... loading ...

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1973 کے تحت لیبیا میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ‘نو فلائی زون’ تخلیق کیا گیا تھا۔ اس پورے معاملے میں فرانس پیش پیش تھا لیکن سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی منظر عام پر آنے والی 3 ہزار ای میلز سے ایسے ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں جو یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ مغربی ممالک نیٹو کا استعمال کرتے ہوئے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کا تختہ الٹنا چاہ رہے تھے، عوام کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کیونکہ انہیں قذافی کے ایک افریقی کرنسی کے اجرا کے منصوبوں کا علم ہوگیا تھا، جو مغربی ممالک کے مرکزی بینکاری نظام کی اجارہ داری کا مقابلہ کرتا۔
ہلیری کلنٹن کی ای میلز ظاہر کرتی ہیں کہ فرانس کی قیادت میں لیبیا کے خلاف شروع کی گئی نیٹو فوجی مہم کا ایک مقصد تو لیبیا میں تیل کی پیداوار میں بڑا حصہ حاصل کرنا تھا اور دوسرا فرانس کے زیر اثر افریقی علاقوں میں فرانسیسی اثر و رسوخ کم کرنے کی قذافی کی کوششوں کا خاتمہ بھی تھا۔
اپریل 2011ء میں ایک ای میل، جو وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو غیر سرکاری مشیر اور طویل عرصے سے ان کے محرم راز، سڈن بلومنتھیل نے بھیجی تھی، مغرب کی غارت گرانہ سوچ کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔ اس ای میل کا موصوع “فرانسیسی گاہک اور قذافی کا سونا” تھا۔ فارن پالیسی جرنل بتاتا ہے کہ:
یہ ای میل نشاندہی کرتی ہے کہ فرانس کے صدر نکولا سرکوزی لیبیا پر حملہ کرتے ہوئے پانچ مقاصد ہیں: لیبیا کے تیل پر قبضہ کرنا، خطے میں فرانسیسی اثر و رسوخ کو یقینی بنانا، مقامی سطح پر یعنی فرانس میں اپنی ساکھ بہتر بنانا، فرانس کی فوجی طاقت کا اظہار کرنا اور فرانسیسی بولنے والے افریقی علاقوں کو قذافی کے اثر و رسوخ سے بچانا۔
اس ای میل کا سب سے حیرت انگیز حصہ وہ ہے جس میں اُس بڑے خطرے کا خاکہ کھینچا گیا ہے جو قذافی کے سونے اور چاندی کے ذخائر سے درپیش ہے۔ 143 ٹن سونا اور لگ بھگ اتنی ہی چاندی، جو فرانسیسی فرانک کو افریقہ کی اہم ترین کرنسی کے طور پر پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔
ای میل واضح کرتی ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع نے اشارہ دیا تھا کہ لیبیا پر فرانس نے شدت اور سرعت کے ساتھ حملہ کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اپنی بڑی طاقت کے اظہار کے لیے کیا گیا تھا، جس میں جس میں سامراجی کامیابی کے لیے نیٹو کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، یہ ہرگز انسانوں کو بچانے کے لیے کیا گیا حملہ نہیں تھا جو عام طور پر عوام سمجھتے رہے۔
ای میل کے مطابق یہ سونا موجودہ بغاوت سے پہلے جمع کیا گیا تھا اور اسے ایک “پین-افریقن کرنسی” کے قیام میں استعمال کیا جانا تھا جو لیبیا کے طلائی دینار کی بنیاد پر ہوتی۔ یہ منصوبہ فرانسیسی بولنے والے افریقی ممالک کو فرانسیسی فرانک کا ایک متبادل فراہم کرنے کی حیثیت سے تیار کیا گیا تھا۔
باوثوق ذرائع کے مطابق اس سونے اور چاندی کی مالیت 7 ارب ڈالرز سے زیادہ تھی۔ فرانس کے انٹیلی جنس افسران نے اس منصوبے کا سراغ موجودہ بغاوت کے آغاز پر ہی پا لیا تھا اور یہی اہم عوامل میں سے ایک تھا جس نے صدر نکولا سرکوزی کو لیبیا پر حملے کا فیصلے لینے پر آمادہ کیا۔
یہ ای میل محض ایک ہلکی سی جھلک فراہم کرتی ہے کہ اکثر و بیشتر خارجہ پالیسی کس طرح کام کرتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں پیش کیا گیا کہ مغرب کی مدد سے لیبیا میں کی گئی فوجی مداخلت انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ حقیقی محرک یہ تھا کہ قذافی ایک براعظمی کرنسی کے ذریعے خطے کی اقتصادی آزادی کا منصوبہ بنا رہے تھے، جو خطے میں فرانس کے اثر و رسوخ اور طاقت کو کم کر دیتی۔
یہ ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ فرانس کے انٹیلی جنس حکام کو علم تھا کہ وہ مغرب کے مرکزی بینکاری نظام کا مقابلہ کرنے والی ایک کرنسی تخلیق کرنے جا رہے ہیں، یہیں سے معاملے کو فوجی انداز میں حل کرنے کا آغاز ہوا اور بالآخر نیٹو اتحاد شامل ہوگیا۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...