیا ہے۔

میر شکیل الرحمان اور سلطان لاکھانی کی خوشنودی کی خاطر نواز حکومت نے ایگزیکٹ اور بول کو روندنے کے لیے سرکاری اداروں کو آزاد کر دیا۔

ایگزیکٹ اور بول کے خلاف رچائی گئی بھیانک سازش میں سب سے پہلے ایک غیرملکی اخبار کی رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان کی موجودہ حکومت کے خلاف غیر ملکی اخبارات میں تقریباً روز ہی چھپنے والے خبروں کو پاکستان کے سب سے ’’ایماندار‘‘ وزیرداخلہ چودھری نثار نظر انداز کرتے رہتے ہیں ، مگر ایگزیکٹ کے خلاف کسی مدعی کے موجود نہ ہونے کے باوجود پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دو بڑے مالکان میر شکیل الرحمان اور سلطان لاکھانی کی خوشنودی کی خاطر نواز حکومت نے ایگزیکٹ اور بول کو روندنے کے لیے سرکاری اداروں کو آزاد کر دیا۔ ریاستی طاقت کے نجی استعمال کے اس بھیانک واقعے میں ہر طرح کے حربے تمام جگہوں سے استعمال کیے گیے، مگر سب سے زیادہ ایف آئی اے اور قانونی نظام کو اس سازش کا حصہ بنایا گیا۔ ایک طرف پاکستان کے تین بڑے ابلاغی ادارے جیو، ایکسپریس اور دنیا ہر قسم کے صحافتی ضوابط اخلاق اور معروضیت کو بالائے طاق رکھ کر الزامات کی بارش کرنے لگے اور عوامی رجحانات میں اس ادارے کو ایک بدعنوان ، آلودہ، غیر اخلاقی سرگرمیوں کامرکز ثابت کرنے کے لیے تُل گیے، تو دوسری طرف ایف آئی اے نے کسی غیر ملکی سرزمین کو فتح کرنے کے انداز میں اپنے اسلحہ خانے کو استعمال کرنا شروع کیا ۔ مگر حیرت انگیز طور پر جیو اور ایکسپریس میں لگائے گیے بے شمار الزامات میں سے کسی الزام کو کسی بھی سطح پر ثابت کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی مدعی، شہادت اور گواہ تک نہیں تھا۔

ایماندار وزیر داخلہ نے ابھی تک اپنے ماتحت ادارے ایف آئی اے سے یہ تک نہیں پوچھا کہ وہ ایگزیکٹ کے خلاف دس ماہ تک حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام کیوں رہے تھے؟ مئی 2015ء میں قائم کیے گیے مقدمےکا حتمی چالان اب جاکر 3مارچ 2016ء کو جمع کرایا گیا۔

چنانچہ ایگزیکٹ اور بول کے ساتھ وہی سلوک کیا جانے لگا جو روایتی داؤپیچ کے ساتھ مقدمہ الجھانے کے لیے لیت ولعل اور ٹال مٹول کی صورت میں کیا جا تا ہے۔ ایک طرف بے گناہ لوگوں کو ملزمان بنا کر گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ پھر اُن ملزمان کو مجرموں کی طرح قانون کی چکی میں پیسا جاتا ہے اور اُن کے حوصلوں کو شکستہ کردیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ مافیاؤں کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہ دکھا سکیں۔ چنانچہ جیو اور ایکسپریس کے الزامات کی بارش میں ایگزیکٹ کو ایف آئی اے کے ذریعے لگام دینے کے لیے وہی حربے آزمائے گیے۔ سب سے پہلے مئی 2015 میں ایگزیکٹ کے خلاف ایک ایسا مقدمہ بنایا گیا ، جس کا نہ تو کوئی مدعی تھا اور نہ ہی گواہ۔ پھر اس مقدمے کی آڑ میں ایک ایسے ادارے کو نشانہ بنایا گیا جو بالکل آزاد حیثیت میں کھڑا کیا گیا تھا اور جس کا ایگزیکٹ کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ جو الزامات ایگزیکٹ پر عائد کیے گیے تھے، اُس کا تعلق کسی بھی طرح سے بول کے ساتھ ، الزمات کی حد تک بھی نہیں تھا۔ مگر بول کا لائسنس منسوخ کردیا گیا۔ بول کے لائسنس کی منسوخی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پیمرا کے پاس کوئی مستقل چیئرمین ہی نہیں تھا۔’’ایماندار‘‘ وزیر داخلہ چودھری نثار نے بول کی سیکورٹی کلیئرنس واپس لے لی۔ حیرت انگیز طور پر طرح طرح کے نکتے ایجاد کرنے والے وزیرداخلہ کو یہ سامنے کی بات بھی نہیں سوجھی کہ اگر وزارت داخلہ نے پہلے ایک ادارے کو سیکورٹی کلیرنس دی تھی، اور اُسے اب واپس لیا گیا ہے تو کسی ایک موقع پر اُس نے اپنا درست کام نہیں کیا۔ یا تو وہ سیکورٹی کلیرنس دیتے وقت غلط تھی یا پھر سیکورٹی کلیرنس واپس لیتے وقت۔ ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں وزارت داخلہ کو سب سے پہلے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے تھا۔ مگر ’’ایماندار وزیر داخلہ‘‘ اپنا ہُنر اور ذوق شجاعت وقت ، موقع اور ہدف دیکھ کر آزماتے ہیں۔ اس لیے وہ اس نکتے کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گیے۔

ایماندار وزیر داخلہ نے ابھی تک اپنے ماتحت ادارے ایف آئی اے سے یہ تک نہیں پوچھا کہ وہ ایگزیکٹ کے خلاف دس ماہ تک حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام کیوں رہے تھے؟ مئی 2015ء میں قائم کیے گیے مقدمے کا حتمی چالان اب جاکر 3مارچ 2016ء کو جمع کرایا گیا۔اس زیادتی کا کوئی حساب اب تک وزیر داخلہ نے کیوں نہیں لیا؟ بہت دور اور دیر تک دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے ’’ایماندار ‘‘ وزیر داخلہ نے اب تک اس پر بھی کوئی دھیان کیوں نہیں دیا کہ ایگزیکٹ کے ملازمین کی ضمانت کا مقدمہ ایک دو تین بار نہیں کل ملاکر 26مرتبہ ملتوی کیوں ہوتا رہا؟’’ ایماندار ‘‘وزیر داخلہ چودھری نثار نے اب تک اس پر بھی دھیان نہیں دیا کہ آخر کیوں اس مقدمے میں چھ جج اپنا دامن چھڑا گیے؟ باریک بین وزیر داخلہ ذرا سی محنت بھی کیے بغیر یہ پہلو ٹٹول سکتے ہیں کہ جن ججوں نے اس مقدمے سے جان چھڑائی ، وہ دراصل کون تھے؟ اور یہ بھی کہ عام طور پر کسی مقدمے کی سماعت سے انکار کرنے والے ججز کے سامنے جن اعلیٰ عدالتی اقدار کا لحاظ ہوتا ہے، اُن میں سے کوئی بھی وجہ اس مقدمے سے جان چھڑانے کے لیے اُن کے پاس نہیں تھی؟ پھر کیوں؟ کیا ایماندار وزیر داخلہ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اس مقدمے میں عدالتی وقار سے کھیلنے کے لیے ایف آئی اے رات کی تاریکیوں میں کیا کھیل کھیل رہی ہے؟ کیا وہ یہ جاننے کی زحمت گوارا کریں گے کہ اس کے لئے اٹارنی جنرل کے دفتر کو مخصوص قسم کے پیغامات کہاں سے مل رہے ہیں؟ کیا وہ یہ پہلو ٹٹولنے کی کوشش کریں گے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کیوں جیو کا چہیتا ہے؟ اور اُن کے غلط بنائے گیے مقدمات کی سبکی سے بچانے کے لیے میر شکیل الرحمان اپنا اثرورسوخ وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر کتنا استعمال کررہے ہیں؟ اگر وہ ان سوالات کے جواب پالیں گے تو پھر اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ اُن کی ناک کے نیچے کون کون کیا کیا کررہا ہے؟


متعلقہ خبریں


ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ وجود - منگل 19 مئی 2026

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا وجود - منگل 19 مئی 2026

تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار وجود - منگل 19 مئی 2026

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا وجود - منگل 19 مئی 2026

پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پ...

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج وجود - پیر 18 مئی 2026

معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں وجود - پیر 18 مئی 2026

آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک وجود - پیر 18 مئی 2026

منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

مضامین
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

80سال پہلے ۔۔۔۔ وجود منگل 19 مئی 2026
80سال پہلے ۔۔۔۔

شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب وجود منگل 19 مئی 2026
شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب

مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !! وجود پیر 18 مئی 2026
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر