وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کا قاتل مفتی سعید خود بھی موت کے آغوش میں پہنچ گیا

جمعه 08 جنوری 2016 مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کا قاتل مفتی سعید خود بھی موت کے آغوش میں پہنچ گیا

mufti saeed

مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید 7جنوری 2015ء صبح آٹھ بجے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کرگئے ۔وہ 22دسمبر 2015سے گردن توڑ بخار میں مبتلا تھے۔کئی دنوں سے انتہائی نگہداشت یونٹ میں لائف سپورٹ سسٹم پر تھے ،تاہم وہ جا نبر نہ ہوسکے۔مفتی سعید 12جنوری 1936ء بیجباڑہ اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے ۔علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے لاء اور عربی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔1950ء میں بھارت نواز سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق کی نیشنل ڈیمو کریٹک نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے،جو بعد میں انڈین نیشنل کا نگر یس میں ضم ہوگئی ۔ 1987ء سے 1991ء تک وہ جنتا دل سے وابستہ رہے ۔ بعد میں پھر کا نگریس پارٹی میں واپس آئے اور1999ء تک اسی کے ساتھ جڑے رہے اور ریاستی سطح اور مرکزی سطح پر کلیدی ذمہ داریوں پر فائز رہے ۔ 1967 ء میں انہیں صادق وزارت میں نائب وزیر بنا یا گیا۔ 1972 ء میں کابینہ درجے کے وزیر بنے ۔ 1975 ء میں وہ ریاستی کانگریس کے صدر رہے۔ 1986 ء میں راجیو گاندھی کی حکومت میں بطور وزیر سیاحت شامل ہوئے ۔ دسمبر 1989ء سے نو مبر1990ء تک میں وہ وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میں مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے پر بر اجماان ہوئے 2دسمبر 1989ء میں ان کی بیٹی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے حریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہوئی ۔جس کی رہائی کے بدلے بھارت سرکار کو پانچ مجاہدین رہا کرنے پڑے ۔1999ء میں انہوں نے کا نگریس پارٹی سے علیحدہ ہوکر اپنی پارٹی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی بنائی۔نومبر 2002سے 2نومبر 2005تک جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے ۔

1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔

مارچ 2015میں وہ دوسری مرتبہ بھارتی جنتا پا رٹی کے ساتھ اتحاد کرکے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے ۔وہ اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کا فی قریب سمجھے جا تے تھے اور انہوں نے ہمیشہ بڑی چالاکی اور ہنر کے ساتھ بھارتی مفادات کا تحفظ کیا۔1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبد اﷲ نے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی۔ جگموہن نے 20جنوری 1990ء کو بحثیت گورنر اپنا عہدہ سنبھالا۔اور پہلے ہی روز سے کشمیر میں ظلم و ستم کی ایک داستان رقم کی جس کی تاریخ میں بہت کم مثا لیں ملتی ہیں۔تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے ،اور مسلمانوں کے بلا امتیاز قتل عام کیلئے کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکال کر جموں کے ریفوجی کیمپوں میں پہنچایا گیا۔اور اس سلسلے میں انہیں سرکاری اور فوجی گاڑیوں سمیت ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

[table id=7 /]

عوامی مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیو،فائرنگ ،گھیراؤ ،جلاؤ سب طریقے آزمائے جانے لگے۔،پوری ریاست میں میڈیا پر سنسر شپ عائد کردی گئی۔وادی سے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ڈاکٹر فاروق عبداﷲ کی حکومت کو برطرف کیا گیا،اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اورپوری وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا ۔ گورنر جگمو ہن نے20جنوری 1990ء کو ریاستی گورنر کی حیثیت سے چارج سنبھالا ،اور 22مئی 1990ء کو انہیں فارغ کیا گیا۔ان 123دنوں میں 74دنوں کرفیو لگا رہا۔جگ موہن کے ان 123دنوں میں پوری ریاست میں لوگوں کے مارنے کا سلسلہ جاری رہا اورپر امن احتجاجی مظاہروں اور ایک جنازے کے جلوس پربے دریغ اور اندھادھند فائرنگ کرکے سینکڑوں افراد کو ،بلا کسی وجہ اور وارننگ کے شہید اور سینکڑوں لوگوں کو عمر بھر کیلئے معذور کیا گیا۔

جون 1990میں انڈیا ٹوڈے کے شمارے میں شا ئع انٹر ویو میں جگ مو ہن کے ظا لمانہ اقدامات اور قتل عام کا دفاع کرتے ہوئے مفتی سعید نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے جگ موہن نے جو اقدامات وہاں کئے ،ہمیں اس پر اطمینان ہے ۔اسی طرح ان ہی کے دور میں وزارت داخلہ کی طرف سے جولائی 1990سےArmed Forces Special Powers Act(افسپا)ریاست پر نافذ کیا گیا ،جس کے تحت فورسز کو مارنے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔یہ ایکٹ آج بھی موجود ہے اور معروف
بھارتی صحافی پروین ڈونتھی کی تحقیق کے مطا بق مفتی سعید کو اس ایکٹ کے اطلاق پر کبھی افسوس نہ تھا بلکہ وہ خو ش تھا کہ اسی ایکٹ پر عملدرآمد کے نتیجے میں وہ آج اس مقام پر کھڑا
ہے،جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔مفتی سعید کے بارے میں ریاست کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر وجودڈاٹ کام کو بتایا کہ سابق بھارتی را چیف اے ایس دولت اور مفتی محمد سعید ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔دولت جاسوسی دنیا میں بھارتی مفادات کا ضامن اور مفتی سعید سیاسی میدان میں بھارتی مفادات کا رکھوالا تھا۔مفتی کی شخصیت کو جا ننے اور سمجھنے والے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اسے دیگر بھارت نواز سیاسی رہنما ؤں سے زیادہ مضر سمجھتے تھے۔ہیلنگ ٹچ کے نام پر اقتدار حاصل کرکے کلنگ ٹچ کی پالیسی جاری رہی اور آج بھی وہاں آئے روز بے گناہ ان کے ہی نا فذ کردہ افسپا کے نتیجے میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔مفتی سعید کا انتقال بھارت اور اس کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے نا قابل تلا فی نقصان ہے ۔ان کی بیٹی محبو بہ مفتی اب ان کی جگہ لے رہی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنا بھارتی خاکوں میں رنگ بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ آنیوالا وقت بتائے گا۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر