وجود

... loading ...

وجود

آرگو: کہانی ایران سے فرار کی

منگل 05 جنوری 2016 آرگو: کہانی ایران سے فرار کی

argo-poster

ایران میں سعودی سفارت خانے پر “عوام” کا حملہ آجکل خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ درحقیقت یہ سلسلہ ہے انقلابِ ایران کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں پر چڑھائی کی “عظیم ” ایرانی “روایت” کا، جس کا آغاز 1979ء میں انقلاب کے فوراً بعد امریکی سفارت خانے پر حملے سے ہوا تھا۔

عالمی قوانین کے تحت سفارت کاروں کو کسی بھی معاملے میں گرفتاری سے استثنا حاصل ہے اور سفارت خانوں کی حرمت مقدم ہے لیکن نومبر 1979ء میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد تہران میں واقع امریکی سفارت خانے میں گھس گئی اور اندر موجود 53 امریکی اہلکاروں کو 444 دن، یعنی ایک سال، دو مہینے، دو ہفتے اور ایک دن، تک یرغمال بنائے رکھا۔ اغوا کاروں کا مطالبہ تھا کہ امریکا شاہ محمد رضا پہلوی کو واپس ایران کے حوالے کرے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جائے لیکن اگلے ہی مہینے شاہ کے امریکا چھوڑ دینے اور بالآخر مصر میں سیاسی پناہ حاصل کرنے، یہاں تک کہ جولائی 1980ء میں انتقال کر جانے کے باوجود ایران نے ان یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا بلکہ سفارت خانے کو امریکی جاسوسوں کا اڈہ قرار دیا۔

یوں یہ معاملہ طول پکڑا چلا گیا، یہاں تک کہ جنوری 1981ء میں ایران نے معاہدۂ الجزیرہ کے تحت تمام یرغمالیوں کو رہا کیا اور اس کی وجہ تھی ایران-عراق جنگ۔ ایران میں سفارت خانے پر حملے جیسی معیوب حرکت کو “انقلابِ ثانی” کا نام دیا گیا اور جن افراد نے یہ کام کیا، انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔

مشرق وسطیٰ میں اب اور اس زمانے میں بالخصوص ایران میں امریکا نے جو شرمناک کردار ادا کیا، وہ موضوعِ بحث نہیں ہے لیکن سفارت خانوں پر حملہ کرنے، انہیں تباہ کرنے، سفارت کاروں کو یرغمال بنانے اور تمام عالمی قوانین اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں عرصے تک تحویل میں رکھ کر دراصل امریکا کو مظلوم بنایا گیا۔

اس پورے تنازع کا ایک انوکھا پہلو “کینیڈیئن کیپر” (Canadian Caper) تھا۔ جب 4 نومبر 1979ء کو سفارت خانے پر حملہ ہوا تو چھ اہلکار پچھلے دروازے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جو کینیڈیئن سفارت کار جان شیئرڈاؤن کے گھر میں داخل ہوئے، جہاں انہیں کینیڈیئن سفیر کین ٹیلر نے اپنی حفاظت میں لیا۔ چھ اہلکار، جن کے بارے میں ایران میں کسی کو علم نہ تھا، صرف امریکا کو معلوم تھا کہ ان کے 6 اہلکار اس وقت کینیڈا کے سفیر کے پاس ہیں۔

اب ایک طرف گن پوائنٹ پر 53 اہلکار تھے اور دوسری جانب 6 ایسے، جو چھپے ہوئے تھے۔ گو کہ یہ شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے جیسا تھا لیکن امریکا کے لیے زیادہ “آسان” یہی تھا کہ وہ پہلے 6 افراد کو بچانے کی کوشش کرے۔ بس یہی کہانی 2012ء کی فلم “آرگو” کی ہے۔

بین ایفلک کی ہدایات میں بنائی گئی اس فلم میں انہوں نے خود ہی ٹونی مینڈیز کا مرکزی کردار ادا کیا ہے جو امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے اہلکار تھے جنہوں نے ان 6 افراد کو ایران سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تین آسکر ایوارڈز جیتنے والی یہ فلم ٹونی مینڈیز کی کتاب ” The Master of Disguise” سے ماخوذ ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ امریکا میں سابق شاہ ایران کو سیاسی پناہ دینے کے خلاف تہران میں امریکی سفارت خانے کے باہر سینکڑوں افراد مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پھر اچانک وہ حملہ آور ہوتے ہیں اور سفارت خانے میں گھس جاتے ہیں۔ اس دوران چند اہلکار پچھلے دروازے سے بھاگ کے کینیڈا کے سفیر کے گھر پناہ لیتے ہیں اور امریکا اطلاع جاتی ہے کہ یہ لوگ سفارت خانے میں موجود نہیں، بلکہ کینیڈا کے سفیر کے گھر پر ہیں۔

اب امریکا انتہائی خفیہ طریقے سے پہلے ان افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ سی آئی اے کو مختلف تجاویز ملتی ہیں، اور ایک تجربہ کار اہلکار ٹونی مینڈیز ان تجاویز کو مسترد کردیتے ہیں اور سوچ بچار کے بعد ایک منصوبہ رکھتے ہیں کہ کینیڈا کے فلم سازوں کے روپ میں ایران میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ ایران پر ظاہر کیا جائے گا کہ وہ ایک سائنس فکشن فلم کی تیاری کے لیے شوٹنگ مقام کو تلاش کر رہے ہیں اور ان کے خیال میں ایران میں چند جگہیں ایسی ہیں جہاں یہ مناظر فلم بند کیے جا سکتے ہیں۔ اس منصوبے کی بمشکل اجازت ملتی ہے جس کے بعد مینڈیز ہالی ووڈ کے چند افراد کے ساتھ مل کر ایک جعلی فلم پروڈکشن کمپنی بناتے ہیں اور اس کے تحت “آرگو” نامی ایک فلم کی فرضی کہانی تخلیق کی جاتی ہے۔

تمام مراحل طے کرنے کے بعد مینڈیز فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے ایران میں داخل ہوتے ہیں اور ان چھ سفارت کاروں سے رابطہ کرتے ہیں۔ وہ انہیں کینیڈین پاسپورٹ اور جعلی شناختی کارڈز دیتے ہیں، جو کینیڈا کے وزیر اعظم کی خفیہ اجازت سے ان افراد کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے تھے اور بالکل اصلی تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ تمام افراد ایئرپورٹ پر سیکورٹی کے تمام مراحل سے گزر سکیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ تقریباً تمام ہی افراد مینڈیز کے اس عجیب و غریب منصوبے سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں لیکن بہرحال انہیں خطرہ مول لینا پڑا۔

فلم ڈرامائی موڑ تب لیتی ہے جب سی آئی اے کی جانب سے مینڈیز کو کہہ دیا جاتا ہے کہ امریکا نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا ہے اس لیے وہ اپنا منصوبہ ختم کرکے فوری طور پر واپس آ جائے۔ مینڈیز کا اصرار ہوتا ہے کہ وہ اس مشن کو مکمل کرنا چاہتے ہیں لیکن اوپر سے مکمل عدم تعاون کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فلم کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز مرحلہ شروع ہوتا ہے جس کا اختتام، بہرحال، اصل واقعے کے مطابق تمام افراد کے باآسانی سوئٹزرلینڈ فرار سے ہوتا ہے۔

فلم بندی امریکی ریاست ورجینیا اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کی گئی جبکہ ایران کے مناظر دراصل استنبول میں فلمائے گئے۔ فلم کی ایک خاص بات اس میں دکھائی گئی وہ نایاب وڈیوز ہیں جو ‘یرغمالی بحران’ کے حوالے سے ہیں۔

ہالی ووڈ کی ہر فلم کی طرح اس میں بہت ساری سنسنی خیزی اور ہیجان انگیزی محض ‘زیبِ داستاں’ کے لیے شامل کی گئی ہے اور درحقیقت ان تمام افراد کو اتنے خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اگر فلم کو بھی ایسے ہی پھیکے انداز میں بیان کیا جاتا تو شاید اس کا لطف اور سنسنی کہیں کم ہو جاتی اور پٹ جاتی۔ بہرحال، فلم فلم ہوتی ہے، دستاویزی فلم نہیں کہ تاریخی درستگی کو مقدم رکھا جائے۔

امریکا میں ابھی چند روز پہلے ہی تہران سفارت خانے میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو زر تلافی کی ادائیگی کا معاملہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ واقعے کے 36 سال بعد ہر شخص کو 4.4 ملین ڈالرز دیے جائیں گے۔ ان 53 افراد میں سے 37 اب بھی زندہ ہیں۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

دو ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل،ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں میڈیکل پینل کے معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگا وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بیان میں رہنما مسلم لیگ (ن) ط...

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار وجود - اتوار 15 فروری 2026

میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی، ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن ،مناسب جواب دیا جائیگا، علی شمخانی کا انٹرویو ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔...

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ ، کولمبو میں متوقع بارش نے ممکنہ طور پر میچ پر سوالیہ نشان لگا دیا پاک بھارت میچ بارش کی نذر ہوگیا تو دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملے گا آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج ٹاکر آج ہوگا ۔ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھا...

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

مضامین
بنگلہ دیش کا فیصلہ وجود اتوار 15 فروری 2026
بنگلہ دیش کا فیصلہ

عمران خان کا مقدمہ وجود اتوار 15 فروری 2026
عمران خان کا مقدمہ

جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں وجود اتوار 15 فروری 2026
جنرل نرو نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں

قوموں کا زوال وجود اتوار 15 فروری 2026
قوموں کا زوال

قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟ وجود هفته 14 فروری 2026
قوم کب آزاد ہوگی۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر