وجود

... loading ...

وجود

بھارت کا یوم جمہوریہ، آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ

بدھ 27 جنوری 2016 بھارت کا یوم جمہوریہ، آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ

Black-Day-rally-Muzaffarabad

آل پا رٹیز حریت حریت کانفرنس کی کی اپیل پر بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں نے آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا۔ بھارت کے خلاف احتجاجی جلسے، جلوس، ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے اور جدو جہد آزاد ی میں مصروف کشمیریوں اور متحدہ جہاد کونسل کو یقین دلایا گیا کہ پوری پاکستانی قوم اور پاکستان و آزاد کشمیر کی جملہ قیادت ان کی پشت پر کھڑی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی کال کے پیش نظر مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی، دکانیں، کاروباری ادارے، ہر طرح کے دفاتر اوردیگر ادارے بند جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت ٹھپ ہوکر رہی۔مجموعی طور پورے شہر سرینگر میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات اور مزاحتمی تنظیموں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے پیش نظر کرفیو کا سماں رہا اور لوگوں نے اپنے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔شہر اور اس کے مضافات میں کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں مکمل طور بند رہیں ۔دریں اثناء پولیس نے مظاہروں کو روکنے کے لیے بیشتر مزاحمتی رہنماؤں کوان کے گھروں میں نظر بند کردیا جن میں حریت(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق، فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ اور لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک قابل ذکر ہیں۔قائد حریت سید علی گیلانی نے 26جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر منانے پر کشمیری عوام کا شکریہ ادا کیا ۔

ریاستی دارلحکومت مظفرآباد میں جموں و کشمیر پاسبان حریت کے زیر اہتمام بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر یوم سیاہ کے سلسلہ میں مرکزی ایوان صحافت میں احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا اور جلسے کے بعد مرکزی ایوان صحافت سے اقوام متحدہ کے مبصر مشن تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور پاداشت پیش کی گئی اس موقع پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور فضاء میں سیاہ غبارے اور سیاہ پرچم چھوڑے گئے ۔ پاسبان حریت کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی جلسے کے مہمان خصوصی پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر اور اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر تھے جبکہ صدارت کے فرائض سینئر حریت رہنماء غلام محمد صفی نے سر انجام دیے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ جدو جہد آزادی میں کشمیری تنہا نہیں ہیں پوری پاکستانی قوم، سیاسی قیادت اور بیس کیمپ کے عوام اور ساری قیادت سید علی گیلانی، سید صلاح الدین، متحدہ جہاد کونسل، کل جماعتی حریت کانفرنس اور کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔ بھارت کو یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں یہ غاصب اور جابر ملک ہے ۔ اس نام نہاد جمہوری ملک کے دو چہرے ہیں ہم مہذب دنیا اور اقوام عالم سے مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آئیں اور بھارت کا اصل چہرہ دیکھیں، کشمیریوں کی جدو جہد آزادی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

Black-Day-rally-Muzaffarabad2

حریت رہنماء غلام محمد صفی کا کہنا تھا کہ بھارت ایک جارح اور غاصب ملک ہے جو کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو پس پشت ڈال کر کشمیر پر قبضہ کیے ہوئے ہے کشمیریوں کے پاس بھارت کے فوجی قبضے کے خاتمے اور چھٹکارے کے لیے سیاسی، عسکری اور سفارتی جدو جہد کا آئینی و قانونی جواز موجود ہے بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کر تے ہوئے اس تنازعے کا حل نکالنے کی عملی کوشش کرے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، پاکستان کی ساری سیاسی اور فوجی قیادت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے سنجیدہ ہے ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر نے کے لیے جاندار کردار کا کشمیری خیر مقدم کر تے ہیں پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی کا کہنا تھا کہ 26 جنوری بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ ہے ہندوستان کے پاس کوئی سیاسی، اخلاقی اور قانونی جواز ہی نہیں کہ وہ جمہوری ہونے کا دعویٰ کرے۔ بھارت نے مقبوضہ ریاست کو جیل میں تبدیل کر کے غیر انسانی قوانین کا نفاذ کیا وہاں انسانی زندگیوں اور انسانی اقدار کو پامال کر رہا ہے آج ہم یوم سیاہ منا کر بھارت کو اس کا اصلی چہرہ دکھا رہے ہیں۔

مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے جماعت الدعوۃ آزاد کشمیر کے امیر مولانا عبد العزیز علوی کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے شانہ بشانہ ہیں حکومتوں کی بدلتی پالیسیاں کشمیریوں کو تحریک آزادی سے بد ظن نہیں کر سکتیں 26 جنوری بھارت حکمرانوں اور عوام کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ ایک طرف کشمیریوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور دوسری طرف جمہوری ملک ہونے کے دعویدار ہیں کشمیر ی مجاہدین کی جدو جہد مبنی برحق ہے جو ہر صورت میں جاری رہے گی بھارت صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے ۔

حزب المجاہدین کے رہنماؤ ں شمشیر خان اور ملک محمد عبد اللہ نے کہا کہ کشمیری اور پاکستانی ایک جسم اور دو قالب ہیں کشمیر کی آزادی تک بھارت کے خلاف سب مل کر جدو جہد جاری رکھیں گے، قبضہ کشمیر بھارت کی مکارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے کشمیری بھارت کے ساتھ کسی صورت نہیں رہنا چاہتے، اقوام متحدہ کو سامنے آکر کشمیریوں کی مرضی اور منشاد کے مطابق کردار ادا کر نا ہوگا چند زر خرید بھارتی ایجنٹ کشمیر کے آزادی پسند رہنماؤں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کر رہے ہین اس سے ہماری تحریک پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں ۔ بھارت جمہوری ملک نہیں ایک غاصب قوت ہے۔

مظاہرے سے حریت رہنماء محمد الطاف وانی، سابق وزیر غلام مرتضیٰ گیلانی، محمد اصغر رسول، شوکت جاوید میر، راجہ سجاد لطیف خان، چوہدری فیروز الدین، مشتاق الاسلام، قاضی شاہد حمید ایڈووکیٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ بھارت یاد رکھے وہ زیادہ دیر تک دو چہروں کے ذریعے دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا، کشمیریوں کی جدو جہد آزادی منزل مقصود کے حصول تک جاری رہے گی پوری پاکستانی قوم کشمیریو ں کی پشت پر ہے ۔

اس موقع پر ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل راجہ سجاد نے بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس کے بعد مرکزی ایوان صحافت سے اقوام متحدہ کے مبصر مشن تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت اپوزیشن لیڈر فاروق حیدر، حریت رہنماء غلام محمد صفی، ملک عبد اللہ، الطاف وانی، پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی اور دیگر قائدین کر رہے تھے ۔ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے باہر بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی، مظاہرین نے سیاہ جھنڈے، پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف نعرے درج تھے اس موقع پر مبصر مشن کو یادداشت پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ 26 جنوری کو بھار ت کا یوم جمہوریہ کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں پوری دنیا میں بالعموم اور ریاست جموں و کشمیر میں بالخصوص کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لیے عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، جنوبی ایشیا کے پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کشمیریوں کو آزادی دی جائے قرار داد میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی حریت قائدین اور عوام کی گرفتاریوں، حراستوں اور جبری نظر بندیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کر نے کی اپیل کی گئی ہے ۔

Black-Day-rally-Muzaffarabad3


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر