وجود

... loading ...

وجود

کہیں کشمیر پر ایک اور یوٹرن تو نہیں لیا جارہا!!!

اتوار 10 جنوری 2016 کہیں کشمیر پر ایک اور یوٹرن تو نہیں لیا جارہا!!!

kashmir-funeral

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین اور اس کے ساتھیوں کودہشت گرد قرار دینے اور عالمی سطح پر انہیں مجرم کہلوانے کی بھارتی کوششیں،ادھر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کا متحدہ جہاد کو نسل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار ،پاکستانی وزیر اعظم کا مودی کو اس حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی اور حملے کی تحقیقات میں مدد دینے کا وعدہ ،اور وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے پٹھان کوٹ ایئر بیس پرحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کیا جانا اوریہ کہنا کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گردی کے واقعے میں استعمال نہیں ہونے دی جائے گی ،نے پاکستان کی تحریک آزادی کشمیر کے تئیں ایک اور یو ٹرن لینے کا اشا رہ دیا ہے ۔

تحریک آزادی کشمیر پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین اس بات پر حیران ہیں 27برسوں سے کشمیری مجاہدین بھارتی فوجی تنصیبات پر حملے کرتے آئے ہیں۔ ہزاروں بھارتی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔خود ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوئے ہیں ،اس حملے میں وہ نئی بات کیا تھی کہ فوراََ ہی بھارت کو تعاون کی پیشکش کی گئی۔مبصرین کے نزدیک اگر بھارتی فوجی بھارتی ریاستوں سے آکر مجاہدین اور اور کشمیری عوام پر حملہ آور ہیں تو کیا مجا ہدین کا یہ حق نہیں بنتا کہ بھارتی شہروں میں جاکر ان کی فوجی تنصیبات پر حملہ کریں۔اگر کل تک متحدہ جہاد کو نسل یا اس کی کسی اکائی کی طرف سے یہ حملے دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے تھے تو آج اس کارروائی کو پاکستانی قیادت کس منہ سے دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال رہی ہے۔سوشل میڈیا پر پاکستانی قیادت کے اس رویے کی مذمت کا سلسلہ بہت تیزی سے شروع ہوا ہے ۔

چار نکاتی فارمولہ نہ صرف کشمیریوں کی امنگوں، آرزوؤں اورقربانیوں کو دفن کرنے کا ایک فارمولہ ہے، بلکہ یہ خود پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے قومی پالیسی اور پاکستان کے تاریخی موقف اور آئین کے بھی منافی ہے۔(سید علی گیلانی)

معروف صحافی اور تجزیہ نگار سید عارف بہار نے فیس بک پر اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا ہے” لگتا ہے کہ اب بیڈ طا لبان اور گڈ طالبان کی طرح بیڈ کشمیری اور گڈ کشمیری کی تمیز بھی ختم ہونیوالی ہے”نامور عالم دین اور حریت پسند قلمکار الطاف حسین ندوی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ”سید صلاح الدین صاحب آپ نے پچیس برس کی مسلح جدوجہد میں ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کہ کشمیری مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔11ستمبرکے بعد جب طالبان اور القاعدہ کا بے رحمی سے قتل عام شروع ہوا تھا تو ہم نے پورے پانچ برس تک مسلسل اپنے مضا مین میں یہ لکھا کہ کشمیری پاکستان کیلئے کوئی خاص مہمان ہیں بلکہ جب تک ان کی ضرورت رہے گی بس تب۔۔۔۔اب شا ید ہمیں بھی سوچنے کا موقع آچکا ہے ،اگر وہ سب سے پہلے پاکستان کہتے ہیں تو ہمارے لئے سب سے پہلے کشمیر کیوں نہیں”۔اس بحث میں حصہ لینے والے اکثر کشمیری قلمکاروں ،طالب علموں اور جوانوں نے پاکستان کی کشمیر پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سید صلاح الدین کوسابق افغان سفیر ملا ضعیف سے تشبیہ دے کر اپنے خو فناک خدشات کا اظہار کیا ہے ۔

اکثر تجزیہ نگا روں کا خیال ہے کہ کشمیری قوم ،حریت پسند رہنما اور متحدہ جہاد کونسل بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ مذاکراتی عمل کو شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور انہیں یہ خد شہ ہے کہ امریکا کے دباؤ پر دونوں ممالک جموں و کشمیر کی بندر بانٹ پر راضی ہوگئے ہیں اور جموں و کشمیر کی سیاسی و عسکری قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر ان پر مشرف دور کی طرح ان کی رائے کے برعکس حل تھو نپنے کی سازش ہورہی ہے ۔ مجاہدین کی طرف سے یہ حملہ دراصل یہی پیغام تھا کہ کشمیری قوم کسی ایسے حل کو کو قبول نہیں کرے گی۔ بزرگ رہنما سید علی گیلانی ،لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ کھلے عام ان مذاکرات کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

آل پارٹیز حریت کا نفرنس (گیلانی) کے چیئرمین نے سری نگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت اور پاکستان کشمیری قوم کو کسی بھی صورت میں فارگرانٹڈ لینے کی غلطی نہ کریں اور اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں کہ مسئلہ کشمیر کے اصل اسٹیک ہولڈرزیہاں کے لوگ ہیں اور انہوں نے کسی کو بھی یہ مینڈیٹ نہیں دیاہے کہ وہ ان کو نظرانداز کرکے کشمیر قضیے کو گول کرنے کی کوشش کرے۔ سید گیلانی نے مزید کہا کہ ہم بھارت اور پاکستان کے مابین دوستی اور خوشگوار تعلقات کے دشمن نہیں، البتہ کشمیریوں کی امنگوں، آرزؤں اور قربانیوں کو روند کر آلو پیاز کی تجارت پر توجہ مرکوز کرنا ہمارے لیے کسی بھی طور قابل قبول ہوسکتا ہے اور نہ ہم اس پر خاموش رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک کا دہشت گردی کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں، البتہ ہمارے سرفروش آزادی کی ایک جائز اور مبنی برحق جدوجہد کررہے ہیں، جس میں آج تک لاکھوں انسانوں نے اپنی عزیز جانوں کی قربانی پیش کی ہے۔ سیدعلی گیلانی نے کہا کہ چار نکاتی فارمولہ نہ صرف کشمیریوں کی امنگوں، آرزوؤں اور قربانیوں کو دفن کرنے کا ایک فارمولہ ہے، بلکہ یہ خود پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے قومی پالیسی اور پاکستان کے تاریخی موقف اور آئین کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کی مہم جوئی کو دہرانے کی کوشش کی گئی تو کشمیری قوم کسی بھی قیمت پر اس کو قبول نہیں کرے گی۔ جموں کشمیر 15ملین سے زائد زندہ انسانوں کے موت وحیات کا مسئلہ ہے، ہم چوپائے نہیں کہ کوئی جہاں چاہے ہمیں ہانک کرلے جاسکیں۔ ہمیں اپنے مستقبل کے تعین کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور اس حق سے ہم کسی دباؤ کے تحت یا کسی تجارت کے لیے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوسکتے ہیں۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے جس میں ہندوپاک بیٹھ کر فیصلہ سنائیں گے۔مسئلہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور یہ کوئی بے زبان جانوروں کا مسئلہ نہیں ہے جس میں ان سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کے فیصلے لئے جائیں۔

معروف حریت رہنما شبیر احمد شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک جموں کشمیر کی حقیقی مسلمہ قیادت کو بات چیت میں شامل نہیں کیا جاتا ان مذا کرات کا کوئی نتیجہ سا منے نہیں آئے گا۔ شبیر احمد شاہ نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں یا سہ فریقی مذاکرات میں ہی مضمر ہے اور اس سے باہر کوئی بھی حل ہمیں قبول نہیں۔ شبیر احمد شاہ نے واضح کیا کہ ہم نے ہمیشہ دونوں ممالک کے بیچ مخاصمت کے خاتمے اور دوستی کے بڑھاوے کے لئے اپنا دست تعاون فراہم رکھنے کا عزم دْہرایا لیکن برصغیر کے اس دیرینہ تنازع سے متعلق ہم کسی بھی صورت میں اپنے موقف میں لچک لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے

جموں و کشمیر کی اسمبلی کے ممبر انجینئر رشید بھی مضطرب نظر آتے ہیں ایک بیان میں انہوں کہا کہ ’’ جہاں آجکل ہندوستانی میڈیا اور دیگر پلیٹ فارموں پرپٹھان کوٹ حملے کے رات دن چرچے کئے جا رہے ہیں وہاں صاحب نظر لوگوں کو کشمیر میں ظلم و ستم کی اُن ہمالیائی داستانوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے جن کے مرکزی کردار حفاظتی افواج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں سے وابستہ اہلکار ہیں۔ پٹھان کوٹ حملے میں مارے گئے فوجیوں

کے اہل خانہ کا غم شاید اہل کشمیر سے زیادہ کوئی مناسب نہیں سمجھ سکتا کیونکہ یہ مظلوم قوم گزشتہ 25 برسوں کے دوران پٹھان کوٹ جیسے سینکڑوں واقعات جھیل چکی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر با اختیار اداروں پر لازم ہے کہ وہ حکومت کی سر پرستی میں کشمیریوں کے قتل عام کا اہتمام کرانے والوں کو بھی قانونی کٹہرے میں لانے کی ضرورت کو اُجاگر کریں۔ ‘‘ انجینئر رشید نے کہا کہ جس طرح کشمیر میں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو کہیں قومی مفاد تو کہیں قوم پرستی کے نام پر قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہاہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ ہندوستان کی سرکار کشمیریوں کو اپنے غلاموں سے بھی بد تر سمجھتی ہے لیکن کوئی بھی طاقت تاریخ کو جھٹلا کر حقائق کو چھپا نہیں سکتی اور ایک نہ ایک دن ہندوستان کو حقائق کا اعتراف کر کے کشمیر مسئلے کے منصفانہ حل کے لئے آگے آنا ہی ہوگا۔

جموں و کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین و ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پاک بھارت مذاکرات اور پٹھانکوٹ حملے پر پاکستانی سیاسی قیادت کا رویہ کشمیری عوام میں بے چینی کا باعث بن رہا ہے ،اور جس کا اب کھلم کھلا اظہار بھی ہونا شروع ہوچکا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بے چینی اس مقام پر پہنچے جہاں بھارت کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع میسر آجا ئے ۔جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کو اس وقت فوری طور پر اعتماد میں لینے کی ضروررت ہے ،ورنہ اسی نہج پر حالات چلے تو اس کے مسئلہ کشمیر پر سنگین اثرات مرتب ہونگے اور جس سے صرف اور صرف بھارت کو فائدہ ہوگا


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

مضامین
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی ۔۔پاکستان کا گمبھیر معاشی بحران وجود جمعه 17 اپریل 2026
امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی ۔۔پاکستان کا گمبھیر معاشی بحران

مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر