... loading ...

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ کے بعد اب اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمہ انتہائی پریشانی کا باعث بننے والا ہے۔ باخبر ذرائع سے وجود ڈاٹ کام کو معلوم ہوا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف شاہد حیات کی طرف سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی اب خو داُن کے لئے مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں۔ جس سے خود ایف آئی اے کے کردار پر کافی سوالیہ نشان اُٹھ گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کو دوران تفتیش ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جو طوفان بدتمیزی ایف آئی اے نے اُٹھا یا تھا ، اُس کا بوجھ بھی وہ خودہی اُٹھائے۔ اس ضمن میں ایس ای سی پی سے جو فیس سیونگ ایف آئی اے کو چاہیے تھی ،وہ باخبر ذرائع کے مطابق نہیں مل سکی ہے۔ یہی کچھ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ کی چھان بین کے معاملے میں بھی ہوا ہے۔ ایف آئی اے نے اس ضمن میں پورا زور لگایا ہے کہ وہ ایمٹیکس کے حوالے سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے کردار کو ’’ان لسٹ‘‘ کرانے اور ریسرچ رپورٹ سے آگے بڑھ کرمزیدکچھ اور بھی ثابت کرسکے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے نے انتہائی خاموشی سے اس مقدمے میں پوری ’’منی ٹریل‘‘پر بھی چھان بین شروع کر رکھی ہے کہ اس پورے کیس میں پیسہ کہاں سے چلا اور مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا کہاں تک پہنچا ہے۔ مگر اس معاملے کی چھان بین بھی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کوئی بڑے ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی اس تفتیش پر نظریں گاڑے ہوئے کچھ حساس قومی حلقے اب اس پورے کھیل کے پس پردہ عوامل پر غور کر رہے ہیں کہ آخر ایک مقدمے میں ای او بی آئی کے خلاف چھان بین کے بجائے ریسرچ رپورٹ جاری کرنے والے ادارے کے خلاف تمام مقدمے کو کیوں مرکوز رکھا گیا ہے اور اگر کوئی بدعنوانی ہوئی بھی ہے تو اس میں واضح طور پر بدعنوانوں کے بجائے غیر متعلقہ لوگوں کی جانب تحقیقات کا رخ کیوں رکھا گیا ہے ؟نیز اس معاملے میں تاحال ایف آئی اے کی جانب سے ای او بی آئی اور ایمٹیکس کے ذمہ داران کے خلاف کسی ٹھوس کارروائی سے گریز کیوں کیا جاتا رہا؟ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے اس معاملے پر بھی غور شروع کردیا ہے کہ ایمٹیکس کے کچھ ذمہ داران کی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی سے بھی قبل گرفتاریاں ہوئی تھیں، مگر اُنہیں خاموشی اور منفعت بخش بات چیت کے بعد گرفتاری ظاہر کئے بغیر رہا کردیا گیا تھا۔ اب اطلاعات یہ مل رہی ہیں کہ یہ دراصل اس لئے بھی کیا گیا تھا کہ اصل ملزمان کی موجودگی میں دراصل اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف میڈیا ٹرائل ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ایف آئی اے کے ذریعے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پریشان کرنے کا مطلوبہ مقصد حاصل ہوتا۔چنانچہ ان نکات کے گرد شاہد حیات کے ’’تعلقات‘‘ کی اُس سطح کو زیربحث لایا جارہا ہے جو وہ جہانگیر صدیقی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں حساس حلقوں تک اُن تمام بدعنوانیوں کے مکمل تفصیلات پہنچ گئی ہے جو شاہد حیات کے علم میں تھی اور اُنہوں نے جہانگیر صدیقی کے خلاف اُس کی تحقیقات تک کرنا گوارا نہیں کیا۔باخبر ذرائع کے مطابق اربوں روپے پر محیط ایسی بدعنوانیوں کے چودہ بڑے اسکینڈلز کی فہرست بھی بنا لی گئی ہے جو جہانگیر صدیقی کے خلاف ایف آئی اے نے علم میں آنے کے باوجود چھپائے رکھے۔ یہ معلومات دراصل ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات اور جہانگیر صدیقی کے درمیان تعلقات کی ایک فائدہ مند مساوات کو عریاں کرتی ہیں۔ اور یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تعلقات دراصل ایک سرکاری ادارے کو کس طرح ذاتی مقاصداور انتقام کے لئے استعمال کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سوال پر غور کرنے سے شاہد حیات کی ذاتی زندگی کے شاہانہ انداز بھی قابل تفتیش بن جاتے ہیں کہ ایک سرکاری ملازم آخر کس طرح شاہانہ ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار سکتا ہے؟ کہیں یہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ کسی کے رہین منت تو نہیں؟ اس ضمن میں بعض حساس نوعیت کی معلومات بعض حلقوں کے ہاتھ لگی ہیں جس کے بارے میں وجودڈاٹ کام کو اطلاع ملی ہے کہ یہ عنقریب منظرعام پر آنے والی ہیں جس سے یہ بھی اندازا ہو جائے گا کہ شاہد حیات کے متعلق ایک ایماندار افسر کا تاثر کتنا درست ہے اور کتنا غلط؟ پولیس کے بعض ذرائع نے کچھ اداروں سے بات چیت میں یہ پہلو بھی بیان کیا ہے کہ ایران سے اسمگل ہونے والے تیل اور ڈیزل کی تحقیقات بھی ہونی چاہئے تاکہ لگے ہاتھوں اس کھیل کے کھلاڑی بھی بے نقاب ہو جائیں ۔
مگر اس سے قطع نظر ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹر شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے بعد اے کے ڈی سیکورٹیز پر مقدمہ بھی ایک ناخوشگوار معاملہ بن کر سامنے آنے لگا ہے۔ جس کے متعلق میڈیا ٹرائل کے بعد اب حقائق کا سامناکرتے ہوئے وہ خود کو ذرائع ابلاغ کی آنکھوں سے مسلسل اوجھل رکھنے کے جتن میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ان ہی وجوہات کے باعث گزشتہ دنوں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اکبر ہوتی (جو فروری کی ابتدائی تاریخوں میں ریٹائر بھی ہورہے ہیں) کی کراچی آمد پر اُنہیں صرف اُن صحافیوں سے ہی ملنے دیا گیا جو شاہد حیات کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق شاہد حیات نے ڈائریکٹر جنرل کی کراچی آمد پر اُنہیں ائیرپورٹ سے ہی نرغے میں لے لیا تھا۔ اور اُن کی تمام مصروفیات پر قبضہ جمائے رکھا۔ تاکہ وہ اس دوران میں ایسے صحافیوں کے ہتھے نہ لگ سکیں جو اُن سے ایسے سوالا ت پوچھ سکتے تھے جس سے اس مقدمے میں شاہد حیات کی جہانگیر صدیقی کے ساتھ وابستگی کو بے نقاب کرنے کے علاوہ اس مقدمے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف انتقامی کارروائی سامنے آسکتی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ شاہد حیات اس معاملے کو مزید کتنا طول دے پاتے ہیں اور دوسری طرف خود شاہد حیات سے متعلق چلنے والی تحقیقات کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...