... loading ...

ایف آئی اے نے بالآخرای او بی آئی کے متعلق سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی رپورٹ انسدادِ دہشت گردی کی وفاقی عدالت میں28 نومبر کو جمع کرادی ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود ایف آئی اے اس میں ممکنہ حد تک ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی، مگر جمعرات کو اُسے مجبوراً یہ رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کرناپڑی ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ای اوبی آئی اسکینڈل سے اے کے ڈی سیکورٹیز کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں تھا۔ رپورٹ سے اس بنیادی حقیقت کے افشا ہونے کے خوف سے ایف آئی اے نے اس رپورٹ کو دبائے رکھا اور اسے عدالت میں پیش کرنے سےکتراتی رہی۔ایس ای سی پی کی اس رپورٹ میں مبینہ بدعنوانیوں کے ذمہ دار ظفر گوندل اور واحد خورشید انور سمیت دیگر افراد کو قرار دیا گیا ہے۔ اور اس میں کہیں پر بھی ریسرچ رپورٹ کے باعث اے کے ڈی سیکورٹیز کا ذکر تک نہیں ہے۔ اس طرح ایف آئی اے کی طرف سے خود عدالت کو پیش کی گئی رپورٹ میں اے کے ڈی سیکورٹیز کی بے گناہی کا ثبوت ملتا ہے۔ مگر ایف آئی اے اب تک کسی بھی ثبوت کے بغیر اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مسلسل فعال ہے۔ ایس ای سی پی کی اس رپورٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر ایف آئی اے کی جانبداری اور جہانگیر صدیقی کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کا انتقامی طور پر عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف استعمال ثابت ہو جاتا ہے۔
وجود ڈاٹ کام کو انتہائی ذمہ دار ذرائع نے منکشف کیا کہ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن نے بدعنوانی کے اس معاملے کی خبر ہونے پر اس کی تحقیقات کا آغاز اپنے تئیں کیا تھا اور اس کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ 2013ء میں ہی مرتب کر لی تھی۔ جس میں ایمٹیکس اور ای او بی آئی کے معاملات کا مفصل جائزہ لیا گیا تھا۔ اور حقائق کی روشنی میں ای او بی آئی کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے ظفر گوندل اور واحد خورشید کے علاوہ دیگر کرداروں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ جن میں کہیں پر بھی اور کسی طور بھی اے کے ڈی سیکورٹیز کا نام نہیں لیا گیا تھا۔
انتہائی باخبر ذرائع کےمطابق بعض حساس حلقے اس امر پر غور کر رہے ہیں کہ آخر ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات نے اس معاملے کی تحقیقات میں ایس ای سی پی کی اس تحقیقاتی رپورٹ کو کیوں نظر انداز کیا؟ پھر اس کی ایف آئی آر درج کرتے ہوئے ایس ای سی پی کی پہلے سے موجود تحقیقاتی رپورٹ کو سرے سے لائق توجہ ہی کیوں نہ سمجھا؟ اس امر پر بھی غور ہو رہا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین افراد کوملوث کرنے کے باوجود ایف آئی اے نے اس مقدمے کے مرکزی ملزمان پر اپنی تحقیقات میں کیوں دھیان نہیں دیا؟ یہ بھی سوال اُٹھ رہا ہےکہ ایف آئی اے کی طرف سے اب تک ایمٹیکس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لئے کوئی ٹھوس سرگرمیاں کیوں نظر نہیں آئیں؟ اس کے علاوہ جس اہم ترین نکتے پر توجہ مرکوز ہے وہ یہ کہ آخر ایف آئی اے پہلے سے گرفتار ظفر گوندل کو بھی اس معاملے کی تحقیقات میں شامل کیوں نہیں کر رہی؟ اور واحد خورشید کو کیوں یہ موقع فراہم کیا گیا کہ وہ قبل ازوقت ضمانت حاصل کر سکیں ؟ یہ تمام معاملات دراصل یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ایف آئی اے جہانگیر صدیقی کی ایماء پر دراصل اُن کے کاروباری حریف عقیل کریم ڈھیڈی کو سبق سکھانے پر تُلاہوا ہے جس کے باعث وہ مقدمے کے مرکزی ملزمان کوصرف اس لئے تحقیقات میں شامل نہیں کررہا کہ اُس کے بعد توجہ کا مرکز اے کے ڈی سیکورٹیز کے گرفتار ڈائریکٹر ز کے بجائے مرکزی ملزمان ہو جائیں گے اور اُن کی ضمانت کا معاملہ بھی آسان ہو جائے گا۔ جبکہ ایک اطلاع کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات ہر صورت میں یہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح اے کے ڈی سیکورٹیز کے غیر متعلق ڈائریکٹرز کی ضمانت ممکن نہ ہو پائے۔ اس کے لئے وہ ایف آئی اے کو حاصل قانونی مینڈیٹ سے بھی تجاوز کرکے بعض ایسے رابطے بھی کرنے کے مرتکب بتائے جارہے ہیں جسے دباؤ کے ذمرے میں لیا جاتا ہے۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...