وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

وفا کے بدلے جفا کیوں!!!

منگل 02 فروری 2016 وفا کے بدلے جفا کیوں!!!

Happy-Kashmir-Day

فروری کا مہینہ پاکستان میں کشمیریوں سے یک جہتی کا پیغام لے کر آتا ہے ۔پانچ فروری کو پاکستان میں کراچی سے خیبر تک اہل پاکستان کشمیری عوام اور تحریک آزادیٔ کشمیر سے یک جہتی کا اظہار جلسے جلوس کے ذریعے کرتے ہیں۔یہ سلسلہ 1990ء سے جاری ہے اور اس کی ابتداء قاضی حسین احمد مرحوم کی کال سے ہوئی تھی ۔اس کے بعد پاکستان میں اس دن کو سرکاری سطح پر منایا جانے لگا۔اس دن ریاست پاکستان،سیاسی جماعتیں اور عوام ،کشمیریوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں ۔

مگر یک جہتی کا اصل امتحان لفظوں کی دنیا میں نہیں بلکہ عمل کے میدان میں ہوتا ہے ۔الفاظ اور اصطلاحات کے لحاظ سے یک جہتی سے زیادہ اس دعوے کو عمل سے پرکھا جاتا ہے۔پٹھان کوٹ واقعے کے بعد عالم بوکھلاہٹ میں پاکستان میں جو کیفیت پیدا کردی گئی ہے اس سے کشمیریوں کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے ۔پٹھان کوٹ واقعے کے بعد جس طرح کشمیری حریت پسندوں کومعتوب بنانے کی مہم شروع کی گئی ،اس کا ہلکا سا اشارہ متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بھی کیا۔

کل تک یہ بات بحث وتمحیص سے بالاتر تھی کہ کشمیری مجاہدین بھارت کا مقابلہ کرکے در اصل پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہےہیں آج پاکستان کا سیکولرمیڈیا بھارت کی محبت میں جہاد کونسل کو سیکورٹی رسک قراردے رہا ہے۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ قاتل سے دوستی اور مقتول کی وکالت دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتی ۔تاریخ گواہ ہے کہ1947ء سے اب تک بھارتی فورسزنے5لاکھ سے زائد کشمیریوں کو اس جرم میں موت کے گھاٹ اتاردیا کہ وہ آزادی کا مطا لبہ کرتے ہیں،پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ،سرکاری دہشت گردی کا یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔نہتے لوگ قتل کئے جارہے ہیں ۔نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے ،مسلمہ کشمیری قیادت کو جیلوں اور گھروں میں نظر بند کرکے رکھا گیا ہے۔قلم اور زبان دونوں پر عملاََ پابندی ہے۔پوری ریاست کو ایک فوجی گیریژن میں تبدیل کیا گیا ہے۔آئے روز کشمیری عوام کی جدوجہد میں سرعت آرہی ہے ۔پاکستانی جھنڈا ہاتھ میں لے کر ،کشمیری عوام سینے پر گولیاں کھارہے ہیں۔لیکن پاکستان کے خلاف بات سننا گوارانہیں کرتے۔وفا کی ایک ایسی کہانی، جسے لفظوں میں بیان کرنا نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔لیکن پٹھانکوٹ واقعے کے بعد جس طر ح کشمیری حریت پسندوں کے خلاف ایک مہم شروع کی گئی ہے وہ حد درجہ دل آزار اورکشمیریوں کو پاکستان سے بدظن کرنے کی منظم کوشش ہے۔ ۔

پاکستان میں میڈیا کا ایک حلقہ تو بھارت کی محبت میں مرا جا رہا ہے ۔کل تک یہ بات بحث وتمحیص سے بالاتر تھی کہ کشمیری مجاہدین بھارت کا مقابلہ کرکے در اصل پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں آج پاکستان کا سیکولرمیڈیا بھارت کی محبت میں جہاد کونسل کو سیکورٹی رسک قراردے رہا ہے،حد تو یہ ہے کہ حکو متی حلقوں سے بھی ایسا تاثر مل رہا ہے ۔یہ وہ طبقہ ہے جسے پاکستان سے زیادہ امریکااور بھارت کا مفاد عزیز ہے۔اس طبقے کا دین دھرم ڈالر اور پاونڈ ہے۔یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں اس میں چھید کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔یہ طبقہ بلاسوچے سمجھے کشمیری مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈے میں شامل نہیں، بلکہ یہ ایک طے شدہ ہدف پر کام کر رہے ہیں ۔جس کا مقصد پاکستان کی ریاست کو کشمیریوں سے اور کشمیریوں کو پاکستان سے مایوس کرنا ہے،کیا بنگلہ دیش پاکستان حمایتی عوام اور پاکستان کی مالا جپنے والے افغان طالبان کی طرح اب کشمیری عوام کو بھی سب سے پہلے پاکستان کے نام پر بلی چڑھانے کی سازش ہورہی ہے ۔اگر ایسا ہے تو جان لیں کہ اﷲ کی نگری میں دیر ہے اندھیر نہیں۔وفا کا بدلہ جفا سے دینے والے ،رب کی پکڑ سے زیادہ دیر تک اپنے کو نہیں بچا سکتے ۔اگر آج سید صلاح

الدین کو شدید تنقید اور دیوار سے لگا نے کی کو شش کی جارہی ہے تو 2004ء میں سید علی گیلانی کو بھی اسی طرح کی ناکام کو ششوں سے دیوار سے لگا نے کی کوشش کی گئی۔لیکن اﷲ کی قدرت جوش میں آئی اور جس شخص نے عالمی استعمار کو خوش کرنے کیلئے یہ طرز عمل اپنا یا آج وہی طاقتور شخص بے بسی اور بے کسی کے ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے ،جس کا اس نے اپنے دور اقتدار میں تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔سید علی گیلانی تب بھی عزت کے اعلیٰ مقام پر موجود تھا ،آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں کی موجود ہے اور ایک عظیم قائد کے روپ میں کاروان حریت کی قیادت کررہا ہے۔ان شا ء اﷲ سید صلاح الدین بھی مشکل مرحلہ طے کرکے رہے گا ۔ بہرحال امید ہے کہ پاکستان کا سوادِاعظم کشمیری عوام اور اس کی مسلمہ قیادت کے خلاف ہرسازش کو سمجھ کر ان کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے گا۔ اور یہ ضروری بھی ہے کیو نکہ اس کے بغیر یکجہتی کے دعوے محض رسم کی ادائیگی سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔


متعلقہ خبریں


طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا شیخ امین - جمعه 30 ستمبر 2016

اڑی حملے کے بعد نریندر مودی سرکار اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پاکستان کیخلاف ایک ایسی جارحا نہ روش اختیار کی، جس سے بھارتی عوام میں جنگی جنوں کی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں یوں لگا کہ دم بھر میں پاکستان پر حملہ ہوگا اور چند دنوں میں اکھنڈ بھارت کا آر ایس ایس کا پرانا خواب پورا ہوگا۔ ڈاول ڈاکٹرائن کے عین مطا بق نریندر مودی سرکار ان دھمکیوں سے دو طرح کے فائدے حاصل کرنا چا ہتی تھی۔ ایک یہ کہ جنگ کے خوف سے وزیر اعظم نواز شریف، سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کی طرح خو فزدہ ہوکر جنرل ا...

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف ...

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

پاک چین دوستی زندہ باد!!! شیخ امین - اتوار 18 ستمبر 2016

پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند ہوتی ہوئی دوستی کی جڑیں نہ صرف تاریخ میں موجود اورتجربات میں پیوست ہیں بلکہ مستقبل کے امکانا ت میں بھی پنہاں ہیں،کئی ایک ملکوں کے سینوں پر مونگ دلتی چلی آرہی ہے ۔وہ جن کا خیال ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں اور روایتی دوستوں کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تعلقات اس خطے کے لئے بین الاقوامی ا سکیم کی راہ میں رکاوٹ اور ان کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں سدِراہ ہیں ۔وہ خاکہ یہ ہے کہ اس خطے کی سب سے بڑی طاقت بھارت بنے اور خطے کے تمام ملک اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ...

پاک چین دوستی زندہ باد!!!

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!! شیخ امین - منگل 06 ستمبر 2016

تاریخ گواہ ہے کہ 2002 ء میں گجرات میں سنگھ پریوار کے سادھو نریندر مودی (جو اس وقت وہاں وزیر اعلیٰ تھے) کی ہدایات کے عین مطابق کئی ہزار مسلمان مرد عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ عورتوں کی عزت کو داغدار کرنے کے علاوہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دیے گئے تھے۔ ہزاروں رہائشی مکانات نذر آتش کیے گیے۔ پولیس نہ صرف تماشائی بلکہ کئی مقامات پر مسلمانوں کے قتل عام میں بلوائیوں کی صفوں میں شامل ہوئی اور ایسی سیاہ تاریخ رقم کی کہ خود بھارتی معتدل ہندو طبقہ بھی شرمسار ہوا۔ 26مئی 2014س...

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!!

جواب دو!!! شیخ امین - جمعه 02 ستمبر 2016

سقوط ڈھاکا ہوا۔ کشمیری درد و غم میں ڈوب گئے۔ ذولفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھایا گیا تو کشمیری ضیاء الحق اورپاکستانی عدالتوں کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے۔ پاکستان نے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تو کشمیر یوں نے کئی روز تک جشن منایا۔ جنرل ضیاء الحق ہوائی حادثے میں شہید ہوئے تو کشمیر یوں نے اس کا بھی ماتم منایا۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو کشمیریوں نے کئی روز تک جانوں کی پرواہ کیے بغیرگلیوں اور کوچوں میں رقص کیا، مٹھائیاں بانٹیں۔ اسکے برعکس بھارت کے ساتھ نفرت کا اظہار بار بار کیا۔ ...

جواب دو!!!

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!! شیخ امین - منگل 30 اگست 2016

میرا خیال ہے کہ سال 1990ء ابھی تک لوگ بھولے نہیں ہوں گے جب پوری کشمیری قوم سڑکوں پر نکل آئی تھی، بھارت کے خلاف کھلم کھلا نفرت کا اظہار ہر طرف ہورہا تھااوربھارت کا سارا انٹلیجنس کا نظام تتر بتر ہوچکا تھا۔ بھارتی پالیسی ساز اس صورتحال کو دیکھ کر دم بخود تھے۔ انہیں اس بات پر حیرانی تھی کہ اچانک اس حد تک یہ عوامی غم و غصے کا لاوا کس طرح پھٹ پڑا؟ان کی انٹلیجنس ایجنسیاں کہاں تھیں۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس عوامی مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا۔ انہوں نے اسے کشمیریوں کی بھارت ک...

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!!

مقبوضہ کشمیر میں 44 ویں روز بھی کرفیو اور بندشیں سختی کے ساتھ برقرار شیخ امین - پیر 22 اگست 2016

مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو مسلسل44ویں روز بھی ہڑتال ، دن ورات کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ سختی کے ساتھ جاری رہنے کے باعث معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔جبکہ شمال وجنوب میں فورسز کے ہاتھوں شبانہ چھاپوں، توڑ پھوڑ ، مارپیٹ اور گرفتاریوں کے بیچ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جار ی رہا جس دوران مرد و خواتین نے قریہ قریہ احتجاجی جلسوں کا اہتمام کرنے کے علاوہ جلوس اور ریلیاں بھی نکالی اور کئی مقامات پر کھلے آسمان تلے نماز یں بھی ادا کی گئیں ۔رواں آزادی حامی احتجاجی لہر کے مرکز جنوب...

مقبوضہ کشمیر میں 44 ویں روز بھی کرفیو اور بندشیں سختی کے ساتھ برقرار

شراب خباثت کا خزانہ الطاف ندوی کشمیری - جمعرات 30 جون 2016

[caption id="attachment_38309" align="aligncenter" width="621"] وزیر خزانہ حسیب درابو[/caption] 22جون 2016ء کوجموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ جی نے علماءِ کرام اور خطباء حضرات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ یہ لوگ ماحولیات کے بگاڑ،سماجی بدعات اور سنگین مسائل کے خلاف اْف بھی نہیں کرتے ہیں تاہم صنعتی پالیسی اور سینک کالنویوں کے خلاف مساجد میں شور مچاتے ہیں۔اس کے بعداب 25جون 2016ء کو وزیر خزانہ حسیب درابو نے شراب پر پابندی لگانے سے یہ کہتے ہو ئے انکار کیا کہ We canno...

شراب خباثت کا خزانہ

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!! شیخ امین - پیر 27 جون 2016

۲مئی۲۰۱۶کو میری تحریر)وہ ورق تھا دل کی کتاب کا!!!(کے عنوان سے پاکستان کی معروف ویب سائٹ (http://wujood.com/) میں شائع ہوئی۔اس کا ابتدائی پیراگراف ان جملوں پر مشتمل تھا۔ ’’تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما اور مقبول بٹ شہید کے دست راست امان اﷲ خان طویل علالت کے بعد ۲۶اپریل کو ہم سے جدا ہوئے۔یہ جدائی اگرچہ خلاف فطرت نہیں ،لیکن میرے لئے اس حد تک تکلیف دہ تھی کہ دل نا تواں پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگیا۔آنکھوں سے خود بخود عقیدت و محبت کے آنسو ٹپکنے لگے۔یوں لگا جیسے میں ماں کی...

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!!

کشمیر میں اسرائیل طرز کی ہندو بستیاں بنانے کا منصوبہ!!!! وجود - جمعرات 05 مئی 2016

آل پارٹیز حریت کا نفر نس (گیلانی)نے حکومتِ ہند کے آبادکار پنڈتوں کے لیے کمپوزٹ ٹاؤن شپ قائم کرنے کے منصوبے پر بضد رہنے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے اور پنڈتوں کو سماج سے الگ تھلگ کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور دونوں برادریاں مل کر اس خطرناک منصوبے کو ناکام بنائیں گی۔ ذرائع ابلاغ کے نام جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ پنڈت کشمیری سماج کا ایک حصہ ہیں اور کوئی بھی فرد یا گروہ ان کی وادی وا...

کشمیر میں اسرائیل طرز کی ہندو بستیاں بنانے کا منصوبہ!!!!

مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا! وزیراعظم نوازشریف کا کشمیری رہنما یاسین ملک کو جوابی خط وجود - جمعرات 05 مئی 2016

دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے ڈپٹی ہائی کمشنر سید حیدر شاہ اور سفارت خانے کے فرسٹ سیکریٹری نے جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ کے علیل چیئرمین محمد یاسین ملک سے فورٹس ہسپتال دہلی میں ملاقات کی ہے۔ہائی کمشنر نے اس موقع پر محمدیاسین ملک کو پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف کا خط بھی پہنچایا جو انہوں نے محمدیاسین ملک کے 12جنوری 2016ء کو لکھے گئے خط کے جواب میں لکھاہے۔ محمدیاسین ملک نے مذکورہ خط میں حکومت پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کی آئینی پوزیشن کو...

مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا! وزیراعظم نوازشریف کا کشمیری رہنما یاسین ملک کو جوابی خط