وجود

... loading ...

وجود

آرگو: کہانی ایران سے فرار کی

منگل 05 جنوری 2016 آرگو: کہانی ایران سے فرار کی

argo-poster

ایران میں سعودی سفارت خانے پر “عوام” کا حملہ آجکل خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ درحقیقت یہ سلسلہ ہے انقلابِ ایران کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں پر چڑھائی کی “عظیم ” ایرانی “روایت” کا، جس کا آغاز 1979ء میں انقلاب کے فوراً بعد امریکی سفارت خانے پر حملے سے ہوا تھا۔

عالمی قوانین کے تحت سفارت کاروں کو کسی بھی معاملے میں گرفتاری سے استثنا حاصل ہے اور سفارت خانوں کی حرمت مقدم ہے لیکن نومبر 1979ء میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد تہران میں واقع امریکی سفارت خانے میں گھس گئی اور اندر موجود 53 امریکی اہلکاروں کو 444 دن، یعنی ایک سال، دو مہینے، دو ہفتے اور ایک دن، تک یرغمال بنائے رکھا۔ اغوا کاروں کا مطالبہ تھا کہ امریکا شاہ محمد رضا پہلوی کو واپس ایران کے حوالے کرے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جائے لیکن اگلے ہی مہینے شاہ کے امریکا چھوڑ دینے اور بالآخر مصر میں سیاسی پناہ حاصل کرنے، یہاں تک کہ جولائی 1980ء میں انتقال کر جانے کے باوجود ایران نے ان یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا بلکہ سفارت خانے کو امریکی جاسوسوں کا اڈہ قرار دیا۔

یوں یہ معاملہ طول پکڑا چلا گیا، یہاں تک کہ جنوری 1981ء میں ایران نے معاہدۂ الجزیرہ کے تحت تمام یرغمالیوں کو رہا کیا اور اس کی وجہ تھی ایران-عراق جنگ۔ ایران میں سفارت خانے پر حملے جیسی معیوب حرکت کو “انقلابِ ثانی” کا نام دیا گیا اور جن افراد نے یہ کام کیا، انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔

مشرق وسطیٰ میں اب اور اس زمانے میں بالخصوص ایران میں امریکا نے جو شرمناک کردار ادا کیا، وہ موضوعِ بحث نہیں ہے لیکن سفارت خانوں پر حملہ کرنے، انہیں تباہ کرنے، سفارت کاروں کو یرغمال بنانے اور تمام عالمی قوانین اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں عرصے تک تحویل میں رکھ کر دراصل امریکا کو مظلوم بنایا گیا۔

اس پورے تنازع کا ایک انوکھا پہلو “کینیڈیئن کیپر” (Canadian Caper) تھا۔ جب 4 نومبر 1979ء کو سفارت خانے پر حملہ ہوا تو چھ اہلکار پچھلے دروازے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جو کینیڈیئن سفارت کار جان شیئرڈاؤن کے گھر میں داخل ہوئے، جہاں انہیں کینیڈیئن سفیر کین ٹیلر نے اپنی حفاظت میں لیا۔ چھ اہلکار، جن کے بارے میں ایران میں کسی کو علم نہ تھا، صرف امریکا کو معلوم تھا کہ ان کے 6 اہلکار اس وقت کینیڈا کے سفیر کے پاس ہیں۔

اب ایک طرف گن پوائنٹ پر 53 اہلکار تھے اور دوسری جانب 6 ایسے، جو چھپے ہوئے تھے۔ گو کہ یہ شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے جیسا تھا لیکن امریکا کے لیے زیادہ “آسان” یہی تھا کہ وہ پہلے 6 افراد کو بچانے کی کوشش کرے۔ بس یہی کہانی 2012ء کی فلم “آرگو” کی ہے۔

بین ایفلک کی ہدایات میں بنائی گئی اس فلم میں انہوں نے خود ہی ٹونی مینڈیز کا مرکزی کردار ادا کیا ہے جو امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے اہلکار تھے جنہوں نے ان 6 افراد کو ایران سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تین آسکر ایوارڈز جیتنے والی یہ فلم ٹونی مینڈیز کی کتاب ” The Master of Disguise” سے ماخوذ ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ امریکا میں سابق شاہ ایران کو سیاسی پناہ دینے کے خلاف تہران میں امریکی سفارت خانے کے باہر سینکڑوں افراد مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پھر اچانک وہ حملہ آور ہوتے ہیں اور سفارت خانے میں گھس جاتے ہیں۔ اس دوران چند اہلکار پچھلے دروازے سے بھاگ کے کینیڈا کے سفیر کے گھر پناہ لیتے ہیں اور امریکا اطلاع جاتی ہے کہ یہ لوگ سفارت خانے میں موجود نہیں، بلکہ کینیڈا کے سفیر کے گھر پر ہیں۔

اب امریکا انتہائی خفیہ طریقے سے پہلے ان افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ سی آئی اے کو مختلف تجاویز ملتی ہیں، اور ایک تجربہ کار اہلکار ٹونی مینڈیز ان تجاویز کو مسترد کردیتے ہیں اور سوچ بچار کے بعد ایک منصوبہ رکھتے ہیں کہ کینیڈا کے فلم سازوں کے روپ میں ایران میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ ایران پر ظاہر کیا جائے گا کہ وہ ایک سائنس فکشن فلم کی تیاری کے لیے شوٹنگ مقام کو تلاش کر رہے ہیں اور ان کے خیال میں ایران میں چند جگہیں ایسی ہیں جہاں یہ مناظر فلم بند کیے جا سکتے ہیں۔ اس منصوبے کی بمشکل اجازت ملتی ہے جس کے بعد مینڈیز ہالی ووڈ کے چند افراد کے ساتھ مل کر ایک جعلی فلم پروڈکشن کمپنی بناتے ہیں اور اس کے تحت “آرگو” نامی ایک فلم کی فرضی کہانی تخلیق کی جاتی ہے۔

تمام مراحل طے کرنے کے بعد مینڈیز فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے ایران میں داخل ہوتے ہیں اور ان چھ سفارت کاروں سے رابطہ کرتے ہیں۔ وہ انہیں کینیڈین پاسپورٹ اور جعلی شناختی کارڈز دیتے ہیں، جو کینیڈا کے وزیر اعظم کی خفیہ اجازت سے ان افراد کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے تھے اور بالکل اصلی تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ تمام افراد ایئرپورٹ پر سیکورٹی کے تمام مراحل سے گزر سکیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ تقریباً تمام ہی افراد مینڈیز کے اس عجیب و غریب منصوبے سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں لیکن بہرحال انہیں خطرہ مول لینا پڑا۔

فلم ڈرامائی موڑ تب لیتی ہے جب سی آئی اے کی جانب سے مینڈیز کو کہہ دیا جاتا ہے کہ امریکا نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا ہے اس لیے وہ اپنا منصوبہ ختم کرکے فوری طور پر واپس آ جائے۔ مینڈیز کا اصرار ہوتا ہے کہ وہ اس مشن کو مکمل کرنا چاہتے ہیں لیکن اوپر سے مکمل عدم تعاون کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فلم کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز مرحلہ شروع ہوتا ہے جس کا اختتام، بہرحال، اصل واقعے کے مطابق تمام افراد کے باآسانی سوئٹزرلینڈ فرار سے ہوتا ہے۔

فلم بندی امریکی ریاست ورجینیا اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کی گئی جبکہ ایران کے مناظر دراصل استنبول میں فلمائے گئے۔ فلم کی ایک خاص بات اس میں دکھائی گئی وہ نایاب وڈیوز ہیں جو ‘یرغمالی بحران’ کے حوالے سے ہیں۔

ہالی ووڈ کی ہر فلم کی طرح اس میں بہت ساری سنسنی خیزی اور ہیجان انگیزی محض ‘زیبِ داستاں’ کے لیے شامل کی گئی ہے اور درحقیقت ان تمام افراد کو اتنے خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اگر فلم کو بھی ایسے ہی پھیکے انداز میں بیان کیا جاتا تو شاید اس کا لطف اور سنسنی کہیں کم ہو جاتی اور پٹ جاتی۔ بہرحال، فلم فلم ہوتی ہے، دستاویزی فلم نہیں کہ تاریخی درستگی کو مقدم رکھا جائے۔

امریکا میں ابھی چند روز پہلے ہی تہران سفارت خانے میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو زر تلافی کی ادائیگی کا معاملہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ واقعے کے 36 سال بعد ہر شخص کو 4.4 ملین ڈالرز دیے جائیں گے۔ ان 53 افراد میں سے 37 اب بھی زندہ ہیں۔


متعلقہ خبریں


معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

مضامین
ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر