وجود

... loading ...

وجود

ڈاکٹر عمران فاروق قتل : دوملزمان کا اعتراف جرم ایک کا انکار

جمعه 08 جنوری 2016 ڈاکٹر عمران فاروق قتل : دوملزمان کا اعتراف جرم ایک کا انکار

ImranFarooq

ڈاکٹر عمران فاروق قتل میں دو ملزمان کے اعتراف جرم اور ایک کے انکار کی صورت میں ایک واضح پیشرفت سامنے آئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث دو گرفتار ملزمان نے اسلام آباد ڈپٹی کمشنر کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔برطانیا میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل میں پیش رفت نہ ہونے اور پاکستان سے مطلوب ملزمان کی حوالگی پر کوئی بات چیت نہ کرنے کے بعد قومی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ایک طویل اور پراسرار خاموشی کے بعد تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی سید اور معظم علی کی ڈاکٹر عمران فاروق کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتاری ظاہر کی گئی تھی۔ اب تازہ ترین پیش رفت کے طور پر یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ دوملزمان محسن علی اور خالد شمیم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے جبکہ قتل کے مبینہ مرکزی ملزم معظم علی نےصحت جرم سے انکار کردیا ہے۔

محسن علی نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کا کہا کہ معظم علی نے اس کے سفری دستاویزات کے معاملات کو دیکھا تھا۔جبکہ لندن کے یونیورسٹی ہوسٹل میں اس نے اور اس کے ایک ساتھی کاشف خان کامران نے ڈاکٹرعمران فاروق کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا، کامران کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ ہلاک ہوچکا ہے۔محسن کے مطابق انھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کے معمولات کے بارے میں جاننے کے لیے لندن میں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی بھی کی تھی۔اُس نے قتل کے وقت ڈاکٹر عمران فاروق کو پکڑا تھا جبکہ کاشف نے اُن پر چاقو سے وار کئے اور ان کی موت کی تصدیق کرنے کے لیے ان پر اینٹوں سے بھی وار کیا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق محسن علی نے اپنے بیان میں قتل کی گرافک تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔

قتل کے دوسرے ملزم خالد شمیم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ ایم کیو ایم کاسرگرم کارکن ہونے کے باعث قتل کی سازش میں شامل ہونے پر رضامند ہوا تھا۔خالد شمیم کے اعترافی بیان کا سب سے سنسنی خیز حصہ یہ تھا کہ اُسے خود ایم کیوایم کے رہنما محمد انور نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حکم دیا تھا۔ اب تک ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں جو بھی تفصیلات سامنے آئی تھیں اُن میں یہ پہلو کہیں پر بھی موجود نہیں تھا کہ ان ملزمان کو جنہیں ایم کیوایم اپنا حصہ ماننے سے انکار کرتے ہیں ، آخر کس نے عمران فاروق قتل کے لئے کہا تھا۔ خالد شمیم کے اعترافی بیان میں پہلی مرتبہ براہِ راست محمدانور کا نام لیا گیا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے مرتب کی جانے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، ڈاکٹر عمران فاروق کو اپنے لیے ایک خطرہ تصور کرتے تھے اور ان کا خاتمہ چاہتے تھے۔مگر پھر بھی قتل کے واضح حکم کی کڑی بیچ میں کہیں پر بھی بیان نہیں کی جارہی تھی۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں ملزمان کی سیاسی وابستگی میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) سے ہے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے بیانات کے بعد تمام ملزمان کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر 14 روز کے لیے اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو ان کے لندن میں واقع گھر کے قریب قتل کیا گیا تھا۔ لندن پولیس نے بھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران کو مطلوب ملزمان قرار دیا تھا، جو کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے وقت لندن میں مقیم تھے۔اور پھر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیے تھے۔ اطالاعات کے مطابق اُن کے فرار ہونے کی اطلاعات بھی پاکستانی اداروں کو لندن پولیس کی جانب سے ہی فراہم کی گئی تھی۔یہ بات پاکستانی ذرائع ابلاغ میں متعدد مرتبہ مختلف ذرائع کے حوالے سے کہی جاتی رہی ہے کہ محسن اور کامران کو 2010 میں کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد پاکستان کے حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔اور اُن سے قبل دونوںملزمان کے رابطے میں رہنے والے خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کا تعلق کراچی واٹر بورڈ سے تھا۔ایک دوسری اطلاع کے مطابق مقدمے کے تیسرے مبینہ ملزم خالد شمیم کو جنوری 2011 میں حراست میں لیا گیا جس کے بعد ان کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے پٹیشن سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ جبکہ معظم علی کو گزشتہ سال مارچ میں ان کے عزیز آباد میں واقع گھر سے گرفتار کیا گیا۔اُن پر الزام یہ عائد کیا گیا تھا کہ اُنہوں نےملزمان کو برطانیہ کا ویزا فراہم کروانے میں مدد دی تھی ۔اُن کی گرفتاری کے وقت قانون نافذ کرنے والےاداروں کی طرف سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ وہ ایک طویل مدت سے اُن کی نگرانی کررہے تھے، مگر معظم علی نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد اپنی سرگرمیاں بہت محدود کردی تھی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر سے بھی باہر نہیں نکلتے تھے۔

ان تمام حقائق کے پس منظر میں دوسری جانب 18 جنوری 2015 کو فرنٹیئر کور (ایف سی) نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے محسن اور خالد شمیم کو بلوچستان کے علاقے چمن سے گرفتار کیا۔ایف سی کا دعویٰ تھا کہ دونوں غیر قانونی طریقے سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہورہے تھے۔

دسمبر 2015 کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ایف آئی اے نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، ان کے بھتیجے افتخار حسین، معظم علی خان، خالد شمیم، کاشف خان کامران اور سید محسن علی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ جبکہ اس ضمن میں لندن پولیس نے گزشتہ پانچ سال کے طویل عرصے میں تین افراد کو حراست میں لیا تاہم ان پر کوئی الزام لگائے بغیر ہی اُنہیں رہا کردیا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر