وجود

... loading ...

وجود

یوم یکجہتی پر پاکستانی قوم کا پیغام : کشمیری تنہا نہیں

هفته 06 فروری 2016 یوم یکجہتی پر پاکستانی قوم کا پیغام : کشمیری تنہا نہیں

Kashmir-Solidarity-Day

5 فروری کو پاکستان بھر میں پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر منا یا گیا۔وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے اس موقع کی مناسبت سے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیا اور کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان ان کی جدوجہد کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے اور جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا،اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشا نہ بنا تے ہوئے کہا کہ دنیا کو ان سے پوچھ لینا چا ہئے کہ یہ مسئلہ اب تک حل کیوں نہیں ہوا۔

syed ali

قائد حریت سید علی گیلانی کے ترجمان ایاز اکبر نے پاکستانی عوام ،حکومت اور اپوزیشن کا یوم یکجہتی منانے پر شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کشمیر پر پاکستانی کے اصولی موقف کا اعادہ کیا،اس تقریر سے کشمیری عوام کے حوصلوں میں اضافہ ہوا ۔تاہم ترجمان کے بقول قول و فعل میں ہم آہنگی ضروری ہے۔

وزیراعظم کی تقریر حوصلہ افزا تھی ، مگر اس موقع پر اُن سے یہ امید تھی کہ وہ مہاجرین کشمیر کی بحالی کیلئے کسی خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اور پاکستانی قیادت کو تواتر اور یکسوئی کے ساتھ ،اصولوں پر مبنی کشمیر پالیسی پر ڈٹا رہنا چاہئے تاکہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی عین رائے کے مطا بق حل ہوسکے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری عوام کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں ، انہوں نے سوال کیا کہ جہاں آزادی مانگنے کے جرم میں جارح قوت کے ہاتھوں انسان قتل کئے جارہے ہوں،عصمتیں پامال کی جارہی ہوں ،ہر طرح کی انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہو،وہاں اس جارح اور قابض قوت کے ساتھ آلو پیا ز کے کاروبار کے کیا معنی ہے؟

syed salahhudin

سید صلاح الدین نے 5فروری کو پاکستان بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منانے اور پاکستانی حکمرانوں،اپوزیشن اور عوام کے اس عزم کو دہرانے پر شکریہ ادا کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی ہر سطح پر حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور ایک فریق کی حیثیت سے اسے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہر محاذ پر کشمیری عوام کی مدد و تعاون کرنے کا مکمل قانونی اور آئینی جواز ہے۔جہاد کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے کہا کہ بھارتی قیادت اور بعض مایوس عناصرپاکستانی عوام کو کشمیری حریت پسندوں کے بارے میں بدظن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔تاہم یوم یکجہتی مناکر پوری پاکستانی قوم نے کشمیریوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تنہا نہیں اور انکی جا ئز جدوجہد میں وہ ہر محاذ پر ان کا ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اور عالمی قوانین سے نا بلد بعض عناصر تحریک آزادی کشمیرکے مزاحمتی کردار کی اہمیت کو گھٹاکر ،صرف سیاست اور سفارت پر توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔حالانکہ کشمیری قوم نے 42سال تک سیاسی اورسفارتی جدوجہد کی لیکن امن کی زبان جارح نے کبھی سمجھی اور نہ مستقبل میں سمجھنے کی وہ صلاحیت رکھتا ہے ۔تمام پر امن ذرائع جب ناکام ہوئے تو کشمیری عوام نے اقوام متحدہ کے چا رٹر کے عین مطا بق عسکری مزاحمت کا فیصلہ کیا ۔ریاست کی آزادی کیلئے سیاسی جدوجہد کے ساتھ ایک مربوط اور مضبوط عسکری جدوجہد ضروری ہے۔

کشمیری امور کے ماہر اور صحافی عارف بہار نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کی تقریر کو تحریک آزادی کشمیر کیلئے حوصلہ افزا قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک روایتی دن پر ایک روایتی تقریر تھی ۔اس موقع پر وزیراعظم سے یہ امید تھی کہ وہ مہاجرین کشمیر کی بحالی کیلئے کسی خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔معروف صحافی طارق نقاش نے وجود ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر بڑی جاندار تھی،انہوں نے بھارتی قیادت کو یہ خوبصورت الفاظ میں واضح پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر اس خطے میں امن ممکن نہیں،اور ساتھ ساتھ انہوں نے عالمی برادری کو بھی پیغام دیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاسبان حریت جموں و کشمیر کے سربراہ اور مہاجر رہنما عزیر غزالی نے بھی وزیر اعظم کی تقریر کو سراہا تاہم اس دکھ کا اظہار بھی کیا کہ ایک طرف وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ایک حصہ تکلیف میں ہو تو دوسرا حصہ کیسے سکون سے رہ سکتا ہے لیکن اس حصے میں 7500مہاجر خاندان ،جو بھارتی فورسز کے ظلم وجبر کے نتیجے میں یہاں مہاجرین کی حیثیت سے مقیم ہیں اور گو ناں گوں مسائل کا شکار ہیں ، وہ آج بھی انہیں بھول گئے۔عزیر غزالی نے کہا کہ بھگوڑے کشمیری پنڈتوں کیلئے نریندر مودی نے خزانوں کے دروازے کھول رکھے ہیں ،لیکن پاکستان کے نام پر مر مٹنے والے اگر کسمپرسی کا شکار ہوجائیں تو اس بے رخی کو کون سا عنواں دیں گے؟


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

مضامین
زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر