وجود

... loading ...

وجود

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف تحقیقات میں خود ایف آئی اے کے خلاف تحقیقات کا خطرہ!

بدھ 27 جنوری 2016 اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف تحقیقات میں خود ایف آئی اے کے خلاف تحقیقات کا خطرہ!

shahid and jahangeer

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ کے بعد اب اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمہ انتہائی پریشانی کا باعث بننے والا ہے۔ باخبر ذرائع سے وجود ڈاٹ کام کو معلوم ہوا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف شاہد حیات کی طرف سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی اب خو داُن کے لئے مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں۔ جس سے خود ایف آئی اے کے کردار پر کافی سوالیہ نشان اُٹھ گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کو دوران تفتیش ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جو طوفان بدتمیزی ایف آئی اے نے اُٹھا یا تھا ، اُس کا بوجھ بھی وہ خودہی اُٹھائے۔ اس ضمن میں ایس ای سی پی سے جو فیس سیونگ ایف آئی اے کو چاہیے تھی ،وہ باخبر ذرائع کے مطابق نہیں مل سکی ہے۔ یہی کچھ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ کی چھان بین کے معاملے میں بھی ہوا ہے۔ ایف آئی اے نے اس ضمن میں پورا زور لگایا ہے کہ وہ ایمٹیکس کے حوالے سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے کردار کو ’’ان لسٹ‘‘ کرانے اور ریسرچ رپورٹ سے آگے بڑھ کرمزیدکچھ اور بھی ثابت کرسکے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے نے انتہائی خاموشی سے اس مقدمے میں پوری ’’منی ٹریل‘‘پر بھی چھان بین شروع کر رکھی ہے کہ اس پورے کیس میں پیسہ کہاں سے چلا اور مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا کہاں تک پہنچا ہے۔ مگر اس معاملے کی چھان بین بھی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کوئی بڑے ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایف آئی اے اصل ملزمان کو گرفتار کرنے سے اس لئے پہلو تہی کررہی ہےکیونکہ اصل ملزمان کی موجودگی میں دراصل اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف میڈیا ٹرائل ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ایف آئی اے کے ذریعے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پریشان کرنے کا مطلوبہ مقصد حاصل ہوتا۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی اس تفتیش پر نظریں گاڑے ہوئے کچھ حساس قومی حلقے اب اس پورے کھیل کے پس پردہ عوامل پر غور کر رہے ہیں کہ آخر ایک مقدمے میں ای او بی آئی کے خلاف چھان بین کے بجائے ریسرچ رپورٹ جاری کرنے والے ادارے کے خلاف تمام مقدمے کو کیوں مرکوز رکھا گیا ہے اور اگر کوئی بدعنوانی ہوئی بھی ہے تو اس میں واضح طور پر بدعنوانوں کے بجائے غیر متعلقہ لوگوں کی جانب تحقیقات کا رخ کیوں رکھا گیا ہے ؟نیز اس معاملے میں تاحال ایف آئی اے کی جانب سے ای او بی آئی اور ایمٹیکس کے ذمہ داران کے خلاف کسی ٹھوس کارروائی سے گریز کیوں کیا جاتا رہا؟ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے اس معاملے پر بھی غور شروع کردیا ہے کہ ایمٹیکس کے کچھ ذمہ داران کی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی سے بھی قبل گرفتاریاں ہوئی تھیں، مگر اُنہیں خاموشی اور منفعت بخش بات چیت کے بعد گرفتاری ظاہر کئے بغیر رہا کردیا گیا تھا۔ اب اطلاعات یہ مل رہی ہیں کہ یہ دراصل اس لئے بھی کیا گیا تھا کہ اصل ملزمان کی موجودگی میں دراصل اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف میڈیا ٹرائل ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ایف آئی اے کے ذریعے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پریشان کرنے کا مطلوبہ مقصد حاصل ہوتا۔چنانچہ ان نکات کے گرد شاہد حیات کے ’’تعلقات‘‘ کی اُس سطح کو زیربحث لایا جارہا ہے جو وہ جہانگیر صدیقی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں حساس حلقوں تک اُن تمام بدعنوانیوں کے مکمل تفصیلات پہنچ گئی ہے جو شاہد حیات کے علم میں تھی اور اُنہوں نے جہانگیر صدیقی کے خلاف اُس کی تحقیقات تک کرنا گوارا نہیں کیا۔باخبر ذرائع کے مطابق اربوں روپے پر محیط ایسی بدعنوانیوں کے چودہ بڑے اسکینڈلز کی فہرست بھی بنا لی گئی ہے جو جہانگیر صدیقی کے خلاف ایف آئی اے نے علم میں آنے کے باوجود چھپائے رکھے۔ یہ معلومات دراصل ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات اور جہانگیر صدیقی کے درمیان تعلقات کی ایک فائدہ مند مساوات کو عریاں کرتی ہیں۔ اور یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تعلقات دراصل ایک سرکاری ادارے کو کس طرح ذاتی مقاصداور انتقام کے لئے استعمال کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سوال پر غور کرنے سے شاہد حیات کی ذاتی زندگی کے شاہانہ انداز بھی قابل تفتیش بن جاتے ہیں کہ ایک سرکاری ملازم آخر کس طرح شاہانہ ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار سکتا ہے؟ کہیں یہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ کسی کے رہین منت تو نہیں؟ اس ضمن میں بعض حساس نوعیت کی معلومات بعض حلقوں کے ہاتھ لگی ہیں جس کے بارے میں وجودڈاٹ کام کو اطلاع ملی ہے کہ یہ عنقریب منظرعام پر آنے والی ہیں جس سے یہ بھی اندازا ہو جائے گا کہ شاہد حیات کے متعلق ایک ایماندار افسر کا تاثر کتنا درست ہے اور کتنا غلط؟ پولیس کے بعض ذرائع نے کچھ اداروں سے بات چیت میں یہ پہلو بھی بیان کیا ہے کہ ایران سے اسمگل ہونے والے تیل اور ڈیزل کی تحقیقات بھی ہونی چاہئے تاکہ لگے ہاتھوں اس کھیل کے کھلاڑی بھی بے نقاب ہو جائیں ۔

مگر اس سے قطع نظر ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹر شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے بعد اے کے ڈی سیکورٹیز پر مقدمہ بھی ایک ناخوشگوار معاملہ بن کر سامنے آنے لگا ہے۔ جس کے متعلق میڈیا ٹرائل کے بعد اب حقائق کا سامناکرتے ہوئے وہ خود کو ذرائع ابلاغ کی آنکھوں سے مسلسل اوجھل رکھنے کے جتن میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ان ہی وجوہات کے باعث گزشتہ دنوں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اکبر ہوتی (جو فروری کی ابتدائی تاریخوں میں ریٹائر بھی ہورہے ہیں) کی کراچی آمد پر اُنہیں صرف اُن صحافیوں سے ہی ملنے دیا گیا جو شاہد حیات کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق شاہد حیات نے ڈائریکٹر جنرل کی کراچی آمد پر اُنہیں ائیرپورٹ سے ہی نرغے میں لے لیا تھا۔ اور اُن کی تمام مصروفیات پر قبضہ جمائے رکھا۔ تاکہ وہ اس دوران میں ایسے صحافیوں کے ہتھے نہ لگ سکیں جو اُن سے ایسے سوالا ت پوچھ سکتے تھے جس سے اس مقدمے میں شاہد حیات کی جہانگیر صدیقی کے ساتھ وابستگی کو بے نقاب کرنے کے علاوہ اس مقدمے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف انتقامی کارروائی سامنے آسکتی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ شاہد حیات اس معاملے کو مزید کتنا طول دے پاتے ہیں اور دوسری طرف خود شاہد حیات سے متعلق چلنے والی تحقیقات کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟


متعلقہ خبریں


بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو شوکاز جاری کیا گیا ہے، ایم کیو ایم پاکستان انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، سیاسی جماعت نے مقررہ توسیعی مدت 15 اکتوبر 2026...

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز وجود - منگل 03 نومبر 2026

عالمی مالیاتی ادارے کا 15 ہزار 264 ارب کا سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے پر زور آئی ایم ایف نے ٹیکس ریونیو میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عالمی مالیا...

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ وجود - منگل 03 نومبر 2026

عدالت عالیہ نے سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کردیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ...

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل وجود - منگل 03 نومبر 2026

شہباز شریف کا بس چلے تو کابینہ کے 55 وزیروں میں سے 52 یا 53 فارغ ہوں گے اور 2 یا 3 ہی بچیں گے، حذیفہ رحمان وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے وزیراعظم کی ذہانت کا موازنہ معروف سائنسدان آئزک نیوٹن سے کیا ہے۔نجی ٹی وی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم کا...

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر