وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دنیا کا خطرناک ترین آدمی؟

اتوار 10 جنوری 2016 دنیا کا خطرناک ترین آدمی؟

Mohammed-bin-Salman

جب محمد بن سلمان کی عمر صرف 12 سال تھی تو وہ اپنے والد سلمان بن عبد العزیز کی زیر قیادت ہونے والے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے، جب وہ سعودی عرب کے صوبہ ریاض کے گورنر تھے۔ 17 سال بعد، 29 سال کی عمر میں وہ دنیا کے نوجوان ترین وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن میں ایک وحشیانہ جنگ میں ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔

مملکت سعودی عرب اپنے علاقائی رقیب ایران کے ساتھ کشیدگی کا حصہ بنا ہوا ہے، اور اس معاملے میں سعودی عرب کا علم ایک ایسے شخص کے پاس ہے جسے مشرق وسطیٰ کا طاقتور ترین رہنما بننا ہے، محمد بن سلمان بن عبد العزیز!

شہزادہ محمد بن سلمان اس وقت بالکل نوعمر تھے جب انہوں نے حصص و املاک کی تجارت کا آغاز کیا۔ اپنے بڑے بھائی کی طرح وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں گئے، بلکہ ریاض ہی میں مقیم رہے اور شاہ سعود یونیورسٹی سے قانون میں گریجویشن کیا۔ ان کے تعلیمی ساتھی انہیں ایک سنجیدہ نوجوان قرار دیتے ہیں جو نہ ہی تمباکو نوشی کرتے اور شراب پیتے تھے اور نہ ہی انہیں پارٹیوں سے کوئی دلچسپی تھی۔

2011ء میں ان کے والد نائب ولی عہد بنے اور وزارت دفاع حاصل کی اور 2012ء میں ان کے ولی عہد بننے کے بعد نجی مشیر کی حیثیت سے محمد بن سلمان شاہی دربار میں فیصلہ کن کردار بن گئے۔

راستے کے ہر ہر قدم پر شہزادہ محمد اپنے والد کے ساتھ ہوتے ہیں جو خاندان سعود میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے چہیتے بیٹے کو ساتھ رکھنے لگے تھے۔ سعودی عرب کی مذہبی و کاروباری اشرافیہ میں یہ بات مسلم ہے کہ اگر آپ باپ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو بیٹے کے ذریعے جائیں۔ ناقدین دعوے کرتے ہیں کہ شہزادہ محمد کی قسمت بہت اچھی ہے لیکن شہزادے کو پیسے نے نہیں، بلکہ ان کی طاقت نے آگے بڑھایا ہے۔ جب سلمان جنوری 2015ء میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تو وہ پہلے ہی سے بیمار تھے اور ان کا زیادہ تر انحصار اپنے بیٹے پر تھا۔ 79 سالہ شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں نسیان کا مرض ہے اور وہ دن میں چند گھنٹے سے زیادہ کسی معاملے پر توجہ نہیں دے سکتے۔ اپنے والد کے نگہبان کی حیثیت سے محمد بن سلمان اس وقت مملکت کے سب سے طاقتور آدمی بن چکے ہیں۔

شاہ سلمان کے عہد کے ابتدائی چند ماہ ہی محمد بن سلمان کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ شہزادے کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا؛ قومی توانائی کمپنی ارامکو کا سربراہ بنایا گیا؛ نئی اور طاقتور مجلس کونسل برائے اقتصادی و ترقیاتی امور کا سربراہ مقرر کیا گیا جو ہر وزارت کی نگرانی کرتی ہے؛ اور مملکت سعودی عرب کے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ انہیں نائب ولی عہد بنایا گیا اور یقین دہانی کروائی گئی کہ ولی عہد و وزیر داخلہ اور اپنے حریف محمد بن نائب پر فوقیت دی جائے گی۔

دفتر شاہی کے معاملات میں فوری بہتری لانے کے لیے محمد بن سلمان نے تمام وزارتوں سے ماہانہ بنیادوں پر کارکردگی رپورٹ طلب کی، جو ایک ایسے اقتصادی نظام میں جو اقربا پروری کا عادی ہو اور جہاں یاری دوستی سے معاملات چلتے ہوں، کھلبلی مچانے کے لیے کافی تھا۔ نوجوان سعودی محمد بن سلمان کے دیوانے ہوگئے۔ ایک کاروباری شخص نے کہا کہ “وہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ وہ محنت کرتے ہیں، ان کے پاس اقتصادی اصلاحات کے لیے ایک منصوبہ ہے۔ وہ کھلے دل کے ہیں اور عوام کو سمجھتے بھی ہیں۔”

نوجوانوں میں محمد کی مقبولیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ سعودی عرب کی 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بھی بہت زیادہ ہے، جس کے بارے میں چند اندازے 20 سے 25 فیصد تک بھی جاتے ہیں۔ لیکن جن اقتصادی اصلاحات کو وہ عملی طور پر دیکھنا چاہ رہے ہیں، اس نے سعودی عرب کو پڑوسی ملک یمن میں ایک مشکل جنگ میں مبتلا کردیا ہے۔ گزشتہ مارچ میں باغی حوثی قبائل کے خلاف ایک فضائی مہم کا اعلان کیا گیا جس کی وجہ سے سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر ملک ہی سے باہر ہوگئے۔ یمن کے معاملے پر دہائیوں کا احتیاط ہواؤں میں اڑ گیا اور اب محمد بن سلمان ‘آپریشن فیصلہ کن طوفان’ کی قیادت کر رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے بظاہر یہ بہت اچھا معلوم ہو رہا ہو کہ ایک نوجوان، بوڑھے بادشاہ کا ایک حوصلہ مند بیٹا مسائل سے دوچار پڑوسی ملک میں بغاوت کے خلاف ایک جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ پھر کیونکہ اس بغاوت کو ایران کی حمایت بھی حاصل ہے اس لیے مہم جوئی مزید پرکشش ہوگئی۔ سعودی افواج نئے ہتھیاروں سے لیس ہیں، جن کی مالیت ہی اربوں ڈالرز ہے۔ محمد بن سلمان اپنے حریفوں اور حامیوں دونوں کے سامنے اپنی طاقت کا مکمل اظہار بھی چاہتے ہیں۔ اس لیے منصوبہ بنایا گیا اور ایک فیصلہ کن اور فوری حملے کا تاکہ ایک عسکری رہنما کی حیثیت سے اپنے قد میں اضافہ کیا جا سکے اور اپنے دادا کی طرح کام کرکے ان کے پائے کی شخصیت بنا جا سکے۔

البتہ محمد بن سلمان اس حقیقت کو بھول گئے کہ حوثی آل سعود کو درپیش اصل خطرے، یعنی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ، اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم رکاوٹ ہیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے یہ بات اس لیے پس پشت ڈال دی ہو کہ چند سال قبل ہی سرحدی جھڑپ میں سرکش حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے کنارے واقع سعودی بندرگاہ جیزان پر قبضہ کرلیا تھا اور 70 ملین ڈالرز کی ادائیگی کے بعد ہی علاقہ خالی کیا۔

اب تک تو آپریشن فیصلہ کن نہیں ہو سکا۔ تقریباً ایک سال گزر چکا ہے اور یمن کے عوام سخت ترین مشکلات و مسائل سے دوچار ہو گئے ہیں۔ سخت فضائی بمباری میں ملک کا بیشتر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور حوثی اب بھی دارالحکومت صنعاء پر قابض ہیں اور شمال کے بیشتر علاقے بھی ان کے پاس ہیں۔ اب القاعدہ کے سامنے کھلا میدان ہے، پھر بھی محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ حوثی باغیوں پر بمباری کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ مذاکرات کی میز پر آ جائیں۔

کیپٹل اکنامکس میں مشرق وسطیٰ کے لیے ماہر اقتصادیات جیسن ٹووی کہتے ہیں کہ محمد کافی جنگجویانہ مزاج کے ہیں۔ لیکن کئی دیگر تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ وہ بھی سعودی مملکت کو درپیش انتہائی معاشی پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے شہزادہ محمد کی گرفت کے معترف ہیں۔ “اقتصادی پہلو پر انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ انہوں نے پالیسی کو تبدیل کیا اور انہیں اس پر سراہا جانا چاہیے۔”

پرجوش طبیعت میں جو اچھائی ہے، وہ علاقائی برتری کے لیے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشمکش کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ جب محمد بن سلمان نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے 34 ملکی اتحاد کا اعلان کیا، تو ان کے ذہن میں واضح طور پر ایران موجود تھا۔ ایران نے بڑی خوبی سے، براہ راست اور حزب اللہ کے ذریعے، شام کے صدر بشار الاسد کی پشت پناہی کی ہے۔ سعودی عرب شام کے لیے امن مذاکرات کے آغاز سے پہلے پہلے بشار کو اقتدار سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اب جبکہ سعودی عرب نے معروف شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو سزائے موت دے دی ہے، بدلے کی جنگ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایران نے بھی مظاہرین کو کھلی چھوٹی دی کہ وہ تہران میں سعودی سفارت خانے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں، اور سعودی عرب نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ مل کر کئی ملکوں کے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کروا دیے ہیں۔ ساتھ ہی صنعاء میں ایرانی سفارت خانے پر بمباری کی خبریں بھی مل رہی ہے، اس لیے معاملات مزید بگڑ چکے ہیں۔

لیکن محمد بن سلمان اب بھی سعودی عرب میں زبردست عوامی حمایت رکھتے ہیں۔ لیکن سوال اب بھی باقی ہے کہ ان کی پرجوش اور تیز مزاج طبعیت ایران کے ساتھ تنازع کو کون سے رخ پر لے جائے گی۔ یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ وہ خود ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا بھی سوچ رہے ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ خطہ جو پہلے ہی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور فرقہ وارانہ جنگوں کی وجہ سے برباد ہو رہا ہے، مزید تباہی کی طرف جائے گا۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان