... loading ...

رینجرز نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہر کر دی ہے۔ اِسے سندھ کی سیاست میں ایک نیے تہلکہ خیز دور کا آغاز کہا جارہا ہے۔وجود ڈاٹ کام نے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی کراچی آمد کے بعد 27 جنوری کے کور کمانڈر آفس کے طویل اجلاس کے حوالے سے یہ انکشاف کیا تھا کہ اس میں سندھ کی دونوں سیاسی جماعتوں کے اہم سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا موضوع زیربحث رہا ۔ اور اس اجلاس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ پہلی ہلچل کا آغاز کراچی سے ہوگا۔ باخبر ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ عزیر بلوچ کی ظاہر کردہ گرفتاری دراصل اس جانب ایک اہم قد م ہے۔
لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیربلوچ کے حوالے سے رینجرز کے پریس ریلیز میں یہ کہا گیا ہے کہ رینجرز سندھ نے گزشتہ رات ایک کارروائی کے دوران میں کراچی کے مضافات سے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا۔ کراچی کے حالات سے ذرا بھی واقف شخص کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ایک ایسا ہی موقف ہے جیسا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے مبینہ قاتلوں کی چمن سے گرفتاری کے حوالے سے اختیار کیا گیا تھا۔ پچھلے کافی عرصے سے عزیر بلوچ کی دبئی میں مبینہ گرفتاری کے چرچے تھے، جسےقانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مناسب حالات کے انتظار میں ظاہر نہیں کیا جارہا تھا۔پولیس کو مطلوب عزیر بلوچ کو انٹر پول نے جعلی دستاویزات پر مسقط سے براستہ دبئی جاتے ہوئے 29دسمبر 2014 کو گرفتار کیا تھا۔عزیر بلوچ 2013 میں حکومت کی جانب سے آپریشن شروع ہونے کے بعد بیرون ملک فرار ہوئے تھے، تب یہ بات بار بار کہی گئی تھی کہ اُن کے فرار میں سندھ حکومت کے ہی بعض وزراء نے مدد کی ہے۔ مگر ساتھ ہی حکومت سندھ عزیر جان بلوچ کے سر کی قیمت بھی مقرر کر تی رہی ہے۔ دوسری طرف عزیر بلوچ کے عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث اُس کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہو چکے تھے ۔ اس ضمن میں کراچی پولیس نے سندھ حکومت کی ایما پر دبئی جاکر عزیر بلوچ کی سرکاری گرفتاری حاصل کرنے کی متعدد کوششیں کی۔ مگر سندھ حکومت اس گرفتاری کو اپنے مقاصد کے تحت عزیر بلوچ سے مکمل نجات کے لئے حاصل کرنے کی خواہاں تھی۔ جسے طاقتور حلقوں نے تب ناکام بنا دیا تھا۔ اُن دنوں یہ خبریں عام ہوئیں کہ عزیر بلوچ کو دبئی پولیس نے رہا کر دیا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برخلاف تھی۔ باخبر ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں تھے۔ اور اُن سے حاصل معلومات کی روشنی میں نہایت حساس نوعیت کے معاملات کی تحقیقات جاری تھیں۔ یہ اب ایک اہم بات ہے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری ایک ایسے موقع پر ظاہر کی گئی ہے جب فوجی سربراہ نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع نہ لینے اور قیام امن کے لئے اپنی کوششوں کو پوری قوت سے جاری رکھنے کے عزم کو مصمم طور رپر دُہرایا ہے۔وجود ڈاٹ کام کو ذمہ دار ذرائع نے یہ بتایا ہے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہر ہی اس لئے کی گئی ہے کہ اب بڑے پیمانے پر کچھ نئی گرفتاریوں کے امکانات ہیں۔

انتہائی قابل اعتماد ذرائع کا اصرار ہے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری سے بے نظیر بھٹو قتل کے بعض اہم گوشے بے نقاب ہونے کے امکانات ہیں جو اس قدر سنسنی خیز ثابت ہوسکتے ہیں کہ جو سندھ کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کرسکتے ہیں۔ اور سیاسی افراتفری کو بڑھانے کا موجب بنیں گے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک ذمہ دار شخص نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری سے کم از کم دو قتل ایسےہیں جس پر واضح روشنی پڑے گی جن میں ایک خالد شہنشاہ اور دوسرے بلال شیخ شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں افراد انتہائی پراسرار حالات میں قتل کئے گیے تھے، جن کی تفتیش کو سندھ پولیس میں شامل بعض افسران کی مدد سے غلط رخ پر ڈال دیا گیا تھا۔ اب ان دونوں واقعات سے جڑے اصل حقائق کسی بھی وقت منظر عام پر آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ متعدد ایسے واقعات کا حصہ رہے ہیں جو اقتدار کی راہداریوں سے جنم لینے والے بھیانک جرائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں یہ تمام حقائق منظر عام پر آنے کے قوی امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں جو سندھ حکومت کےساتھ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے لئے سنگین نوعیت کے مسائل پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...