وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

جمعه 04 مارچ 2016 جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

corruption

پاکستان کے اندر جاری مسلسل اقتصادی دہشت گردی کے ایک واقعاتی جائزے میں گزشتہ تحریر میں آٹھ نکات کے ذریعے اُس عمل کا ایک جوہری تذکرہ کیا گیا تھا، اگلے کچھ نکات اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ فراڈ، بے ایمانی اور منی لانڈرنگ سے قومی خزانے کو کہاں کہاں سے اور کتنا کتنا نقصان پہنچایا گیا۔

9۔ اندرونی تجارت اور آزگرد نائن حصص میں امتناعی سرگرمیاں

آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری بازار حصص میں سب سے بڑی جعل سازیوں میں سے ایک تھی۔ جس کی تحقیقات ایس ای سی پی نے بینک دولت پاکستان کی فراہم کردہ مدد کے ذریعے کی۔ اس میں 2007-8ء کے دوران جے ایس گروپ آف کمپنیز اور ان کے بندوں کی جانب سے کی گئی منی لانڈرنگ اور بڑے پیمانے پر فراڈ کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اے این ایل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کی وجہ سے اندازہ ہے کہ اس معاملے میں عوام اور مالیاتی اداروں کو 5.67 بلین روپے کا نقصان پہنچا۔

اے این ایل رپورٹ علی جہانگیر اور جے ایس گلوبل کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کے متعدد مواقع اور ان کے بندوں کی جانب سے مختلف کھاتوں سے نقد رقوم نکالنے کے واقعات کو نمایاں کرتی ہے (دلچسپ بات یہ کہ ان کے کھاتے بھی جے ایس بینک میں تھے)۔

ایس ای سی پی نے حصص کی قیمت میں ہیرا پھیری اور فراڈ کے ظاہر ہونے پر اپریل 2013ء میں ایڈیشنل سیشن جج (ساؤتھ) کراچی کے روبرو سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کی دفعہ 17 آر/ڈبلیو 24 کے تحت ایک فوجداری مقدمہ دائر کیا۔ سیشن کورٹ نے 22 اپریل 2013ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ایس ای سی پی نے اہم ڈائریکٹرز آف کمپنیز کے نام خارج کردیے تھے جو اے این ایل فراڈ میں ملوث تھے۔

اے این ایل میں مارکیٹ ہیرا پھیری کے پورے منصوبے میں مناف ابراہیم کا کردار بھی اہم ہے کہ جن کا حوالہ ایس ای سی پی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ وہ جے ایس سی ایل کے سی ای او تھے

جے ایس انوسٹمنٹ کمپنی نے نے ہائی کورٹ میں 2013ء کی سی پی نمبر 1985 داخل کی جہاں منی بل کے ذریعے چند ترامیم متعارف کروائی گئیں، جس میں ایس ای سی پی قانون کے متعلق چند اختیارات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی اہلیت کو اور حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری، بد دیانتی اور عوام سے فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم کو جانچے بغیرعدالتی کارروائی جاری رہی۔ ایس ای سی پی نے اپنے ہی مقدمے کی یقین کے ساتھ پیروی نہیں کی جس کی وجوہات وہی نہیں ایک دنیا جانتی ہے۔سیکورٹیز مارکیٹ ڈویژن اور لٹیگیشن ڈویژن کی سربراہی اس وقت ظفر عبد اللہ کر رہے تھے، جو جے ایس گروپ کی کمپنی کروسبی سیکورٹیز کے سابق ملازم بھی تھے۔اور کروسبی ڈریگن فنڈ آزگرد نائن کی ہیراپھیری میں شامل تھا۔ یہ سیدھا سادا مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ یہ ایک طرح سے دودھ کے چوری ہونے کی تحقیقات بلّے سے کروانے جیسا تھا۔

وجود ڈاٹ کام اس معاملے کی کسی بھی طرح کی تحقیق میں نیب کی جانب سے ایس ای سی پی، بینک دولت پاکستان اور نیشنل بینک کو بھیجے گئے تمام خطوط کے علاوہ متعلقہ تمام دستاویزات بھی پیش کر سکتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اے این ایل کے حوالے سے 7 مئی 2009ء کو روزنامہ جنگ میں ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی۔ تب سمدھی کے مفادات کی نگرانی کے لیے جنگ نے اپنی ساکھ داؤ پر نہیں لگا رکھی تھی۔ اور رشتے کی بیل بھی منڈھے نہیں چڑھی تھی۔

اے این ایل نے 23.7 ملین یوروز یعنی لگ بھگ 2.6 بلین روپے میں ایک سوئیڈش کمپنی خریدی جو فاریٹال کے نام سے مشہور ہے (شاخ مونٹی بیلی)۔ یہ اے این ایل کے لیے ایک نقصان تھا اور اس کے لیے پیسہ ممکنہ طور پر اے این ایل سے غیر قانونی طے پر نکالا گیا۔ فاریٹال کا اصل مالک کون تھا یہ معاملہ اب بھی تحقیق طلب ہے۔

وجود ڈاٹ کام کے پاس محفوظ ایک دستاویز میں اس معاملے کی مکمل تحقیقاتی تفصیلات، 5.933 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کے معاملات، فراڈ/ بددیانتی اور عوامی اور مالیاتی اداروں کو 14.385 بلین روپے کے نقصان اور بینک دیوالیہ پن اور قومی خزانے کو 20.338 بلین روپے کا نقصان پہنچانے کی حیرت انگیز تفصیلات موجود ہیں۔ جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کی گردن ناپنے کے لیے کسی بھی وقت کھول سکتے ہیں۔

JS-Investments

10۔ جے ایس گروپ کی جانب سے فرنٹ مین کا استعمال

جے ایس گروپ نے اپنی آخری مالیاتی دہشت گردی میں اپنے جرائم کے لیے مختلف محاذ استعمال کیے۔ اے این ایل کیس میں ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ نے جے ایس گروپ کے طریقوں کو ریکارڈ کیا کہ جہاں علی جہانگیر اور جے ایس سیکورٹیز کے مناف ابراہیم نے مارکیٹ فراڈ کے لیے اپنے ملازمین کی جعلی شناخت استعمال کیں۔

الف) محبوب علی کلیار کا کردار جو آزگرد نائن فراڈ میں علی جہانگیر کا فرنٹ مین تھا

علی جہانگیر جے ایس سی ایل اور اے این ایل میں ڈائریکٹر تھے اور محبوب علی کلیار اور ان کے بھائی معقوش علی کلیار جیسے فرنٹ مینوں کے ذریعے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری میں ان کا کردار اہم تھا۔ جیسا کہ ایس ای سی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، البتہ اس کے باوجود جے ایس گروپ نے ایس ای سی پی میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے علی جہانگیر کا نام مقدمے سے نکلوا لیا۔ ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ اے این ایل فراڈ میں علی جہانگیر کے واضح کردار کو ظاہر کرتی ہے:

i-صفحہ نمبر 25 میں بتایا ہے کہ محبوب علی، جہانگیر کا ذاتی اسسٹنٹ تھا جس کا بھائی معشوق علی کلیار سینٹرل ڈپازیٹری کمیٹی میں کام کرتا تھا (انہیں اے این ایل معاملے میں ملزم قرار دیا گیا تھا)۔ محبوب کلیار کا ایک اور بھائی عاشق علی کلیار کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کام کرتا ہے۔

ii- صفحہ 26 اور 27 میں کروسبی گروپ اور سعد سعید فاروقی (عدالت میں دائر ایس ای سی پی مقدمے کے ایک اور ملزم) سے تعلقات کو ظاہر ہوتے ہیں۔

iii- صفحہ 41 میں محبوب علی کلیار اور معشوق علی کلیار کو مشترکہ کیپٹل مارکیٹ آپریشنز کا ذکر کیا گیا ہے۔

iv- صفحہ 62 میں محبوب کلیار کے اکاؤنٹ کھولنے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو اے اے بی ایس، اے این ایل، ای ایف یو ایل، جے ایس سی ایل اور جے ایس جی سی ایل کے حصص پر 8.9 ملین ڈالرز کی تنصیب چلا رہے تھے، یہ سب جے ایس گروپ کے ادارے ہیں۔

v- صفحہ 62 بتاتا ہے کہ علی جہانگیر کے بینک اکاؤنٹ سے اس کے محبوب کلیار کے نام سے بنے اکاؤنٹ میں 3,685,484, روپےکی تین بڑی رقوم اکاؤنٹ میں منتقل ہوئیں۔

vi- صفحہ 64 اور 65 حوالہ دیتا ہے کہ سعد سعید فاروقی نے جے ایس گلوبل سے 180ملین روپے حاصل کیے اور یہی رقم پوری کی پوری علی جہانگیر کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔

vii۔ صفحہ 144 بتاتا ہے کہ دو مواقع ایسے تھے کہ جب 90 ملین روپے کی دو ادائیگیاں علی جہانگیر کو کی گئی تھیں، بالکل ویسے ہی سعد فاروقی کے ذریعے۔

  • 23 اپریل 2008ء کو کروسبی سیکورٹیز پاکستان نے سعد فاروقی کو 91 ملین روپے ادا کیے، اور اُنہوں نے 24 اپریل 2008ء کو 90 ملین علی جہانگیر کو دیے۔
  • 13 مئی 2008ء کو جے ایس گلوبل نے 90 ملین سعد فاروقی کو دیے جنہوں نے 14 مئی کو پوری رقم علی جہانگیر کو دے دی۔
  • سعد فاروقی نے 19 اپریل 2008ء کو 143 ملین روپے جے ایس کیپٹل سے حاصل کیے اور پوری رقم نقد کی صورت میں نکالی۔
  • اتنی بڑی رقم نکلوانے کا معاملہ منی لانڈرنگ کا بھی ہو سکتا ہے۔

viii- صفحہ نمبر 145 محبوب علی کلیار کی ہیرا پھیری کے اسی منصوبے میں دیگر اراکین کے ساتھ باہمی سودوں کو ظاہر کرتےہیں۔

ix۔ صفحہ 157 تا 162 محبوب علی اور معشوق علی کلیار کی مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

x۔ صفحہ 158 حوالہ دیتا ہے کہ محبوب علی مئی 2007ء تک جے ایس سی ایل سے 22,347 روپے ماہانہ تنخواہ لیتا تھا۔

xi۔ صفحہ 159 محبوب علی کے مائی بینک اکاؤنٹ کے حوالے پیش کرتا ہے کہ جہاں علی جہانگیر ان کے تعارف کنندہ تھے اور محبوب نے علی جہانگیر کے بینک کھاتے سے رقوم بھی وصول کیں۔

ب) علی جہانگیر اور مناف ابراہیم کے فرنٹ مین محبوب کلیار کے ٹیکس فراڈ

یہ حیران کن بات ہے کہ 22,347 روپے تنخواہ رکھنے والا آدمی نہ صرف کئی ملین روپے کے لین دین میں شامل ہو بلکہ فلیٹوں اور پلاٹوں سمیت 35 جائیدادوں کا مالک بھی ہو۔ ان کے ویلتھ ٹیکس ریٹرنز ان تمام جائیدادوں کی تفصیلات رکھتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں جے ایس گروپ کے اہم رکن مناف ابراہیم کی طرف سے دیا گیا 60 ملین روپے کا قرضہ بھی شامل ہے۔ ٹیکس ریٹرن یہ بھی حوالہ دیتا ہے کہ محبوب کلیار نے 2008ء میں ٹیکس معافی اسکیم کا فائدہ بھی اٹھایا اور معافی شدہ ٹیکس ادا کیا۔ مندرجہ ذیل جدول ان کی دولت کی سال بہ سال تفصیلات پیش کرتا ہے:

[table id=10 /]

مناف ابراہیم کی طرف سے قرضہ ٹھوس ثبوت دیتا ہے کہ جے ایس گروپ نے اے این ایل فراڈ کے لیے فرنٹ مین استعمال کیے۔ محبوب کلیار کی جانب سے دولت اکٹھی کرنے کی تحقیقات اور یہ کہ انہوں نے 2008ء میں ایمینسٹی استعمال کی، جہانگیر صدیقی کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے اکٹھی کی گئی دولت کی شہادت دیتی ہے اور یہ بھی کہ خاندان جعلی کھاتے استعمال کرتا ہے۔

Azgard9

ج) آزگرد نائن معاملے میں علی جہانگیر کے فرنٹ مین سعد فاروقی کا کردار

ایس ای سی پی کی جانب سے دائر کردہ معاملے میں سعد فاروقی کو آزگرد فراڈ میں شامل ہونے کا ملزم ٹہرایا گیا تھا۔ علی جہانگیر کے ساتھ ان کی وابستگی ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کا صفحہ 44 تین ایسے مواقع کا حوالہ دیتا ہے کہ جن میں 90 ملین روپے کی تین ادائیگیاں جے ایس گلوبل کیپٹل اور کروسبی سیکورٹیز کی جانب سے سعد فاروقی کو کی گئیں اور یہی رقوم 24 گھنٹے کے اندر اندر جہانگیر صدیقی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئیں۔

د) سی ای او اور ڈائریکٹر جے ایس سی ایل مناف ابراہیم فرنٹ مینوں کے ذریعے اے این ایل میں کردار

اس طرح اے این ایل میں مارکیٹ ہیرا پھیری کے پورے منصوبے میں مناف ابراہیم کا کردار بھی اہم ہے کہ جن کا حوالہ ایس ای سی پی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ وہ جے ایس سی ایل کے سی ای او تھے اور صادق پٹنی اور شازیہ صادق جیسے فرنٹ مین استعمال کرتے رہے کہ جنہیں ایس ای سی کی رپورٹ میں مورد الزام ٹہرایا گیا۔ صادق پٹنی جے ایس سی ایل میں ملازم تھے کہ جن کی تنخواہ 15,999 روپے ماہانہ تھی (حوالہ رپورٹ صفحہ 61) اور کئی ملین روپے کے مالی لین دین صادق پٹنی کے اکاؤنٹ سے کیے گئے اور اس طرح 8 ملین اور 10 ملین روپے کی ادائیگیاں جے ایس سی ایل کے سی ای او مناف ابراہیم کو کی گئیں۔ چند کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

ایس ای سی پی کی جانب سے دائر کردہ معاملے میں سعد فاروقی کو آزگرد فراڈ میں شامل ہونے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ علی جہانگیر کے ساتھ ان کی وابستگی ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے

i۔ صفحہ 18 اور 25 شازیہ صادق کا حوالہ دیتے ہیں (جو محمد صادق کی اہلیہ ہیں) اور انہوں نے مناف ابراہیم کے فرنٹ مین کا کردار اد کیا۔

ii۔ صفحہ 54 اور 55 عزیز فدا حسین اور جے ایس گلوبل کیپٹل لمیٹڈ جیسے دو بڑے بروکریج ہاؤسز کے درمیان ہیراپھیری کی بڑی اسکیم میں تعلق کا مالیاتی ربط شناخت کرتے ہیں کہ جو مناف ابراہیم کے فرنٹ مین صادق پٹنی کے ذریعے کی گئی۔ اس نے مناف خاندان کے دیگر افراد کے بینکوں کا بھی استعمال دیکھا جیسا کہ ان کی بہن مبینہ امان اللہ اور والدہ امینہ صاحبہ۔

iii۔ صفحہ 61 حوالہ دیتا ہے کہ صادق جے ایس سی ایل میں آفس اسسٹنٹ تھے جن کی ماہانہ تنخواہ 15,999 روپے تھی جبکہ ان کی اہلیہ شازيہ صادق ایک گھریلو خاتون ہیں۔یہ بھی حوالہ دیتا ہے کہ شازیہ صادق کا اکاؤ نٹ طارق عثمان بھٹی، سابق ڈائریکٹر جے ایس گروپ نے متعارف کروایا تھا۔

iv۔ صفحہ 61 مناف ابراہیم کو 8 ملین اور 10 ملین روپے کی رقم کی ادایگی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ 5.4 ملین روپے کا ایک پے آرڈر مبینہ امان اللہ کو جاری کیا گيا تھا، جو مناف ابراہیم کی بہن ہیں۔ ایک اور چیک جو 15 نومبر 2007ء کو شازيہ نے نکلوایا 17.8 ملین روپے کا تھا اور جزوی طور پر (12 ملین روپے) مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں ڈلوائے گئے۔

v۔ صفحہ 62 بتاتا ہے کہ شازيہ صادق کا بینک اکاؤنٹ جے ایس عہدیداران بالخصوص مناف ابراہیم کی جانب سے استعمال کیا جاتا رہا۔

vi۔ صفحہ 64 مناف ابراہیم کے فرنٹ مین کے حوالے سے مالیاتی سودوں کا حوالہ دیتا ہے۔

vii۔ صفحہ 148 شازیہ صادق کے مالی سودوں کا ذکر کرتا ہے

viii۔ صفحہ 151 صادق پٹنی کی جانب سے جاری کیے گئے 18 ملین کے چیک کا حوالہ دیتا ہے جو ایک اور اکاؤنٹ میں جاری کیے گئے اور وہاں سے 13 نومبر 2007ء کو مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔ اس میں ایک جدول بھی شامل ہے جو بتاتا ہے کہ یہ رقم مناف ابراہیم کے اکاؤنٹ میں کیسے آئی۔

ix۔ صفحہ 156 فرنٹ مین کے ذریعے مناف ابراہیم کی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

x۔ صفحہ 198 مناف ابراہیم کی چیک تفصیلات اور فراڈ کے لیے ان کی والدہ امینہ کےاکاؤنٹ کے استعمال کی تفصیلات بتاتا ہے۔

xi۔ صفحہ 205 بھی فرنٹ مین کے ذریعے مناف ابراہیم کی شمولیت کی تفصیلات پیش کرتا ہے۔

مذکورہ دو نکات کے ذریعے نہ صرف آزگرد نائن کی ان سائید ٹریڈنگ کا اندرونی احوال پتہ چلتا ہے، بلکہ ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجہ حوالوں سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کس طرح رقوم ہڑپنے کے لیے فرنٹ مینوں کا استعمال کیا گیا بلکہ بعض بڑی رقوم کو بینکوں سے ادھر اُدھر اس طرح کیا گیا کہ جن میں سے بعض بڑی رقوم کے منی لانڈرنگ ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے یا پھر اس کے دہشت گرد کھاتوں میں گم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے مزید کچھ حقائق اگلی تحریر کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ نے کڑوا گھونٹ پی لیا، بائیڈن کو اختیارات منتقلی کی منظوری وجود - منگل 24 نومبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کڑوا گھونٹ پی لیا، نو منتخب صدر جوبائیڈن انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی بالآخر منظوری دیدی، اس طرح کئی ہفتوں سے جاری ٹال مٹول انجام کو پہنچ گئی۔سربراہ جنرل سروس ایڈمنسٹریشن ایملی مرفی نے نومنتخب امریکی صدر کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے ۔غیرلکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک گفتگومیں کہاکہ قانونی جنگ جاری رہے گی مگر انتظامیہ سے کہہ دیا ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہے اسے انجام دیا جائے ۔امریکی ٹی وی کا کہنا تھا کہ خط صدر ٹرمپ کی شکست تسلیم کرنے کی جانب پ...

ٹرمپ نے کڑوا گھونٹ پی لیا، بائیڈن کو اختیارات منتقلی کی منظوری

قطر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ہاتھوں ایک کشمیری اغوا وجود - منگل 24 نومبر 2020

قطر میں ایک کشمیری جس کی شناخت منیب احمد صوفی کے نام سے ہوئی ہے ،لاپتہ ہوگیا ہے اور شبہ کیا جارہا ہے کہ اسے بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی''را'' نے اغواکیا ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع اسلام آباد میں بجبہاڑہ کے علاقے کنیلون سے تعلق رکھنے والا منیب قطر میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھااوروہ گزشتہ ایک ہفتے سے لاپتہ ہے ۔متاثرہ شخص کے دوستوں نے بتایا کہ جب انہوں نے تمام کڑیاں ملائیں تو پتہ چلا کہ منیب کو بھارتی ایجنسی را نے اغوا کیاہے ۔ انہوں نے کہاتب سے اس کے بارے میں کسی کو کچ...

قطر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ہاتھوں ایک کشمیری اغوا

متحدہ عرب امارات نے غیرملکی ملکیت پر پابندیاں نرم کردیں وجود - منگل 24 نومبر 2020

متحدہ عرب امارات (یو اے ای)نے کمپنیز کی غیر ملکی ملکیت پر عائد پاندیوں کی ایک حد کو نرم اور ختم کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو اے ای کے سرکاری میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیا گیا کہ یہ قدم عالمی حیثیت کو مزید بڑھانے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے ملک کی جانب سے اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات کے تناظر میں ہے ۔سات صحراوں کی فیڈریشن میں وبا کے باعث ہونے والے معاشی اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک بار پھر چونکا دینے والی تبدیلی کی گئی ہیں۔اس سے قبل...

متحدہ عرب امارات نے غیرملکی ملکیت پر پابندیاں نرم کردیں

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کورونا کے جلد خاتمے کیلئے پرامید وجود - منگل 24 نومبر 2020

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے سربراہ ٹیڈروس ادھانو نے کہاہے کہ کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز کی کامیابی کے بعد پرامید ہیں کہ رواں برس کے آخر تک عالمی وبا کو ختم کردیا جائے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیڈروس ادھانو کا کہناتھا کہ طویل تاریک سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آنا شروع ہوگئی ہے ، کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز کی کامیابی سے متعلق مثبت خبریں آرہی ہیں جلد ہی ہم عالمی وبا پر قابو پالیں گے اور ختم کردیں گے ۔ٹیڈروس ادھانو نے کہا کہ کامیاب ویکسین ٹرائلز سے وبا کے خاتمے کی...

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کورونا کے جلد خاتمے کیلئے پرامید

کورونا،دنیا کے 100بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں 400ارب ڈالر کی کمی وجود - منگل 24 نومبر 2020

کورونا وائرس کے طوفان نے عالمی معیشت کے منظر میں ہر خشک و تر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اس وبا کے بحران کے بیچ صرف دہ ماہ کے عرصے میں دنیا کے 100 بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں تقریبا 400 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ کرونا وائرس کی پرچھائیاں صرف ان کروڑوں غریب اور متوسط آمدنی والے افراد پر نہیں پڑیں جو اس بحران کے سبب اپنی ملازمتوں یا آمدنی کے ذرائع سے محروم ہو گئے ۔ اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں دولت مندوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔انگریزی ویب سائٹ مارکیٹ واچ نے تحقی...

کورونا،دنیا کے 100بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں 400ارب ڈالر کی کمی

ارطغرل کی حلیمہ سلطان نے خوبصورت نظر آنے کا راز بتا دیا وجود - منگل 24 نومبر 2020

پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ترکی ڈرامے 'ارطغرل' میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی اسراء بلقیس نے گزشتہ روز اپنی ایک نئی تصویر کے ساتھ 'ہمیشہ خوبصورت' نظر آنے کا راز، مختصر ترین الفاظ میں بتادیا ہے ۔اپنی تصویر کے ساتھ صرف ایک جملے میں انہوں نے لکھا ''ہم جتنے سادہ ہوتے ہیں، ہم اتنے ہی مکمل ہوجاتے ہیں،'' جو دراصل اْنیسویں صدی کے مشہور فرانسیسی مجسمہ ساز آگستے رودین کا مشہور قول ہے ۔انہوں نے اس تصویر میں کسی قسم کا میک اپ نہیں کیا ہوا جبکہ تصویر کے ساتھ لکھے گئے قول ک...

ارطغرل کی حلیمہ سلطان نے خوبصورت نظر آنے کا راز بتا دیا

16سالہ امریکی ٹک ٹاکر کا 10کروڑ فالورزرکھنے کا منفرداعزاز وجود - منگل 24 نومبر 2020

دنیا بھر میں مقبول ترین چین کی مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر 16 سالہ امریکی صارف چارلی ڈی امیلو نے 10 کروڑ فالوورز رکھنے کا منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔چارلی ڈی امیلو کے قریب ترین فالوورز رکھنے والے جو 2 افراد ہیں ان کے محض 5 کروڑ فالوورز ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق 16 سالہ چارلی ٹک ٹاک میں حقیقی معنوں میں راج کررہی ہیں کیونکہ ان کے فالورز ول اسمتھ سے دو گنا زیادہ، دی راک سے 3 گنا زیادہ، سیلینا گومز سے 4 گنا زیادہ اور کائلی جینر سے 5 گنا زیادہ ہیں۔2018 میں لانچ ہونے والی ایپ...

16سالہ امریکی ٹک ٹاکر کا 10کروڑ فالورزرکھنے کا منفرداعزاز

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا وجود - پیر 23 نومبر 2020

ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن پر سندھ حکومت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آ گیا ہے ، جس میں چیف سیکریٹری سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے میں جاری کرپشن پر نوٹس لیا جائے ۔ذرائع کے مطابق کراچی میں امراض قلب کے لیے قائم اہم ادارے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن کے سلسلے میں 5 ماہ قبل چیف سیکریٹری سندھ کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت کی گئی تھی تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان شکایات پر ایکشن نہیں لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ چی...

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ وجود - پیر 23 نومبر 2020

پاکستان میں بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ ہوہیا۔ این جی او ساحل کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 1489 بچوں کو نشانہ بنایاگیا،جن میں 785 بچیاں اور 704 بچے شامل ہیں ۔ 38 واقعات میں زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا۔331 بچے اغوا، 233 سے بدفعلی،104 سے اجتماعی زیادتی،168 لاپتہ، 160 بچیوں سے زیادتی، 134 سے دست درازی، 69 سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ 51 بچوں کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ 490 متاثرین کی عمر 11 سے 15 سال اور 331 کی 6 سے 10 سال بتائی گئی۔پنجاب میں سب سے زیادہ 57 ف...

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم وجود - پیر 23 نومبر 2020

مقامی عدالت نے مزار قائد بے حرمتی کیس میں مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں قائد اعظم کے مزار کی مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی پر مقدمے کے لیئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد ندیم خان اور ایڈووکیٹ محمد احمد پیش ہوئے ۔ عدالت نے گواہوں کو بیان کیلئے 10 دسمبر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ موقع پر موجود مزار قائد کے ملازمین...

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی وجود - پیر 23 نومبر 2020

شہرقائد کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی جس کے بعد شہری نجی اسپتالوں میں جانے پرمجبورہوگئے جہاں داخلے سے قبل لاکھوں روپے وصول کئے جارہے ہیں۔انڈس اسپتال میں 16 بیڈزپرمشتمل وارڈ میں تمام بیڈزمریضوں سے بھرگئے ہیں۔ جناح اسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے 90 بیڈز مختص ہیں، جناح میں 24 ایچ ڈی یوبیڈذ اور12 وینٹلیٹرزبھی موجود ہیں، سول اسپتال میں 141 بیڈزبشم...

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار وجود - پیر 23 نومبر 2020

اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی13سالہ آرزو فاطمہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے ۔پولیس نے آرزو کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا، چالان کے مطابق آرزو کی کورونا رپورٹ 16 نومبر کو موصول ہوئی تھی، پولیس نے کورونا کا شکار آرزو کو عدالت میں پیش کردیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم اظہر علی کا بھی کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو کہ منفی آیا ہے ۔چالان میں کہا گیا ہے کہ آرزونے اپنے بیان میں بتایاکہ اس کی اظہرعلی سے طویل عرصہ سے دوستی ہے ، وہ اظہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر وکیل ...

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار