وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کا قاتل مفتی سعید خود بھی موت کے آغوش میں پہنچ گیا

جمعه 08 جنوری 2016 مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کا قاتل مفتی سعید خود بھی موت کے آغوش میں پہنچ گیا

mufti saeed

مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید 7جنوری 2015ء صبح آٹھ بجے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کرگئے ۔وہ 22دسمبر 2015سے گردن توڑ بخار میں مبتلا تھے۔کئی دنوں سے انتہائی نگہداشت یونٹ میں لائف سپورٹ سسٹم پر تھے ،تاہم وہ جا نبر نہ ہوسکے۔مفتی سعید 12جنوری 1936ء بیجباڑہ اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے ۔علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے لاء اور عربی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔1950ء میں بھارت نواز سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق کی نیشنل ڈیمو کریٹک نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے،جو بعد میں انڈین نیشنل کا نگر یس میں ضم ہوگئی ۔ 1987ء سے 1991ء تک وہ جنتا دل سے وابستہ رہے ۔ بعد میں پھر کا نگریس پارٹی میں واپس آئے اور1999ء تک اسی کے ساتھ جڑے رہے اور ریاستی سطح اور مرکزی سطح پر کلیدی ذمہ داریوں پر فائز رہے ۔ 1967 ء میں انہیں صادق وزارت میں نائب وزیر بنا یا گیا۔ 1972 ء میں کابینہ درجے کے وزیر بنے ۔ 1975 ء میں وہ ریاستی کانگریس کے صدر رہے۔ 1986 ء میں راجیو گاندھی کی حکومت میں بطور وزیر سیاحت شامل ہوئے ۔ دسمبر 1989ء سے نو مبر1990ء تک میں وہ وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میں مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے پر بر اجماان ہوئے 2دسمبر 1989ء میں ان کی بیٹی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے حریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہوئی ۔جس کی رہائی کے بدلے بھارت سرکار کو پانچ مجاہدین رہا کرنے پڑے ۔1999ء میں انہوں نے کا نگریس پارٹی سے علیحدہ ہوکر اپنی پارٹی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی بنائی۔نومبر 2002سے 2نومبر 2005تک جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے ۔

1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔

مارچ 2015میں وہ دوسری مرتبہ بھارتی جنتا پا رٹی کے ساتھ اتحاد کرکے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے ۔وہ اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کا فی قریب سمجھے جا تے تھے اور انہوں نے ہمیشہ بڑی چالاکی اور ہنر کے ساتھ بھارتی مفادات کا تحفظ کیا۔1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبد اﷲ نے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی۔ جگموہن نے 20جنوری 1990ء کو بحثیت گورنر اپنا عہدہ سنبھالا۔اور پہلے ہی روز سے کشمیر میں ظلم و ستم کی ایک داستان رقم کی جس کی تاریخ میں بہت کم مثا لیں ملتی ہیں۔تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے ،اور مسلمانوں کے بلا امتیاز قتل عام کیلئے کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکال کر جموں کے ریفوجی کیمپوں میں پہنچایا گیا۔اور اس سلسلے میں انہیں سرکاری اور فوجی گاڑیوں سمیت ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

[table id=7 /]

عوامی مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیو،فائرنگ ،گھیراؤ ،جلاؤ سب طریقے آزمائے جانے لگے۔،پوری ریاست میں میڈیا پر سنسر شپ عائد کردی گئی۔وادی سے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ڈاکٹر فاروق عبداﷲ کی حکومت کو برطرف کیا گیا،اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اورپوری وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا ۔ گورنر جگمو ہن نے20جنوری 1990ء کو ریاستی گورنر کی حیثیت سے چارج سنبھالا ،اور 22مئی 1990ء کو انہیں فارغ کیا گیا۔ان 123دنوں میں 74دنوں کرفیو لگا رہا۔جگ موہن کے ان 123دنوں میں پوری ریاست میں لوگوں کے مارنے کا سلسلہ جاری رہا اورپر امن احتجاجی مظاہروں اور ایک جنازے کے جلوس پربے دریغ اور اندھادھند فائرنگ کرکے سینکڑوں افراد کو ،بلا کسی وجہ اور وارننگ کے شہید اور سینکڑوں لوگوں کو عمر بھر کیلئے معذور کیا گیا۔

جون 1990میں انڈیا ٹوڈے کے شمارے میں شا ئع انٹر ویو میں جگ مو ہن کے ظا لمانہ اقدامات اور قتل عام کا دفاع کرتے ہوئے مفتی سعید نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے جگ موہن نے جو اقدامات وہاں کئے ،ہمیں اس پر اطمینان ہے ۔اسی طرح ان ہی کے دور میں وزارت داخلہ کی طرف سے جولائی 1990سےArmed Forces Special Powers Act(افسپا)ریاست پر نافذ کیا گیا ،جس کے تحت فورسز کو مارنے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔یہ ایکٹ آج بھی موجود ہے اور معروف
بھارتی صحافی پروین ڈونتھی کی تحقیق کے مطا بق مفتی سعید کو اس ایکٹ کے اطلاق پر کبھی افسوس نہ تھا بلکہ وہ خو ش تھا کہ اسی ایکٹ پر عملدرآمد کے نتیجے میں وہ آج اس مقام پر کھڑا
ہے،جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔مفتی سعید کے بارے میں ریاست کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر وجودڈاٹ کام کو بتایا کہ سابق بھارتی را چیف اے ایس دولت اور مفتی محمد سعید ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔دولت جاسوسی دنیا میں بھارتی مفادات کا ضامن اور مفتی سعید سیاسی میدان میں بھارتی مفادات کا رکھوالا تھا۔مفتی کی شخصیت کو جا ننے اور سمجھنے والے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اسے دیگر بھارت نواز سیاسی رہنما ؤں سے زیادہ مضر سمجھتے تھے۔ہیلنگ ٹچ کے نام پر اقتدار حاصل کرکے کلنگ ٹچ کی پالیسی جاری رہی اور آج بھی وہاں آئے روز بے گناہ ان کے ہی نا فذ کردہ افسپا کے نتیجے میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔مفتی سعید کا انتقال بھارت اور اس کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے نا قابل تلا فی نقصان ہے ۔ان کی بیٹی محبو بہ مفتی اب ان کی جگہ لے رہی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنا بھارتی خاکوں میں رنگ بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ آنیوالا وقت بتائے گا۔


متعلقہ خبریں


ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، فائرنگ سے کئی مظاہرین زخمی وجود - منگل 14 جنوری 2020

ایران میں حکومت کی طرف سے یوکرین کا مسافر جہاز مارگرائے جانے کی غلطی تسلیم کرنے بعد ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جن میں سیکڑوں افراد نے ایرانی رجیم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی طرف سے پرتشدد حربے استعمال کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ سماجی کارکنوں کی طرف سے سوشل میڈیا مظاہروں حکومت مخالف ریلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں مظاہرین کو حکومت کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ ویڈیوز میں پولیس اور قا...

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، فائرنگ سے کئی مظاہرین زخمی

ہیری اورمیگھان کو کینیڈا اوربرطانیہ میں رہنے کی عبوری اجازت مل گئی وجود - منگل 14 جنوری 2020

ملکہ نے کہا ہے کہ شاہی خاندان نے سندرنگھم پر پرنس ہیری اور میگھان مرکل کے مستقبل کے حوالے سے مثبت بحث میں حصہ لیا مگر یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ جوڑے کو شاہی خاندان کے کل وقتی رکن کی حیثیت دینے کو ترجیح دیں گی۔ تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ پرنس ہیری، پرنس ولیم اور پرنس چارلس ہرمیجسٹی سے دو گھنٹے جاری رہنے والی بحرانی ملاقا ت کے بعد علیحدہ علیحدہ کاروں میں واپس جا رہے ہیں۔ ڈیوک آف سسیکس نے شاہی خاندان کے فردکی حیثیت ختم کرنے کے بعد ہر میجسٹی، اپنے بھائی اور اپنے والد کا پہلی بار ...

ہیری اورمیگھان کو کینیڈا اوربرطانیہ میں رہنے کی عبوری اجازت مل گئی

امریکی صدر کی ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت وجود - پیر 13 جنوری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فارسی زبان میں ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں ایرانی حکومتکو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ایرانی عوام اور حکومت مخالف مظاہروںکی حمایت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی نظریں اس وقت ایران پرلگی ہوئی ہیں۔ ہم ایران کو مزید قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے ۔امریکی صدر کی طرف سے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی پرمبنی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ایرانی شہروں میں اس وقت لوگ سڑکوں پرنکل آگئے جب ایرانی پاسداران انقلاب نے اعتراف کیا کہ 8جنو...

امریکی صدر کی ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت

پاسداران انقلاب ایران کے داعشی ہیں ، تہران میں عوام کی نعرے بازی وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایران کے دارالحکومت تہران میں اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی جب تہران نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا کہ حال ہی میں یوکرین کا ایک مسافر جہاز میزائل حملے کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔ مظاہرین سخت مشتعل اورغم وغصے میں تھے ۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف' اے ڈکٹیٹر ۔۔۔ تم ایران کے داعشی ہو' کے نعرے لگائے ۔ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل کی طرف سے تہران میں نکالے جانے والے جلوس کی فوٹیج دکھائی ...

پاسداران انقلاب ایران کے داعشی ہیں ، تہران میں عوام کی نعرے بازی

مظاہروں میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری اور رہائی وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایرانی پولیس نے حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس میں شرکت کرنے پرتہران میں متعین برطانوی سفیر روب مکائیر کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا ۔برطانوی حکومت نے تہران میں اپنے سفیر کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار یا ہے ،جبکہ امریکا نے بھی تہران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی توہین قراردیتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اس اقدام پر برطانیہ سے معافی مانگے ۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مقرب ...

مظاہروں میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری اور رہائی

یوکرین کا طیارہ مار گرانے پرایرانی اپوزیشن کا خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایران میں پاسداران انقلاب کی طرف سے یوکرین کا مسافر ہوائی جہاز مار گرائے جانے کے بعد نہ صرف پوری دنیا بلکہ ایرانی عوام اور سیاسی حلقوں میں بھی حکومت کے خلاف سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ایران کی اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ حکومت کو یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی 'گرین موومنٹ' کے رہنما مہدی کروبی نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر ملک کی قیادت کے اہل نہیں ...

یوکرین کا طیارہ مار گرانے پرایرانی اپوزیشن کا خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

 امریکاکے دشمنوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - جمعه 10 جنوری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میری انتظامیہ اسلامی بنیاد پرست دہشتگردی کو شکست دینے سے باز نہیں آئے گی ، امریکہ کے دشمنوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور مسلم مخالف بیان منظر عام پر آیا ہے ، ٹوئیٹر پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے دہشتگردی کو مذہب اسلام کے ساتھ جوڑنے کے اپنے ماضی کے بیانات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ میری انتظامیہ اسلامی بنیاد پرست دہشتگردی کو شکست دینے سے کبھی باز نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ...

 امریکاکے دشمنوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیلیوں کی اکثریت اپنی قیادت کو کرپٹ سمجھتی ہے ، سروے وجود - جمعه 10 جنوری 2020

اسرائیل میں کیے گئے رائے عامہ ایک تازہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت موجودہ صہیونی ریاست کو کرپٹ سمجھتی ہے ۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق''ڈیموکریٹک اسرائیل''انسٹیٹوٹ کی طرف سے کیے گئے سروے میں بتایا گیا کہ 58 فی صد یہودی آباد کاروں کاخیال ہے کہ ان کی لیڈر شپ بدترین کرپٹ ہے ۔اس سروے میں 24 فی صد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قیادت کوکرپٹ سمجھتے ہیں جب کہ 16 فی صد نے کہا کہ اسرائیلی قیادت کرپٹ نہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 55 فی صد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ...

اسرائیلیوں کی اکثریت اپنی قیادت کو کرپٹ سمجھتی ہے ، سروے

امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے جنگ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور وجود - جمعه 10 جنوری 2020

امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کی قرار داد کو منظور کر لیا گیا۔قرار داد ڈیمو کریٹس کے اکثریتی ایوان میں 194 ووٹوں کے مقابلے میں 224 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ قرار داد کا مقصد ایران کے ساتھ کسی بھی تنازع کی صورت میں عسکری کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری کو لازمی قرار دینا ہے ، سوائے اس کے کہ امریکا کو کسی ناگزیر حملے کا سامنا ہو۔ٹرمپ سے جنگ کا اختیار واپس لینے کا ڈیموکریٹس کا بل اگلے ہفتے سینیٹ میں بھیجے جانے کا امکان ہے ...

امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے جنگ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

حرم شریف میں زمزم کے 15 ہزار کولر اور نئی قالینوں کا اضافہ وجود - جمعه 10 جنوری 2020

مسجد الحرام کی انتظامیہ نے حرم شریف کے خارجی صحنوں، دالانوں اور راہداریوں میں آب زمزم کے کولرز کی تعداد میں 15 ہزار کا اضافہ کر دیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مسجد الحرام انتظامیہ کے ماتحت زمزم سبیل کے ادارے کے ڈائریکٹر مشاری المسعودی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہمارے ادارے نے سٹیل اور سنگ مرمر والی آب زمزم کی سبیلیں بھی شروع کردی ہیں جبکہ حرم شریف میں اہم مقامات پر بھی آب زمزم کے کولرز کی تعداد میں 15 ہزار کولرش کا اضافہ کر دیا ہے جبکہ مسجد الحرام شریف کے دالانوں او...

حرم شریف میں زمزم کے 15 ہزار کولر اور نئی قالینوں کا اضافہ

مغربی میڈیا نے ایران میں تباہ یوکرینی طیارے کی فوٹیج جاری کردی وجود - جمعه 10 جنوری 2020

مغربی میڈیا نے ایران میں تباہ یوکرینی طیارے کی فوٹیج جاری کردی ،یوکرین کی ایئرلائن کو تہران ایئرپورٹ کے قریب نشانا بنایا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نے یوکرینن ایئرلائن کے جہاز کی تباہ ہونے کی فوٹیج حاصل کرلی ،فوٹیج میں یوکرینن ایئر لائنز کو ٹیک آف کے فوری بعد میزائل سے تباہ ہوتے دیکھا جاسکتا ہے ۔فوٹیج میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ یوکرینن ایئر لائن میزائل لگنے سے تباہ ہوئی، جہاز فنی خرابی کے باعث تباہ نہیں ہوا ہے ۔امریکی صدر نے الزام عائد کیا ہے کہ طیارہ کو نشانہ بن...

مغربی میڈیا نے ایران میں تباہ یوکرینی طیارے کی فوٹیج جاری کردی

عراق ،بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ وجود - جمعرات 09 جنوری 2020

عراقی دارالحکومت میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، امریکی سفارتخانے کے گرین زون میں 3 راکٹ داغے گئے جبکہ گرین زون میں 2 راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب گرے تاہم امریکی سفارتخانے کو راکٹ حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا،راکٹ گرنے سے 2 دھماکے ہوئے اور خطرے کے سائرن بجائے گئے ،ایک راکٹ امریکی سفارت خانے سے سو میٹر فاصلے پر گرا۔ وائٹ ہائوس یا...

عراق ،بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ