وجود

... loading ...

وجود

جہانگیر صدیقی کا پاکستانی معیشت کو اپاہج کرکے "گاڈ فادر "بننے کا خواب (قسط اول)

جمعه 12 فروری 2016 جہانگیر صدیقی کا پاکستانی معیشت کو اپاہج کرکے

jehangir-siddiqui

افواجِ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں عظیم کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں لیکن اب بھی وطنِ عزیز میں موجود اُن گروہوں کی گردنیں دبوچنا باقی ہے جو ملک کی مالیاتی مارکیٹوں کو تباہ کرنے میں ملوث رہے اور عام سرمایہ کاروں اور عوام کو بڑے پیمانے پر ٹھگ رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ عموماً کسی بھی معیشت کی صحت و ترقی کو ظاہر کرتی ہے اور کارپوریٹ گورننس کے عمدہ اقدامات ہی دیگر ممالک میں پاکستان کو ساکھ کو بہتر بناتے ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متوجہ ہوتی ہے۔ مگر جے ایس گروپ نے 2006ء سے 2008ء تک پاکستان کی اِن ہی مالیاتی مارکیٹوں کو ہدف بنایا اور ایسا بحران تخلیق کیا، جس نے بین الاقوامی سطح پر ہماری ساکھ کو زک پہنچائی، سرمایہ کاروں بالخصوص غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بُری طرح مجروح کیا اور یوں قومی معیشت کو بہت بڑے پیمانے پر دھچکا پہنچایا۔ جے ایس بینک کے اشتہار میں عام طور پر ایک جملہ “ابھی بڑھنا ہے آگے اور” استعمال ہوتاہے۔ مگر جے ایس گروپ اور اُس کے سربراہ جس طرح آگے بڑھ رہ ہیں، اُس سے ماریو پوزو کے ناول کا “گاڈ فادر” ذہنوں میں اُبھرتا ہے۔ جو مالیاتی اداروں میں گھس کر سب کچھ اپنے کنٹرول میں لینے اور تمام سرگرمیوں کو اپنے جنبشِ ابرو سے چلانے کے لئے کمربستہ رہتا ہے۔ اطالوی طرز کی ان مافیاؤں کا مقابلہ کرنے میں سرکاری ادارے اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ تمام کے تمام اداروں میں کہیں نہ کہیں “گاڈ فادر “نے اپنے لوگوں کے ذریعے پنجے گاڑ رکھے ہوتے ہیں۔ جے ایس گروپ کے سربراہ جہانگیر صدیقی نے اسی طرز پر ملک کےاندر اپنی معاشی سرگرمیوں سے ایک ایسی ناہمواری کو جنم دے دیا ہے جس نے سرمائے کی شفاف حرکت کو ناممکن بنا دیا ہے۔ جبکہ جے ایس گروپ نے وزیر اعظم ہاؤس سے لے کر احتساب کے تمام سرکاری اداروں کو بھی تعلقات کی ایک منافع بخش آکاس بیل میں جکڑ لیا ہے۔ اس ضمن میں اُن کی رشتے داریاں بھی اُن کی زبردست معاونت کررہی ہیں، یوں جہانگیر صدیقی کے سیاسی، صحافتی اور سرکاری اداروں کے روابط نے مل کر ایک ایسابھیانک منظرنامہ بنا دیا ہے جس میں شفافیت، مسابقت کا صحت مند ماحول اور احتساب کا غیر جانبدارنہ عمل تقریباً ناممکن بن چکا ہے۔ جب سب کچھ “گاڈ فادر” کی مرضی سے ہونا ہے تو پھر عدالتیں بھی کس طرح اُن کے ارادوں سے بچ سکتی ہیں۔ پاکستان کو مالیاتی اداروں اور معیشت کا یہ مجموعی ماحول بہت جلد ایک بڑے قومی بحران میں مبتلا کرنے والا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہو گیا ہے کہ جہانگیرصدیقی کے خطرناک عزائم پر مبنی سنگین مالیاتی جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔ وجود ڈاٹ کام کو میسر دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جہانگیر صدیقی نے ڈاکٹر عاصم حسین سے لے کر ہمیش خان، گجرات کے چودھریوں، موجودہ اور سابقہ بیوروکریٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، تک پھیلے اپنے غیر معمولی اور منافع بخش روابط استعمال کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کو کس کس طرح اور کہاں کہاں سے دبوچا؟
mir-shakeel
پاکستان دہائیوں سے دہشت گردی کے نشانے پر ہے۔ اس کے اسکول، بازار، مساجد، گرجے، نقل و حمل کا نظام اور سب سے بڑھ کر خود سیکورٹی فورسز ان دہشت گردوں کا ہدف ہیں جو مختلف ذرائع بالخصوص بھارت سے فنڈنگ حاصل کرتے ہیں۔ ہزاروں شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے اس پاک سرزمین کے عوام اور اس کی املاک کو بچاتے ہوئے شہادت پائی ہے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں عسکری اداروں کی تازہ تحقیقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ افغانستان میں بیٹھ کر اس حملے کی میزبانی کس طرح بھارت نے کی ہے؟ ایک ایسے وقت میں جب سیکورٹی فورسز کی مکمل توجہ مسلح دہشت گردوں سے نمٹنے پر ہے، ان گروہوں کی سرگرمیوں پر توجہ کم ہوگئی ہے جو پاکستان کے اندر مالیاتی مارکیٹوں کو تباہ کرنے، عام سرمایہ کاروں اور عوام کو بڑے پیمانے پر متاثر کرنے کی سنگین سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ بد دیانتی اور لوٹ مار سے حاصل کیا گیا یہی پیسہ بعد میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے۔

جے ایس گروپ نے اپنی بیشتر دولت خفیہ تجارت، کارپوریٹ چھینا جھپٹی اور پاکستانی پنشن فنڈز، خیراتی ٹرسٹ اور ایک عام پاکستانی کی اسٹاک مارکیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری کو لوٹ کر اکٹھی کی ہے

جہانگیر صدیقی کی زیر قیادت جے ایس گروپ کی پوری تاریخ مختلف مالیاتی اسکینڈلز اور مشتبہ کاروباری ضابطوں سے داغدار ہے۔ انہوں نے اپنی بیشتر دولت خفیہ تجارت، کارپوریٹ چھینا جھپٹی اور پاکستانی پنشن فنڈز، خیراتی ٹرسٹ اور ایک عام پاکستانی کی اسٹاک مارکیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری کو لوٹ کر اکٹھی کی ہے۔ بدعنوانی کے مختلف ذرائع سے لوٹی گئی دولت میں یہی ایک تحقیق طلب مسئلہ نہیں ہوتا کہ یہ کیسے حاصل کی گئی۔ بلکہ پاکستان ایسے ملکوں میں جہاں دہشت گردی نے پنجے گاڑ رکھے ہو، اور بے پناہ دولت نے اپنے استعمال کے غیر قانونی ملکی اور غیر ملکی راستے کھوج رکھے ہیں، وہاں ایسی غیر قانونی دولت کے استعمال کے مقامات کو بھی تلا ش کرنے کی ضرورت ہے۔ جے ایس گروپ پر الزام ہے کہ اُس نے غیر قانونی فائدے سمیٹنے کے لیے نہ صرف مالیاتی قواعد کے خلاف اپنے رابطوں کو استعمال کیا بلکہ اُس نے کچھ ایسے کام بھی مشکوک طریقے سے سرانجام دیئے، جو مبینہ طور پر مالیاتی دہشت گردی کے مرتکبین کے سہولت رساں کے زمرے میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ وہ بینک آف پنجاب کے بورڈ میں شامل ہونے کے باعث بینک کے سابق صدر ہمیش خان اور چودھری برادران (چودھری پرویز الٰہی اور شجاعت حسین) کے سنگ سنگ کام کرتے رہے ہیں۔ وہ 1991ء سے 2009ء تک پی این ایس سی کے بورڈ کا بھی حصہ تھے اور وہاں بھی مختلف فراڈ اور بے ضابطگیوں کے متعددمعاملات میں ملوث رہے، جس میں مونس الٰہی کے ساتھ بحری جہاز خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے اپنی جے ایس انوسٹمنٹس میں 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی غیر قانونی طور پر حاصل کی، جس کی آڈیٹر جنرل آف پاکستان نشاندہی کر چکے ہیں اور اب یہ معاملہ تحقیقاتی اداروں میں زیر تفتیش ہونے کے باوجود جہانگیر صدیقی کے بھاری بھرکم تعلقات کے باعث دبا رہتا ہے۔

جے ایس گروپ پر الزام ہے کہ اُس نے غیر قانونی فائدے سمیٹنے کے لیے نہ صرف مالیاتی قواعد کے خلاف اپنے رابطوں کو استعمال کیا بلکہ اُس نے کچھ ایسے کام بھی مشکوک طریقے سے سرانجام دیئے، جو مبینہ طور پر مالیاتی دہشت گردی کے مرتکبین کے سہولت رساں کے زمرے میں بھی شمار ہوتے ہیں

جہانگیر صدیقی نے مختلف اداروں میں حصص خریدے، غیر قانونی اسٹاک مارکیٹ چال بازیوں اور خفیہ تجارت کے ذریعے بنایا گیا پیسہ استعمال کیا، اپنے مختلف اداروں اور میوچوئل فنڈز کے ذریعے اور بعد میں ہدف پر موجود اداروں کی ملکیت حاصل کرلی۔ ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ادارے کے حصص تھے، انہوں نے ادارے کے مالکان اور انتظامیہ کو مختلف طریقوں سے دباؤ میں لیا تاکہ وہ اُن کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہو نے پر مجبور ہوں۔ جس میں سے ایک ادارے سے پیسہ نکالنے اور حصص میں تجارت کے دھندے میں شامل ہو نا بھی شامل ہے۔ یہ طریقہ دراصل ایک پیٹرن بن کر سامنے آتا ہے جس میں اگر ادارہ بدعنوان نہ ہو تو اُسے مختلف طریقوں سے بلیک میل کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اُسے عدالت میں گھسیٹ لیا جاتا ہے، جہاں مختلف عدالتی مراحل کی ایک پوری سائنس ہے جس پر جہانگیر صدیقی اور اُن کے ایک مخصوص ٹولے کی پوری مہارت اور گرفت پائی جاتی ہے۔ اس طرح وہ مزاحم کاروباری اداروں کے اہم افراد کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔ (اس کی پوری تفصیلات اور مثالیں نام بہ نام اور مقام بہ مقام اپنی جگہ پر آئیں گی)۔ یہ گزشتہ 25 سال سے زیادہ عرصے سے ہو رہا ہے اور کئی اچھے ادارے جو پاکستان کے لیے ملازمت کے مواقع دے رہے تھے اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے، انہی حرکتوں کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ ڈاڈیکس، لبرٹی ملز، گلوب ٹیکسٹائل، سیلی ٹیکسٹائلز، العابد ملز، سرل پاکستان اور سنگر پاکستان۔ فلپس پاکستان کا 1998ء میں حصص واپس لینا بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر تھا۔

asim-hussain-shahid-hayat

گروپ کے پے رول پر متعدد حکومتی و اہم شخصیات ہیں جن کا اثر و رسوخ مالیاتی جرائم کے ارتکاب میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جے ایس گروپ کی ان سرگرمیوں کو مکمل طور پر سیاسی حکومتوں کی پشت پناہی حاصل رہتی ہیں۔ یہ عمل نہایت منظم طریقے سے جاری ہے۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم نوازشریف کے سیکریٹری فواد حسن فواد بھی جہانگیر صدیقی کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور اُنہیں ایک پشت پناہ کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وہ اسپرنٹ انرجی پرائیوٹ لمیٹڈ کے معاملے میں بھی شامل تھے۔ جس نے ایس این جی پی ایل کی جعلی دستاویزات کے ذریعے صوبہ پنجاب میں سی این جی اسٹیشنوں کو غیر قانونی طور پر دوسرے مقامات پر منتقل کیا۔ مگر یہ جہانگیر صدیقی کی پھیلائی ہوئی بساط کی ایک بہت چھوٹی سی کہانی کا نہایت معمولی کردار ہے۔ بات اس سے کہیں آگے جاتی ہے۔ جس کی تفصیلات اپنے مقام پر آئیں گی۔ الغرض موجودہ اور ریٹائرڈ پولیس افسران اور ایف بی آئی حکام بھی گروپ کے پے رول پر ہیں جیسا کہ عابد حسین (ای ڈی، ایس ای سی پی)، شاہد حیات (ڈائریکٹر ایف آئی اے)، سعود احمد مرزا (سابق ڈی جی ایف آئی اے، اِس وقت جے ایس سی ایل کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز)، جی ایم ملکانی (سابق پولیس چیف جو جے ایس گروپ آف کمپنیز کے بورڈ میں شامل تھے اور آزگرد نائن فراڈ میں ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ میں نامزد)، فہد ہارون (پی آر)، کمال افسر (سابق بیوروکریٹ، جو جے ایس اور خسرو خواجہ کے ساتھ پی این ایس سی بورڈ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت مختلف اداروں میں جے ایس کی نمائندگی کر رہے ہیں)، عبد الحمید ڈاگیا (وہ مختلف اداروں میں جے ایس گروپ کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان پر آزگرد نائن لمیٹڈ حصص کی تجارت کے فراڈ کا الزام ہے لیکن ایس ای سی پی نے انہیں شیئر رجسٹرار سروسز چلانے کی اجازت دے رکھی ہے یعنی مفاد عامہ کو خطرے میں ڈال رکھا ہے )، عدنان آفریدی، خالد مرزا (انہوں نے چیئرمین ایس ای سی پی کی حیثیت سے اپنے عہدے کے آخری دن جے ایس گروپ کو غیر قانونی طور پر اسٹاک ایکسچینج لائسنس جاری کیا)، نجم علی (جے ایس انوسٹمنٹس کے سی ای او کی حیثیت سے وہ ایس ای سی پی کے فوجداری معاملے میں آزگرد نائن فراڈ اور دیگر مختلف جرائم کے ملزم ہیں)، حبیب الرحمٰن (جے ایس گروپ کے نمائندہ، اس سے پہلے جے ایس ابامکو، مہوش جہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کے لیے خدمات انجام دے چکے ہیں)، شمیم احمد خان (مختلف اداروں میں جے ایس گروپ کے نمائندہ)، جاوید مسعود (سابق سی ای او پاکرا ریٹنگ کمپنی)، عمارن شیخ (پی آر او، نائب صدر جے ایس گروپ)، زاہد اللہ (جے ایس بینک کے ملازم) ریٹائرڈ جسٹس محبوب احمد، طاہر محمود، کمشنر ایس ای سی پی، عاکف سعید کمشنر ایس ای سی پی، خواجہ خسرو (پی این ایس سی اور کے ای ایس سی کے بورڈز میں جہانگیر صدیقی کے ساتھ خدمات انجام دینے والے) ان میں سے چند ہیں۔ ان تمام افراد کے بارے میں ایک سلسلہ وار رپورٹ کے تحت تمام تفصیلات اور تعلقات کے بل بوتے پر اداروں کےاستحصال اور لوٹ مار کے عمل میں ایک معاونت کی مکروہ تال میل کو یہاں بے نقاب کرنا مقصود ہے۔

ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے ذریعےجہانگیر صدیقی کے تمام معاملات کی چھان بین کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان حساس نوعیت کے معاملات میں پاکستان کے کاروباری اداروں کے ساتھ رچائی گئی سازشیں بے نقاب ہو

جے ایس گروپ بینک، این بی ایف سی (میوچوئل فنڈز مینجمنٹ)، بروکریج ہاؤس، این جی او اور پرائیوٹ کمپنیوں کا لائسنس رکھتا ہے اور وہ جرائم کے ارتکاب کے لیے اپنے پورے مالیاتی رابطوں اور وسیع سرمائے کو استعمال کرتا ہے۔ گروپ مختلف فراڈز میں ملوث رہا ہے، جیسا کہ 2008ء میں جے ایس گروپ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں جوڑ توڑ کے ذریعے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی بھیانک سازش، جس میں جے ایس سی ایل کے جعلی حصص کا اجرا بھی شامل ہے، سرکاری اداروں کو نقصان، جے ایس بینک کے لیے کم از کم سرمائے کی اسٹیٹ بینک کی شرائط کو جھانسا دینا، مارکیٹ کے نرخوں سے کہیں زیادہ پر سرکاری اداروں جیسا کہ نیشنل بینک کف ایگری ٹیک ایف سیز کا اجرا، پی آئی سی ٹی کمپنی شیئرز میں خفیہ تجارت، علی جہانگیر صدیقی کو 4.3 ملین ڈالرز کے جعلی بونس کی ادائیگی جس نے چھوٹے حصص یافتگان کو نقصان پہنچایا، آزگرد نائن کمپنی کے حصص میں مارکیٹ جوڑ توڑ، آئی سی آئی پاکستان کے حصص میں سازباز، ایف بی آر کے سامنے غلط بیانی سے این جی او کا لائسنس حاصل کرنا، اسپرنٹ انرجی معاملے میں سی این جی اسٹیشنوں کے لائسنس فراڈ سے حاصل کرنا (جو بدنام زمانہ اوگرا معاملے سے متعلق ہے)، ای ایف یو لائف انشورنس اور ای ایف یو جنرل انشورنس کمپنی کے حصص میں سازباز، بے ایمانی اور فراڈ کے ذریعے عوامی اداروں کو میوچل فنڈ یونٹوں کی فروخت وغیرہ۔ ان میں سے متعدد مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں اور تفتیشی اداروں کے پاس کئی معاملات کی تحقیقات موجود ہیں جیسا کہ قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، وغیرہ کے روبرو۔ مگر جہانگیر صدیقی اپنے مالیاتی جرائم کے باوجود غیر قانونی استثنا حاصل کرنے کے لیے موجودہ اور ریٹائر بیورو کریٹس، حکومتی افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں اور اپنے انہی تعلقات کی وجہ سے اب تک دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس میں تازہ ترین اضافہ میرشکیل الرحمان کی صورت میں اس طرح ہوا کہ وہ اب اُن کے سمدھی بن چکے ہیں۔ جس کے باعث جنگ گروپ جو ایک زبردست ساکھ کا حامل پاکستان کا سب سے بڑا ذرائع ابلاغ کا گروپ تھا، صرف جہانگیرصدیقی کی لامحدود حرص اور غیر قانونی کاروباری پھیلاؤ کے تحفظ کا آلہ کار بنتا جار ہا ہے۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے جے ایس گروپ نے ایک منصوبہ بنایا تھا، جس میں 2006ء سے 2008ء کے دوران گروپ کے اداروں کی حصص کی قیمتیں بڑھائی گئیں تاکہ جے ایس سی ایل کی خالص اثاثہ جات کی ویلیو کے بارے میں مصنوعی تاثر قائم ہو اور پھر حصص کو گرا کر جعلی قیمتوں سے بڑے پیمانے پر منافع لوٹا جا سکے۔ مختلف ماتحت اداروں اور ایسوسی ایٹس کے حصص کی قیمتیں ایسی ہی سازشوں کے ذریعے بڑھائی گئیں تاکہ مصنوعی تاثر دیا جا سکے۔ اس کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حقوق کے ساتھ ساتھ حصص بھی جاری کیے اور ان سرمایہ کاروں کو بڑا نقصان پہنچایا۔ ایس ای سی پی نے ڈاکٹر عاصم حسین اورسابق وزیر خزانہ نوید قمر کے اثر و رسوخ تلے دب کے انہیں غیر قانونی استثنا دیے۔
Naveed-Qamar
ایس ای سی پی نے جے ایس گروپ کے ان اقدامات کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں منی لانڈرنگ اور کالعدم گروہوں کی مبینہ سرمایہ کاری بھی پائی گئی۔ رپورٹ نے خانانی اینڈ کالیا منی ایکسچینج کے ساتھ متعدد ملزمان کے روابط کا بھی انکشاف کیا۔ ان روابط کی چھان بین ایسے حالات میں اور زیادہ ضروری ہو جاتی ہے جبکہ امریکا نے خود خانانی اینڈ کالیا پر پابندی عائد کردی ہے۔

جہانگیر صدیقی کے تعلقات میں تازہ ترین اضافہ میرشکیل الرحمان کی صورت میں ہوا، جو اب اُن کے سمدھی بن چکے ہیں۔ جس کے باعث جنگ گروپ جو ایک زبردست ساکھ کا حامل پاکستان کا سب سے بڑا ذرائع ابلاغ کا گروپ تھا، صرف جہانگیرصدیقی کی لامحدود حرص اور غیر قانونی کاروباری پھیلاؤ کے تحفظ کا آلہ کار بنتا جار ہا ہے

مندرجہ بالا تناظر میں ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے ذریعےجہانگیر صدیقی کے تمام معاملات کی چھان بین کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان حساس نوعیت کے معاملات میں پاکستان کے کاروباری اداروں کے ساتھ رچائی گئی سازشیں بے نقاب ہو اورقواعد کے برخلاف فائدہ سمیٹنے والے داخلِ زنداں ہو سکیں۔ تمام اداروں اور ان کے باہمی گٹھ جوڑ کی ایک آزاد تحقیق ظاہر کرے گی کہ یہ منصوبے کیسے بنائے گئے اور ہرشد مہتا قسم کی اسکیم کے ذریعے حصص کو اوپر اور نیچے کرکے ملک کے بازار حصص اور پوری معیشت کو کتنا نقصان پہنچایا گیا، خاص طور ایسے وقت جب وہ بلند پروازی کے لیے تیارتھی۔

جامع تحقیقات کے لیے جے ایس سی ایل کا تجارتی ڈیٹا برائے سال 2007ء اور 2008ء کراچی اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کرنا چاہیے۔ اس ڈیٹا کی جانچ کیپٹل مارکیٹوں، سرمایہ کاروں، سرکاری اداروں اور قومی معیشت کو پہنچنے والے زبردست نقصان کا حقیقی اندازہ فراہم کرے گی؛ ساتھ ہی یہ بھی کہ روپیہ دباؤ میں کیوں آیا اور نتیجتاً غیر ملکی ذخائر اور ساتھ ساتھ ادائیگی کا توازن کیسے متاثر ہوا؟جے ایس سی ایل تجارتی ڈیٹا قومی سرمایہ مارکیٹ اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا حقیقی فائدہ اٹھانے والوں کو بھی بے نقاب کرے گا۔ اس پورے کھیل میں کسی غیر ملکی ہاتھ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے نقصان کا اصل فائدہ ہمارے پڑوسی اٹھا سکتے ہیں۔ جن کے حق میں “امن کی آشا” جیسی مہمیں چل چکی ہیں اور “دوستی کرکے جیو” جیسی وطن دشمن نفسیات پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ حصص کی قیمت میں جوڑ توڑ کرنا سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کے سیکشن 17 کے تحت ایک مجرمانہ فعل ہے اور اس کی سزا قید اور بھاری مالی ہرجانے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معاملہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء میں بھی شمار ہو سکتا ہے۔ (جاری ہے)

(یہ تحریر دراصل جہانگیر صدیقی کے پورے کاروبار گروپ اور اُن کے “گاڈ فادر” بننے کی لامحدود حرص وہوس کی طرف توجہ دلانے کے لئے محض ایک تمہید کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں اُٹھائے گئے مختلف پہلووؤں پر تفصیلی روشنی اگلی تحریروں میں ڈالی جائیگی)


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر