وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پرل ہاربر حملہ، 75 سال بعد پانچ امریکی اہلکاروں کی باقیات کی شناخت

بدھ 13 جنوری 2016 پرل ہاربر حملہ، 75 سال بعد پانچ امریکی اہلکاروں کی باقیات کی شناخت

USS-Oklahoma

دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا کے پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کو 75 سال گزر چکے ہیں، اور اس حملے میں مارے گئے پانچ امریکی اہلکار ایسے ہیں، جن کی لاشوں کی شناخت اب جاکر ہوئی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال ہوائی میں ان پانچ اہلکاروں کی قبر کشائی کی گئی تھی، جو یو ایس ایس اوکلاہوما کی تباہی میں مارے گئے تھے۔ یہ بحری جہاز ایک تارپیڈو حملے میں تباہ ہوا تھا جس میں 429 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی لاشیں اور باقیات آنے والے کئی دنوں تک برآمد ہوتی رہیں اور کئی اہلکاروں کی شناخت تک نہ ہو سکی جنہیں “نامعلوم” کے طور پر دفنا دیا گیا تھا۔ اب ایک ایک خصوصی فوجی لیبارٹری میں ان باقیات کی جانچ کی گئی اور ان ناموں سے شناخت ہوئی ہے: 44 سالہ چیف پیٹی آفیسر البرٹ ہیڈن، 27 سالہ انسائن لوئس اسکاٹ ڈیل، 21 سالہ ڈیل پیئرس، 43 سالہ پیٹی افسر ویرنن لیوک اور 52 سالہ چیف پیٹی افسر ڈو گورڈن۔

یو ایس ایس اوکلاہوما پر کل 1300 کا عملہ تھا، جن میں 77 میرینز بھی شامل تھے۔ جاپانی حملے کے آغاز کے بعد بحری جہاز کے کئی اہلکاروں نے سمندر میں چھلانگیں لگا دی تھیں لیکن سینکڑوں اندر پھنسے رہ گئے تھے اور جہاز کے ڈوبنے سے 429 اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ یو ایس ایس ایریزونا پر 1100 اموات کے بعد پرل ہاربر حملے کا دوسرا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔

جن پانچ افراد کی باقیات کی شناخت ہوئی ہے ان میں سے ہیڈن پہلی جنگ عظیم میں بھی حصہ لے چکے تھے اور 1917ء سے بحریہ سے وابستہ تھے۔ گورڈن اوکلاہوما پر معمر ترین جبکہ 21 سالہ پیئرس کم عمر ترین اہلکاروں میں سے ایک تھے۔ اب یہ باقیات ان اہلکاروں کے خاندان اور ورثا کو دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ 7 دسمبر 1971ء کو پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد امریکا بھی دوسری جنگ عظیم میں کودا تھا۔ اس حملے میں ڈھائی ہزار امریکی مارے گئے تھے جبکہ اس کے لگ بھر 200 طیارے اور کئی بحری جہاز مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔


متعلقہ خبریں


امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ ہیروشیما یادگار، معافی نہیں مانگی وجود - پیر 11 اپریل 2016

آج سے 70 سال پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا کے صدر ہیری ایس ٹرومین نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرانے کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد انسانی تاریخ کا بدترین قدم اٹھایا گیا۔ 6 اگست 1945ء کو امریکا کے طیاروں نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا جس سے لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار افراد مارے گئے۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صرف تین دن بعد دوسرے شہر ناگاساکی کو بھی اسی انجام تک پہنچایا گیا جس میں مزید 80 ہزار افراد جان سے گئے۔ ایسا حملہ نہ انسانیت نے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے ...

امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ ہیروشیما یادگار، معافی نہیں مانگی

دوسری جنگ عظیم: پرل ہاربر پر حملے کے بعد چرچل نے سکون کا سانس لیا، انکشاف وجود - بدھ 09 دسمبر 2015

امریکی بحریہ کی بندرگاہ پرل ہاربر پر جاپان کے حملے نے دوسری جنگ عظیم کا رخ ہی پلٹ دیا لیکن ایک نئی کتاب میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے لیے جنگ عظیم کے بدترین دنوں میں سکون کا ایک دن تھا۔ "وہ خوفزدہ بھی تھے، آئندہ دنوں کا انداہ بھی لگا رہے تھے اور خوش بھی تھے، وہ بیک وقت ان تینوں احساسات سے گزر رہے تھے۔" تاریخ دان والٹر ریڈ دوران جنگ اتحادی رہنماؤں کے تعلقات کے بارے میں اپنی کتاب "چرچل 1940ء تا 1945ء" میں لکھتے ہیں کہ چرچل کو پرل ہاربر پر حملے ک...

دوسری جنگ عظیم: پرل ہاربر پر حملے کے بعد چرچل نے سکون کا سانس لیا، انکشاف

دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست، چین میں زبردست جشن وجود - جمعرات 03 ستمبر 2015

دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی شکست نہ صرف مغرب بلکہ چین سمیت کئی مشرقی ممالک کے لیے بھی سکھ کا سانس تھی۔ آج جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے تاریخی دن کو 70 برس بیت گئے ہیں اور چین نے اس یادگار موقع پر ایک شاندار فوجی پریڈ کے ذریعے اپنی طاقت کا زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ جمعرات کو چینی دارالحکومت بیجنگ میں ٹینک، میزائل، لڑاکا طیارے اور جدید اسلحے سے لیس فوجیوں نے دنیا کے سامنے پیغام دیا کہ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے لیکن ساتھ ہی صدر سی جن پنگ نے یہ اعلان بھی کیا کہ چین اپنے فوجی دست...

دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست، چین میں زبردست جشن