وجود

... loading ...

وجود

عظیم شخصیات کے آخری الفاظ

اتوار 24 جنوری 2016 عظیم شخصیات کے آخری الفاظ

جب دنیا آپ کے سامنے بکھر رہی ہو، تمام عمر جس موت کو جھٹلایا وہ سب سے بڑی حقیقت بن کر سامنے کھڑی ہو، تو انسان کے منہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ اس کی پوری زندگی کا لب لباب ہو سکتے ہیں۔ ایک زندگی جسے ہمیشہ ‘طویل’ سمجھا گیا، جب مختصر ہو کر ایک ساعت میں سمٹ آئے تو ماضی پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ کے ساتھ کوئی کلمہ بھی ادا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موت کو سامنے دیکھ کر ‘عظیم ترین شخصیات’ کے منہ سے بھی جو الفاظ نکلے، وہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ آئیے ان میں سے چند پر نظر ڈالتے ہیں۔

تھامس ایڈیسن

thomas-edison

“باہر کا منظر کتنا خوبصورت ہے”

ہوش میں آنے کے بعد معروف موجد تھامس ایڈیسن نے آنکھیں کھولیں اور قریب کھڑی اہلیہ سے یہ الفاظ کہے۔


لیونارڈو ڈا ونچی

Leonardo-da-Vinci

“میں نے سب کو بہت مایوس کیا کیونکہ میرا کام اُس معیار تک نہیں پہنچ سکا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا”

سولہویں صدی کے مشہور اطالوی موجد، مصور، مجسمہ ساز، ماہر تعمیرات، سائنس دان، دان، موسیقار اور ریاضی دان۔ یورپی نشاۃ ثانیہ کے عہد کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہونے کے باوجود لیونارڈو کے یہ آخری الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ عظیم شخصیات کبھی مطمئن نہیں ہوتیں، بلکہ بہتر سے بہترین کی جستجو انہیں ہمیشہ گرمائے رکھتی ہے۔


موزارٹ

Mozart

“موت کا ذائقہ مجھے محسوس ہو رہا ہے۔ ایسی چیز، جو اس زمین کی نہیں لگتی”

اٹھارہویں صدی کے معروف موسیقار، جن کا تعلق آسٹریا سے تھا۔ مغربی موسیقی پر ان کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔


کارل مارکس

Karl-Marx

“دفع ہوجاؤ ادھر سے! آخری الفاظ وہ احمق ادا کرتے ہیں، جو زندگی میں اپنی بات پوری طرح نہ سنا پائے ہوں”

معروف جرمن فلسفی، ماہر اقتصادیات و عمرانیات کارل مارکس نے یہ الفاظ اپنے گھریلو ملازم کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہے تھے اور اس کے ساتھ ہی جان دے دی۔


ارشمیدس

Archimedes

“ابے میری ڈائیگرام پر سے ہٹ”

قدیم یونان ماہر ریاضیات، طبیعیات دان اور موجد، انہیں زمانہ قدیم کے اہم ترین سائنس دانوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے. وہ ایک جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ فوج کا ایک سپاہی ان کے پاس آیا تھا اور کہا کہ آپ کو بادشاہ نے طلب کیا ہے۔ اس وقت ارشمیدس ریاضی کے ایک مسئلے میں غرق تھے اور انہوں نے حل ہونے تک جانے سے انکار کردیا۔ غصے میں آ کر سپاہی نے انہیں قتل کردیا۔


نپولین بوناپارٹ

Napoleon

“فرانس، فوج، سپہ سالار، جوزفین”

فرانس کا عظیم سپہ سالار بحر الکاہل کے ایک دور دراز جزیرے ‘سینٹ ہلینا’ پر اپنی جلاوطنی کے ایام میں مرا۔ اس کے آخری الفاظ اپنے وطن، فوج اور اہلیہ سے محبت کے عکاس ہیں۔


ونسٹن چرچل

Churchill

“میں اکتا گیا ہوں”

برطانیہ کے معروف وزیر اعظم، جو دوسری جنگ عظیم کے نازک ترین ایام میں برطانیہ کے اہم ترین عہدے پر فائز تھے۔


چارلس ڈارون

Charles-Darwin

“مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا”

انگلستان کے مشہور عالم طبیعیات و ارضیات، جو نظریہ ارتقا پیش کرنے کی وجہ سے معروف و مشہور ہیں۔ اپریل 1882ء میں اپنے گھر پر جان دی۔


باب مارلے

Bob-Marley

“پیسہ زندگی نہیں خرید سکتا”

جمیکا سے تعلق رکھنے والے مشہور ‘ریگی’ گلوکار و موسیقار۔ اپنی منفرد نغمہ نویسی اور گلوکاری کے انداز کی وجہ سے عالمی شہرت سمیٹی۔ مئی 1981ء میں صرف 36 سال کی عمر میں ایک مہلک مرض کا شکار ہو کر چل بسے۔ ان کے آخری الفاظ زندہ رہنے کی لگن، لیکن بے بسی، کو ظاہر کرتے ہیں۔


لیڈی ڈیانا

Lady-Diana

“میرے خدا! یہ کیا ہوا؟”

شہزادی برطانیہ لیڈی ڈیانا 31 اگست 1997ء کو فرانس کے شہر پیرس میں ایک ٹریفک حادثے میں چل بسیں۔ ان کے دوست دودی الفائد، ہنری پال اور ٹریور ریس-جونز تھے، ان میں سے صرف موخر الذکر ہی زندہ بچے، باقی سب حادثے میں مارے گئے۔ ان کے یہ آخری الفاظ ان فرانسیسی فوٹوگرافرز نے سنے جو ان کی ایک جھلک حاصل کرنے کے لیے گاڑی کے پیچھے تھے۔


صدام حسین

Saddam-Hussein

“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں”

عراق کے سابق صدر صدام حسین کو 30 دسمبر 2006ء کو عید الاضحیٰ کے دن پھانسی دی گئی حالانکہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں گولی ماری جائے کیونکہ وہ اسے زیادہ قابل عزت موت سمجھتے تھے۔ بہرحال، سزائے موت کے چند ہی گھنٹوں بعد موبائل فون کے ذریعے بنائی گئی ایک وڈیو منظر عام پر آئی، جس میں صدام حسین کے پھانسی سے قبل آخری الفاظ سنے گئے۔ وہ کلمہ شہادت ادا کر ہی رہے تھے کہ تختہ گرا دیا گیا اور “محمد الرسول اللہ” پر ان کی آواز گھٹ گئی۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی وجود - بدھ 18 فروری 2026

سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت وجود - بدھ 18 فروری 2026

فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

مضامین
بھارتی مسلمانوں پر تشدد وجود جمعرات 19 فروری 2026
بھارتی مسلمانوں پر تشدد

سب سے بڑی بغاوت شعور ہے! وجود جمعرات 19 فروری 2026
سب سے بڑی بغاوت شعور ہے!

اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی وجود جمعرات 19 فروری 2026
اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی

خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر