وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

جمعه 04 مارچ 2016 جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

corruption

پاکستان کے اندر جاری مسلسل اقتصادی دہشت گردی کے ایک واقعاتی جائزے میں گزشتہ تحریر میں آٹھ نکات کے ذریعے اُس عمل کا ایک جوہری تذکرہ کیا گیا تھا، اگلے کچھ نکات اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ فراڈ، بے ایمانی اور منی لانڈرنگ سے قومی خزانے کو کہاں کہاں سے اور کتنا کتنا نقصان پہنچایا گیا۔

9۔ اندرونی تجارت اور آزگرد نائن حصص میں امتناعی سرگرمیاں

آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری بازار حصص میں سب سے بڑی جعل سازیوں میں سے ایک تھی۔ جس کی تحقیقات ایس ای سی پی نے بینک دولت پاکستان کی فراہم کردہ مدد کے ذریعے کی۔ اس میں 2007-8ء کے دوران جے ایس گروپ آف کمپنیز اور ان کے بندوں کی جانب سے کی گئی منی لانڈرنگ اور بڑے پیمانے پر فراڈ کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اے این ایل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کی وجہ سے اندازہ ہے کہ اس معاملے میں عوام اور مالیاتی اداروں کو 5.67 بلین روپے کا نقصان پہنچا۔

اے این ایل رپورٹ علی جہانگیر اور جے ایس گلوبل کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کے متعدد مواقع اور ان کے بندوں کی جانب سے مختلف کھاتوں سے نقد رقوم نکالنے کے واقعات کو نمایاں کرتی ہے (دلچسپ بات یہ کہ ان کے کھاتے بھی جے ایس بینک میں تھے)۔

ایس ای سی پی نے حصص کی قیمت میں ہیرا پھیری اور فراڈ کے ظاہر ہونے پر اپریل 2013ء میں ایڈیشنل سیشن جج (ساؤتھ) کراچی کے روبرو سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کی دفعہ 17 آر/ڈبلیو 24 کے تحت ایک فوجداری مقدمہ دائر کیا۔ سیشن کورٹ نے 22 اپریل 2013ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ایس ای سی پی نے اہم ڈائریکٹرز آف کمپنیز کے نام خارج کردیے تھے جو اے این ایل فراڈ میں ملوث تھے۔

اے این ایل میں مارکیٹ ہیرا پھیری کے پورے منصوبے میں مناف ابراہیم کا کردار بھی اہم ہے کہ جن کا حوالہ ایس ای سی پی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ وہ جے ایس سی ایل کے سی ای او تھے

جے ایس انوسٹمنٹ کمپنی نے نے ہائی کورٹ میں 2013ء کی سی پی نمبر 1985 داخل کی جہاں منی بل کے ذریعے چند ترامیم متعارف کروائی گئیں، جس میں ایس ای سی پی قانون کے متعلق چند اختیارات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی اہلیت کو اور حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری، بد دیانتی اور عوام سے فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم کو جانچے بغیرعدالتی کارروائی جاری رہی۔ ایس ای سی پی نے اپنے ہی مقدمے کی یقین کے ساتھ پیروی نہیں کی جس کی وجوہات وہی نہیں ایک دنیا جانتی ہے۔سیکورٹیز مارکیٹ ڈویژن اور لٹیگیشن ڈویژن کی سربراہی اس وقت ظفر عبد اللہ کر رہے تھے، جو جے ایس گروپ کی کمپنی کروسبی سیکورٹیز کے سابق ملازم بھی تھے۔اور کروسبی ڈریگن فنڈ آزگرد نائن کی ہیراپھیری میں شامل تھا۔ یہ سیدھا سادا مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ یہ ایک طرح سے دودھ کے چوری ہونے کی تحقیقات بلّے سے کروانے جیسا تھا۔

وجود ڈاٹ کام اس معاملے کی کسی بھی طرح کی تحقیق میں نیب کی جانب سے ایس ای سی پی، بینک دولت پاکستان اور نیشنل بینک کو بھیجے گئے تمام خطوط کے علاوہ متعلقہ تمام دستاویزات بھی پیش کر سکتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اے این ایل کے حوالے سے 7 مئی 2009ء کو روزنامہ جنگ میں ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی۔ تب سمدھی کے مفادات کی نگرانی کے لیے جنگ نے اپنی ساکھ داؤ پر نہیں لگا رکھی تھی۔ اور رشتے کی بیل بھی منڈھے نہیں چڑھی تھی۔

اے این ایل نے 23.7 ملین یوروز یعنی لگ بھگ 2.6 بلین روپے میں ایک سوئیڈش کمپنی خریدی جو فاریٹال کے نام سے مشہور ہے (شاخ مونٹی بیلی)۔ یہ اے این ایل کے لیے ایک نقصان تھا اور اس کے لیے پیسہ ممکنہ طور پر اے این ایل سے غیر قانونی طے پر نکالا گیا۔ فاریٹال کا اصل مالک کون تھا یہ معاملہ اب بھی تحقیق طلب ہے۔

وجود ڈاٹ کام کے پاس محفوظ ایک دستاویز میں اس معاملے کی مکمل تحقیقاتی تفصیلات، 5.933 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کے معاملات، فراڈ/ بددیانتی اور عوامی اور مالیاتی اداروں کو 14.385 بلین روپے کے نقصان اور بینک دیوالیہ پن اور قومی خزانے کو 20.338 بلین روپے کا نقصان پہنچانے کی حیرت انگیز تفصیلات موجود ہیں۔ جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کی گردن ناپنے کے لیے کسی بھی وقت کھول سکتے ہیں۔

JS-Investments

10۔ جے ایس گروپ کی جانب سے فرنٹ مین کا استعمال

جے ایس گروپ نے اپنی آخری مالیاتی دہشت گردی میں اپنے جرائم کے لیے مختلف محاذ استعمال کیے۔ اے این ایل کیس میں ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ نے جے ایس گروپ کے طریقوں کو ریکارڈ کیا کہ جہاں علی جہانگیر اور جے ایس سیکورٹیز کے مناف ابراہیم نے مارکیٹ فراڈ کے لیے اپنے ملازمین کی جعلی شناخت استعمال کیں۔

الف) محبوب علی کلیار کا کردار جو آزگرد نائن فراڈ میں علی جہانگیر کا فرنٹ مین تھا

علی جہانگیر جے ایس سی ایل اور اے این ایل میں ڈائریکٹر تھے اور محبوب علی کلیار اور ان کے بھائی معقوش علی کلیار جیسے فرنٹ مینوں کے ذریعے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری میں ان کا کردار اہم تھا۔ جیسا کہ ایس ای سی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، البتہ اس کے باوجود جے ایس گروپ نے ایس ای سی پی میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے علی جہانگیر کا نام مقدمے سے نکلوا لیا۔ ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ اے این ایل فراڈ میں علی جہانگیر کے واضح کردار کو ظاہر کرتی ہے:

i-صفحہ نمبر 25 میں بتایا ہے کہ محبوب علی، جہانگیر کا ذاتی اسسٹنٹ تھا جس کا بھائی معشوق علی کلیار سینٹرل ڈپازیٹری کمیٹی میں کام کرتا تھا (انہیں اے این ایل معاملے میں ملزم قرار دیا گیا تھا)۔ محبوب کلیار کا ایک اور بھائی عاشق علی کلیار کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کام کرتا ہے۔

ii- صفحہ 26 اور 27 میں کروسبی گروپ اور سعد سعید فاروقی (عدالت میں دائر ایس ای سی پی مقدمے کے ایک اور ملزم) سے تعلقات کو ظاہر ہوتے ہیں۔

iii- صفحہ 41 میں محبوب علی کلیار اور معشوق علی کلیار کو مشترکہ کیپٹل مارکیٹ آپریشنز کا ذکر کیا گیا ہے۔

iv- صفحہ 62 میں محبوب کلیار کے اکاؤنٹ کھولنے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو اے اے بی ایس، اے این ایل، ای ایف یو ایل، جے ایس سی ایل اور جے ایس جی سی ایل کے حصص پر 8.9 ملین ڈالرز کی تنصیب چلا رہے تھے، یہ سب جے ایس گروپ کے ادارے ہیں۔

v- صفحہ 62 بتاتا ہے کہ علی جہانگیر کے بینک اکاؤنٹ سے اس کے محبوب کلیار کے نام سے بنے اکاؤنٹ میں 3,685,484, روپےکی تین بڑی رقوم اکاؤنٹ میں منتقل ہوئیں۔

vi- صفحہ 64 اور 65 حوالہ دیتا ہے کہ سعد سعید فاروقی نے جے ایس گلوبل سے 180ملین روپے حاصل کیے اور یہی رقم پوری کی پوری علی جہانگیر کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔

vii۔ صفحہ 144 بتاتا ہے کہ دو مواقع ایسے تھے کہ جب 90 ملین روپے کی دو ادائیگیاں علی جہانگیر کو کی گئی تھیں، بالکل ویسے ہی سعد فاروقی کے ذریعے۔

  • 23 اپریل 2008ء کو کروسبی سیکورٹیز پاکستان نے سعد فاروقی کو 91 ملین روپے ادا کیے، اور اُنہوں نے 24 اپریل 2008ء کو 90 ملین علی جہانگیر کو دیے۔
  • 13 مئی 2008ء کو جے ایس گلوبل نے 90 ملین سعد فاروقی کو دیے جنہوں نے 14 مئی کو پوری رقم علی جہانگیر کو دے دی۔
  • سعد فاروقی نے 19 اپریل 2008ء کو 143 ملین روپے جے ایس کیپٹل سے حاصل کیے اور پوری رقم نقد کی صورت میں نکالی۔
  • اتنی بڑی رقم نکلوانے کا معاملہ منی لانڈرنگ کا بھی ہو سکتا ہے۔

viii- صفحہ نمبر 145 محبوب علی کلیار کی ہیرا پھیری کے اسی منصوبے میں دیگر اراکین کے ساتھ باہمی سودوں کو ظاہر کرتےہیں۔

ix۔ صفحہ 157 تا 162 محبوب علی اور معشوق علی کلیار کی مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

x۔ صفحہ 158 حوالہ دیتا ہے کہ محبوب علی مئی 2007ء تک جے ایس سی ایل سے 22,347 روپے ماہانہ تنخواہ لیتا تھا۔

xi۔ صفحہ 159 محبوب علی کے مائی بینک اکاؤنٹ کے حوالے پیش کرتا ہے کہ جہاں علی جہانگیر ان کے تعارف کنندہ تھے اور محبوب نے علی جہانگیر کے بینک کھاتے سے رقوم بھی وصول کیں۔

ب) علی جہانگیر اور مناف ابراہیم کے فرنٹ مین محبوب کلیار کے ٹیکس فراڈ

یہ حیران کن بات ہے کہ 22,347 روپے تنخواہ رکھنے والا آدمی نہ صرف کئی ملین روپے کے لین دین میں شامل ہو بلکہ فلیٹوں اور پلاٹوں سمیت 35 جائیدادوں کا مالک بھی ہو۔ ان کے ویلتھ ٹیکس ریٹرنز ان تمام جائیدادوں کی تفصیلات رکھتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں جے ایس گروپ کے اہم رکن مناف ابراہیم کی طرف سے دیا گیا 60 ملین روپے کا قرضہ بھی شامل ہے۔ ٹیکس ریٹرن یہ بھی حوالہ دیتا ہے کہ محبوب کلیار نے 2008ء میں ٹیکس معافی اسکیم کا فائدہ بھی اٹھایا اور معافی شدہ ٹیکس ادا کیا۔ مندرجہ ذیل جدول ان کی دولت کی سال بہ سال تفصیلات پیش کرتا ہے:

[table id=10 /]

مناف ابراہیم کی طرف سے قرضہ ٹھوس ثبوت دیتا ہے کہ جے ایس گروپ نے اے این ایل فراڈ کے لیے فرنٹ مین استعمال کیے۔ محبوب کلیار کی جانب سے دولت اکٹھی کرنے کی تحقیقات اور یہ کہ انہوں نے 2008ء میں ایمینسٹی استعمال کی، جہانگیر صدیقی کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے اکٹھی کی گئی دولت کی شہادت دیتی ہے اور یہ بھی کہ خاندان جعلی کھاتے استعمال کرتا ہے۔

Azgard9

ج) آزگرد نائن معاملے میں علی جہانگیر کے فرنٹ مین سعد فاروقی کا کردار

ایس ای سی پی کی جانب سے دائر کردہ معاملے میں سعد فاروقی کو آزگرد فراڈ میں شامل ہونے کا ملزم ٹہرایا گیا تھا۔ علی جہانگیر کے ساتھ ان کی وابستگی ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کا صفحہ 44 تین ایسے مواقع کا حوالہ دیتا ہے کہ جن میں 90 ملین روپے کی تین ادائیگیاں جے ایس گلوبل کیپٹل اور کروسبی سیکورٹیز کی جانب سے سعد فاروقی کو کی گئیں اور یہی رقوم 24 گھنٹے کے اندر اندر جہانگیر صدیقی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئیں۔

د) سی ای او اور ڈائریکٹر جے ایس سی ایل مناف ابراہیم فرنٹ مینوں کے ذریعے اے این ایل میں کردار

اس طرح اے این ایل میں مارکیٹ ہیرا پھیری کے پورے منصوبے میں مناف ابراہیم کا کردار بھی اہم ہے کہ جن کا حوالہ ایس ای سی پی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ وہ جے ایس سی ایل کے سی ای او تھے اور صادق پٹنی اور شازیہ صادق جیسے فرنٹ مین استعمال کرتے رہے کہ جنہیں ایس ای سی کی رپورٹ میں مورد الزام ٹہرایا گیا۔ صادق پٹنی جے ایس سی ایل میں ملازم تھے کہ جن کی تنخواہ 15,999 روپے ماہانہ تھی (حوالہ رپورٹ صفحہ 61) اور کئی ملین روپے کے مالی لین دین صادق پٹنی کے اکاؤنٹ سے کیے گئے اور اس طرح 8 ملین اور 10 ملین روپے کی ادائیگیاں جے ایس سی ایل کے سی ای او مناف ابراہیم کو کی گئیں۔ چند کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

ایس ای سی پی کی جانب سے دائر کردہ معاملے میں سعد فاروقی کو آزگرد فراڈ میں شامل ہونے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ علی جہانگیر کے ساتھ ان کی وابستگی ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے

i۔ صفحہ 18 اور 25 شازیہ صادق کا حوالہ دیتے ہیں (جو محمد صادق کی اہلیہ ہیں) اور انہوں نے مناف ابراہیم کے فرنٹ مین کا کردار اد کیا۔

ii۔ صفحہ 54 اور 55 عزیز فدا حسین اور جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ جیسے دو بڑے بروکریج ہاؤسز کے درمیان ہیراپھیری کی بڑی اسکیم میں تعلق کا مالیاتی ربط شناخت کرتے ہیں کہ جو مناف ابراہیم کے فرنٹ مین صادق پٹنی کے ذریعے کی گئی۔ اس نے مناف خاندان کے دیگر افراد کے بینکوں کا بھی استعمال دیکھا جیسا کہ ان کی بہن مبینہ امان اللہ اور والدہ امینہ صاحبہ۔

iii۔ صفحہ 61 حوالہ دیتا ہے کہ صادق جے ایس سی ایل میں آفس اسسٹنٹ تھے جن کی ماہانہ تنخواہ 15,999 روپے تھی جبکہ ان کی اہلیہ شازيہ صادق ایک گھریلو خاتون ہیں۔یہ بھی حوالہ دیتا ہے کہ شازیہ صادق کا اکاؤ نٹ طارق عثمان بھٹی، سابق ڈائریکٹر جے ایس گروپ نے متعارف کروایا تھا۔

iv۔ صفحہ 61 مناف ابراہیم کو 8 ملین اور 10 ملین روپے کی رقم کی ادایگی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ 5.4 ملین روپے کا ایک پے آرڈر مبینہ امان اللہ کو جاری کیا گيا تھا، جو مناف ابراہیم کی بہن ہیں۔ ایک اور چیک جو 15 نومبر 2007ء کو شازيہ نے نکلوایا 17.8 ملین روپے کا تھا اور جزوی طور پر (12 ملین روپے) مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں ڈلوائے گئے۔

v۔ صفحہ 62 بتاتا ہے کہ شازيہ صادق کا بینک اکاؤنٹ جے ایس عہدیداران بالخصوص مناف ابراہیم کی جانب سے استعمال کیا جاتا رہا۔

vi۔ صفحہ 64 مناف ابراہیم کے فرنٹ مین کے حوالے سے مالیاتی سودوں کا حوالہ دیتا ہے۔

vii۔ صفحہ 148 شازیہ صادق کے مالی سودوں کا ذکر کرتا ہے

viii۔ صفحہ 151 صادق پٹنی کی جانب سے جاری کیے گئے 18 ملین کے چیک کا حوالہ دیتا ہے جو ایک اور اکاؤنٹ میں جاری کیے گئے اور وہاں سے 13 نومبر 2007ء کو مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔ اس میں ایک جدول بھی شامل ہے جو بتاتا ہے کہ یہ رقم مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں کیسے آئی۔

ix۔ صفحہ 156 فرنٹ مین کے ذریعے مناف ابراہیم کی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

x۔ صفحہ 198 مناف ابراہیم کی چیک تفصیلات اور فراڈ کے لیے ان کی والدہ امینہ کےاکاؤنٹ کے استعمال کی تفصیلات بتاتا ہے۔

xi۔ صفحہ 205 بھی فرنٹ مین کے ذریعے مناف ابراہیم کی شمولیت کی تفصیلات پیش کرتا ہے۔

مذکورہ دو نکات کے ذریعے نہ صرف آزگرد نائن کی ان سائید ٹریڈنگ کا اندرونی احوال پتہ چلتا ہے، بلکہ ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجہ حوالوں سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کس طرح رقوم ہڑپنے کے لیے فرنٹ مینوں کا استعمال کیا گیا بلکہ بعض بڑی رقوم کو بینکوں سے ادھر اُدھر اس طرح کیا گیا کہ جن میں سے بعض بڑی رقوم کے منی لانڈرنگ ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے یا پھر اس کے دہشت گرد کھاتوں میں گم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے مزید کچھ حقائق اگلی تحریر کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی وزیرخارجہ نے ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ’’دھوکا دہی اور ابہام‘‘ سے کام لینے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی حساس جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور اس کے معائنہ کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کے دمام میں ایک دو شیزہ کا اپنے والد کے نام مکتوب سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد اس پر تحائف کی بارش کردی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شہردمام سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اپنے والد کو شادی سے چند دن قبل ایک مکتوب لکھا جس میں ان سے کہا کہ اس کی شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں۔ اس کا حق مہر25 ہزار ریال سے زیادہ نہ ہو اور اس کی شادی پراٹھنے والے اخراجات بھی اس رقم سے زیادہ نہ ہوں۔سعودی دو شیزہ کا والد کو پیغام سوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی صارفین کی طرف سے ...

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن وجود - بدھ 13 نومبر 2019

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربی...

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بیٹے جواد نصراللہ کا اکائونٹ بھی بلاک کردیاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹویٹر کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ منگل کوامریکا نے جواد نصراللہ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ٹویٹر کا دعویٰء ہے کہ جواد نصراللہ اپنے سخت موقف اور متنازع فتووں کی تشہیر کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتا تھا جو کہ ٹویٹر کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کمپنی کا کہناتھا کہ جواد نصراللہ کے خلاف بار بار شکایات ا...

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے دہشت گردی اور متعدد الزامات میں قصوروار ثابت ہونے کے بعد کل 41 ملزمان میں سے 38 کو قید اور ملک بدری کی سزائیں سنادیں۔میڈیارپورٹس کیے مطابق ان ملزمان پر منہج کتاب و سنت کے برخلاف انتہا پسندانہ نظریات اختیار کرنے ،دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے ، دہشت گرد تنظیم قائم کرنے، لوگوں کو اس میں بھرتی کرنے، کچھ کو ایک انتہا پسند تنظیم کے ہاتھ پر بیعت کرنے، ملک میں بد امنی پھیلانے اور ملک کے نظم ونسق میں خلل پیدا کرنے کے لیے ...

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت وجود - منگل 12 نومبر 2019

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاس...

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین وجود - منگل 12 نومبر 2019

چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، تبت میں مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کر رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براون بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اور اس پر چینی حکومت کا کوئی ت...

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس وجود - منگل 12 نومبر 2019

مغربی افریقی ملک گیمبیا کی حکومت نے جنوبی ایشیائی ملک میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی عدالت میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی۔ یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں لایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں دارے کے مطابق قانونی درخواست میں کہا گیا کہ میانمار نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی کی۔گیمبیا کے وزیر انصاف...

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ وجود - منگل 12 نومبر 2019

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی کْردوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی جرائم یا نسلی تطہیر سے باز رہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے کی تیاری میں مصروف ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوبرائن کا کہنا تھا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے کے بعد وہاں ممکنہ جنگی جرائم ...

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق وجود - پیر 11 نومبر 2019

آسٹریلیا کی مشہور وکٹوریہ یونیورسٹی نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ 50 منٹ کی دوڑ انسان کو قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رنرز ورلڈ کے مطابق ملبورن کی وکٹوریا یونیورسٹی کی تحقیق میں 14 تحقیق کی معلومات کو اکٹھا کیا گیا جس میں 23 لاکھ سے زائد لوگ شامل تھے۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوڑ صحت کیلئے بے حد مفید ہے اور یہ انسان کے قبل از وقت مرنے کے امکانات یا خطرات کو 27 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ ...

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما وجود - پیر 11 نومبر 2019

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی مزاحمت کے حامی سوشل صحافت کی بندش پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹرکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے بیرون ملک امور کے انچار محمد نزال نے ایک بیان میں کہا کہ فیس بک اورٹویٹرصہیونی ریاست کی مسلسل طرف داری کرکے اپنی غیر جانب ادارانہ ساکھ کھو چکے ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کی طرف سے صہیونی ریاست کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اوردونوں سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم غاصب ...

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار