وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سرکاری اداروں کے ذریعے ایگزیکٹ اور بول کو شکار کرنے کا بھیانک کھیل جاری!

هفته 05 مارچ 2016 سرکاری اداروں کے ذریعے ایگزیکٹ اور بول کو شکار کرنے کا بھیانک کھیل جاری!

axact bol

پاکستان میں سرکاری اداروں کو بارسوخ افراد کے ہاتھوں استعمال کرنے کا بھیانک رجحان نوازشریف کے دور حکومت میں آخری حدوں کو چھونے لگا ہے۔ نواز حکومت میں ایگزیکٹ اور بول کوجس طرح شکار کیا گیا ہے، اور اُس میں ایف آئی اے سے لے کر قانونی نظام کی جکڑ بندیوں اور ریاستی طاقت کے جن ذرائع کو باربار استعمال کیا گیا ہے ، اُس نے صرف حکومت کو ہی بدنام نہیں کیا بلکہ قومی اداروں کو بھی بے وقار اور ناقابلِ اعتبار سطح پر کھڑا کردیا ہے۔

میر شکیل الرحمان اور سلطان لاکھانی کی خوشنودی کی خاطر نواز حکومت نے ایگزیکٹ اور بول کو روندنے کے لیے سرکاری اداروں کو آزاد کر دیا۔

ایگزیکٹ اور بول کے خلاف رچائی گئی بھیانک سازش میں سب سے پہلے ایک غیرملکی اخبار کی رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان کی موجودہ حکومت کے خلاف غیر ملکی اخبارات میں تقریباً روز ہی چھپنے والے خبروں کو پاکستان کے سب سے ’’ایماندار‘‘ وزیرداخلہ چودھری نثار نظر انداز کرتے رہتے ہیں ، مگر ایگزیکٹ کے خلاف کسی مدعی کے موجود نہ ہونے کے باوجود پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دو بڑے مالکان میر شکیل الرحمان اور سلطان لاکھانی کی خوشنودی کی خاطر نواز حکومت نے ایگزیکٹ اور بول کو روندنے کے لیے سرکاری اداروں کو آزاد کر دیا۔ ریاستی طاقت کے نجی استعمال کے اس بھیانک واقعے میں ہر طرح کے حربے تمام جگہوں سے استعمال کیے گیے، مگر سب سے زیادہ ایف آئی اے اور قانونی نظام کو اس سازش کا حصہ بنایا گیا۔ ایک طرف پاکستان کے تین بڑے ابلاغی ادارے جیو، ایکسپریس اور دنیا ہر قسم کے صحافتی ضوابط اخلاق اور معروضیت کو بالائے طاق رکھ کر الزامات کی بارش کرنے لگے اور عوامی رجحانات میں اس ادارے کو ایک بدعنوان ، آلودہ، غیر اخلاقی سرگرمیوں کامرکز ثابت کرنے کے لیے تُل گیے، تو دوسری طرف ایف آئی اے نے کسی غیر ملکی سرزمین کو فتح کرنے کے انداز میں اپنے اسلحہ خانے کو استعمال کرنا شروع کیا ۔ مگر حیرت انگیز طور پر جیو اور ایکسپریس میں لگائے گیے بے شمار الزامات میں سے کسی الزام کو کسی بھی سطح پر ثابت کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی مدعی، شہادت اور گواہ تک نہیں تھا۔

ایماندار وزیر داخلہ نے ابھی تک اپنے ماتحت ادارے ایف آئی اے سے یہ تک نہیں پوچھا کہ وہ ایگزیکٹ کے خلاف دس ماہ تک حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام کیوں رہے تھے؟ مئی 2015ء میں قائم کیے گیے مقدمےکا حتمی چالان اب جاکر 3مارچ 2016ء کو جمع کرایا گیا۔

چنانچہ ایگزیکٹ اور بول کے ساتھ وہی سلوک کیا جانے لگا جو روایتی داؤپیچ کے ساتھ مقدمہ الجھانے کے لیے لیت ولعل اور ٹال مٹول کی صورت میں کیا جا تا ہے۔ ایک طرف بے گناہ لوگوں کو ملزمان بنا کر گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ پھر اُن ملزمان کو مجرموں کی طرح قانون کی چکی میں پیسا جاتا ہے اور اُن کے حوصلوں کو شکستہ کردیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ مافیاؤں کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہ دکھا سکیں۔ چنانچہ جیو اور ایکسپریس کے الزامات کی بارش میں ایگزیکٹ کو ایف آئی اے کے ذریعے لگام دینے کے لیے وہی حربے آزمائے گیے۔ سب سے پہلے مئی 2015 میں ایگزیکٹ کے خلاف ایک ایسا مقدمہ بنایا گیا ، جس کا نہ تو کوئی مدعی تھا اور نہ ہی گواہ۔ پھر اس مقدمے کی آڑ میں ایک ایسے ادارے کو نشانہ بنایا گیا جو بالکل آزاد حیثیت میں کھڑا کیا گیا تھا اور جس کا ایگزیکٹ کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ جو الزامات ایگزیکٹ پر عائد کیے گیے تھے، اُس کا تعلق کسی بھی طرح سے بول کے ساتھ ، الزمات کی حد تک بھی نہیں تھا۔ مگر بول کا لائسنس منسوخ کردیا گیا۔ بول کے لائسنس کی منسوخی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پیمرا کے پاس کوئی مستقل چیئرمین ہی نہیں تھا۔’’ایماندار‘‘ وزیر داخلہ چودھری نثار نے بول کی سیکورٹی کلیئرنس واپس لے لی۔ حیرت انگیز طور پر طرح طرح کے نکتے ایجاد کرنے والے وزیرداخلہ کو یہ سامنے کی بات بھی نہیں سوجھی کہ اگر وزارت داخلہ نے پہلے ایک ادارے کو سیکورٹی کلیرنس دی تھی، اور اُسے اب واپس لیا گیا ہے تو کسی ایک موقع پر اُس نے اپنا درست کام نہیں کیا۔ یا تو وہ سیکورٹی کلیرنس دیتے وقت غلط تھی یا پھر سیکورٹی کلیرنس واپس لیتے وقت۔ ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں وزارت داخلہ کو سب سے پہلے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے تھا۔ مگر ’’ایماندار وزیر داخلہ‘‘ اپنا ہُنر اور ذوق شجاعت وقت ، موقع اور ہدف دیکھ کر آزماتے ہیں۔ اس لیے وہ اس نکتے کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گیے۔

ایماندار وزیر داخلہ نے ابھی تک اپنے ماتحت ادارے ایف آئی اے سے یہ تک نہیں پوچھا کہ وہ ایگزیکٹ کے خلاف دس ماہ تک حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام کیوں رہے تھے؟ مئی 2015ء میں قائم کیے گیے مقدمے کا حتمی چالان اب جاکر 3مارچ 2016ء کو جمع کرایا گیا۔اس زیادتی کا کوئی حساب اب تک وزیر داخلہ نے کیوں نہیں لیا؟ بہت دور اور دیر تک دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے ’’ایماندار ‘‘ وزیر داخلہ نے اب تک اس پر بھی کوئی دھیان کیوں نہیں دیا کہ ایگزیکٹ کے ملازمین کی ضمانت کا مقدمہ ایک دو تین بار نہیں کل ملاکر 26مرتبہ ملتوی کیوں ہوتا رہا؟’’ ایماندار ‘‘وزیر داخلہ چودھری نثار نے اب تک اس پر بھی دھیان نہیں دیا کہ آخر کیوں اس مقدمے میں چھ جج اپنا دامن چھڑا گیے؟ باریک بین وزیر داخلہ ذرا سی محنت بھی کیے بغیر یہ پہلو ٹٹول سکتے ہیں کہ جن ججوں نے اس مقدمے سے جان چھڑائی ، وہ دراصل کون تھے؟ اور یہ بھی کہ عام طور پر کسی مقدمے کی سماعت سے انکار کرنے والے ججز کے سامنے جن اعلیٰ عدالتی اقدار کا لحاظ ہوتا ہے، اُن میں سے کوئی بھی وجہ اس مقدمے سے جان چھڑانے کے لیے اُن کے پاس نہیں تھی؟ پھر کیوں؟ کیا ایماندار وزیر داخلہ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اس مقدمے میں عدالتی وقار سے کھیلنے کے لیے ایف آئی اے رات کی تاریکیوں میں کیا کھیل کھیل رہی ہے؟ کیا وہ یہ جاننے کی زحمت گوارا کریں گے کہ اس کے لئے اٹارنی جنرل کے دفتر کو مخصوص قسم کے پیغامات کہاں سے مل رہے ہیں؟ کیا وہ یہ پہلو ٹٹولنے کی کوشش کریں گے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کیوں جیو کا چہیتا ہے؟ اور اُن کے غلط بنائے گیے مقدمات کی سبکی سے بچانے کے لیے میر شکیل الرحمان اپنا اثرورسوخ وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر کتنا استعمال کررہے ہیں؟ اگر وہ ان سوالات کے جواب پالیں گے تو پھر اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ اُن کی ناک کے نیچے کون کون کیا کیا کررہا ہے؟


متعلقہ خبریں


وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ وجود - پیر 12 اپریل 2021

وزیر اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان فواد چوہدری کو دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ذرائع کے مطابق اتوار کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری خصوصی طورپر جہلم سے اسلام آباد پہنچنے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فواد چوہدری کو اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان دینے کا فیصلہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو اضافی ذمہ داریاں ملنے کا نوٹیفکیشن (آج) پیر تک جاری ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو وزارتِ...

وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی وجود - پیر 12 اپریل 2021

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی ہے ۔فافن نے گزشتہ روز این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر اپنی رپورٹ جاری کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ انتخاب شفاف رہے ، الیکشن عملے نے توجہ سے انتخابی عمل سرانجام دیا۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب میں انتخابی خلاف ورزیوں کے واقعات کم رونما ہوئے ، فافن عملے نے الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔فافن رپورٹ کے مطابق 193 میں...

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا وجود - پیر 12 اپریل 2021

کراچی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا۔الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ اطلاع ہے کہ آپ حلقے میں پی ٹی آئی امیدوار کے جلسے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ حلقے میں آپ کی موجودگی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔خیال رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 کی یہ نشست فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد ہی خالی ہوئی ہے ، جنھوں نے 2018 کے عام...

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد وجود - پیر 12 اپریل 2021

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جنوبی افریقا پر پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد کردیا۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقی کپتان ہینرچ کلاسن نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلے کو قبول کرلیا ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل وجود - هفته 10 اپریل 2021

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز باقاعدہ شامل ہوگئے ۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے 6 آزاد اراکین پر مشتمل سینیٹرز کے نئے آزاد گروپ کا سرکولر جاری کردیا۔سینیٹر دلاور خان آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے ہیں۔فاٹا کے دو آزاد اراکین سینیٹر ہلال الرحمن، سینیٹر ہدایت اللّٰہ آزاد گروپ میں شامل ہوگئے ۔

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد وجود - هفته 10 اپریل 2021

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ جوا کی کے پہاڑی علاقے میں مارچ 2012 میں اجتماعی قبروں سے 50 سے زائد لاشیں ملی تھیں۔

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں وجود - هفته 10 اپریل 2021

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے مطابق عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے رواں سال مارچ کے مہینے میں جون 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور دودھ کے نرخوں میں اضافہ ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس، جو اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے ، کے مطابق ان کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطاً 118.5 پوائنٹس ...

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت وجود - هفته 10 اپریل 2021

ترکی نے اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریغی کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان پر یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین کی توہین کرنے اور انہیں آمر کہنے کے الزامات عائد کرنے کی مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے منگل کے روز انقرہ میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے مطابق کمیشن کے سربراہ کو ملاقات میں کرسی نہ مل سکی تھی کیونکہ اس ملاقات کے دوران صرف دو کرسیاں تیار کی گئی تھیں جس پر یورپی کونسل کے صدر اور ترک صدر بیٹھ گئے تھے ۔طیب اردوان ا...

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے وجود - هفته 10 اپریل 2021

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شوہر، برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک رائل کونسورٹ کے عہدے پر رہنے والے شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔شہزادہ فلپ کی موت کا اعلان شاہی خاندان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ٹوئٹ میں کیا گیا۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزاد فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نہیں رہے ۔رائل فیملی کی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ شہزادہ فلپ کی اچانک موت آج (9اپریل کی) صبح کو ونڈسر محل میں ہوئی۔بیان میں کہا گ...

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان وجود - هفته 10 اپریل 2021

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق ماہرین فلکیات نے بتایا کہ اس سال سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان المبارک میں 30 روزے اور چار جمعے ہوں گے ۔ماہرین کے مطابق رواں برس سعودی عرب میں عید الفطر 13 مئی کو ہونے کی توقع ہے ۔

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق وجود - هفته 10 اپریل 2021

نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والی مائیں کووڈ 19 ویکسین سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز اپنے دودھ کے ذریعے کئی ماہ تک بچوں میں منتقل کرتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں 5 ماؤں کو شامل کیا گیا تھا جن کو فائزر/بائیو این ٹیک کورونا وائرس استعمال کرائی گئی تھی۔تحقیق میں ان ماؤں کے دودھ کے نمونوں میں ویکسین کی پہلی خوراک سے قبل اینٹی باڈیز کی سطح کو دیکھا گیا اور پھر ویکسین کے بعد 80 دن تک روانہ کی بنیاد پر ...

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قومی مردم شماری کے نتائج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، اختلافات برقرارہیں، پیر کوورچوئل اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی سی آئی کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ طویل مدت سے آئینی تقاضے سے انحراف کیاجا رہا تھا آئین کے تحت سی سی آئی کا مستقل سکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 44 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزراء اور حکام شریک ہوئے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں...

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار