وجود

... loading ...

وجود

جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

جمعه 04 مارچ 2016 جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

corruption

پاکستان کے اندر جاری مسلسل اقتصادی دہشت گردی کے ایک واقعاتی جائزے میں گزشتہ تحریر میں آٹھ نکات کے ذریعے اُس عمل کا ایک جوہری تذکرہ کیا گیا تھا، اگلے کچھ نکات اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ فراڈ، بے ایمانی اور منی لانڈرنگ سے قومی خزانے کو کہاں کہاں سے اور کتنا کتنا نقصان پہنچایا گیا۔

9۔ اندرونی تجارت اور آزگرد نائن حصص میں امتناعی سرگرمیاں

آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری بازار حصص میں سب سے بڑی جعل سازیوں میں سے ایک تھی۔ جس کی تحقیقات ایس ای سی پی نے بینک دولت پاکستان کی فراہم کردہ مدد کے ذریعے کی۔ اس میں 2007-8ء کے دوران جے ایس گروپ آف کمپنیز اور ان کے بندوں کی جانب سے کی گئی منی لانڈرنگ اور بڑے پیمانے پر فراڈ کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اے این ایل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کی وجہ سے اندازہ ہے کہ اس معاملے میں عوام اور مالیاتی اداروں کو 5.67 بلین روپے کا نقصان پہنچا۔

اے این ایل رپورٹ علی جہانگیر اور جے ایس گلوبل کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کے متعدد مواقع اور ان کے بندوں کی جانب سے مختلف کھاتوں سے نقد رقوم نکالنے کے واقعات کو نمایاں کرتی ہے (دلچسپ بات یہ کہ ان کے کھاتے بھی جے ایس بینک میں تھے)۔

ایس ای سی پی نے حصص کی قیمت میں ہیرا پھیری اور فراڈ کے ظاہر ہونے پر اپریل 2013ء میں ایڈیشنل سیشن جج (ساؤتھ) کراچی کے روبرو سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کی دفعہ 17 آر/ڈبلیو 24 کے تحت ایک فوجداری مقدمہ دائر کیا۔ سیشن کورٹ نے 22 اپریل 2013ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ایس ای سی پی نے اہم ڈائریکٹرز آف کمپنیز کے نام خارج کردیے تھے جو اے این ایل فراڈ میں ملوث تھے۔

اے این ایل میں مارکیٹ ہیرا پھیری کے پورے منصوبے میں مناف ابراہیم کا کردار بھی اہم ہے کہ جن کا حوالہ ایس ای سی پی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ وہ جے ایس سی ایل کے سی ای او تھے

جے ایس انوسٹمنٹ کمپنی نے نے ہائی کورٹ میں 2013ء کی سی پی نمبر 1985 داخل کی جہاں منی بل کے ذریعے چند ترامیم متعارف کروائی گئیں، جس میں ایس ای سی پی قانون کے متعلق چند اختیارات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی اہلیت کو اور حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری، بد دیانتی اور عوام سے فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم کو جانچے بغیرعدالتی کارروائی جاری رہی۔ ایس ای سی پی نے اپنے ہی مقدمے کی یقین کے ساتھ پیروی نہیں کی جس کی وجوہات وہی نہیں ایک دنیا جانتی ہے۔سیکورٹیز مارکیٹ ڈویژن اور لٹیگیشن ڈویژن کی سربراہی اس وقت ظفر عبد اللہ کر رہے تھے، جو جے ایس گروپ کی کمپنی کروسبی سیکورٹیز کے سابق ملازم بھی تھے۔اور کروسبی ڈریگن فنڈ آزگرد نائن کی ہیراپھیری میں شامل تھا۔ یہ سیدھا سادا مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ یہ ایک طرح سے دودھ کے چوری ہونے کی تحقیقات بلّے سے کروانے جیسا تھا۔

وجود ڈاٹ کام اس معاملے کی کسی بھی طرح کی تحقیق میں نیب کی جانب سے ایس ای سی پی، بینک دولت پاکستان اور نیشنل بینک کو بھیجے گئے تمام خطوط کے علاوہ متعلقہ تمام دستاویزات بھی پیش کر سکتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اے این ایل کے حوالے سے 7 مئی 2009ء کو روزنامہ جنگ میں ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی۔ تب سمدھی کے مفادات کی نگرانی کے لیے جنگ نے اپنی ساکھ داؤ پر نہیں لگا رکھی تھی۔ اور رشتے کی بیل بھی منڈھے نہیں چڑھی تھی۔

اے این ایل نے 23.7 ملین یوروز یعنی لگ بھگ 2.6 بلین روپے میں ایک سوئیڈش کمپنی خریدی جو فاریٹال کے نام سے مشہور ہے (شاخ مونٹی بیلی)۔ یہ اے این ایل کے لیے ایک نقصان تھا اور اس کے لیے پیسہ ممکنہ طور پر اے این ایل سے غیر قانونی طے پر نکالا گیا۔ فاریٹال کا اصل مالک کون تھا یہ معاملہ اب بھی تحقیق طلب ہے۔

وجود ڈاٹ کام کے پاس محفوظ ایک دستاویز میں اس معاملے کی مکمل تحقیقاتی تفصیلات، 5.933 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کے معاملات، فراڈ/ بددیانتی اور عوامی اور مالیاتی اداروں کو 14.385 بلین روپے کے نقصان اور بینک دیوالیہ پن اور قومی خزانے کو 20.338 بلین روپے کا نقصان پہنچانے کی حیرت انگیز تفصیلات موجود ہیں۔ جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کی گردن ناپنے کے لیے کسی بھی وقت کھول سکتے ہیں۔

JS-Investments

10۔ جے ایس گروپ کی جانب سے فرنٹ مین کا استعمال

جے ایس گروپ نے اپنی آخری مالیاتی دہشت گردی میں اپنے جرائم کے لیے مختلف محاذ استعمال کیے۔ اے این ایل کیس میں ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ نے جے ایس گروپ کے طریقوں کو ریکارڈ کیا کہ جہاں علی جہانگیر اور جے ایس سیکورٹیز کے مناف ابراہیم نے مارکیٹ فراڈ کے لیے اپنے ملازمین کی جعلی شناخت استعمال کیں۔

الف) محبوب علی کلیار کا کردار جو آزگرد نائن فراڈ میں علی جہانگیر کا فرنٹ مین تھا

علی جہانگیر جے ایس سی ایل اور اے این ایل میں ڈائریکٹر تھے اور محبوب علی کلیار اور ان کے بھائی معقوش علی کلیار جیسے فرنٹ مینوں کے ذریعے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری میں ان کا کردار اہم تھا۔ جیسا کہ ایس ای سی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، البتہ اس کے باوجود جے ایس گروپ نے ایس ای سی پی میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے علی جہانگیر کا نام مقدمے سے نکلوا لیا۔ ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ اے این ایل فراڈ میں علی جہانگیر کے واضح کردار کو ظاہر کرتی ہے:

i-صفحہ نمبر 25 میں بتایا ہے کہ محبوب علی، جہانگیر کا ذاتی اسسٹنٹ تھا جس کا بھائی معشوق علی کلیار سینٹرل ڈپازیٹری کمیٹی میں کام کرتا تھا (انہیں اے این ایل معاملے میں ملزم قرار دیا گیا تھا)۔ محبوب کلیار کا ایک اور بھائی عاشق علی کلیار کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کام کرتا ہے۔

ii- صفحہ 26 اور 27 میں کروسبی گروپ اور سعد سعید فاروقی (عدالت میں دائر ایس ای سی پی مقدمے کے ایک اور ملزم) سے تعلقات کو ظاہر ہوتے ہیں۔

iii- صفحہ 41 میں محبوب علی کلیار اور معشوق علی کلیار کو مشترکہ کیپٹل مارکیٹ آپریشنز کا ذکر کیا گیا ہے۔

iv- صفحہ 62 میں محبوب کلیار کے اکاؤنٹ کھولنے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو اے اے بی ایس، اے این ایل، ای ایف یو ایل، جے ایس سی ایل اور جے ایس جی سی ایل کے حصص پر 8.9 ملین ڈالرز کی تنصیب چلا رہے تھے، یہ سب جے ایس گروپ کے ادارے ہیں۔

v- صفحہ 62 بتاتا ہے کہ علی جہانگیر کے بینک اکاؤنٹ سے اس کے محبوب کلیار کے نام سے بنے اکاؤنٹ میں 3,685,484, روپےکی تین بڑی رقوم اکاؤنٹ میں منتقل ہوئیں۔

vi- صفحہ 64 اور 65 حوالہ دیتا ہے کہ سعد سعید فاروقی نے جے ایس گلوبل سے 180ملین روپے حاصل کیے اور یہی رقم پوری کی پوری علی جہانگیر کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔

vii۔ صفحہ 144 بتاتا ہے کہ دو مواقع ایسے تھے کہ جب 90 ملین روپے کی دو ادائیگیاں علی جہانگیر کو کی گئی تھیں، بالکل ویسے ہی سعد فاروقی کے ذریعے۔

  • 23 اپریل 2008ء کو کروسبی سیکورٹیز پاکستان نے سعد فاروقی کو 91 ملین روپے ادا کیے، اور اُنہوں نے 24 اپریل 2008ء کو 90 ملین علی جہانگیر کو دیے۔
  • 13 مئی 2008ء کو جے ایس گلوبل نے 90 ملین سعد فاروقی کو دیے جنہوں نے 14 مئی کو پوری رقم علی جہانگیر کو دے دی۔
  • سعد فاروقی نے 19 اپریل 2008ء کو 143 ملین روپے جے ایس کیپٹل سے حاصل کیے اور پوری رقم نقد کی صورت میں نکالی۔
  • اتنی بڑی رقم نکلوانے کا معاملہ منی لانڈرنگ کا بھی ہو سکتا ہے۔

viii- صفحہ نمبر 145 محبوب علی کلیار کی ہیرا پھیری کے اسی منصوبے میں دیگر اراکین کے ساتھ باہمی سودوں کو ظاہر کرتےہیں۔

ix۔ صفحہ 157 تا 162 محبوب علی اور معشوق علی کلیار کی مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

x۔ صفحہ 158 حوالہ دیتا ہے کہ محبوب علی مئی 2007ء تک جے ایس سی ایل سے 22,347 روپے ماہانہ تنخواہ لیتا تھا۔

xi۔ صفحہ 159 محبوب علی کے مائی بینک اکاؤنٹ کے حوالے پیش کرتا ہے کہ جہاں علی جہانگیر ان کے تعارف کنندہ تھے اور محبوب نے علی جہانگیر کے بینک کھاتے سے رقوم بھی وصول کیں۔

ب) علی جہانگیر اور مناف ابراہیم کے فرنٹ مین محبوب کلیار کے ٹیکس فراڈ

یہ حیران کن بات ہے کہ 22,347 روپے تنخواہ رکھنے والا آدمی نہ صرف کئی ملین روپے کے لین دین میں شامل ہو بلکہ فلیٹوں اور پلاٹوں سمیت 35 جائیدادوں کا مالک بھی ہو۔ ان کے ویلتھ ٹیکس ریٹرنز ان تمام جائیدادوں کی تفصیلات رکھتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں جے ایس گروپ کے اہم رکن مناف ابراہیم کی طرف سے دیا گیا 60 ملین روپے کا قرضہ بھی شامل ہے۔ ٹیکس ریٹرن یہ بھی حوالہ دیتا ہے کہ محبوب کلیار نے 2008ء میں ٹیکس معافی اسکیم کا فائدہ بھی اٹھایا اور معافی شدہ ٹیکس ادا کیا۔ مندرجہ ذیل جدول ان کی دولت کی سال بہ سال تفصیلات پیش کرتا ہے:

[table id=10 /]

مناف ابراہیم کی طرف سے قرضہ ٹھوس ثبوت دیتا ہے کہ جے ایس گروپ نے اے این ایل فراڈ کے لیے فرنٹ مین استعمال کیے۔ محبوب کلیار کی جانب سے دولت اکٹھی کرنے کی تحقیقات اور یہ کہ انہوں نے 2008ء میں ایمینسٹی استعمال کی، جہانگیر صدیقی کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے اکٹھی کی گئی دولت کی شہادت دیتی ہے اور یہ بھی کہ خاندان جعلی کھاتے استعمال کرتا ہے۔

Azgard9

ج) آزگرد نائن معاملے میں علی جہانگیر کے فرنٹ مین سعد فاروقی کا کردار

ایس ای سی پی کی جانب سے دائر کردہ معاملے میں سعد فاروقی کو آزگرد فراڈ میں شامل ہونے کا ملزم ٹہرایا گیا تھا۔ علی جہانگیر کے ساتھ ان کی وابستگی ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کا صفحہ 44 تین ایسے مواقع کا حوالہ دیتا ہے کہ جن میں 90 ملین روپے کی تین ادائیگیاں جے ایس گلوبل کیپٹل اور کروسبی سیکورٹیز کی جانب سے سعد فاروقی کو کی گئیں اور یہی رقوم 24 گھنٹے کے اندر اندر جہانگیر صدیقی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئیں۔

د) سی ای او اور ڈائریکٹر جے ایس سی ایل مناف ابراہیم فرنٹ مینوں کے ذریعے اے این ایل میں کردار

اس طرح اے این ایل میں مارکیٹ ہیرا پھیری کے پورے منصوبے میں مناف ابراہیم کا کردار بھی اہم ہے کہ جن کا حوالہ ایس ای سی پی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ وہ جے ایس سی ایل کے سی ای او تھے اور صادق پٹنی اور شازیہ صادق جیسے فرنٹ مین استعمال کرتے رہے کہ جنہیں ایس ای سی کی رپورٹ میں مورد الزام ٹہرایا گیا۔ صادق پٹنی جے ایس سی ایل میں ملازم تھے کہ جن کی تنخواہ 15,999 روپے ماہانہ تھی (حوالہ رپورٹ صفحہ 61) اور کئی ملین روپے کے مالی لین دین صادق پٹنی کے اکاؤنٹ سے کیے گئے اور اس طرح 8 ملین اور 10 ملین روپے کی ادائیگیاں جے ایس سی ایل کے سی ای او مناف ابراہیم کو کی گئیں۔ چند کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

ایس ای سی پی کی جانب سے دائر کردہ معاملے میں سعد فاروقی کو آزگرد فراڈ میں شامل ہونے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ علی جہانگیر کے ساتھ ان کی وابستگی ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے

i۔ صفحہ 18 اور 25 شازیہ صادق کا حوالہ دیتے ہیں (جو محمد صادق کی اہلیہ ہیں) اور انہوں نے مناف ابراہیم کے فرنٹ مین کا کردار اد کیا۔

ii۔ صفحہ 54 اور 55 عزیز فدا حسین اور جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ جیسے دو بڑے بروکریج ہاؤسز کے درمیان ہیراپھیری کی بڑی اسکیم میں تعلق کا مالیاتی ربط شناخت کرتے ہیں کہ جو مناف ابراہیم کے فرنٹ مین صادق پٹنی کے ذریعے کی گئی۔ اس نے مناف خاندان کے دیگر افراد کے بینکوں کا بھی استعمال دیکھا جیسا کہ ان کی بہن مبینہ امان اللہ اور والدہ امینہ صاحبہ۔

iii۔ صفحہ 61 حوالہ دیتا ہے کہ صادق جے ایس سی ایل میں آفس اسسٹنٹ تھے جن کی ماہانہ تنخواہ 15,999 روپے تھی جبکہ ان کی اہلیہ شازيہ صادق ایک گھریلو خاتون ہیں۔یہ بھی حوالہ دیتا ہے کہ شازیہ صادق کا اکاؤ نٹ طارق عثمان بھٹی، سابق ڈائریکٹر جے ایس گروپ نے متعارف کروایا تھا۔

iv۔ صفحہ 61 مناف ابراہیم کو 8 ملین اور 10 ملین روپے کی رقم کی ادایگی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ 5.4 ملین روپے کا ایک پے آرڈر مبینہ امان اللہ کو جاری کیا گيا تھا، جو مناف ابراہیم کی بہن ہیں۔ ایک اور چیک جو 15 نومبر 2007ء کو شازيہ نے نکلوایا 17.8 ملین روپے کا تھا اور جزوی طور پر (12 ملین روپے) مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں ڈلوائے گئے۔

v۔ صفحہ 62 بتاتا ہے کہ شازيہ صادق کا بینک اکاؤنٹ جے ایس عہدیداران بالخصوص مناف ابراہیم کی جانب سے استعمال کیا جاتا رہا۔

vi۔ صفحہ 64 مناف ابراہیم کے فرنٹ مین کے حوالے سے مالیاتی سودوں کا حوالہ دیتا ہے۔

vii۔ صفحہ 148 شازیہ صادق کے مالی سودوں کا ذکر کرتا ہے

viii۔ صفحہ 151 صادق پٹنی کی جانب سے جاری کیے گئے 18 ملین کے چیک کا حوالہ دیتا ہے جو ایک اور اکاؤنٹ میں جاری کیے گئے اور وہاں سے 13 نومبر 2007ء کو مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔ اس میں ایک جدول بھی شامل ہے جو بتاتا ہے کہ یہ رقم مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں کیسے آئی۔

ix۔ صفحہ 156 فرنٹ مین کے ذریعے مناف ابراہیم کی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

x۔ صفحہ 198 مناف ابراہیم کی چیک تفصیلات اور فراڈ کے لیے ان کی والدہ امینہ کےاکاؤنٹ کے استعمال کی تفصیلات بتاتا ہے۔

xi۔ صفحہ 205 بھی فرنٹ مین کے ذریعے مناف ابراہیم کی شمولیت کی تفصیلات پیش کرتا ہے۔

مذکورہ دو نکات کے ذریعے نہ صرف آزگرد نائن کی ان سائید ٹریڈنگ کا اندرونی احوال پتہ چلتا ہے، بلکہ ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجہ حوالوں سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کس طرح رقوم ہڑپنے کے لیے فرنٹ مینوں کا استعمال کیا گیا بلکہ بعض بڑی رقوم کو بینکوں سے ادھر اُدھر اس طرح کیا گیا کہ جن میں سے بعض بڑی رقوم کے منی لانڈرنگ ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے یا پھر اس کے دہشت گرد کھاتوں میں گم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے مزید کچھ حقائق اگلی تحریر کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

حملہ اور ابہام وجود جمعرات 30 اپریل 2026
حملہ اور ابہام

مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات وجود جمعرات 30 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات

آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر