وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف تحقیقات میں خود ایف آئی اے کے خلاف تحقیقات کا خطرہ!

بدھ 27 جنوری 2016 اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف تحقیقات میں خود ایف آئی اے کے خلاف تحقیقات کا خطرہ!

shahid and jahangeer

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ کے بعد اب اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمہ انتہائی پریشانی کا باعث بننے والا ہے۔ باخبر ذرائع سے وجود ڈاٹ کام کو معلوم ہوا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف شاہد حیات کی طرف سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی اب خو داُن کے لئے مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں۔ جس سے خود ایف آئی اے کے کردار پر کافی سوالیہ نشان اُٹھ گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کو دوران تفتیش ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جو طوفان بدتمیزی ایف آئی اے نے اُٹھا یا تھا ، اُس کا بوجھ بھی وہ خودہی اُٹھائے۔ اس ضمن میں ایس ای سی پی سے جو فیس سیونگ ایف آئی اے کو چاہیے تھی ،وہ باخبر ذرائع کے مطابق نہیں مل سکی ہے۔ یہی کچھ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ کی چھان بین کے معاملے میں بھی ہوا ہے۔ ایف آئی اے نے اس ضمن میں پورا زور لگایا ہے کہ وہ ایمٹیکس کے حوالے سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے کردار کو ’’ان لسٹ‘‘ کرانے اور ریسرچ رپورٹ سے آگے بڑھ کرمزیدکچھ اور بھی ثابت کرسکے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے نے انتہائی خاموشی سے اس مقدمے میں پوری ’’منی ٹریل‘‘پر بھی چھان بین شروع کر رکھی ہے کہ اس پورے کیس میں پیسہ کہاں سے چلا اور مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا کہاں تک پہنچا ہے۔ مگر اس معاملے کی چھان بین بھی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کوئی بڑے ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایف آئی اے اصل ملزمان کو گرفتار کرنے سے اس لئے پہلو تہی کررہی ہےکیونکہ اصل ملزمان کی موجودگی میں دراصل اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف میڈیا ٹرائل ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ایف آئی اے کے ذریعے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پریشان کرنے کا مطلوبہ مقصد حاصل ہوتا۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی اس تفتیش پر نظریں گاڑے ہوئے کچھ حساس قومی حلقے اب اس پورے کھیل کے پس پردہ عوامل پر غور کر رہے ہیں کہ آخر ایک مقدمے میں ای او بی آئی کے خلاف چھان بین کے بجائے ریسرچ رپورٹ جاری کرنے والے ادارے کے خلاف تمام مقدمے کو کیوں مرکوز رکھا گیا ہے اور اگر کوئی بدعنوانی ہوئی بھی ہے تو اس میں واضح طور پر بدعنوانوں کے بجائے غیر متعلقہ لوگوں کی جانب تحقیقات کا رخ کیوں رکھا گیا ہے ؟نیز اس معاملے میں تاحال ایف آئی اے کی جانب سے ای او بی آئی اور ایمٹیکس کے ذمہ داران کے خلاف کسی ٹھوس کارروائی سے گریز کیوں کیا جاتا رہا؟ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے اس معاملے پر بھی غور شروع کردیا ہے کہ ایمٹیکس کے کچھ ذمہ داران کی اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی سے بھی قبل گرفتاریاں ہوئی تھیں، مگر اُنہیں خاموشی اور منفعت بخش بات چیت کے بعد گرفتاری ظاہر کئے بغیر رہا کردیا گیا تھا۔ اب اطلاعات یہ مل رہی ہیں کہ یہ دراصل اس لئے بھی کیا گیا تھا کہ اصل ملزمان کی موجودگی میں دراصل اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف میڈیا ٹرائل ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ایف آئی اے کے ذریعے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پریشان کرنے کا مطلوبہ مقصد حاصل ہوتا۔چنانچہ ان نکات کے گرد شاہد حیات کے ’’تعلقات‘‘ کی اُس سطح کو زیربحث لایا جارہا ہے جو وہ جہانگیر صدیقی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں حساس حلقوں تک اُن تمام بدعنوانیوں کے مکمل تفصیلات پہنچ گئی ہے جو شاہد حیات کے علم میں تھی اور اُنہوں نے جہانگیر صدیقی کے خلاف اُس کی تحقیقات تک کرنا گوارا نہیں کیا۔باخبر ذرائع کے مطابق اربوں روپے پر محیط ایسی بدعنوانیوں کے چودہ بڑے اسکینڈلز کی فہرست بھی بنا لی گئی ہے جو جہانگیر صدیقی کے خلاف ایف آئی اے نے علم میں آنے کے باوجود چھپائے رکھے۔ یہ معلومات دراصل ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات اور جہانگیر صدیقی کے درمیان تعلقات کی ایک فائدہ مند مساوات کو عریاں کرتی ہیں۔ اور یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تعلقات دراصل ایک سرکاری ادارے کو کس طرح ذاتی مقاصداور انتقام کے لئے استعمال کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سوال پر غور کرنے سے شاہد حیات کی ذاتی زندگی کے شاہانہ انداز بھی قابل تفتیش بن جاتے ہیں کہ ایک سرکاری ملازم آخر کس طرح شاہانہ ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار سکتا ہے؟ کہیں یہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ کسی کے رہین منت تو نہیں؟ اس ضمن میں بعض حساس نوعیت کی معلومات بعض حلقوں کے ہاتھ لگی ہیں جس کے بارے میں وجودڈاٹ کام کو اطلاع ملی ہے کہ یہ عنقریب منظرعام پر آنے والی ہیں جس سے یہ بھی اندازا ہو جائے گا کہ شاہد حیات کے متعلق ایک ایماندار افسر کا تاثر کتنا درست ہے اور کتنا غلط؟ پولیس کے بعض ذرائع نے کچھ اداروں سے بات چیت میں یہ پہلو بھی بیان کیا ہے کہ ایران سے اسمگل ہونے والے تیل اور ڈیزل کی تحقیقات بھی ہونی چاہئے تاکہ لگے ہاتھوں اس کھیل کے کھلاڑی بھی بے نقاب ہو جائیں ۔

مگر اس سے قطع نظر ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹر شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے بعد اے کے ڈی سیکورٹیز پر مقدمہ بھی ایک ناخوشگوار معاملہ بن کر سامنے آنے لگا ہے۔ جس کے متعلق میڈیا ٹرائل کے بعد اب حقائق کا سامناکرتے ہوئے وہ خود کو ذرائع ابلاغ کی آنکھوں سے مسلسل اوجھل رکھنے کے جتن میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ان ہی وجوہات کے باعث گزشتہ دنوں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اکبر ہوتی (جو فروری کی ابتدائی تاریخوں میں ریٹائر بھی ہورہے ہیں) کی کراچی آمد پر اُنہیں صرف اُن صحافیوں سے ہی ملنے دیا گیا جو شاہد حیات کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق شاہد حیات نے ڈائریکٹر جنرل کی کراچی آمد پر اُنہیں ائیرپورٹ سے ہی نرغے میں لے لیا تھا۔ اور اُن کی تمام مصروفیات پر قبضہ جمائے رکھا۔ تاکہ وہ اس دوران میں ایسے صحافیوں کے ہتھے نہ لگ سکیں جو اُن سے ایسے سوالا ت پوچھ سکتے تھے جس سے اس مقدمے میں شاہد حیات کی جہانگیر صدیقی کے ساتھ وابستگی کو بے نقاب کرنے کے علاوہ اس مقدمے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف انتقامی کارروائی سامنے آسکتی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ شاہد حیات اس معاملے کو مزید کتنا طول دے پاتے ہیں اور دوسری طرف خود شاہد حیات سے متعلق چلنے والی تحقیقات کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی