... loading ...

ایران میں رواں اختتام ہفتہ پر انتخابات ہو رہے ہیں اور اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ سخت گیر اور قدامت پسند حلقوں کے لیے پریشان کن ہیں۔ اصلاح و اعتدال پسند قوتیں غالب دکھائی دیتی ہیں خاص طور پر تہران کے اندر تمام 30 نشستوں پر ان کا جیتنا ایرانی نظام پر غالب سخت گیر قوتوں کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں۔ لیکن ایران کے انتخابات اور اس کے نتائج کی اہمیت جاننے سے قبل سیاسی نظام کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ آئیں کچھ بنیادی معلومات آپ کو دیتے ہیں:
انتخابات کے اِس مرحلے میں ایرانی پارلیمان یعنی مجلس کے 290 اراکین اور اس کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم مجلس خبرگان رہبری کا فیصلہ ہوگا، جو 88 رکنی انتہائی طاقتور آئینی کونسل ہے۔ مجلس کا انتخاب تو ہر چار سال بعد ہوتا ہے اور یہ حکومت کے روزمرہ امور چلانے اور قانون سازی کا ذمہ دار ادارہ ہے، جس کا سربراہ صدر ہوتا ہے۔ لیکن ایران کے حقیقی سربراہ رہبر معظم کا انتخاب مجلس خبرگان رہبری کرتی ہے۔ 1979ء میں انقلاب ایران کے بعد سے آج تک صرف دو ہی رہبر معظم رہے ہیں، جو دونوں تاحیات اس عہدے پر فائز رہے، یعنی ایک روح اللہ خمینی اور دوسرے موجودہ علی خامنہ ای۔ ویسے مجلس خبرگان عملاً ہر آٹھ سال بعد انہیں اپنے عہدے سے ہٹا سکتی ہے، لیکن ایسا آج تک ہوا نہیں ہے۔
بیشتر مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی بالکل شفاف انداز میں ہوئی ہے لیکن ایران کا جمہوری نظام مغرب تو درکنار پاکستان و بھارت سے بھی یکسر مختلف ہے۔ سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں مجالس کے نمائندگان کو ایک دستوری ادارے شوریٰ نگہبان سے منظوری لینا پڑتی ہے۔ جس کے اپنے نصف اراکین مجلس کی جانب سے مقرر کیے جاتے ہیں جبکہ نصف رہبر معظم نامزد کرتے ہیں۔ اس شوریٰ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ موجودہ انتخابات کے لیے 12 ہزار افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے لیکن 5200 امیدوار کے کاغذات شوریٰ نے مسترد کردیے۔ کہا جاتا ہے کہ نامنظور کیے گئے امیدواروں کی اکثریت کا تعلق اصلاح و اعتدال پسند طبقے سے تھا۔ ان کے علاوہ 600 امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس بھی لیے۔ اس تناظر سے دیکھیں تو بنیادی طور پر نظام قدامت پسندوں کے حق میں ہے کیونکہ مجلس خبرگان رہبری کے اراکین کا عالم دین ہونا ضروری ہے اور وہ معتدل طاقتوں کو پہلے ہی مرحلے پر محدود کر سکتی ہیں۔
بالخصوص مجلس خبرگان رہبری اس وقت بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ویسے تو گزشتہ روایات کو دیکھیں تو رہبر معظم کا انتقال ہونا ضروری ہے کیونکہ اب تک کسی رہبر کو ان کی زندگی میں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔ لیکن موجودہ رہبر علی خامنہ ای کی عمر 76 سال ہے اور ذرائع کہتے ہیں کہ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ اتنی اہم ذمہ داری کو خوبی سے نبھائیں۔ عین ممکن ہے کہ مجلس خبرگان نئے رہبر معظم کا انتخاب کرے۔
رہبر معظم ایران میں سب سے زیادہ طاقتور عہدہ ہے اور ایرانی دستور کے تحت اسے بہت اختیارات حاصل ہیں۔ خامنہ ای قدامت پسند ہیں اور اسٹیبلشمنٹ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پھر رہبر معظم شوریٰ نگہبان کا نصف حصہ خود نامزد کرتا ہے، جو انتخابی امیدواران کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، یوں وہ حکومت کا پلڑا قدامت پسندوں کی جانب جھکا سکتا ہے۔ اگر اعتدال پسند یا اصلاح پسند رہبر آ جائے تو وہ شوریٰ نگہبان کے نصف امیدواروں کی مدد سے انتخابات پر کافی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پھر رہبر معظم کو آئین میں براہ راست ترمیم کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔ خامنہ ای کے پیشرو خمینی 1989ء میں انہی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مجلس کا قیام عمل میں لائے تھے۔
اگر اس مرتبہ بھی کوئی سخت گیر منتخب ہوتا ہے تو ایران کے اعتدال پسند حلقوں کو خامنہ ای کے پیرو کی بھی موت کا انتظار کرنا ہوگا، جو بہت طویل بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر کوئی اصلاح پسند یا اعتدال پسند ایران کا رہبر معظم بن جاتا ہے تو ملک میں بہت جلد اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...
خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...
خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...
پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...
کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...
اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...
بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...
سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...